سابعا اس سب سے قطع نظر کرکے یہی فرض کرلیجئے کہ معاذاللہ ان تمام اکابر پر طعن ثابت ہواور جواب معدوم، تو انصافا فقیر کا مصرع اب بھی اس روش پر نہیں کہ ان ائمہ وعلماء نے قطعا غیر خدا کو شنہشاہ وقاضی القضاۃ کہا ہے حتی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بھی نہیں بلکہ کسی عالم یا ولی یا نرے حکام دنیوی کو، اور وہ مصرح اس معنی میں ہرگز متعین نہیں ۔ ہم پوچھتے ہیں لفظ شہنشاہ حضرت عزجلالہ سے مخصوص ہے یانہیں؟ اگر نہیں ہے تو سرے سے منشاء شبہہ زائل، اور اگر ہے تو جو لفظ اللہ عزوجل کے لئے خاص تھا اسے غیر اللہ پر کیوں حمل کیجئے؟ شہنشاہ سے اللہ ہی کیوں نہ مراد لیجئے کہ روضہ بمعنی قبر نہیں بلکہ خیابان اورکیاری کوکہتے ہیں،
قال اﷲ تعالٰی فہم فی روضۃ یحبرون ۴؎
(اللہ تعالٰی نے فرمایا: باغ کی کیاری میں ان کی خاطر داری ہوگی۔ ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۳۰ /۱۵)
قبر پر اس کا اطلاق تشبہ بلیغ ہے جیسے
رَاَیْتُ اَسَدًا یَرْمِیْ
(میں نے شیر کو تیرا ندازی کرتے دیکھا) حدیث شریف میں قبر مومن کو
روضۃ من ریاض الجنۃ ۵؎
فرمایا جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری، تو روضہ شہنشاہ کے معنی ہوئے الٰہی خیابان، خدا کی کیاری، اس میں کیا حرج ہے،
(۵؎ جامع الترمذی ابواب صفۃ یوم القیمۃ امین کمپنی دہلی ۲ /۶۹)
جب قرآن عظیم نے مدینہ طیبہ کو ساری زمین کو اللہ عزوجل کی طرف اضافت فرمایا :
الم تکن ارض اﷲ واسعۃ فتہا جروا فیہا ۱؎۔
کیا خدا کی زمین یعنی زمین مدینہ کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۹۷)
تو خاص روضہ انور کو الٰہی روضہ شاہنشاہی خیابان، ربانی کیاری کہنے میں کیاحرج ہے، وللہ الحمد،
بایں ہمہ جب فقیر بعون القدیر آیت وحدیث سے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا
ہونا ثابت کرچکا تو لفظ پر اصرار یا روایت خلاف پر انکار کی حاجت نہیں، یہ بھی ہمارے علماء سے بعض متاخرین کا قول ہے اس کے لحاظ بجائے ''شاہنشاہ طیبہ'' کہئے، کہ وہ شاہ طیبہ بھی ہیں اور شاہ تمام روئے زمین بھی اور شاہ تمام اولین وآخرین بھی جن میں ملوک وسلاطین سب داخل بادشاہ ہو یا رعیت، وہ کون ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دائرہ غلامی سے سرباہر نکال سکتا ہے ؎
محمد عربی کہ ابروئے ہر دوسراست کسےکہ خاک درش نیست خاک برسراو
(محمد عربی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دونوں جہانوں کی عزت ہیں جو ان کے درکی خاک نہیں اس کے سر پرخاک)
اللہ تعالٰی ک رحمت نازل ہوہمارے آقا مولٰی پر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور آپ کی آل واصحاب سب پر، یہ پہلے مسئلہ میں آخری کلام ہے۔ دنیاواخرت میں تمام حمدیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں۔ (ت)
جوا ب سوال دوم : الحق اللہ عزوجل ہی مقلب القلوب ہے سب کے دلوں، نہ صرف دل بلکہ عالم کے ذرے ذرے پر حقیقی قبضہ اسی کا ہے۔ مگر نہ اس کی قدرت نہ محدود نہ اس کی عطاء کا باب وسیع مسدود،
ان اﷲ علی کل شیئ قدیر ۲؎
بے شک اللہ تعالٰی ہر چیز پرقادر ہے وما کان عطاء ربک محظور ۳؎ اور تیرے رب کی عطا پر روک نہیں،
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۰) (۳؎القرآن الکریم ۱۷ /۲۰)
وہ علی الاطلاق فرماتاہے :
ولکن اﷲ یسلط رسلہ علی من یشاء ۱؎۔
اللہ تعالٰی اپنے رسولوں کو جس پر چاہے قبضہ و قابودیتاہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵۹ /۶)
اس کا اطلاق اجسام وابصار واسماع وقلوب سب کو شامل ہے وہ اپنے محبوبوں کو جس کے چاہے دست وپا پر قدرت دے چاہے چشم وگوش پر، چاہے دل وہوش پر، اس کی قدرت میں کمی نہ عطا میں تنگی، کیا ملائکہ دلوں میں القائے خیر نہیں کرتے، نیک ارادے نہیں ڈالتے، برے خطروں سے نہیں پھیرتے؟ ضرور سب کچھ باذن اللہ کرتے ہیں پھردلوں میں تصرف کے اور کیا معنی،
قال اللہ تعالٰی: اذ یوحی ربک الی الملئِکۃ انی معکم فثبتوا الذین اٰمنوا ۲؎۔
جب وحی فرماتاہے تیرارب فرشتوں کو کہ میں تمھارے ساتھ ہوں تو تم دل قائم رکھو مسلمانوں کے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۸/۱۲)
سیرت ابن اسحاق وسیرت ابن ہشام میں ہے بنی قریضہ کو جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم راہ میں اپنے کچھ اصحاب پر گزرے، ان سے دریافت فرمایا : تم نے ادھر جاتے ہوئے کوئی شخص دیھا ؟ عرض کی: دحیہ بن خلیفہ کو نقرہ جنگ پر سوار جاتے ہوئے دیکھا ۔ فرمایا :
جب قاضی مجلس حکم میں بیٹھتاہے تو دو فرشتے اترتے ہیں کہ اس کی ائے کو درستی دیتے ہیں اور اسے ٹھیک بات سمجھنے کی توفیق دیتے ہیں اور اسے نیک راستہ سمجھاتے ہں جب تک حق سے میل نہ کرے جہاں ا س نے میل کیا فرشتوں نے اسے چھوڑا اور آسمان پر اڑ گئے۔ ۱۲م
(۴؎ السنن الکبرٰی کتاب آداب القاضی باب من ابتلی بشیئ الخ دار صادر بیروت ۱۰ /۸۸)
دیلمی مسند الفردوس میں صدیق اکبر وابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما، دونوں سے روای کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لولم ابعث فیکم لبعث عمر ایداﷲ عمر بملکین یوفقانہ ویسدد انہ فاذا اخطا صرفاہ حتی یکون صوابا ۱؎۔
اگرمیں بھی تم میں ظہورنہ فرماتا تو بیشک عمر نبی کیا جاتا۔ اللہ عزوجل نے دو فرشتوں سے تائید فرمائی ہے کہ وہ دونوں عمر کو توفیق دیتے اور ہر بات میں اسے راہ پر رکھتے، اگر عمر کی رائے لغزش کرنے کو ہوتی ہے وہ پھیردیتے ہیں یہاں تک کہ عمر سے حق ہی صادر ہوتاہے۔ ۱۲م
(۱؎ الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۵۱۲۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۳۷۲)
ملائکہ کی شان تو بلندہے۔ شیاطین کو قلوب عوام میں تصرف دیا ہے جس سے فقط اپنے چنے ہوئے بندوں کو مستثنٰی کیا ہے کہ :
ان عبادی لیس لک علیہم سلطان ۲؎۔
میرے خاص بندوں پر تیرا قابوں نہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۶۵)
قال اللہ تعالٰی : یوسوس فی صدور الناس من الجنۃ والناس۔ ۳؎
شیطان جن اور لوگ، لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں۔
(۳؎القرآن الکریم ۱۱۴ /۵و۶)
وقال اللہ تعالٰی : شیٰطین الانس والجن یوحی بعضہم الی بعض زخرف القول غرورا ۴؎۔
شیطان آدمی اور جن ایک دوسرے کے دل میں ڈالتے ہیں بناوٹ کی بات دھوکے کی۔ ۱۲م
(۴؎القرآن الکریم ۶ /۱۱۲)
بخاری، مسلم، ابوداؤد مثل امام احمد، حضرت انس بن مالک اور مثل ابن ماجہ حضرت ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان الشیطن یجری من الانسان مجری الدم ۱؎۔
بے شک شیطان انسان (آدمی) کی رگ رگ میں خون کی طرح ساری وجاری ہے۔
(۱؎ صحیح البخاری باب الاعتکاف ۱ /۲۷۲ کتاب بدء الخلق ۱ /۴۶۴ کتاب الاحکام ۲ /۱۰۶۳ قدیمی کتب خانہ کراچی)
(سنن ابی داؤد کتاب الصوم باب المعتکف یدخل البیت لحاجتہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۳۵)
صحیحین وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ''جب اذان ہوتی ہے شیطان گوز زناں بھاگ جاتاہے کہ اذان کی آواز نہ سنے، جب اذان ہوچکتی ہے پھر آتاہے۔ جب تکبیر ہوتی ہے پھر بھاگ جاتاہے ، جب تکبیر ہوچکتی ہے پھر آتاہے
حتی یخطرا بین المراء ونفسہ یقول اذکر کذا اذکر کذا لما لم یکن یذکرہ، حتی یظل الرجل مایدری کم صلٰی ۲؎
یہاں تک کہ آدمی اور اس کے دل کے اندر حائل ہوکر خطرے ڈالتاہے کہتاہے کہ یہ بات یاد کروہ بات یاد کر ان باتوں کے لئے جو آدمی کے خیال میں بھی نہ تھیں، یہاں تک کہ انسان کو یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ کتنی پڑھی''
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الاذان باب فضل التاذین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۵)
(صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب فضل الاذان وھرب الشیطن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۸)
(صحیح مسلم کتاب المساجد باب السہو فی الصلٰوۃ والمسجود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۱)
(مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۱۳، ۴۶۰،۵۲۲)
امام ابوبکر ابی الدنیا کتاب مکائد الشیطان ، اور امام اجل ترمذی نوادر الاصول میں بسند حسن، اور ابویعلٰی مسند، اور ابن شاہین کتاب الترغیب، اور بہیقی شعب الایمان میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
ان الشیطان واضع خطمہ علی قلب ابن اٰدم فان ذکر اﷲ خنس وان نسی التقم قلبہ فذٰلک الوسواس الخناس ۱؎۔
بیشک شیطان اپنی چونچ آدمی کے دل پر رکھے ہوئے ہے، جب آدمی خدا تعالٰی کو یاد کرتاہے شیطان دبک جاتاہے اور جب آدمی (ذکرسے) غفلت کرتاہے (بھول جاتاہے) تو شیطان اس کا دل اپنے منہ میں لے لیتاہے تویہ ہے (شیطان خناس) وسوسہ ڈالنے والا دبک جانیوالا۔
(۱؎ شعب الایمان حدیث ۵۴۰ دارالمکتب العلمیہ بیروت ۱ /۴۰۳)
(نوادر الاصول الاصل التاسع والخمسون والمائتان الخ دارصادر بیروت ص۳۵۴)
لمہ شیطان ولمہ ملکہ دونوں مشہور اور حدیثوں میں مذکور ہیں پھر اولیاء کرام کو قلوب میں تصرف کی قدرت عطا ہونی کیا محل انکار ہے۔حضرت علامہ سلجماسی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کتاب ابریز میں اپنے شیخ حضرت سیدی عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عوام جو اپنے حاجات میں اولیاء کرام مثل حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے استعانت کرتے ہیں نہ کہ اللہ عزوجل سے، حضرات اولیاء نے ان کو قصدا ادھر لگا لیا ہے کہ دعا میں مرا دملنی نہ ملنی دونوں پہلو ہیں، عوام (مراد) نہ ملنے کی حکمتوں پر مطلع نہیں کئے جاتے، تو اگر بالکلیہ خالص اللہ عزوجل ہی سے مانگتے پھر مراد ملتی نہ دیکھتے تو احتمال تھا کہ خدا کے وجود ہی سے منکر ہوجاتے،اس لئے اولیاء نے ان کے دلوں کو اپنی طرف پھیر لیا کہ اب اگر (مراد) نہ ملنے پر بے اعتقادی کا وسوسہ آیا بھی تو اس ولی کی نسبت آئے گا جس سے مدد چاہی تھ، اس میں ایمان تو سلامت رہے گا۔