دوسری یہ کہ خبر میں حذف مضاف ہے یعنی اللہ تعالٰی کے نزدیک روز قیامت سب ناموں سے بدتر یہ نام ہے۔
مصابیح واشعۃ اللمعات وسراج المنیر شرح جامع صغیر میں تاویل ثانی ذکر کی، امام قرطبی نے مفہم، اور امام نووی نے منہاج اور علامہ حفنی نے حواشی جامع الصغیر میں اول پر جزم واختصار کیا،
فیض القدیر میں قرطبی سے ہے :
المراد بالاسم المسمی بدلیل روایۃ اغیظ رجل واخبثہ ۱؎۔
نام سے ذات مرا دہے کیونکہ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں ''آدمیوں میں سب سے بدتر اور خبیث'' ۱۲م
(۱؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۳۰۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۲۰)
شرح امام نوروی میں ہے :
قالوا معناہ اشد ذلا وصغارا یوم القیامۃ والمراد صاحب الاسم وتدل علیہ الروایۃ الثانیۃ اغیظ رجل ۲؎۔
علماء نے فرمایا اس کا معنی یہ ہےکہ قیامت کے دن سب سے زیادہ ذلیل وحقیر، اور اس سے مراد مسمی ہے جیسا کہ دوسری روایت میں اغیظ رجل (لوگوں میں سب سے بدتر) کا لفظ بتارہا ہے۔ ۱۲م
(۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الالفاظ باب تحریم التسمٰی بملک الاملاک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸)
حواشی حفنی میں ہے :
اخنع الاسماء ای مسمی الاسماء بدلیل قولہ رجل لانہ المسمی لاالاسم ۳؎۔
ناموں میں سب سے زیادہ ذلیل یعنی نام والوں میں سب سے زیادہ ذلیل، کیونکہ ایک روایت میں رجل(آدمی) کا لفظ آیا ہے۔ اور ادمی مسمی ہے نہ کہ اسم ۱۲م
(۳؎ حواشی الحفنی علی الجامع الصغیر مع السراج المنیر المطبعۃ الاھریۃ المصریۃ مصر ۱ /۶۸)
علامہ طیبی نے شرح مشکوٰۃ، پھر علامہ قسطلانی نے شرح بخاری پھر علامہ مناوی نے فیض القدیر پھر تیسیر شروح جامع الصغیر اور علامہ طاہر نے مجمع البحار، ارور علامہ قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں دونوں ذکر فرمائیں، طیبی پھر ارشاد الساری پھر فیض القدیر نے اشارہ کیا کہ تاویل اول ابلغ ہے۔
حیث قال اَعْنِی الطیبی یمکن ان یراد بالاسم المسمی ای اخنع الرجال کقولہ سبحانہ وتعالٰی سبح اسم ربک الاعلٰی وفیہ مبالٖغۃ لانہ اذا قدس اسمہ عما لایلیق بذاتہ فذاتہ بالتقدیس اولی واذا کان الاسم محکوما علیہ بالصغار والہوان فکیف المسمی بہ ۱؎ اھ نقلہ فی فیض القدیر ونحوہ فی الارشاد۔
چنانچہ طیبی نے کہا یہاں اسم سے مسمی مراد لیاجاسکتاہے یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل وپست،جیسا کہ اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ''اپنے رب اکبر کے نام کی پاکی بولو'' اور اس میں مبالغہ ہےکیونکہ جب نامناسب چیزوں سے اسم الٰہی کی تقدیس ضروری ہے تو خود ذات باری تقدیس کی کتنی مستحق ہوگی،لہذا جب (ملک الملوک جیسے) نام پر ذلت (حقارت) کا حکم ہے تو اس کے مسمی کا کیا حال ہوگا ۱۲م۔
(۱؎ شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسماء ادارۃ القرآن کراچی ۹ /۶۸)
مرقاۃ نے تصریح کی کہ یہی تاویل بہترہے:
حیث قال بعد نقلہ نحوما مرعن القبض ومثل مافی الارشاد مانصہ، وھذا التاویل ابلغ واولی لانہ موافق لروایۃ اغیظ رجل اھ ۲؎۔
چنانچہ فیض القدیر کی مذکورہ عبارت کے ہم معنی اور عبارت ارشاد کے ہم مثل ایک عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا یہ تاویل بلیغ تر اور سب سے بہتر ہے کیونکہ یہ اس روایت کے مطابق ہے جس میں ایسے نام رکھنے والوں کو سب سے زیادہ خبیث بتایا ۱۲م
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسماء المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۶)
بلکہ تاویل دوم پر افعل التفضیل اس کے غیر پر صادق آئے گا، کہ بلا شبہہ ملک الاملاک نام رکھنے سے اللہ یا رحمن نام رکھنا بدرجہا بدتر وخبیث ترہے۔ ابوالعتاہیہ شاعر کی نسبت منقول ہوا کہ اس کی دوبیٹیا تھیں ایک کانام اللہ اور دوسری کانام رحمن ۔ والعیاذ باللہ تعالٰی :
ذکر کیا جاتاہےکہ پھر اس نے اس سے تو بہ کرلی تھی، فیض القدیر علامہ مناوی میں ہے :
من العجائب التی لا تخطر بالبال مانقلہ ابن بزیزۃ عن بعض شیوخہ ان اباالعتاھیۃ کان لہ ابنتان تمسمی احدٰیھما اﷲ والاخرٰی الرحمٰن وھذا من عظیم القبائح وقیل انہ تاب ۱؎۔
ابن بزیرہ نے اپنے بعض مشائخ سے ایک ایسی تعجب خیز بات نقل کی ہے جس کا دل میں خطرہ بھی نہیں گزرتا ، وہ یہ کہ ابو العتابیہ کے دو بیٹیاں تھیں، ایک کانام اللہ اور دوسری کا نام رحمن رکھا تھا، اور یہ تو بڑی ہی قبیح بات ہے اور ایک قول کے مطابق وہ اس سے تائب ہوگیا تھا ۱۲م۔
(۱؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۳۰۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۲۰)
اور قاطع ہر کلام یہ کہ حدیث کی تفسیر کرنے والا خود حدیث سے بہتر کون ہوگا، یہی حدیث صحیح مسلم شریف کی دوسری روایت میں ان لفظوں سے ہے : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :
اغیظ رجل علی اﷲ یوم القیمۃ واخبثہ واغیظہ رجل کان یسمٰی مَلِکُ الاَمْلاکِ لاَ مَلِکَ الا اﷲ ۱؎۔
قیامت کے دن سب سے زیادہ (عہ) خدا کے غضب میں اور سب سے بڑھ کر خبیث اور سب سے زیادہ خدا کا مبغوض وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک کہا جاتاہے بادشاہ کوئی نہیں خدا تعالٰی کے سوا۔
(۱؎ شرح مسلم کتاب الالفاظ باب تحریم التسمی بلملک الاملاک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸)
عہ : تبعنا فیہ الشراح وقد اضطربوا فی تاویل قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اغیظ رجل علی اﷲ اضطراباً کثیرا وحاملہم علیہ ان ظاھرا للمغیظ کون اشد تغیظا علی اﷲ فیکون الغیظ صادرا منہ و متعلقا بہ تعالٰی وھو خلاف عن المقصود فان المرادبیان شدۃ غضب اﷲ تعالٰی علیہ وھذا معنی ماقال الطیبی ان علی ھہنا لیست بصلۃ لاغیظ کما یقال اغتاظ علٰی صاحبہ ویغیظ علیہ وھو مغیظ مخنق لان المعنی یاباہ کما لایخفی ثم اخذ فی التاویل فقال ولکن بیان کانہ لما قیل اغیظ رجل قیل علی من؟ قیل علی اﷲ ۱؎ اھ، وانت تعلم انہ لم یأت بشیئ واثما جعلہ صلۃ الاغیظ کما کان وقال القاضی الامام اسم تفضیل بنی للمفعول ۲؎ اھ۔ اقول وانت تعلمانہ خلاف الاصل ثم بھٰذا التاویل لما صار الغیظ مضافا الی اﷲ تعالٰی وھو محال منہ لانہ غضب العاجز عن الانتقام کما فی المرقاۃ احتاجوا الی تاویلہٖ بانہ مجاز عن عقوبتہٖ کما فی النہایۃ والطیبی والمرقاۃ ثم بعد ھذا الکل لم یتضح کلمۃ علی ،فالتجأ القاری الی انہ علی حذف مضاف ای بناء علی حکمہ تعالٰی ۳؎ اھ،
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ارشاد ''اغیظ رجل علی اﷲ'' کی تاویل میں ہم نے شارحین حضرات کو بہت مضطرب پایا، اس تاویل پر ان کو آمادگی اس لئے ہوئی کہ حدیث کے ظاہر الفاظ میں وہ شخص اللہ تعالٰی پر شدید غیظ والا ہے تو غیظ بندے سے صاد رہوکر اللہ تعالٰی سے متعلق ہوگا حالانکہ یہ خلاف مقصود ہے کیونکہ مقصد تو یہ بیان کرنا ہے کہ اللہ تعالی کا شدید غضب اس شخص پر ہوگا اور طیبی رحمہ اللہ تعالٰی کے قول کا بھی یہی معنٰی ہے کہ ''علی'' یہاں پر ''اغیظ'' کا صلہ نہیں ہے جیسے کہ اغتاظ علی صاحبہ ''اور ''یغیظ علیہ'' میں صلہ بن رہا ہے کیونکہ ''علٰی'' کا ''اغیظ'' کے لئے صلہ ہونا معنی کے خلاف ہے جیسا کہ ظاہر ہے، طیبی نے یہ بیان کرنے کے بعد تاویل شروع کی، گویا بیان یوں ہے کہ جب ''اغیظ رجل'' کہا گیا تو سوال ہوا کہ کس پر، تو جواب میں کہا گیا اللہ پر اھ، حالانکہ آپ پر واضح ہے کہ یہ تاویل بے مقصد ہے اور ''علی''ویسے ہی ''اغیظ" کاصلہ رہا ہے۔ اور قاضی نے تاویل میں فرمایا کہ اغیط اسم تفضیل مفعول کے معنٰی میں ہے اھ، اقول (میں کہتاہوں)آپ کو معلوم ہونا چہائے کہ یہ بھی خلاف اصل ہے نیز یہ کہ جب غیظ کی اضافت اللہ تعالٰی کی طرف ہوئی تو اللہ تعالٰی کے لئے یہ معنی محال ہے کیونکہ یہ اتنقام سے عاجز والا غضب ہے۔ (جبکہ اللہ تعالٰی عجز سے پاک ہے) جیسا کہ مرقاۃ میں ہے سب اس کی تاویل پر ہیں کہ یہ کلام اس شخص پر اللہ تعالی کے عقاب و عذاب سے مجاز ہے جیسا کہ نہایہ، طیبی، مرقاۃ میں ہے لیکن اس کے باوجود کہ ''علی'' کی وضاحت نہ ہوسکی اس لئے ملا علی قاری '' لفظ اللہ'' سے قبل مضاف مقد رماننے پر مجبورہوئے یعنی اغیظ رجل علی حکم اﷲ تعالٰی اھ
(۱؎ شرح الطیبی کتاب الادب باب الاسامی حدیث ۴۷۵۵ ادارۃ القرآن کراچی ۹ /۶۸ و ۶۹)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح بحوالہ القاضی کتاب الادب باب الاسامی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۶)
(۳؎مرقاۃ المفاتیح بحوالہ القاضی کتاب الادب باب الاسامی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۵)
اقول : ولا یخفٰی علیک مافیہ من البعد الشدید وبالجملۃ رجع الکلام علی تاویلہم الی ان اشد الناس مغضوبیۃ بناءً علی حکم اﷲ تعالٰی وانا اقول وباﷲ التوفیق ان جعلنا الغیظ وھو غضب العاجز صادرا عن الرجل وعلی صلۃ لہ تخلصنا عن ذٰلک کلہ ولانسلم اباء المعنی فان المجرم المعذب الکافر بعظمۃ الملک ونعمتہ لابدلہ من التغیظ علی الملک عند حلول نقمتہ بہ وکلما کان اشد عذابا کان اشد تغیظا والتہابا فکان کنایۃ عن انہ اشد الناس عذابا وناسب ذکرہ بہذا الوجہ اشارۃ الی کونہ متکبرا علی ربہ منازعالہ فی کبریائہ متکبرا علی ربہ منازعالہ فی کبریائہ فاذا احس مس العذاب جعل یتغیظ علی من لایقدر علیہ ولایستطیع الفرار منہ وقد کان یزعم مساواۃ فی العظمۃ والاقتدار فمن یقدر تغیظہ الاالواحد القہار والعیا ذ باﷲ العزیز الغفار۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ ۱۲ منہ عفی عنہ۔
اقول: (میں کہتاہوں) تجھ پر مخفی نہیں ہے کہ اس تاویل میں شدید بعد ہے خلاصہ یہ کہ ان حضرات کی تاویل کا ماحاصل یہ ہے کہ وہ شخص اللہ تعالٰی کے حکم پر لوگوں میں سے شیدید مغضوب ہوگا حالانکہ میں کہتاہوں اللہ تعالٰی کی توفیق سے مگر ہم غیظ کو عاجز کا غضب قرار دے کر اس کا صدور شخص مذکور سے بنائیں تو ہم تمام اعتراض سے بچ جائیں گے اور اس معنی کا انکار ہمارے لیے قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ عذاب میں مبتلا ہونیوالے اللہ تعالٰی کی عظمت ونعمت کے منکر شخص کو لازما اپنے ملک ہونے کی بناء پر عذاب کی وجہ سے غصہ آئیگا، اور جیسے جیسے عذاب کی شدت ہوگی اس کے غصے میں شدت آئیگی تویہ تمام لوگوں سے بڑھ کر عذاب سے کنایہ ہے۔ اس انداز سے اس کے ذکر کی مناسبت میں اپنے رب تعالٰی پر تکبر اور اس کی کبریائی میں مقابل بننے کی طرف اشارہ ہے توجب اس کو عذاب ہوگا تو اپنے گمان میں اللہ تعالٰی کی عظمت واقتداء میں مساوی ہونےکے باوجود عذاب سے خلاصی میں اپنے بے بسی پرغیظ میں آئیگا تو اس کے غیظ کی مقدار کو اللہ تعالٰی کے بغیر کوئی نہ جان سکے گا،
والعیاذباللہ تعالٰی ۔و اللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
بالجملہ حدیث حکم فرمارہی ہے کہ اس نام والا روز قیامت تمام جہان سے زیادہ خدا تعالٰی کے غضب وعذاب میں ہے۔ امام قاضی عیاض نے فرمایا :
ای اکبر من یغضب علیہ ۱؎
یعنی سب سے بڑھ کر جس پرغضب الہی ہوگا۔
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح بحوالہ القاضی کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۶)
علامہ طیبی نے کہا:
یعذبہ اشد العذاب
اللہ تعالٰی اسے سخت تر عذاب فرمائے گا۔
نقلہما فی المرقاۃ ۲؎
(انھیں مرقاۃ میں نقل کیا گیا ہے۔ ت)
(۲؎مرقاۃ المفاتیح بحوالہ الطیبی کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۷)
اور شک نہیں کہ سب سے سخت تر عذاب وغضب نہ ہوگا مگرکافرپر اور
''ملک الاملاک''
نام رکھنا بالاجماع کفر نہیں ہوسکتا ،جب تک استغراق حقیقی مراد نہ لے، تو حاصل حدیث یہ نکلا کہ جس شخص نے بد عوٰی الوہیت و خدائی اپنا نام ملک الاملاک رکھا اس پرسب سے زیادہ سخت عذاب وغضب رب الارباب ہے ، اور یہ قطعا حق ہے اور اسے مانحن فیہ سے علاقہ نہیں، کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ت)