وقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: اِنَّ اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّد رواہ البخاری ۳؎ عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بیشک یہ میرابیٹا سید ہے (یعنی حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ (اس کو روایت کیا ہے امام بخاری نے ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔ ت)
(۳؎ صحیح البخاری فضائل اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مناقب الحسن والحسین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۳۰)
وقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: اَﷲُ وَرَسُوْلُہ، مَوْلٰی مَنْ لاَ مَوْلٰی لَہ،۔ رواہ الترمذی ۴؎ وحسنہ وابن ماجۃ عن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اللہ اور اس کا رسول ہر بے مولٰی کے مولٰی ہے۔ (اس کو روایت کیا ہے ترمذی نے اور اسے حسن کہا اور ابن ماجہ نے امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ۔ت)
(۴؎ جامع الترمذی ابواب الفرائض باب ماجاء فی میراث الخال امین کمپنی کراچی ۲ /۳۱)
(سنن بن ماجہ ابواب الفرائض باب ذوی الارحام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۱)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا :
لَقَدْ حَکَمْتَ فِیْھِمْ بِحُکْمِ اﷲ ، رواہ مسلم ۱؎ عن عائشہ وعن ابی سعید ن الخدری والنسائی عن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
بے شک تم نے ان یہود کے بارے میں وہ حکم دیا جو خدائے تعالٰی کا حکم تھا (اس کو مسلم نے عائشہ اور ابی سعید خدری سے اور نساء نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الجہاد باب جواز قتال من نقض العہد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۵)
اسی حدیث شریف میں ہے جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے حکم کے لئے فرمایا۔ انھوں نے عرض کی :
اﷲ ورسولہ احق بالحکم رواہ الحافظ ۲؎ محمد بن عائذ فی المغازی بسندہٖ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
حکم دینا تو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کاحق ہے (اس روایت کیا ہے حافظ محمد بن عائد نے مغازی میں اپنی مسند کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے۔ ت)
(۲؎ المواھب اللدنیہ غزوہ بنی قریظہ حکم سعد بن معاذ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۴۶۷)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیما یروی الطبرانی فی اوسطہ۔ حَکِیْمُ اُمَّتِی عَوَیْمَر۔ ۳؎
انصارکرام نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی :
یا رسول اﷲ اَنْتَ وَاﷲ الْاَعَزُ العزیز ۴؎۔رواہ ابوبکر ابن ابی شیبۃ استاد البخاری ومسلم عن عروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
یا رسول اللہ! خدا تعالٰی کی قسم حضور ہی سب سے زیادہ عزت والے ہیں۔ (اسے روایت کیا ہے ابوبکر بن ابی شیبہ استاد بخاری ومسلم نے عروہ بن الزبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے۔ ت)
(۴؎ الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ تحت آیۃ وللہ العزۃ ولرسولہ الخ مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۶ /۲۲۶)
صرف حضورہی کے لئے عزت ہے عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ابن عبداﷲ ابن ابی منافق نے اپنے باپ سے فرمایا:
انک الذلیل ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم العزیز، رواہ الترمذی ۱؎ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما ونحوہ الطبرانی عن اسامۃ بن یزید رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
بے شک توہی ذلیل ہے اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہی عزیز وصاحب عزت ہیں (اسے روایت کیا ہے ترمذی نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ۔ یونہی طبرانی نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما سے۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ المنافقون امین کمپنی کراچی ۲ /۱۶۵)
صحابہ کرام میں بیس سے زائد کا نام حکم ہے۔ تقریبا دس کا نام حکیم ۔ اور ساٹھ سے زیادہ کا خالد، اور ایک سو دس سے زیادہ کا مالک___ ان وقائع او ان کے امثال کثیرہ پر نظر سے ظاہر ہے کہ ایسی نہی میں شرع مطہر کا مقصو دکیا تھا اور اس پر قرینہ واضحہ یہ ہے کہ خود حدیث شریف میں اس کی تعلیل یوں اراد ہوئی کہ:
لاَمَلِکَ اِلاَّ اﷲ ۲؎
خدا تعالٰی کے سوا کوئی بادشاہ ہی نہیں۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الادب باب تحریم التسمی بملک الاملاک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸)
ظاہر ہے کہ حصرا سی
السید ھواﷲ ومولٰکم اﷲ
(سید اللہ تعالٰی ہی ہے اور تمھارا مولٰی اللہ تعالٰی ہے۔ ت)کے قبیل سے ہے۔ ورنہ خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوا :
وقال المَلِکْ اَنِیْ اَرٰی ۳؎۔
اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا۔
(۳؎القرآن الکریم ۱۲ /۴۳)
اور فرمایا :
وقال الملک ائتونی بہ ۴؎۔
اور بادشاہ بولا کہ انھیں میرے پاس لے آؤ۔
(۴؎ القرآن الکریم ۱۲/ ۵۰)
اور فرمایا :
ان الملوک اذا دخلوا قریۃ ۵؎۔
بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں۔
(۵؎القرآن الکریم ۲۷ /۳۴)
امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں اس معنٰی کی طرف اشارہ کیا۔
حدیث انما الکرم قلب المؤمن
(مومن کا دل کرم کا خزانہ ہے) کے نیچے فرماتے ہیں:
وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما المفلس الذی یفلس یوم القیمہ کقولہ انما الصرعۃ الذی یملک نفسہ عند الغضب کقولہ لاملک الا اﷲ فوصفہ بانتہاء الملک ثم ذکر الملوک ایضا قال ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا ۱؎ اھ
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: صحیح معنٰی میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن حالت افلاس میں ہو جس طرح آپ کا یہ ارشاد گرامی کہ حلیم وبردبار وہ شخص ہے جو غیظ و غضب میں اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھے،ا ور اسی کے ہم مثل آپ کا یہ ارشاد بھی ہے۔''بادشاہت تو صرف اللہ کے لئے ہے : یہاں ذات باری تک بادشاہت کی انتہاء مانی گئی حالانکہ دوسروں کے لیے بھی بادشاہ ہونے کا ذکر موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا : بے شک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے اھ ۱۲م
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الادب باب قول النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انما الکرم قلب المومن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۳)
وہابیہ وخوارج اسی نکتہ جلیلہ سے غافل ہوکر شرک شِرک وکفر میں پڑے کہ اللہ تعالٰی تو
اِنِ الْحُکْمُ الاَّ لِلّٰہِ ۲؎
حکم تو اللہ ہی کا ہے۔ فرماتاہے،
(۲؎ القرآن الکریم ۱۲/ ۴۰)
مولٰی علی نے کیسے ابو موسٰی کو حکم فرمایا_____ اللہ تعالٰی تو
ایاک نستعین ۳؎
فرماتاہے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۱/ ۴)
مسلمانوں نے انبیاء واولیاء سے کیسے استعانت کی _____ اللہ تعالٰی تو
قول لایعلم ۴؎ الایۃ
فرماتاہے۔
(۴؎القرآن الکریم ۲۷ / ۶۵)
اہلسنت نے کیسے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے اطلاع غیوب مان لی ____ اور اندھوں نے نہ دیکھا کہ وہی خدا تعالٰی
فابعثواحکماً ۵؎
ایک پنچ بھیجو____ اور
تعاونوا علی البروالتقوٰی ۶؎
اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو ______ اور
واستعینوا بالصبروالصلٰوۃ ۷؎
اور صبر اور نماز سے مدد چاہو _____ اور
الامن ارتضی من رسول ۸؎
سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے ____ اور
یجتبی من رسلہ من یشاء ۹؎
چن لیتاہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے ____ اور
تلک من انباء الغیب نوحیہا الیک ۱۰؎
یہ غیب کی خبریں ہم تمھاری طرف وحی کرتے ہیں ____ اور
یؤمنون بالغیب ۱۱؎
بے دیکھے ایمان لائے، وغیرہا فرمارہا ہے
افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض ۱۲؎
تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو۔ ۱۲م
خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا، اس مقصد کی شرع کی نظر واقعہ تحریم خمرپر ہے کہ ابتداء میں نقیر ومزفت جرہ وحنتم یعنی مضبوط برتنوں میں نبیذ ڈالنے سے منع فرمایا تھا کہ تساہل نہ واقع ہو، جب اسکی حرمت اور اس سے نفرت مسلمانوں کے دل میں جم گئی اور اس سے کامل تحفط واحتیاط نے قلوب میں جگہ پائی۔ فرمایا:
ان ظرفا لایحل شیئا ولا یحرمہ ۱؎۔
برتن کسی چیز کو حلال وحرام نہیں کرتا۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الاشربہ باب النہی عن الانتباذ فی الحتنم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۶۷)
بالجملہ ان اکابر ائمہ وعلماء واولیاء نے مقصود پر نظر فرماکر لفظ شاہنشاہ کا اطلاق فرمایا اور جن کی نظر لفظ پر گئی منع بتایا
کما نقلہ فی التتارخانیہ
(جیسا کہ تتارخانیہ میں نقل کیا گیا ہے۔ ت) دونوں فریق کے لئے ایک وجہ موجہ ہے
لکل وجہۃ ھو مولیھا ۲؎
(ہر ایک کے لئے ایک جہت ہے وہ اس طرف پھریگا)
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۱۴۸)
اس کی نظیر واقعہ نماز ظہر یا عصر ہے کہ جب یہودی بنی قریظہ پر لشکر کشی فرمائی عسکر ظفر پیکر میں اس مناادی کا حکم فرمایا کہ :
من کان سامعا مطیعا فلا یصلین العصر الا فی بنی قریضۃ۔
جوبات سنتا اورحکم مانتا ہو وہ ہر گز عصر نہ پڑھے مگر آبادی بنی قریضہ میں۔
صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم رواں ہوئے، راہ میں وقت عصر ہوا، اس پر د وفرقے ہوگئے بعض نے کہا لانصلی حتی نأتہا ہم تو جب تک اس آبادی میں نہ پہنچ جائیں نماز نہ پڑھیں گےکہ ہمیں ارشاد فرمادیا ہے کہ نماز وہیں پہنچ کر پڑھنا۔ بعض نے کہا بل نصلی لم یرد منا ذلک بلکہ ہم نماز راہ ہی میں پڑھ لیں گے، ارشاد سے مقصود جلدی تھی نہ یہ نماز قضاکردی جائے، غرض کچھ نے نماز راہ میں پڑھ لی اور جاملے، کچھ نے نہ پڑھی، یہاں تک کہ عشاء کے وقت وہاں پہنچے۔ دونوں فریق کا حال بارگاہ اقدس میں معروض ہوا، ولم یعنف واحدا منہم ،حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان میں سے کسی پر اعتراض نہ فرمایا۔
رواہ الائمۃ منہم الشیخان ۳؎ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما
(اس کو ائمہ حدیث خصوصا شیخین نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)