کوئی بھی قاضی اپنا نائب اس وقت مقرر کرسکتاہے جب اس کو نائب بنانے کے اختیارات سپر دکردئے گئے ہوں مثلا یہ کہے میں نے تمھیں قاضی القضاۃ بنایا۔ قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) وہ ہے جسے علی الاطلاق تصر ف کاحق حاصل ہوچاہے تقلید ہو یا نہ ہو ۱۲ م۔
(۲؎ الدارالمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۸)
استدانت بامرالقاضی میں ان کی مراد قاضی سے ''قاضی القضاۃ''ہے اور امور اوقاف میں جہاں بھی ''قاضی''کا لفظ آیا ہے اس سے یہی (قاض القضاۃ) مراد ہے ۔ ۱۲م۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰)
امیر الامراء ، خان خاناں، بگاء بگ عربی فارسی ترکی تین مختلف زبانوں کے الفاظ ہیں اور معنی ایک ، یعنی سرورسرواں، سرداراسرداراں، سید الاسیاد، اور اگر امیرامر بمعنی حکم سے لیجئے تو امیر الامراء بمعنی حاکم الحاکمین، شک نہیں کہ ان الفاظ کو عموم واستغراق حقیقی پررکھیں توقاضی القضاۃ وحاکم الحاکمین وعالم العلماء وسید الاسیاد حضرت رب العزت عزوجل ہی کے لئے خاص ہیں اور دوسرے پر ان کا اطلاق صریح کفر، بلکہ بنظر حقیقت اصلیہ صرف قاضی وحاکم وسید وعالم بھی اسی کے ساتھ خاص،
قال اللہ تعالٰی : واﷲ یقضی بالحق والذین یدعون من دونہٖ لایقضون بشیئ ان اﷲ ھوا لسمیع البصیر ۲؎۔
اور اللہ سچا فیصلہ فرماتاہے اور اس کے سوا جن کو پوچتے ہیں وہ کچھ فیصلہ نہیں کرتے، بیشک اللہ ہی سنتادیکھتاہے۔
(۲؎القرآن الکریم ۴۰ /۲۰)
وقال اللہ تبارک وتعالٰی :
لہ الحکم والیہ ترجعون ۳؎۔
اسی کاحکم ہے اور اسی کی طرف پھرے جاؤ گے۔
(۳؎القرآن الکریم ۲۸ /۸۸)
وقال اللہ تعالٰی : ان الحکم الا اﷲ ۴؎۔
حکم نہیں مگر اللہ کا۔
(۴؎ القرآن الکریم ۱۲/ ۴۰)
وقال اللہ تعالٰی: وہ العلیم الحکیم ۵؎۔
وہی علم وحکمت والا ہے۔
(۵؎ القرآن الکریم ۶۶ /۲)
وقال اللہ تعالٰی: یوم یجمع اﷲ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا ۱؎۔
جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائیے گا تمھیں کیا جواب ملا عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۱۰۹)
وفد بنی عامر نے حاضر ہوکر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی :
اَنْتَ سَیِّدُنَا
حضور ہمارے سید ہیں۔ فرمایا :
اَلسَّیِّدُ اﷲُ
سید تو خدا تعالٰی ہی ہے۔
رواہ احمد ابوداؤد۲؎ عن عبداﷲ بن الشخیر العامری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اسے روایت کیا ہے احمد اور ابوداؤد نے عبداللہ بن شخیر عامری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی کراھیۃ التماح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۶)
(مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۴)
یوں ہی نہ ملک الملوک بلکہ صرف مالک ہی،
قال اللہ تعالٰی : لہ الملک ولہ والحمد ۳؎۔
اسی کے لئے ملک اور اسی کے لئے تعریف۔
(۳؎ القرآن الکریم ۶۴ /۱)
وقال اللہ تعالٰی : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْم ۴؎۔
آج کس کی بادشاہی ہے۔
(۴؎القرآن الکریم ۴۰ /۱۶)
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اسی حدیث
مَلِکُ الْمُلُوْک
کی تعلیل میں فرمایا :
لَا مَلِکَ اِلَّا اﷲُ
بادشاہ کوئی نہیں سوائے اللہ تعالٰی کے۔
رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(اسے روایت کیا ہے مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔ ت)
(۵؎ صحیح مسلم کتاب الادب با ب تحریم التسمی بملک الاملاک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸)
اورا مام الائمہ، شیخ الشیوخ شیخ المشائخ اپنے استغراق حقیقی پر یقینا حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ خاص، اور دوسرے پر اطلاق قطعا کفر کہ اس کے عموم میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بھی داخل ہوں گے، اور معنی یہ ٹھہریں گےکہ فلاں شخص معاذاللہ حضور سید العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بھی شیخ وامام ہے۔ اور یہ صراحۃ کفر ہے۔ مگر حاشا ان تمام الفاظ میں نہ ہر گز یہ معنی قائلین کی مراد نہ ان کے اطلاق سے مفہوم ومفاد اور اس پردلیل ظاہر وباہریہ ہے کہ متکبر مغرور جبار سلاطین کہ اپنے آپ کو مابدولت واقبال اور اپنے بڑے عہدہ داروں، امراء وزراء کو بندہ حضور وفدوی خاص لکھتے ہیں جن کے تکبر کی ٰیہ حالت کہ اللہ و رسول کی توہین پر شاید چشم پوشی بھی کرجائیں، مگر ہر گز اپنی ادنٰی سی توہین پر درگزر نہ کریں گے، یہی جبار انہیں امراء کوقاضی القضاۃ امیرالامراء وخان خاناں وبگاء بگ خطاب دیتے اور خود لکھتے، اور اوروں سے لکھواتے، اور لوگوں کو کہتے، لکھتے دیکھتے، سنتے اور پسند ومقرر رکھتے ہیں بلکہ جو انکے اس خطاب پر اعتراض کرے عتاب پائے اگر ان میں استغراق حقیقی کا ادنٰی ابہام بھی ہوتاجس سے متوہم ہوتا کہ یہ امراء خود ان سلاطین پر بھی حاکم وافسروبالا وبرتر وسردار وسرور ہیں، تو کیا امکان تھا کہ اسے ایک آن کے لئے بھی روا رکھتے، تو ثابت ہو اکہ عرف عام میں امثال الفاظ میں استغراق حقیقی ارادۃ وافادۃ ہر طرح قطعا یقینا متروک ومہجور ہے۔ جس کی طرف اصلا خیال بھی نہیں جاتا، بعینہٖ بداہۃ یہی حال شاہنشاہ کا ہے۔ کیا پکے مجنون کے سوا کوئی گمان ہوسکتا ہے کہ امام اجل ابوالعلاء علاء الدین ناصحی امام اجل ابوبکر رکن الدین کرمانی، علامہ اجل خیر الملۃ والدین رملی، عارف باللہ شیخ مصلح الدین______ عارف باللہ حضرت امیر ، عارف باللہ حضرت حافظ، عارف باللہ حضرت مولوی معنوی، عارف باللہ حضرت مولانا نظامی، عارف باللہ حضرت مولانا جامی، فاضل جلیل مخدوم شہاب الدین وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم وقدست اسرارھم کے کلام میں یہ ناپاک معنی مرادہونا درکنار، اسے سن کر کسی مسلمان کا وہم بھی اس طرف جاسکتاہے تو بے ارادہ وبے افادہ اگر مجرد احتمال منع کے لئے کافی ہوتا وہ تمام الفاظ بھی حرام ہوتے حالانکہ خواص وعام سب میں شائع وذائع ہیں خصوصا قاضی القضاۃ کہ انہیں فقہائے کرام کا لفظ اور قدیما وحدیثا کے ان کے عامہ کتب میں موجود ہے۔ اس میں اور شہنشاہ میں کیا فرق ہے۔
ان میں بادشاہوں کا بادشاہ اور یوں وہ قاضی القضاۃ کا قول کہتے ہیں اھ مرقات میں اس کو نقل کیا۔ (ت)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب اسامی الفصل الاول المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۷)
(اکمال المعلم بفوائد مسلم باب تحریم التسمی بملک الاملاک دارالوفاء بیروت ۷ /۱۹، ۲۰)
اسی کی مانند امام حجر شافعی المذہب نے زواجر میں اپنے یہاں کے بعض ائمہ سے نقل کیا۔ مگر جانتے ہو کہ یہ قاضی القضاۃ (عہ) کس کا لقب ہے اور کب سے رائج ہے۔
عہ: امام ماوردی کا لقب ''اقضی القضاۃ'' تھا:
کمافی ارشاد الساری ۱؎ وظنی انہ اول من تسمی بہ وزعم الامام البدر ان ھذا ابلغ من قاضی القضاۃ لانہ افعل التفصیل قال ومن جہلاء ھذا الزمان من مسطری سجلات القضاہ یکتبون للنائب اقضی القضاۃ وللقاضی الکبیر قاضی القضاۃ ۲؎ اھ واقرہ الامام القسطلانی اقول وعندی ان الامر بالعکس فان اقضی القضاۃ من لہ مزیۃ فی القضاء علی سائر القضاۃ ولایلزم ان یکون حاکما علیہم ومتصرفا فیہم بخلاف قاضی القضاۃ کما نقلناعن الدرالمختار ونظیرہ املک الملوک یصدق اذا کان اکثر ملکا عنہم بخلاف ملک الملوک فہو الذی نسبۃ الملوک الیہ کنسبۃ الرعایا الی الملوک کما لایخفی فہذا ھو الابلغ وبہٖ یندفع اعتراض الامام الماوردی و ﷲ الحمد منہ عفی عنہ۔
جیسا کہ ارشاد الساری میں ہے : اور گمان یہ ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جن کا یہ نام رکھا گیا اور امام بدرالدین عینی رحمۃ اللہ تعالٰی کا گمان ہے کہ اقضی القضاۃ زیادہ ابلغ ہے قاضی القضاۃ کی نسبت کیونکہ اس میں افعل تفصیل ہے اور انھوں نے فرمایا ہمارے زمانے کے جاہل قاضیوں کے دفتری لوگ مثلا نائب قاضی، کو اقضی القضاۃ لکھتے ہیں اور قاضی کبیر کو قاضی القضاۃ لکھتے ہیں اھ، اس کلام کو امام قسطلانی نے ثابت رکھاہے میں کہتاہوں حالانکہ میرے نزدیک معاملہ بالعکس ہے کیونکہ اقضی القضاۃ وہ ہے جس کے فیصلے دوسرے قاضیوں کی نسبت زیادہ ہوں اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ قاضیوں کاحاکم ہو اور ان کے متعلق اختیار رکھتاہو اس کے برخلاف قاضی القضاۃ ہے جیسا کہ ہم نے درمختار سے نقل کیا ہے اس کی نظیر املک الملوک کا مصداق کثیر مملکت والا دوسروں کے مقابلہ میں بخلاف ملک الملوک اس کو کہتے ہیں جو بادشاہوں کاسردار ہو جس طرح کہ بادشاہ کے لئے رعایا ہوتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں لہذا یہ ابلغ ہے اس سے امام ماوردی کا اعتراض ختم ہوگیا، اللہ تعالٰی کے لیے ہی تمام حمدیں ہیں۔ (ت)
(۱؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب الادب دارالکتب العربی بیروت ۹ /۱۱۸)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض لاسماء الی اللہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲ /۲۱۵)
سب میں پہلے یہ لقب ہمارے امام مذہب سیدنا امام ابویوسف تلمیذ اکبر سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہماکا ہوا اور اس زمانہ خیر کے ائمہ کرام تبع تابعین واتباع اعلام نے اسے مقبول ومقرر رکھا، اور جب سے آج تمام علمائے حنفیہ اور بہت دیگر علمائے مذاہب ثلاثہ میں رائج وجاری وساری ہے۔