Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
65 - 144
علماء فرماتے ہیں ایک فریق نے مقصود پر نظر کی اور دسرے نے لفظ کو دیکھا۔

اقول: یعنی اور اس پر عمل خلاف مقصود نہ تھا بخلاف جمود ظاہر یہ کہ مقصود سے یکسر دور پڑتا، اور احکام شرعیہ کو معاذاللہ محض بے معنی ٹھہراتا ہے
کما ھو مَعْہُوْدمِن دابہم
 (جیسا کہ ان کی عادت معروف ہے۔ ت) لہذا فریقین میں کسی پر ملامت نہ فرمائی، یہی حال یہاں ہے۔

ثانیا اسے یوں بھی تحریر کرسکتے ہیں کہ مانعین نے ظاہر نہی پر نظر کی کہ اس میں اصل تحریم ہے اور اطلاق کرنے والوں نے دیکھا کہ لفظ ارادۃ وافادۃ ہر طرح شناعت سے پاک ہے تو نہی صرف تنزیہی ہے کہ منافی جواز واباحت نہیں، جس طرح حدیث میں ارشاد ہوا۔
لاَ یَقُلِ الْعَبْدُ رَبِّیْ ۱؎۔
  غلام اپنے آقا کو اپنار ب نہ کہے
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الفاظ     باب حکم اطلاق لفظۃ العبد الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۳۸)
اور فرماتاہے:
لاَ یَقُلْ اَحَدُکُمْ اَسْقِ رَبَّکَ اَطْعِمْ رِبَّکَ وَضِّئ رَبَّکَ وَلاَ یَقُلْ اَحَدُ کُمْ  رَبِّیْ ۲؎۔
تم میں سے کوئی نہ کہے کہ اپنے رب کو پانی پلا۔ اپنے رب کو کھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا اور نہ کوئی کسی کو اپنا رب کہے۔
 (۲؎ صحیح مسلم     کتاب الفاظ     بابحکم اطلاق لفظۃ العبد الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲ /۲۳۸)
اور علماء نے تصریح فرمائی کہ یہ نہی صرف تنزیہی ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ تعالٰی شرح صحیح مسلم شریف میں اسی حدیث کے تحت میں فرماتے ہیں :
النہی للادب وکراھۃ التزیہ لا للتحریم ۳؎۔
ممانعت بطور ادب ہے اور کراہت تنریہی ہے نہ کہ تحریمی۔
 (۳؎ شرح صحیح مسلم للنووی    کتاب الالفاظ     بابحکم اطلاق لفظۃ العبد الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۳۸)
امام بخاری اپنی صحیح میں فرماتے ہیں :
باب کراھۃ التطاول علی الرقیق و قولہ عبدی وامتی وقال اﷲ تعالٰی والصالحین من عبادکم وامائکم وقال عبدا مملوکا واذکر نی عندربک ای عند سیدک ۱؎۔
یہ باب ہے اس بارے میں کہ غلام پر زیادتی مکروہ ہے اور آقا کے اس قول کے سلسلہ میں کہ میراعبد اور میری باندی ہے۔ اور اللہ تعالٰی عزوجل کا یہ ارشاد ''اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا'' اور فرمایا: عبد مموک اور مجھے اپنے رب یعنی اپنے آقا کے پاس یاد کرو۔ ۱۲ م
 (۱؎ صحیح البخاری   کتاب العتق     باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۴۶)
امام عینی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
ذکر ھذا کلہ دلیلا لجواز ان یقول عبدی وامتی وان النہی الذی ورد فی الحدیث عن قول الرجل عبدی و امتی وعن قولہ اسق ربک ونحوہ للتنزیہ لاللتحریم ۲؎۔
یہ تمام باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ (مملوک اور مملوکہ) کو ''عبدی'' اور ''امتی'' (میرا بندہ اور باندی) کہنا جائز ہے۔ اور احادیث کریمہ میں جو یہ وارد ہے کہ کوئی ادمی ''عبدی'' (میرا عبد) اور امتی(میر ی باندی) نہ کہے، یونہی اپنے رب کو پانی پلا'' نہ کہے یا اس قسم کی دیگر ممانعت تو یہ تحریم کے لئے نہیں بلکہ تنزیہہ کے لئے ہے۔ ۱۲م
 (۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری   کتاب العتق  باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق الخ   ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۳ /۱۱۰)
امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری شریف میں فرماتے ہیں :
فان قلت قد قال تعالٰی اذکرنی  عند ربک وارجع الی ربک اجیب انہ ورد لبیان الجواز والنہی للادب والتنزیہ دون التحریم ۳؎۔،
اگر یہ اعتراض ہوکہ اللہ تعالٰی عزوجل نے فرمایا ہے ''مجھے اپنے رب کے پاس یاد کرو'' اور اپنے رب کی طرف لوٹو'' تو جواب یہ ہوگا کہ یہ بیان جواز کے لئے ہے اور نہی تحریم کے لئے نہیں بلکہ تادیبا اور تنزیہا ہے۔ ۱۲م
 (۳؎ ارشاد الساری   کتاب العتق     باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق الخ    دارالکتاب بیروت    ۴ /۳۲۴)
ثالثا مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثناعشریہ میں نقل کرتےہیں کہ اللہ عزوجل زبورمقدس میں فرماتاہے:
اَمتَلَاَتِ الاَرْضُ مِنْ تَحْمِیْدِ اَحْمَدَ وَتَقْدِ یْسہ، وَمَلکَ الْاَرْضَ وَرِقَابَ الاْمَمِ ۴؎۔
زمین بھر گئی احمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حمد اور اس کی پاکی کے بیان سے، احمد مالک ہواتمام زمین اور سب امتوں کی گردنوں کا، صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
 (۴؎ تحفہ اثنا عشریہ     باب ششم دربحث نبوت وایمان انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۶۹)
امام احمد مسند، اورعبداللہ بن احمد زوائد مسند، اور امام طحاوی شرح معانی الآثار اور امام بغوی وابن السکن وابن ابی عاصم وابن شاہین وابن ابی خیثمہ وابویعلی بطریق عَدیَدَہ حضرت اعشٰی مازنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ وہ خدمت اقدس حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں فریادی آئے اور اپنی عرضی حضور میں گزار دی جس کی ابتداء یہ تھی :
یَا مَالِکَ النَّاسِ وَدَیَّانَ الْعَرْبِ۔
اے تمام آدمیوں کے مالک اور عرب کے جزا و سزادینے والے!
مسند احمد وشرح معانی الآثار میں
مَالِکُ النَّاسِ ۱؎
ہے اور زوائد مسند نیز ثلثہ متصلہ کی روایت سے بعض نسخ میں
یَاملک النَّاسِ وَدَیَّانَ الْعَرْبَ ۲؎
یعنی اے تمام آدمیوں کے بادشاہ اور عرب کے جزاء دہندہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی فریاد کو سن کر حاجت روائی فرمائی، پر ظاہر کہ آدمیوں اور امتوں میں سلاطین وغیر سلاطین سب داٰخل ہیں۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    از مسند عبداللہ بن عمرو بن العاس     المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۰۱)

(شرح معانی الآثار     کتاب الکراھیۃ باب الشعر     ایچ اایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۴۱۰)

(۲؎ مسند ابویعلی     حدیث ۶۸۳۶         موسسۃ علوم القرآن بیروت    ۶ /۲۳۰)

(مجمع الزوائد بحوالہ عبداللہ بن احمد کتاب النکاح     ۴ /۲۳۱     وکتاب الادب باب جواز الشعر الخ     ۸ /۱۲۷)
جب حضور تمام ادمیوں کے مالک، تمام آدمیوں کے بادشاہ، تمام ا متوں کی گردنوں کے مالک ہیں تو بلاشبہہ تمام بادشاہوں کے بھی مالک تمام سلاطین کے بھی بادشاہ تمام بادشاہوں کی گردنوں کے بھی مالک ہوئے،
مَلِکُ النَّاسِ
کانسخہ تو عین مدعا ہے اور
مَالِکُ النَّاسِ
اس سے بھی اعظم واعلی ہے کہ بادشاہ لوگوں پر حاکم ہوتاہے ان کی گردنوں کا مالک نہیں ہوتا، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بحکم آیت وحدیث جلل تمام بادشاہوں کی گردنوں کے بھی مالک ہیں۔ وللہ الحمد۔
زمخشری معتزلی نے کشاف سورہ ہود میں زیر قولہٖ تعالٰی وانت احکم الحاکمین اقضی القضاۃ پر اعتراض کیا۔ امام ابن المنیر سنی نے انتصاف میں اس کا رد فرمایا کہ حدیث شریف میں ارشاد ہوا :
اقضا کم علی ۳؎
 (علی رضی اللہ عنہ تم سب سے زیادہ فیصلے کرنیوالے ہیں۔ ت)
 (۳؎فیض القدیر بحوالہ ابن المنیر   تحت حدیث ۳۰۳  درالمعرفۃ بیروت  ۱ /۲۲۰)
اس سے جواز ثابت ہوتاہے یعنی جب اقضٰی کی اضافت سب کی طرف ہے۔ اور اس میں قضاۃ بھی داخل ۔ تو
اَقضَاکُمْ
سے اقضی القضاۃ بھی حاصل، ظاہر ہے کہ
اقضاکُمْ
عموم میں
مالک الناس و مَلِکْ النَّاس ومَالِکُ رِقَاب الْاُمَمِ
کے برابر نہیں کہ وہ بظاہر صرف مخاطبین سے خاص ہے، تو ان الفاظ کریمہ سے مالک الملوک وملک الملوک ومالک رقاب الملوک وشہنشاہ بدرجہ اولٰی ثابت پس آیت و حدیث میں ان ارشادات عالیہ کا آنا دلیل روشن ہے کہ نہی صرف اسی طور پر ہے جیسے مولٰی وسید کہنے سے منع فرمایا حالانکہ قرآن وحدیث خود ان کا اطلاق فرمارہے ہیں وللہ لحمد۔
رابعا اگر یہاں کوئی حدیث دربارہ نہی ثابت بھی ہو تو کلام مذکور اس کے لئے کافی ووافی ہے نظر دقت میں یہاں ایک حدیث ابن النجار ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی :
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سمع رجلا یقول شاھان شاہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اَﷲُ مَلِک الْمَلُوْک ۱؎۔
یعنی ایک شخص نے دوسرے کو پکارا: اے شاہان شاہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: شاہان شاہ اللہ ہے۔ اس کی تو صحت بھی ثابت نہیں۔
 (۱؎ کنز العمال    بحوالہ ابن النجار     حدیث ۴۵۹۹۲     موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۶ /۵۹۶)
رہی حدیث جلیل صحیح ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ صحیحین وسنن ابی داؤد وجامع الترمذی میں مروی:
اخنع الاسماء عنداﷲ یوم القیمۃ رجل تسمٰی مَلِکُ الْاَمْلَاکِ ۲؎۔
روز قیامت اللہ تعالٰی کے نزدیک سب ناموں میں زیادہ ذلیل وخوار وہ شخص ہے جس نے اپنا نام مالک الاملاک رکھا۔
 (۲؎ صحیح البخاری   کتاب الادب     باب البغض الاسماء الی اللہ تعالٰی قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۹۱۶)

(سنن ابی داؤد    کتاب الادب   باب فی تغییر اسم القبیح     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۲۲)

(جامع الترمذی کتاب الادب     باب مایکرہ من الاسماء     امین کمپنی دہلی        ۲ /۱۰۷)

(صحیح مسلم     کتاب الالفاظ     باب تحریم بملک الاملاک     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۰۸)
یہ بداہۃ طالب تاویل ہے ک وہ شخص خود نام نہیں، اور اس روایت کے لفظ یہ ہیں کہ وہ شخص سب سے برا نام ہے۔ 

علماء نے اس میں تا ویلیں فرمائیں : ایک یہ کہ مجازا نام سے ذات مراد ہے ۔ یعنی روز قیامت اللہ تعالٰی کے نزدیک سب آدمیوں سے بدتر وہ شخص ہے جس نے اپنایہ نام رکھے۔
Flag Counter