Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
59 - 144
رسالہ

فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء اﷲ (۱۳۲۶ھ)

(لفظ شہنشاہ کا مفہوما ور یہ کہ بیشک محبوبان خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم
مسئلہ ۱۶۶: از کانپور محلہ فیل خانہ کہنہ مکان مولوی سید محمد اشرف صاحب وکیل۔ مرسلہ سید محمد آصف صاحب ۸/ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ

حامی سنت، ماحی بدعت جناب مولانا صاحب دَامَتْ فُیُوْضُہُمْ، بعد سلام مسنون الاسلام، التماس مرام اینکہ ان دنوں جناب والا کا دیوان نعتیہ کمترین کے زیر مطالعہ ہے۔ بصد آداب ملازمان کی خدمت بابرکت میں ملتمس ہوں کہ وہ مصرع کے الفاظ شرعا قابل ترمیم معلوم ہوتے ہیں اور غالبا اس ہیچمدان کی رائے سے ملازمان سامی بھی متفق ہوں اور ودر صورت عدم اتفاق جواب باصواب سے تشفی فرمائیں ع
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو

اس مصرع میں لفظ ''شہنشاہ'' خلاف حدیث ممانعت دربارہ قول ملک الملوک ہے بجائے ''شہنشاہ'' اگر ''مرے شاہ'' ہو تو کسی قسم کا نقصان نہیں، دوسرایہ مصرع حضرت غوث اعظم قدس سرہ، کی تعریف میں:ع

بندہ مجبور ہے خاطر پر ہے قبضہ تیرا

صحیح حدیث شریف سے ثابت ہے کہ دل خدا وند کریم کے قبضہ قدرت میں ہیں، اور وہی ذات مقلب القلوب ہے، چونکہ اس ہیچمداں سراپا عصیان کو ملازمان جناب والا سے خاص عقیدت وارادت ہے۔ لہذا امیدوار ہے کہ یہ تحریر محض اَلدِّیْنُ النُّصْحُ (دین نصیحت ہے۔ ت) پر محمول فرمائی جائے، بخدا فدوری نے کسی اور غرض سے نہیں لکھا۔ 

عریضہ ادب سید محمد آصف عفی عنہ
الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ ہو الشاہ، والشَّاہ الشاھنْشَاہ، لا ملک سواہ، فمن ادعا دونہ فقد ضل وتاہ، وصلی اﷲ تعالٰی علیہ سید العالم، مالک الناس دیان العرب والعجم ، الذی ملک الارض ورقاب الامم، وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم، اٰمین!
سب حمدیں اللہ تعالٰی کے لئے جو حقیقی بادشاہ اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی حقیقی بادشاہ نہیں ہے تو جو اس کے غیر کو مقابلہ میں سمجھے تو وہ گمراہ اور بھٹکا ہوا ہے۔ اور اللہ تعالٰی رحمت نازل فرمائے جہاں کے سردار، عرب وعجم کے جزادہندہ جوروئے زمین اور امتوں کے مالک بنے اور آپ کی آل پاک واصحابہ پر اور برکت اور سلامتی فرمائے۔ آمین۔ (ت)
کرم فرمائے مکرم ذی الطف والکرم مکرمی سیدی محمد آصف صاحب زید کرمہم، وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔
نوازش نامہ تشریف لایا، ممنون فرمایا، حق سبحانہ وتعالٰی آپ کو جزائے خیر عطافرمائے آپ کے صرف انھیں دو مصرعوں میں تامل فرماتے سے شکر الٰہی بجالایاکہ اس میں بحمداللہ تعالٰی آپ کی سنیت خالصہ اور محبت وتعظیم حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلٰوۃ والثناء کا شاہد پایا، ورنہ قوم بے ادب خذلہ اللہ تعالٰی کے نزدیک تو ان اوراق میں معاذاللہ معاذاللہ ہزاروں شرک بھرے ہیں، کہ ان دو لفظوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں، حالانکہ بحمداللہ تعالٰی اس میں جو کچھ ہے اکابر ائمہ دین واعاظم عرفائے کا ملین کے ایمان کامل کا ایک مختصر نمونہ ہے۔ جیسا کہ فقیر کی کتاب
''سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الورٰی''
کے مطالعہ سے ظاہر ہے۔ وللہ الحمد۔
اب شکریہ کے ساتھ بتوفیقہٖ تعالٰی جواب عرض کروں، امید کہ جس خالص اسلامی محبت سے یہ اطلاع دی اسی پر ان جوابوں کو مبنی سمجھ کر ویسی ہی نظر سے ملاحظہ کرینگے، وباللہ التوفیق۔
جواب سوال اول : لفظ ''شہنشاہ'' اولا بمعنی سلطان عظیم السطنۃ محاورات میں شائع، وذائع ہے۔ اور عرف ومحاورہ کو افادہ مقاصد میں دخل تام،
قال اللہ تعالٰی  : وامر بالعرف ۱؎
(اور بھلائی کا حکم دو۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۷/ ۱۹۹)
خود ہمارے فقہاء کرام میں امام اجل علاء الدین ابوالعلاء لیثی ناصحی رحمۃ اللہ تعالٰی کا لقب ''شاہان شہد، ملک الملوک ''تھا ائمہ وعلمائے مابعد جوان کے فتاوٰی نقل کرتے ہیں اسی لقب سے انھیں یاد فرماتے ہیں اور وہ جناب فقاہت مآب خود اپنے دستخط! انھیں الفاظ سے کرتے، امام رکن الدین ابوبکر محمد بن المفاخرین عبدالرشید کرمانی جواہر الفتاوٰی کتاب الاجارہ باب سادس میں فرماتے ہیں:
قال الامام القاضی ملک الملوک ابوالعلاء الناصحی لماسئل عمن اجر ارضا موقوفۃ مائۃ سنۃ ھل یجوز۔
امام، قاضی، شاہوں کے شاہ ابوالعلانا صحی سے یہ استفتاء کیا گیا کہ ایک شخص نے ایک موقوفہ زمین سال بھر کے لئے اجارہ میں دی تو کیا اس کا یہ فعل از روئے شرع جائز ودرست ہے۱۲ م ،
افتٰی ببطلان الاجارۃ معشر

من زمرۃ الفقہاء قطعا لازما

وبذٰلک افتی للمتدین حسبۃ

کیلا اکون بما احرز ظالما
فقہاء کی ایک جماعت نے فتوٰی دیا کہ یہ اجارہ قطعی اورلازمی طور پر باطل ہے۔ ۱۲م ،میرا عدم جواز کایہ فتوٰی دینا دینداروں کے لئے کافی ہے تاکہ میں اپنی جمع کردہ چیزوں کی وجہ سے ظالم نہ ہوجاؤ۔ ۱۲ م
ملک الملوک ابوالعلا مجیبہ

لمعز دین اﷲ مدعوا دائما ۲؎۔
شاہوں کے شاہ ابوالعلاء اس کا مجیب ہے دین الہٰی کے غلبہ کے لئے ہمیشہ دعا گو ہے۔ ۱۲ م
 (۲؎ جواہر الفتاوٰی   کتاب الاجارۃ الباب السادس قلمی نسخہ     ورق ۱۳۸     صفحہ ۲۷۵)
اسی کی کتاب القضاء میں ایک اور مسئلہ اس جناب سے بایں عنوان نقل فرمایا :
قال القاضی الامام ملک الملوک ابوالعلاء الناصحی ۱؎۔
قاضی امام شاہوں کے شاہ ابو العلاء ناصحی نے کہا ۱۲م۔
 (۱؎ جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء ص۳۵۳ ورق ۱۷۷ )
پھر تیسرے مسئلے میں فرمایا:
قال القاضی الامام ملک الملوک ھذا لما عرض علیہ محضر ۲؎۔
قاضی امام، شاہوں کے شاہ نے یہ کہا، جب ان کے پاس دستاویز پیش کیا گیا۔ ۱۲ م
 (۲؎ جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء ص۳۵۳ ورق ۱۷۷ )
اس میں ان کا منظوم فتوٰی نقل کیا جس کے اخر میں فرمایا: ؎
شاہان شہ ملک الملوک ابوالعُلاء

نظم الجواب، منظما ومفصلا۔
شاہوں کے شاہ ابوالعلاء نے اس جواب کو نظم اور ترتیب اور تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ۱۲م
پھر فرمایا:
قال ملک الملوک ۳؎
 (شاہوں کے شاہ نے فرمایا۔ ت)
 (۳؎جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء  ص ۳۵۳ ورق ۱۷۷)
اور ان کا چوتھا فتوٰی نقل کیا جس کے آخر میں فرمایا: ؎
شاھان شہ ملک الملوک ابوالعلا

نظم الجواب لکل من ھو قد عرف
شہنشاہ وقت ابوالعلاء نے اس جواب کو ہر جانکار شخص کے لئے مرتب کیا۔ ۱۲ م

پھر ان کا پانچواں فتوٰی نقل فرمایا جس کے دستخط یوں فرمائے ہیں: ؎
شاھان شہ ملک الملوک ابوالعلاء

نظم الجواب مبینا لمنارہٖ ۴؎
شاہوں کے شاہ ابوالعلاء نے جواب کو یوں مرتب فرمایا کہ اس کے ہر پہلو کو واشگاف کردیا۔ ۱۲م
 (۴؎جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء ص ۳۵۳ ورق ۱۷۷ )
Flag Counter