غرض کلمات اکابر میں اس کے صدہا نظائر ملیں گے، ہمیں کیا لائق ہے کہ ان تمام ائمہ ورفقہااء وعلماء وعرفاء رحمہم اللہ تعالٰی قدست اسرارھم پر طعن کریں وہ ہم سے ہر طرح اعرف واعلم تھے، لہذا واجب کہ بتوفیق الٰہی نظر فقہی سے کام لیں، اور اس لفظ کے منع وجواز میں تحقیق مناط کریں کہ مسئلہ قطعا معقول المعنی ہے نہ کہ محض تعبدی
فاقول: وباﷲ التوفیق
(میں کہتاہوں اور توفیق اللہ سے ہے۔ ت) ظاہر ہے کہ اصل منشا ئے منع اس لفظ کا ستغراق حقیقی پر حمل ہے یعنی موصوف کا استثناء تو عقلی ہے کہ خود اپنے نفس پر بادشاہ ہونا معقول نہیں۔ اس کے سوا جمیع ملوک پر سلطنت اوریہ معنٰی قطعا مختص بحضرت عزت عزجلالہ ہیں، اور اس معنی کے ارادے سے اگر غیر پر اطلاق ہو تو صراحۃ کفر ہے کہ اس کے استغراق حقیقی میں رب عزوجل بھی داخل ہوگا یعنی معاذاللہ موصوف کو اس پر بھی سلطنت ہے یہ ہر کفر سے بد تر کفر ہے۔ مگرحاشا ہر گز کوئی مسلمان اس کا ارادہ کرسکتاہے نہ زنہار کلام مسلم میں یہ لفظ سن کر کسی کا اس طرف ذہن جاسکتاہے، بلکہ قطعا قعطا عہد یا استغراق عرفی ہی مراد اور وہی مفہوم ومستفاد ہوتاہے کہ قائل کااسلام ہی اس ارادہ پر قرینہ قاطعہ ہے۔ جیسا کہ علماء نے موحد کے
اَنْبَتَ الرَّبِیْعُ الْبَقَلَ
(موسم ربیع نے سبزہ اگایا) کہنے میں تصریح فرمائی،
نیز فتاوٰی خیریہ میں ہے :
سئل فی رجل حلف لایدخل ھذہ الدار الا ان یحکم علیہ الدھرفدخل ھل یحنث (اجاب) لا، وھذا مجاز لصدورہٖ عن المواحد والحکم القضاء واذا ادخلہا فقد حکم ای قضٰی علیہ رب الدھر بدخولہا وھو مستثنٰی من یمینہ، فلاحنث ۱؎۔
ایک ایسے شخص کے بارے میں استفتاء کیا گیا جس نے یہ قسم کھالی تھی کہ اس گھر میں داخل نہ ہوں گا، جب تک کہ اس پر زمانہ کاحکم نہ ہو، پھر وہ اس گھر میں داخل ہوا تو کیا اس کی قسم ٹوٹ جائیگی، جوا ب نفی میں ملا، چونکہ موحد سے یہ جملہ صادر ہوا اس لئے مجاز قرار پائےگا اور حکم بمعنی قضاء ہے وار جب وہ شخص داخل ہوا تو اس کا دخول رب الدہر کے حکم اور قضاء سے ہوا ہے اور یہ اس قسم سے مستثنٰی ہے لہذا حانث نہ ہوگا الخ۔
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الایمان دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۸۷)
اب رہا یہ کہ استغراق حقیقی اگر چہ نہ مراد نہ مفہوم مگر مجرد احتمال ہی موجب منع ہے۔ یہ قطعا باطل ہے۔ یوں تو ہزاروں الفاظ کہ تمام عالم میں دائر وسائر ہیں منع ہوجائیں گے، پہلے خود اسی لفظ ''شہنشاہ'' کی وضع وترکیب لیجئے، مثلا قاضی القضاۃ امام الائمہ شیخ الشیوخ، شیخ المشائخ، عالم العلماء، صدر الصدور، امیر الامراء، خان خاناں بگاء بگ وغیرہما کہ علماء ومشائخ وعامہ سب میں رائج ہیں، شیخ المشائخ ، سلطان الاولیاء، محبوب الٰہی اور شیخ الشیوخ حضرت سیدنا شہاب الحق والدین عمر سہروردی رضی اللہ تعالٰی عنہما کا لقب ہے۔
جواہر الفتاوٰی کتاب اصول الدین وکتاب اصول فقہ وکتاب الایمان وکتاب الغصب وکتاب الدعوٰی وکتاب الکراہت وغیرہا سب کے باب سادس میں امام علاء الدین سمرقندی کو عالم العلماء فرمایا۔
امام اجل عبدالرحمن اوزاعی امام اہل الشام کہ امام اعظم ابوحنیفہ وامام مالک کے زما نے میں تھے اور تبع تابعین کے اعلٰی طبقے میں ہیں، امام مالک کو عالم العلماء فرمایاکرتے۔
زرقانی علی الموطا میں ہے :
امامالک فہو الامام المشہور صدر الصدور اٰکمل العقلاء واعقل الفضلاء کان الاوزاعی اذا ذکر مالکا قال قال عالم العلماء وعالم اھل المدینۃ ومفتی الحرمین ۱؎۔
امام مالک تو مشہور امام ہیں، رئیسوں میں رئیس، عقلاء میں کامل تر، فضلا میں سب سے فہیم، امام اوزاعی جب امامالک کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ عالم العلماء مدینہ والوں کے عالم اور حرمین طیبین کے مفتی نے فرمایا ہے۔ ۱۲م
امام الائمہ امام محمد بن خزیمہ حافظ الحدیث کا لقب ہے۔ قاضی القضاۃ اسلامی سلطنتوں کا معرف عہدہ ہے۔ عامہ کتب فقہ میں اس کا اطلاق موجود، اور ائمہ کی زبانوں پر شائع،
(۱؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲و ۳)