خامسا اس معنی حق حقیقت سے جس میں وہ نام رکھنے والا ضرور صفت خاص رب العزت بلکہ الوہیت سے بھی بڑھ کر منزلت کا مدعی قطعا مستحق اشد العذاب الابدی ہے تنزل لیجئے تو علماء نے سبب نہی یہ بتایا ہے کہ اس نام سے ا س کا متکبر ہونا پیدا ہے۔
شرح مشکوٰۃ علامہ طیبی میں ہے :
المالک الحقیقی لیس الاھو ومالکیۃالغیر مستردۃ الی مالک الملوک فمن تسمی بہذا الاسم نازع اﷲ سبحٰنہ فی رداء کبریائہ واستنکف ان یکون عبداﷲ لان وصف المالکیۃ مختص باللہ تعالٰی لا یتجاوزہ والملوکیۃ بالعبد لایتجاوزہ فمن تعدی طورہ، فلہ، فی الدنیا الخزی والعاروفی الاخرۃ والالقاء فی النار ۳؎۔
مالک حقیقی تو صرف وہی ذات ہے اوردوسروں کی بادشاہت وملکیت اسی شہنشاہ کی رہینِ منَّت تو جس نے '' ملک الملوک'' اپنا نام رکھا تو اس نے کبریائی کی چادرمیں اللہ سے منازعت مول لی اوراپنے کو بندہ خدا ہونے سے تکبر کیا کیونکہ مالک ہونا ایک ایسا وصف ہے جو ذات باری کے ساتھ خاص ہے۔ دوسروں میں یہ پایانہیں جاسکتا، یونہی مملوک ہونا یہ بندوں کے ساتھ خاص ہے ان سے متجاوز نہیں ہوسکتا، تو جو اس دارہ کار سے آگے بڑھ گیا وہ دنیا میں رسو ا اور ذلیل اور آخرت میں عذاب نار کا سزاوار ہے۔ ۱۲م۔
(۳؎ شرح الطیبی علی المشکوۃ کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ ادارۃ القرآن کراچی ۹ /۷۵)
مرقاۃ میں ہے :
الملک الحقیقی لیس الا ھو وملکیۃ غیرہٖ مستعارۃ فمن سمی بہذا الاسم نازع اﷲ بردائہ وکبریائہ ولمااستنکف ان یکون عبداﷲ جعل لہ الخزی علی رؤس الاشہاد ۱؎۔
مالک حقیقی تو ہی ذات ہے اور دوسروں کی ملکیت عارضی لہذا جس نے اس نام ''ملک الملوک''سے اپنا نام رکھا ، اس نے ردائے الٰہی اور اس کی کبرایائی سے منازعت کی، اور جب اس نے بندہ خدا ہونے سے تکبر کیا تو علی الاعلان ذلت ورسوائی اس کے لئے مقرر کردی گئی۔ ۱۲م
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۵)
تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے :
لامالک لجمیع الخلائق الا اﷲ ومالکیۃ الغیر مستردۃ الی ملک الملوک فمن تسمی بذٰلک نازع اﷲ فی رداء کبریائہ واستنکف ان یکون عبداﷲ ۲؎۔
مخلوقات کا مالک تو صرف اللہ ہے۔ اور غیر کا مالک ہونا اسی شہنشاہ کا صدقہ ہے تو جس نے یہ (ملک الملوک) نام رکھا تو اس نے اللہ عزوجل سے اس کی کبریائی کی چادر مول لی اور بندہ الٰہی ہونے سے تکبر کیا۔ ۱۲م
(۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۳۰۳ اخنع الاسماء عنداللہ مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۵۱۔۵۲)
بعینہٖ یونہی سراج المنیر میں ہے :
من قولہ فمن تسمٰی بذٰلک ۳؎ الخ
(۳؎ السراج المنیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۳۰۳ اخنع الاسماء عنداللہ المطبعۃ الازہریہ المصریۃ مصر ۱ /۶۸)
ارشاد الساری میں ہے :
المالک الحقیقی لیس الاھو مثل مامر عن الطیبی الی قولہ استنکف ان یکون عبداﷲ وزاد فیکون لہ الخزی والنکال ۴؎۔
مالک حقیقی تو صرف وہی ذات ہے استنکف ان یکون عبداﷲ (اللہ کا بندہ ہونے سے تکبر کیا) تک من وعن طیبی کے قول کی طرح، البتہ اس میں یکون لہ الخ کا لفظ زائد ہے یعنی اس کے لئے ذلت ورسوائی ۱۲م
(۴؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض الاسماء الخ دارالکتاب العربی بیروت ۹ /۱۸۔ ۱۱۷)
ان سب عبارات کاحاصل یہ کہ علت نہی ہے کہ اس نے تکبر کیا اور اللہ تعالٰی کا بندہ بننے سے نفرت کی، ان کلمات کو اگر ان کی حقیقت پر پرکھئے جب تو وہی وجہ سابق ہے کہ حدیث اسی کی نسبت ہے جو حقیقی اصل شاہنشہی یعنی الوہیت کا مدعی اورعبدیت سے منکر ہو ورنہ کم از کم اس قدر ضرور کہ علت منع تکبر بتاتے ہیں، تو ممانعت خود اپنے آپ شہنشاہ کہنے سے ہوئی کہ اپنے تعظیم کی ور اپنے آپ کو بڑا جانا، دوسرے نے اگر معظم دینی کی تعظیم کی اسے خدا تعالٰی کے بڑا کئے سے بڑا جانا تو اسے تکبر سے کیا علاقہ، اب یہ حدیث اس طریق کی طرف راجع ہوئی کہ آقا کو منع فرمایا کہ اپنے غلام کو اپنا بندہ نہ کہے حالانکہ قرآن وحدیث واقوال جمیع علمائے امت میں واقع ہے۔
قال اللہ تبارک وتعالٰی: والصالحین من عبادکم ۱؎۔
اور اپنے لائق بندوں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۴ /۳۲)
وقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم : لیس علی المسلم فی عبدہ ولا فرسہٖ صدقۃ ۲؎۔
مسلمان کے عبد (غلام) اور گھوڑے میں صدقہ نہیں۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۱۶)
(سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب صدقہ الرقیق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۲۵)
(سنن ابن ماجہ ابوب الزکوٰۃ باب صدقۃ الخیل والرقیق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۱)
اس مسئلے کی تحقیق فتاوائے فقیر میں بحمداللہ تعالٰی بروجہ اتم ہے۔
امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں :
قال فی مصابیح الجامع ساق المؤلف فی الباب قولہ تعالٰی والصالحین من عبادکم وامائکم وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قوموا الی سیدکم تنبیہا علی ان النھی انما جاء متوجہا علی جانب السید اذھو فی مظنہ الاستطالۃ وان قول الغیر ھذا عبدُزید وھذا امۃ خالد جائز لانہ یقولہ اٰخباراوتعریفا ولیس فی مظنۃ الاستطالۃ والاٰیۃ والحدیث مما یوید ھذا الفرق ۱؎۔
مصابیح الجامع میں فرمایا کہ مؤلف کا باب کی مناسبت سے اللہ عزوجل کا یہ ارشاد اپنے لائق بندوں اور کنیزوں اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کایہ قول ''اپنے سردار کے لئے کھڑے ہوجاؤ'' پیش کرنا اس بات پر تنبیہ کے لئے ہے کہ ممانعت خود ذات سید کی طرف نسبت کرتے ہوئےہے کیونکہ یہ کبر کی جاہے رہا کسی غیر کا یہ کہنا یہ زید کا عبد (غلام) ہے، یہ خالد کی باندی ہے۔ تو یہ جائز ہے کیونکہ اس قول سے مقصود خبر دینا اور تعریف کرنا ہے یہاں تک کبر ونخوت کی کوئی جگہ نہیں، آیت کریمہ او ر حدیث پاک سے بھی اسی فرق کی تائید ہوتی ہے۔ ۱۲م
(۱؎ ارشا دالساری شرح صحیح البخاری کتاب العتق باب الکراھیۃ التطاول علی الرقیق درالکتاب العربی بیروت ۴ /۳۲۴)
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
المعنی فی ذٰلک کل راجع البراءۃ من الکبر ۲
یہ معنی کبر ونخوت سے برأت کےلیے ہے ۱۲م۔
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب العتق باب الکراھیۃ التطاول علی الرقیق ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۳ /۱۱۰)
شرح السنہ امام بغوی پھر مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:
معنی ھذا راجع الی براءۃ من الکبر والتزام الذل والخضوع ۔۳
یہ تمامی تاویلات کبر اور ذلت وخواری کے التزام سے براءت کے لئے ہے ۱۲م۔
(۳؎ شرح السنۃ للبغوی باب یقول العبد بما لکہ الخ تحت حدیث ۳۳۸۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱۲/ ۳۵۱)
(مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الادب با الاسامی حدیث ۴۷۶۰ المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۲۰)
ان سب عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ ساری ممانعتیں تکبر سے بچنے کے لئے ہیں اوریہ کہ تکبر خود اپنے کہنے میں ہوسکتاہے دوسرے کو کہتے ہیں میں تکبر کا کیا محل۔ پھر اپنے آپ کو کہئے میں بھی حقیقۃ حکم نیت پر دائر ہوگا، اگر بوجہ تعلی وتکبر ہے قطعا حرام،ورنہ نہیں،
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرءٍ مانوٰی ۴؎.
اعمال کا دار مودار نیتوں پر ہے۔ اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جو اس نے کیا۔
(۴؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)
اس کی نظیریہی کہ اپنے غلام کو ''اے میرے بندے'' کہنا یہ بہ نیت تکبر نہ ہو تو کچھ حرج نہیں،
امام نووی پھر امام عینی شرح بخاری میں فرماتے ہیں :
المراد بالنہی من استعملہ علی جہۃ التعاظم لامن مرادہ التعریف ۱؎۔
ممانعت سے مراد اس خاص صورت میں ممانعت ہے جب اسے بڑائی بیان کرنے کے لئے استعمال کرے اور جس کی مراد دسرے کی تعریف ہو اس کےلئے ممانعت نہیں۔ ۱۲م
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب العتق ادارۃ الطباعۃ لنیریۃ بیروت ۱۳ /۱۱۳)