Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
60 - 144
پھر ان کا چھٹا فتوٰی نقل کیا جس کے دستخط ہیں: ؎
شاھان شہ ملک الموک ابوالعلاء

ہادی امیر المومنین لقد نظم ۵؎۔
شاہوں کے شاہ ملک الملوک ابوالعلاء مسلمانوں کے امیر ورہبر نے اس جواب کو مرتب کیا۔ ۱۲م
(۵؎جواھر الفتاوٰی    الباب السادس    قلمی نسخہ   ص ۳۵۴  ورق ۱۷۷)
یونہی کتاب الوقف میں ان کے متعد د فتاوے نقل فرمائے ازاں جملہ ایک کلام کا ختم یہ ہے: ـ؎
ملک الملوک ابوالعلاء مجبیہ

معزدین اﷲ یشکر داعیا ۱؎۔
شاہوں کے شاہ ابوالعلاء اس کا مجیب ہے جو دین الٰہی کے غلبہ کے لئے شکر کے ساتھ دعا کرتاہے۔ ۱۲م
 (۱؎جواہرالفتاوٰی     کتاب الوقف ، قلمی    ص۳۰۹ ورق ۱۵۵    )
ایک کے آخر میں ہے : ؎
شاھان شہ ملک الملوک ابوالعلاء

نظم الجواب لمن تعفی بالٰہ ۲؎۔
شہنشاہ ملک الملوک ابوالعلاء نے یہ جواب اس شخص کے لئے مرتب کیا جو اللہ عزوجل کی پناہ کا طالب ہے۔ ۱۲م
 (۲؎ جواہر الفتاوٰی     کتاب الوقف    ص۳۱۰  ورق ۱۵۵)
یون ہی ۱۲ تا ۱۵ کتاب البیوع میں ان کے چار فتوے نقل فرمائے ہر ایک کی ابتداء انھییں لفظوں سے کی:
قال القاضی الامام ملک الملوک ۳؎۔
قاضی، امام، ملک الملوک نے کہا۔ (ت)
 (۳؎ جواہر الفتاوٰی     کتاب البیوع     الباب السادس قلمی نسخۃ ص ۲۵۹  ورق ۱۳۰)
غرض کتاب مستطاب ان کے فتاوئے صواب اور ان کے ان گرامی الفاظ سے مشحون ہے۔

علامہ خیر الدین رملی استاد صاحب درمختار رحمہما اللہ تعالٰی نے فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارہ میں نوازل سے نقل فرمایا :
قال سئل ملک الملوک ابوالعلاء فیمن اٰجر دارموقوفۃ مائۃ سنۃ ۴؎ الخ۔
شاہوں کے شاہ ابوالعلاء سے اس شخص کے بارے م یں استفتاء کیا گیا جس نے ایک قف کی ہوئی زمین کو سال بھر کےلئے اجرت میں دیا تو کیا حکم ہے۔ ۱۲ م۔
 (۴؎ فتاوٰی خیریہ     کتا ب الاجارۃ     دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۱۲۱)
اسی کی کتاب القضا باب خلل المحاضرہ والسجلات میں دربارہ ساعی فرمایا :
فحول المتاخرین افتوا بجواز قتلہ حتی قال ملک الملوک الناصحی رحمہ اﷲ تعالٰی ۵؎۔
متاخرین میں معتمد ومستند علماء نے فتوٰی دیا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کرنا جائز ہےحتی کہ شاہوں کے شاہ ناصحی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۱۲م۔
 (۵؎فتاوٰی خیریہ   کتاب ادب القاضی    باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت     ۲ /۲۰)
پھر ان کا منظوم فتوٰی نقل فرمایا: ؎
القتل مشروع علیہ واجب

زجرا لہ والقتل فیہ مقنع

شاھان شہ ملک الملوک ابوالعلاء

نظم الجواب لکل من ھو یبرع ۱؎۔
ایسے شخص کوقتل کرنا مشروع بلکہ اس کے زجر وتوبیخ کے لئے واجب ہے اور اس میں قتل عین عدل ہے۔ شاہوں کے شاہ ملک الملوک ابوالعلاء نے ہر فضیلت وعلم رکھنے والوں کے لئے اس جواب کو مرتب کیا ۱۲م
 (۱؎فتاوٰی خیریہ    کتاب ادب القاضی    باب خلل المحاضر والسجلات     دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۲۰)
حضرت عمدۃ العلماء والاتقیاء زبدۃ العرفاء والاولیاء مولوی معنوی سیدی محمد جلال الملۃ والدین رومی بلخی قدس سرہ الشریف مثنوی شریف میں ایک بادشاہ کی حکایت میں فرماتے ہیں: ؎
گفت شاہنشاہ جزائش کم کنید

دربجنگدنامش از خط برزنید ۲؎
بادشاہ نے کہا اس کی اجرت کم کردی جائے اور اگر وہ آمادہ جنگ ہو تو روزنامچہ سے اس کا نام نکال دو۔ ۱۲م
 (۲؎ مثنوی معنوی     دربیان آنکہ ترک الجواب جواب مقرر ایں سخن الخ     نورانی کتب خانہ پشاور    دفتر چہارم ص۳۸)
نیز ابتدائے مثنوی مبارک میں فرماتے ہیں: ؎
تاسمرقند آمد ند آن دوامیر

پیش آں زرگر زشاہنشہ بشیر ۳؎
بادشاہ کے دونوں امیر (ایلچی) شہر سمرقند آئے اور اس مردزرگر کو بادشاہ کی جانب سے خوشخبری دی ۱۲م

وہی فرماتے ہیں :
پیش شاہنشاہ بروش خوش نباز

تابسو زد برسر شمع طراز ۴؎
اس خوش نصیب مرزرگر کو بادشاہ کے پاس لے آئے تاکہ اس شمع طراز معشوقہ پر اسے قربان کردے۔ ۱۲م
 (۳؎ و ۴؎ مثنوی معنوی   فرستادن بادشاہ رسولاں سمرقند در طلب زرگر    نورانی کتب خانہ پشاور     دفتر اول ص ۹)
اسی میں فرمایا: ؎
ہم زانواع اوانی بے عدد

کانچناں دربزم شاہنشاہ سزد ۵؎
اور بہت سے مختلف قسم کے برتن بھی (بنا) جو بادشاہوں کی بزم مسرت کی زیب وزینت نہیں ۱۲م
 (۵؎مثنوی معنوی فرستان بادشاہ رسولاں سمرقند در طلب زرگر   نورانی کتب خانہ پشاور     دفتر اول ص ۹)
حضرت عارف باللہ داعی الی اللہ سیدی مصلح الدین سعد شیرازی قدس سرہ، فرماتے ہیں :
جمال الانام مفخر الاسلام سعد ابن الاتابک الاعظم شاھنشاہ المعظّم مالک رقاب الامم مولٰی ملوک العرب و العجم ۱؎۔
مخلوق کے جمال، اسلام کے لئے قابل فخر، سعد ابن اتابک اعظم، قابل عظمت شہنشاہ لوگوں کی گردنوں کے مالک عرب وعجم کے بادشاہوں کے مولٰی وآقا ۱۲ م۔
 (۱؎ گلستان سعدی     دیباچہ کتاب دانش سعدی     تہران ایران   ص۱۲)
نیز فرماتے ہیں: ؎
بارعیت صلح کن وزجنگ خصم ایمن نشین

زانکہ شاہنشاہِ عادل رارعیت لشکر است ۲؎
رعایا کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آ، اور پھر دشمن کی جانب لڑائی سے بے خوف رہ، کیونکہ عادل بادشاہ کے لئے رعایہ ہی لشکر ہے۔ ۱۲م۔
 (۲؎گلستان سعدی   باب اول     تہران ایران    ص۳۰)
Flag Counter