Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
70 - 144
حدیث اول :  اور سنئے، مولانا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری کتاب
مستطاب نُزْھَۃْ الْخَاطِرْ الْفَاتِر فی ترجمۃ سیدی الشریف عبدالقادررضی اللہ تعالٰی عنہ
میں فرماتے ہیں :
روی الشیخ الجلیل ابوصالح المغربی رحمہ اﷲ تعالٰی انہ قال قال لی سیدی الشیخ ابو مدین قدس سرہ، یا ابا صالح سافر الی بغداد  وأت الشیخ محی الدین عبدالقادر لیعلمک الفقر، فسافرت الی بغداد فلما رأیتہ رأیت رجلا مارأیت اکثرھیبۃ منہ (فساق الحدیث الی اٰخرہ الی ان قال) قلت یا سیدی ارید ان تمدنی ملک بہذا الوصف فنظر نظرۃ فتفرقت عن قلبی جواذب الارادات کما یتفرق الظلام بھجوم النہار وانا  الآن انفق من تلک النظرۃ ۱؎۔
یعنی شیخ جلیل ابوصالح مغربی رحمہ اللہ تعالٰی نے روایت کی، مجھ کو میرے شیخ حضرت ابوشعیب مدین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : اے ابوصالح! سفر کرکے حضرت شیخ محی الدین عبدالقادری کے حضور حاضر ہو کر وہ تجھ کو فقر تعلیم فرمائیں، میں بغداد گیا جب حضور پر نور سید ناغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا میں نے اس ہبیت وجلال کا کوئی بندہ خدانہ دیکھا تھا حضور نے مجھ کو ایک سو بیس دن یعنی تین چلے خلوت میں بٹھایا پھر میرے پاس تشریف لائے اور قبلہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : اے ابوصالح! ادھر کو دیکھو تجھ کو کیا نظر آتاہے؟ میں نے عرض کی۔ کعبہ معظمہ، پھر مغرب کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : ادھر دیکھ تجھے کیا نظر آتا ہے ۔ میں نے عرض کی : میرے پیر ابومدین۔ فرمایا: کدھر جانا چاہتاہے کعبہ کو یا اپنے پیر کے پاس؟ اپنے پیر کے پاس۔ فرمایا: ایک قدم میں جانا چاہتاہے یا جس طرح آیا تھا؟  میں نے عرض کی : بلکہ جس طرح آیا تھا : یہ افضل ہے۔ پھر فرمایا: اے ابوصالح! اگر تو فقر چاہتاہے تو ہر گز بے زینہ ا س تک نہ پہنچے گا اور اس کا زینہ تو حید ہے اور توحید کا مدار یہ ہے کہ عین السر کے ساتھ دل سے ہر خطرہ مٹا دے لوح دل بالکل پاک وصاف کرلے، میں نے عرض کی: اے میرے آقا!میں چاہتاہوں کہ حضوراپنی مدد سے یہ صفت مجھ کو عطا فرمائیں، یہ سن کر حضور نے ایک نگاہ کرم مجھ پر فرمائی کہ ارادوں کی تمام کششیں میرے دل سے ایسی کافور ہوگئیں جیسے دن کے آنے سے رات کی اندھیری ،اور میں آج تک حضور کی اسی ایک نگاہ سے کام چلارہاہوں۔
 (۱؎ نزھۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ عبدالقادر)
دیکھئے خاطر پر اس سے بڑھ کر اور کیا قبضہ ہوگا کہ ایک نگاہ میں دل کو تمام خطرات سے پاک فرمادیا اور نہ فقط اسی وقت بلکہ ہمیشہ کے لئے۔
امام اجل مصنف بہجۃ الاسرار کی جلالت شان اور اس کتاب جلیل کی صحت وعظمت
فائدہ :  یہ حدیث جلیل حضرت اما اجل سید العلماء شیخ القراء عمدہ العرفاء نور الملۃ والدین ابوالحسن علی بن یوسف بن جریر لحمی شطنونی قدس سرہ العزیز نے صرف دوواسطہ سے حضور پر نور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مرید ہیں، امام جلیل الشان، شیخ القراء، ابوالخیر شمس الدین محمد محمد محمد ابن الجزری رحمہ اللہ تعالٰی مصنف حصن حصین شریف کے استاذ ہیں، امام ذہبی صاحب میزان الاعتدلال ان کی مجلس مبارک میں حاضر ہوئے، اور طبقات القراء میں ان کی مدح ستائش کی اور ان کو اپنا امام یکتا لکھا۔
حیث قال علی بن یوسف بن جریر اللخمی شَطْنوفی الامام الاوحد المقری نورالدین شیخ القراء بالدیار المصریۃ ۱؎۔
چنانچہ کہا کہ علی بن یوسف بن جریری لخمی شطنونی نورالدین امام یکتا، مدرس قراءت اور بلاد مصری کے شیخ القرء ہیں ۱۲م
 (۱؂زبدۃ الآثار     بحوالہ طبقات المقرئین  مطبع بکسلنگ کمپنی جزیرہ        ص۳)
اور امام اجل عارباللہ سیدی عبداللہ بن اسعد یافعی شافعی یمعنی رحمہ اللہ تعالٰی ''فی آمرۃ الجنان میں اس جناب کو ان مناقب جلیلہ سے یاد رفرمایا :
روی الشیخ الامام الفقیہ العالم المقری ابوالحسن علی بن یوسف بن جریر بن معضاد الشافی اللخمی فی مناب الشیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسندہ ۲؎ الخ
شیخ امام زبردست فقیہ مدرس قراءت علی ابن یوسف بن جریر بن معضاد شافی لخمی نے شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ روایت بیان کی۔ ۱۲م
 (۲؎ مرآۃ الجنان  وعبرۃ الیقظان فی معرفۃ مایعتبر من حوادث الزمان)
اورامام اجل شمس الملۃ والدین ابوالخیر الجزری مصنف حصن حصین نے نہایۃ الدرائت فی اسماء الرجال القرائت میں فرمایا :
علی بن یوسف بن جریر بن فضل بن معضاہ نوراالدین ابوالحسن اللخمی الشطنونی الشافعی الاستاذ المحقق البارع شیخ الدیار المصریۃ ولد بالقاہرۃ سنۃ اربع و اربعین وستمائۃ وتصدر للاقراء بالجامع الازہر من القاہرۃ وتکاثر علیہ الناس لاجل الفوائد والتحقیق وبلغنی انہ عمل علی الشاطبیۃ شرحا فلوکان ظہر لکان من اجود شروحہا توفی یوم السبت اوان الظہر دفن یوم الاحد العشرین من ذی الحجۃ سنۃ ثلث عشرۃ وسبع مائۃ رحمہ اﷲ تعالٰی۔ ۳؎ (مختصراً)
یعنی علی بن یوسف نور الدین ابوالحسن شافعی استاد محقق اینے کمال والے جو عقلوں کو حیران کردے، بلاد مصر کے شیخ قاہرہ مصرمیں پیدا ہوئے اور مصر کی جامع ازہر میں صدر تعلیم پر جلوس فرمایا، ان کے فوائد وتحقیق کے سبب خلائق کا ان پر ہجوم ہوا، میں نے سنا کہ شاطبیہ پر بھی اس جناب نے شرح لکھی، یہ شرح اگر ظاہر ہوتی تو ان کی تمام شرحوں سے بہتر شروح میں ہوتی، روز دوشنبہ بوقت ظہر وفات پائی اور بروز یک شنبہ بستم ذی الحجہ ۷۱۳ھ میں دفن ہوئے، رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ انتہی ۱۲م
 (۳؎ زبدۃ الآثار  بحوالہ نہایۃ الدرایات فی اسماء الرجال واالقرأت مطبع بکسلنگ کمپنی جزیرہ    ص۵)
اور امام اجل جلال الملۃ والدین سیوطی نے
''حُسن المَحَاضَرۃ بِاَخْبَارِ مصر والقاہرۃ''
میں فرمایا :
علی بن یوسف بن جریر اللخمی الشطنونی الامام الاوحد نور الدین ابوالحسن شیخ القراء بالدیار المصریۃ تصد للاقراء بالجامع الازہروتکاثر علیہ الطلبۃ ۱؎۔
یعنی علی بن یوسف ابوالحسن نور الدین امام یکتا ہیں، اور بلا د مصر میں شیخ القراء پھر ان کا مسند تعلیم پر جلوس اور طلبہ کا ہجوم اور تاریخ ولادت ووفات اسی طرح ذکر فرمائی۔
 (۱؎ حسن المحاضرۃ باخبار مصروالقاہرۃ)
نیز امام سیوطی نے اس جناب کا تذکرہ اپنی کتاب ''بغیۃ الوعادۃ'' میں لکھا اور اس میں نقل فرمایا کہ :
لہ الید الطولٰی فی علم التفسیر ۲؎۔
علم تفسیر میں اس جناب کو ید طولٰی تھا۔
 (۲؎ بغیۃ الوعاۃ للیسوطی)
اور حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ نے کتاب ''زبدۃ الاسرار''میں اس جناب کے فضائل عالیہ یوں بیان فرمائے :
بھجۃ الاسرار من تصنیف الشیخ الامام الاجل الفقیہ العالم المقری، الاو حد البارع نورا لدین ابی الحسن علی بن یوسف الشافعی اللخمی وبینہ وبین الشیخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ واسطتان وھو داخل فی بشارۃ قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ طوبٰی لمن رانی ولمن راٰی من رانی ولمن رای من رانی ۳؎۔
یعنی امام اجل ، فقیہ، عالم، مدرس قرائت یکتا، عجب صاحب کمال نور الدین ابوالحسن علی بن یوسف شافعی لخمی، ان میں اور حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں صرف دو  واسطے ہیں اور وہ حضور پر نور سرکارغوثیت کی اس بشارت میں داخل ہیں کہ شادما نی ہے اسے جس نے مجھ کو دیکھا اور اسے جس نے میرے دیکھنے والوں کو دیکھاا ور اسے جس نے میرے دیکھنے والے کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔ انتہی
 (۳؎ زبدۃ الاسرار   خطبۃ الکتاب     مطبع بکسلنگ کمپنی جزیرہ    ص۵)
ان امام اجل یکتا نے کہ ایسے اکابر ائمہ جن کی امامت وعظمت وجلالت شان کے ایسے مداح ہوئے، اپنی کتاب
مستطاب بہجۃ الاسرار ومعدن الانوار شریف
میں (کہ امام اجل یافعی وغیرہ اکابر اس سے سند لیتے آئے امام اجل شمس الملۃ والدین ابوالخیر  ابن الجزری مصنف حصن حصین نے یہ کتاب مستطاب حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر حنفی وشطوطی رحمہ اللہ تعالٰی سے پڑھی، اور حدیث کی طرح اس کی سندھ حاصل کی اورعلامہ عمر بن عبدالوہاب حلبی نے اس کی روایات معتمدہونے کی تصریح کی، اور حضرت شیخ محقق محدث دہلوی نے زبدۃ الآثارشریف میں فرمایا :
ایں کتاب بہجۃ الاسرار کتابے عظیم وشریعت ومشہور است ۱؎۔
یہ کتاب بہجۃ الاسرار ایک عظیم شریعت اور مشہور کتاب ہے۔ ۱۲م
 (۱؎ زبدۃ الآثار مع زبدۃ الاسرار     خطبہ الکتاب     مطبع بکسلنگ کمپنی جزیرہ    ص۲)
اور زبدۃ الاسرار شریف میں اس کی روایات صحیح وثابت ہونے کی تصریح کی) یوں بسندصحیح روایت فرمائی کہ:
حدثنا الفقیہ ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحیم بن حجاج بن یعلی الفاسی المالکی المحدث بالقاہرۃ؁ ۶۷۱ھ قال اخبرنا جدی حجاج بفاس؁ ۶۲۳ھ قال حججت مع الشیخ ابی محمد صالح بن ویرجان الدکالی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ؁۵۸۸ھ فلما کنا بعرفات وافینا بہا الشیخ ابالقاسم عمر بن مسعود المعروف بالبزار فتسما لما وجلسا یتذکران ایام الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقال الشیخ ابومحمد قال لی سیدی الشیخ ابو مدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ یاصالح سافر الی بغداد الحدیث ۲؎۔
یعنی فقیہ محدث ابوالحجاج نے ہم سے حدیث بیان کی کہ میرے جدا مجد حجاج بن یعلی بن عیسٰی فاسی نے مجھے خبر دی کہ میں نے شیخ ابومحمد صالح کے ساتھ؁ ۵۸۸ھ میں حج کیا، عرفات میں ہم کو حضرت شیخ ابوالقاسم عمر بزار ملے، دونوں شیخ بعد سلام بیٹھ کر حضور پر نور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ذکر فرمانے لگے، ابومحمد صالح نے فرمایا مجھ سے میرے شیخ حضرت شعیب ابومدین نے فرمایا: اے صالح! سفر کرکے بغداد حاضر ہو، الی آخرہ۔
(۲؎بہجۃ الاسرار   ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ     مصطفی البابی مصر    ص۵۲)
تنبیہ: یہاں سےمعلوم ہوا کہ ان شیخ کانام گرامی صالح ہے اورکنیت ابو محمد نزہۃ الخاطر میں ابوصالح واقع ہوا سہو قلم ہے۔
Flag Counter