امام اجل علامہ بدرالملۃ والدین محمود عینی حنفی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری شریف میں فرماتے ہیں:
اول من تسمٰی قاضی القضاۃ ابویوسف من اصحاب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما وفی زمنہٖ کان اساطین الفقہاء و العلماء والمحدثین فلم ینقل عن احد منہم عنکار عن ذٰلک ۱؎۔
یعنی سب میں پہلے جس کا لقب قاضی القضاۃ ہوا امام اعظم کے شاگرد امام ابویوسف ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہما، اس جناب نے یہ لقب قبول فرمایا اور ان کے زمانہ میں فقہاء وعلماء ومحدثین کے اکابر وعمائد تھے، ان میں کسی سے اس کا انکار منقول نہ ہوا۔
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض الاسماء الی اللہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۲۲ /۲۱۵)
اب ثابت ہوا کہ وہ طعن نہ فقط انھیں ائمہ وفقہاء واولیاء پر ہوگا جن سے لفظ ''شہنشاہ'' کی سندیں گزریں، بلکہ ائمہ تبع تابعین اور ان کے اتباع اور امام مذہب حنفی ابویوسف اور اس وقت سے آج تک کے تمام علماء حنفیہ اور بکثرت علمائے بقیہ مذاہب سب پر طعن لازم آئے گا اور اس پر جرأت ظلم شدید وجہل مدیدہوگی، لاجرم بات وہی ہے کہ لفظ جب ارادۃ وافادۃ ہر طرح سے شناعت سے پاک ہے تو صرف احتمال باطل سے ممنوع نہ کردے گا ورنہ سب سے بڑھ کر نما ز میں تَعَالٰی جَدُّکَ حرام ہو، کہ دوسرے معنی کس قدر شنیع وفظیع رکھتاہے۔ ہاں صدر اسلام میں کہ شرک کی گھٹائیں عالمگیر چھائی ہوئی تھیں، فقیر وقطمیر کے ساتھ نہایت تدقیق فرمائی جاتی کہ توحید بروجہ اتم اذہان میں متمکن ہو، ولہذا نہ فقط شہنشاہ بلکہ
اَنْتَ سَیِّدُنَا
کے جواب میں ارشاد ہوا
اَلسَّیِّدُ اﷲ
سید اللہ ہی ہے۔
ابوالحکم کنیت رکھنے پر فرمایا :
ان اﷲ ہو الحکم والیہ الحکم فلم تکنی اباالحکم رواہ ابوداؤد۲ والنسائی عن ابی شُرَیْح رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بے شک اللہ ہی حکم ہے اور حکم کا اعتبار اسی کو ہے توتیری کنیت ابوالحکم کیوں ہے (اس کو روایت کیا ہے ابوداؤد اور نسائی نے ابی شرئح رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ۔ ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغیر الاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱)
(سنن النسائی ادب القضاۃ باب اذا حکموا رجلا الخ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۰۴)
غلاموں کوارشاد ہوا تھا:
لاَیَقُوْلُ الْعَبْدُ لِسَیِّدِہٖ مَوْلاَیَ فَاِنَّ مَوْلَاکُمْ اَﷲُ ۱؎۔ رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
غلام اپنے آقا کو مولٰی نہ کہے کیونکہ تمھارا مولٰی تو اللہ تعالٰی ہی ہے (اسے روایت کیا مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔ ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الالفاظ باب حکم اطلاق لفظۃ العبد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸)
ایک حدیث شریف میں آیا :
لاَتَسْمُّوْا اَبْنَائَکُمْ حَکِیْماً وَّلاَ اَبَاالْحَکمِ فَاِنَّ اﷲَ ھُوَالحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ۔ رواہ عطاء عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم ذکرہ الامام البدر ۲؎ محمود فی عمدۃ القاری۔
اپنے بیٹوں کانام حکیم یا ابوالحکم نہ رکھو کہ اللہ تعالٰی ہی حکیم وعلیم ہے۔ اس کو عطا نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے (اسے امام بدر محمود نے عمدۃ القاری میں روایت کیا ہے۔ ت)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری الادب باب البغض الاسماء ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲/ ۲۱۵)
اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ نام خالد اور مالک ہے اس لئے کہ کوئی ہمیشہ نہ رہے گا اور مالک اللہ تعالٰی ہی ہے (اسی کو امام بدر نے داؤدی سے ذکر کیاہے۔)
(۳؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری الادب باب البغض الاسماء ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲ /۲۱۵)
یوں ہی عزیز وحکم ناموں کو تبدیل فرمادیا۔ سنن ابی داؤد میں ہے :
غَیَّرَرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم اِسْمَ عَزِیْزٍ وَ الْحَکمِ۔ قال ترکت اسانیدھا اختصاراً ۴؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اسم عزیز وحکم کو تبدیل فرمادیا، فرمایا اس کی سانید کو بوجہ اختصار ترک کردیا۔ (ت)
(۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب تغیر الاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱)
حدیث شریف میں ہے کہ نبی صلی للہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لاتسمہ عزیزا۔ رواہ احمد ۱؎ والطبرانی فی الکبیر عن عبدالرحمٰں بن سمرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اس کا نام عزیز نہ رکھ، (اس کو روایت کیا ہے احمد اور طبرانی نے کبیر میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔ (ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل عن عبدالرحمن المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۷۸)
نیز حدیث شریف میں ہے :
نھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اَنْ یُّسَمَّی الرَّجْلُ حَرْباً وَّوَلیْدًا اَوْ مُرَّۃً اَوْ اَبَا الْحَکَمِ۔ راواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ حرب یا ولید یا مرۃ یا حکم نام رکھا جائے۔ (اس کو طبرانی نے کبیر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۲؎ المعجم الکبیر حدیث ۹۹۹۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۸۹)
حالانکہ یہ الفاظ اوصاف غیر خدا کے لئے خود قرآن عظیم واحادیث ، اقوال علماء میں بکثرت وارد،
قال اللہ تعالٰی : سیدا وحصوراً ونبیًّا من الصالحین۔ ۳؎
سردار اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۳ /۳۹)
وقال اﷲ تعالٰی : والفیا سیدھا لدا الباب ۴؎۔
اور دونوں کو عورتوں کامیاں (سید) دروازے کے ۔
(۴؎القرآن الکریم ۱۲ /۲۵)
وقال اللہ تعالٰی : فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلہا ۵؎۔
تو ایک پنچ مردوالوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورتوں والوں کی طرف سے۔
(۵؎القرآن الکریم ۴ /۳۵)
وقال اللہ تعالٰی : وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط ۱؎۔
اور اگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۴۲)
وقال اللہ تبارک وتعالٰی : واتینا الحکم صبیا ۲؎۔
اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی۔
(۲؎ القرآن الکریم ۱۹ /۱۲)
وقال اللہ تبارک وتعالٰی : فان اﷲ ھو مولاہُ وجبریل وصالح المومنین ۳؎۔
تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبرئیل اور نیک ایمان والے۔
(۳؎القرآن الکریم ۶۶ /۴)
وقال اللہ تعالٰی عن عبدہٖ زکریا علیہ الصلٰوۃ والسلام : وانی خفت الموالی من ورائی ۴؎۔
اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔
(۴؎القرآن الکریم ۱۹ / ۵)
وقال اللہ تعالٰی : ھم فیہا خالدون ۵؎۔
انھیں ہمیشہ اس میں رہنا۔
(۵؎القرآن الکریم ۲ /۸۱ و ۸۲)
وقال اللہ تعالٰی : فہم لہا مالکون ۶؎۔
یہ تو ان کے مالک ہیں۔
(۶؎القرآن الکریم ۳۶ /۷۱)
وقال اللہ تعالٰی: ونادوا یا مالک ۷؎۔
اور وہ پکاریں گے اے مالک!
(۷؎القرآن الکریم ۴۳ / ۷۷)
وقال اللہ تعالٰی: واتینٰہُ الحکمۃ ۸؎۔
اور ہم نے اسے حکمت دی۔
(۸؎القرآن الکریم ۳۸/ ۲۰)
وقال اللہ تعالٰی : ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا ۹؎۔
اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی
(۹؎القرآن الکریم ۲ /۲۶۹)
وقال اللہ تبارک وتعالٰی : وﷲ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنافقین لایعلمون ۱؎۔
عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶۳ /۸)
وقال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: انا سید وُلدِ اٰدم۔ رواہ مسلم ۲؎ و ابوداؤد عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
میں تمام اولاد آدم کا سید (سردار ہ) ہوں،(اسے روایت کیا ہے مسلم اور ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔ ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضل النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۴۵)
(سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی التخیر بن الانبیاء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۸۶)