Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
68 - 144
مرقاۃ میں ہے :
ولذا قیل فی کراھۃ ھذا الاسماء ھو ان یقول ذٰلک علی طریق التطاول علی الرقیق والتحقیر لشانہ والا فقد جاء بہ القراٰن قال اﷲ تعالٰی والصالحین من عباد کم وامائکم وقال اذکر نی عند ربک ۲؎۔
اس وجہ سے بعض علماء نے کہا ایسا نام رکھنا اس وقت مکروہ ہے کہ جب کہنے والے کا مقصد غلام پر فخر کرنا اور اس کی شان کی حقارت ظاہر کرنا ہو ورنہ خود قرآن ناطق ہے اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے ـ: ''اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا'' او فرماتاہے: ''اور اپنے آقا کے پاس ہمیں یاد کرو'' ۱۲م
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح     کتا ب الادب تحت حدیث ۴۷۶۰         المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ    ۸ /۵۲۰)
اشعۃ اللمعات میں ہے :
وگفتہ اند کہ منع ونہی ازا طلاق عبد واٰمہ برتقدیرے است کہ بروجہ تطاؤل وتحقیر تصغیر باشد والا اطلاق عبداٰمۃ درقراٰن و احادیث آمدہ ۳؎۔
علماء نے فرمایاہے کہ (اپنے غلام اور اپنے باندی پر) عبد اور امۃ کا اطلاق اس صورت میں منع ہے کہ جب یہ ازراہ تکبر اورتحقیر وتصغیر ہو، ورنہ خود قرآن واحادیث میں لفظ عبد اور اَمۃ موجود ہے۔ ۱۲م
 (۳؎ اشعۃ اللمعات   کتاب الادب باب الاسامی     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۷۴)
دوسری نظیر اپنے آپ کو عالم کہنا ہے کہ برسبیل تفاخر حرام ورنہ جائز، 

حدیث میں شریف میں ہے :
من قال انا عالم فہو جاہل، رواہ الطبرانی فی الاوسط ۴؎۔ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جو شخص یہ کہے میں عالم ہوں وہ جاہل ہے (اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے اوسط میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے۔ت)
 (۴؎ المعجم الاوسط   حدیث ۶۸۴۲     مکتبہ المعارض ریاض     ۷ /۴۳۳)
حالانکہ نبی اللہ سیدنا یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا :
انی حفیظ علیم ۱؎
بے شک میں حفاظت کرنے والاہوں عالم ہوں۔
 (۱؎القرآن الکریم  ۱۲/ ۵۵)
تیسری نظیر اسبال ازار ہے یعنی تہبند یا پائچے ٹخنوں سے نیچے خصوصا زمین تک پہنچتے رکھنا کہ اس کے بارے میں کیا کیا سخت وعیدیں وارد، یہاں تک کہ فرمایا :
ثلثۃ لایکلمہم اﷲ یوم القیمۃ ولاینظر الیہم ولا یزکیھم ولہم عذاب الیم المسبل ازارٰہ والمنان والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب، رواہ الستۃ الاالبخاری عن ابی ذر النجاری علیہ رضوان الباری۔
تین شخص ہیں کہ اللہ تعالٰی روز قیامت ان سے بات نہ کرے گا اور ان کی طرف نظر نہ فرمائیے گا اور انھیں پاک نہیں کرے گا اور ان کے لئے عذاب دردناک ہے۔ یہ تہبند لٹکانے والا اور دے کر احسان رکھنے والا ، اور جھوٹی قسم کھاکر اپنا مال چلتا کرنے والا (اسے روایت کیا گیا صحاح ستہ میں بخاری کے سوا ابی ذرنجاری رحمۃ اللہ علیہ سے۔ ت)
 (۲؎ صحیح مسلم         کتاب الایمان   باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۷۱)

(سنن ابی داؤد    کتاب اللباس    باب ماجاء فی اسبال الازار     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۲۰۹)

(مسند احمد بن حنبل  عن ابی ذر  المکتب الاسلامی بیروت    ۵ /۱۶۲، ۱۶۸، ۱۷۸)

(سنن الدارمی     کتاب البیوع باب ۶۳، حدیث ۲۶۹۸   دارالمحاسن للطباعۃ قاہرہ     ۲ /۱۸۰)

(سنن النسائی    کتاب البیوع  باب المنفق سلعتہ بالحلف الکاذب   نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۲ /۲۱۱)

(سنن ابن ماجہ   ابواب التجارات باب ماجاء فی کراہیۃ الایمان الخ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۱۶۰)
پھر جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی :
اِنَّ اِزاری یسترخی الا ان تعاھدہ۔
یا رسول اللہ! بیشک میرا تہبند ضرور لٹک جاتاہے مگر یہ کہ میں اس کی خاص احتیاط اور خیال رکھوں۔

فرمایا :
  انت لست ممن یفعلہ خُیَلاَء۔ رواہ الشیخان ۱؎ وابوداؤد والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
تم ان میں سے نہیں جو براہ تکبر وناز ایسا کریں۔ (اسے روایت کیا شیخان اورابوداؤد اور نسائی نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے۔ ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     فضائل اصحاب النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۵۱۷)

(صحیح البخاری  کتاب اللباس   باب من جرازارہ من غیر خیلاء    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۸۶۰)

(صحیح مسلم    کتاب اللباس     باب تحریم جر الثوب خیلاء        قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ٭٭)

(سنن ابی داؤد     کتاب اللباس    باب ماجاء فی اسبال الازار         آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۲۰۹)
سادسًا(عہ) حدیث میں ممانعت ہے تو نام رکھنے کی ، کسی کے وصف میں کوئی بات بیان کرنے اور نام رکھنے میں بڑا بل ہے۔ آخر نہ دیکھا کہ حدیثوں میں عزیز وحکم وحکیم نام رکھنے کی ممانعت آئی، اور عزت وحکم وحکمت سے قرآن وحدیث میں بندوں کا وصف فرمایا گیا جن کی سندیں اوپر گزریں، نیز اس کی نظیر حابس الفیل وسائق البقرات ہے کہ رب عزوجل کے یہ نام رکھنا حرام اور وصف وارد، جب واقعہ حدیبیہ میں ناقہ قصواء، شریف بیٹھ گیا، اور لوگوں نے کہا ناقہ نے سرکشی کی، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : نہ اس نے سرکشی کی نہ اس کی یہ عادت
ولکن حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیْل ۲؎
اسے حابس فیل نے روک دیا، یعنی جس نے ابرہہ کے ہاتھی کو بٹھادیا اور کعبہ معظمہ پر حملہ کرنے سے روکا تھا۔ عزوجلالہ،
عہ: الوجوہ الخمسۃ الاول عامۃ وہذا خاص بغیر التسمیۃ ۱۲منہ عفی عنہ۔
پہلے پانچ وجوہ عام اور یہ غیر تسمیہ سے خاص ہے ۱۲منہ (ت)
 (۲؎ المواہب اللدنیہ     بیان صلح الحدیبیہ      الکمتب الاسلامی بیروت    ۱ /۴۹۱)
زرقانی علی المواھب میں علامہ ابن المنیر سے ہے :
یجوز اطلاق ذٰلک فی حق اﷲ تعالٰی فیقال حبسھا اﷲ حابس الفیل وانما الذی یمکن ان یمنع تسمیتہ سبحانہ حابس الفیل ونحوہٖ اھ قال الزرقانی وھو مبنی علی الصحیح من الاسماء توقیفہ ۳؎۔
اللہ تبارک وتعالٰی پر اس کااطلاق جائز ہے۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ حابس فیل نے اسے روک لیا، ہاں ممانعت اس صورت میں ہوسکتی ہے جب ''حابس فیل '' یا اس کے ہم معنی کو اسم الٰہی قرار دے دیاجائے، زرقانی نے کہا ا س کی بناء وہ قول صحیح ہے جس میں اسمائے الٰہی کو تو فیقی قرار دیا ہے۔ ۱۲م
 (۳؎ شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ     امر الحدیبیہ         دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۱۸۴)
اکید رباد شاہ دومۃ الجندل کے واقعہ میں حضرت بُحیر طائی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: ؎
تبارک سائق البقرات انی 

رأیت اﷲ یھدی کل ہاد ۱؎۔
اللہ تبارک وتعالٰی گائیوں کو چلانے والا ہے میں نے اللہ تعالٰی کو ہر رہنما کا رہنما پایا ہے۔ (ت)
 (۱؎ دلائل النبوۃ لابی نعیم     ذکر ماکان فی غزوۃ تبوک    عالم الکتب بیروت     الجزء الثانی ص  ۱۹۲)
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کا کلام پسند کیا اور فرمایا :
لَا یَفْضُضِ اﷲ فَاکَ ۔ رواہ ابن السکن ۲؎ وابو نعیم ومندہ۔
اللہ تیرا منہ بے دندان نہ کرے (نوے برس جئے کسی دانت کو جنش نہ ہوئی) (اس کو روایت کیا ابن السکن اور ابونعیم 

اور ابن مندہ نے ۔ت)
(۲؎ شرح الزرقانی المواہب اللدینۃ بحوالہ ابن مندہ وابونعیم وابن السکن     دارالمعرفۃ بیروت    ۳ /۷۸)
یہ ہے تمام وہ کلام کہ ان اکابر متقدمین ومتاخرین ائمہ دین وفقہائے معتمدین وعرفائے کاملین کی طرف سے فقیر نے حاضر کیا، اور ممکن کہ خود ان کے پاس اسے بھی بہتر جواب ہو،
وفوق کل ذی علم علیم ۳؎۔
 (۳؎ القرآن الکریم    ۱۲/ ۷۶)
Flag Counter