فقیہ محدث علامہ محقق عارف باللہ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی کتاب افادت نصاب جوہر منظم میں حدیثوں سے استعانت کا ثبوت دے کر فرماتے ہیں:
فالتوجہ والاستغاثۃ بہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بغیرہ لیس لہما معنی فی قلوب المسلمین غیر ذٰلک ولایقصد بہما احد منہم سواہ فمن لم یشرح صدرہ لذٰلک فلیبک علی نفسہ نسأل اﷲ العافیۃ والمستغاث بہ فی الحقیقۃ ہو اﷲ و النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ واسطۃ بینہ وبین المستغیث فہو سبحٰنہ مستغاث بہ والغوث منہ خلقا وایجادا والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مستغاث والغوث منہ سببا وکسبا ۱؎۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا حضور اقدس کے سوا اور انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء کی طرف توجہ اور ان سے فریاد کے یہی معنی مسلمانوں کے دل میں ہیں اس کے سوا کوئی مسلمان اور معنی نہیں سمجھتا ہے نہ قصد کرتا ہے تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے وہ آپ اپنے حال پر روئے، ہم اللہ تبارک وتعالٰی سے عافیت مانگتے ہیں حقیقتا فریاد اللہ عزوجل کے حضور ہے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کے اور اس فریادی کے بیچ میں وسیلہ و واسطہ ہیں، تو اللہ عزوجل کے حضور فریاد ہے اور اس کی فریاد رسی یوں ہے کہ مراد کو خلق وایجاد کرے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور فریاد ہے اور حضور کی فریاد رسی یوں ہے کہ حاجت روائی کے سبب ہوں اور اپنی رحمت سے وہ کام کریں جس کے باعث اس کی حاجت روا ہو۔
(۱؎ الجوہر المنظم الفصل السابع فیما ینبغی للزائر الخ المطبعۃ الخیریہ مصر ص۶۲)
مخالف کو کریما کامصرعہ یادرہا کہ:
نداریم غیر از تو فریادرس
(ہم تیرے سوا کوئی فریاد کو پہنچنے والا نہیں رکھتے۔ ت)
اور وہ بیشک حق ہے جس کے معنی ہم اوپر بیان کرآئے مگر یہ یاد نہ آیا کہ اس کے کبرائے طائفہ کے اکابر وعمائد حضور پر نور سیدنا ومولانا وغوثنا وماوٰینا حضرت غوث اعظم غوث الثقلین صلی اللہ تعالٰی علی جدہ الکریم وآبائہ الکرام وعلیہ وعلی مریدیہ ومحبیہ وبارک وسلم کو فریاد رس مان رہے ہیں
شاہ ولی اللہ صاحب ہمعات میں لکھتے ہیں :
امروز اگر کسے را مناسبت بروح خاص پیدا شود وازآں جافیض بردار غالبا بیروں نیست از آنکہ ایں معنی بہ نسبت پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باشد یا بہ نسبت حضرت امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ یا بہ نسبت غوث الاعظم جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱؎۔
آج اگر کسی کو روح خاص سے مناسبت پیدا ہوجائے اور وہاں سے فیضیاب ہوتو غالبا بعیدنہیں کہ یہ کمال حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مناسبت سے حاصل ہوا ہوگا یا بہ نسبت غوث الاعظم جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ملا ہوگا۔ (ت)
(۱؎ ہمعات ہمعہ ۱۱ اکادیمیۃ الشاہ ولی اللہ حیدر آباد ص۶۲)
شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں حضرت اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبوبیت بیان کرکے فرماتے ہیں :
ایں مرتبہ ازاں مراتب است کہ ہیچکس رااز بشر نہ دادہ اند، مگر بہ طفیل ایں محبوبے برخے ازا ولیاء امت اورا شمہ محبوبیت آں نصیب شدہ مسجود خلائق ومحبوبیت دلہا گشتہ اند مثل حضرت غوث الاعظم وسلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اللہ سرہما ۲؎۔
یہ وہ مرتبہ ہے جو کسی انسان کو نصیب نہ ہوا، ہاں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے طفیل سے اس کا کچھ حصہ اولیائے امت تک پہنچا، پھر یہ حضرات اس کی برکت سے مسجودخلائق اور محبوب قلوب ہوئے جیسے حضرت غوث الاعظم اور سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اللہ سرہما (ت)
(۲؎ فتح العزیز (تفسیر عزیزی) سورۃ الم نشرح مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی ص۳۲۲)
مرزا مظہر جانجاناں اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں :
آنچہ درتاویل قول حضرت غوث الثقلین رضی اﷲ تعالٰی عنہ قدمی ہذہ علی رقبۃ کل ولی اﷲ نوشتہ اند ۳؎۔
حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول کہ ''میرا قدم ہر ولی اللہ کی گردن پرہے'' کی تاویل میں انھوں نے لکھا ہے۔ (ت)
(۳؎ کلمات طیبات فصل دوم درمکاتیب مرزا مظہر جانجاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۱۹)
انہی کے ملفوظات میں ہے :
التفات غوث الثقلین بحال متوسلان طریقہ علیہ ایشاں بسیار معلوم باشد باہیچ کس از اہل ایں طریقہ ملاقات نشدہ کہ توجہ مبارک آں حضرت بحالش مبذول نیست ۱؎۔
غوث الثقلین کی توجہ اپنے سلسلے سے وابستہ حضرات کی طرف بہت معلوم ہوئی ہے آپ کے سلسلے کے کسی ایسے شخص سے ملاقات نہ ہوئی جو آپ کی توجہ سے محروم ہیں۔ (ت)
قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی سیف المسلول میں لکھتے ہیں:
فیوض وبرکات کارخانہ ولایت اول بریک شخص نازل می شود وازاں تقسیم شدہ بہریک از اولیائے عصر می رسدو بہ ہیچ کس از اولیاء اللہ بے توسط اوفیضے نمی رسد ایں منصب عالی تاوقت ظہور سید الشرفاء حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر الجیلانی بروح حسن عسکری علیہ السلام متعلق بودہ چوں حضرت غوث الثقلین پیدا شد، ایں منصب مبارک بوئے متعلق شدہ تاظہور محمد مہدی ایں منصب بروح مبارک حضرت غوث الثقلین متعلق باشد ولہذا آں حضرت قدمی ہذہ علی رقبۃ کل ولی اﷲ فرمودہ، و قول حضرت غوث الثقلین اخی وخلیلی کان موسٰی بن عمر ان نیزبراں دلالت دارد ۲؎۔
کارخانہ ولایت کے فیوض پہلے ایک شخص پر نازل ہوئے۔ پھر اس سے منقسم ہوکر ہر زمانے کے اولیاء کو ملے اور کسی ولی کو ان کے توسط کے بغیر فیض نہ ملا، حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ظہور سے قبل یہ منصب عالی حسن عسکری علیہ السلام کی روح سے متعلق تھا، جب غوث الثقلین پیدا ہوئے تو یہ منصب آپ سے متعلق ہوا اور محمد مہدی کے ظہور تک یہ منصب حضرت غوث الثقلین کی روح سے متعلق رہے گا، اس لئے آپ نے فرمایا میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔ پھر غوث پاک کا یہ قول''میرے بھائی اوردوست موسٰی بن عمرا ن تھے'ـ' بھی اس پر دلالت کرتاہے (ت)
(۲؎ السیف المسلول لقاضی ثناء اللہ پانی پتی (مترجم اردو) فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷)
یہ سب ایک طرف ، خود امام الطائفہ میاں اسمعیل دہلوی صراط مستقیم میں اپنے پیرکا حال لکھتے ہیں:
''روح مقدس جناب حضرت غوث الثقلین وجناب حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی متوجہ حال حضرت ایشاں گردیدہ ۱؎۔
حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند کی ارواح مبارکہ ان کے حال پر متوجہ تھیں۔ (ت)
شخصیکہ در طریقہ قادریہ قصد بیعت مے کند البتہ او رادر جناب غوث الاعظم اعتقادے عظیم بہم می رسد (الی قولہ) کہ خود را از زمرہ غلامان آن جناب می شمارد اھ ملخصا ۲؎۔
ایک شخص نے قادری طریقے میں بیعت کا ارادہ کیا یقینا ا س کو جناب حضرت غوث الثقلین میں بہت گہرا اعتقاد تھا (الی قولہ) خود کو آنجناب کے غلاموں میں شمار کیا اھ ملخصا (ت)
(۲؎صراط مستقیم تکملہ باب چہارم دربیان طریق الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۷)
اسی میں ہے :
اولیائے عظام مثل حضرت غوث الاعظم وحضرت خواجہ بزرگ ۳؎ الخ
اولیائے عظام جیسے غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت خواجہ بزرگ (ت)
یہی امام الطائفہ اپنی تقریر ذبیحہ مندرج مجموعہ زبدۃ النصائح میں لکھتے ہیں:
اگر شخصے بزے راخانہ پرور کند تاگوشت او خوب شود واو راذبح وپختہ فاتحہ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ خواندہ بخورانند خللے نیست ۴؎۔
اگر کوئی شخص کوئی بکرا گھر میں پالے تاکہ اس کا گوشت اچھا ہو جائے اور اس کو ذبح کرکے پکاکر غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فاتحہ دلائے اور لوگوں کو کھلائے تو کوئی خلل نہیں۔ (ت)
(۴؎ زبدۃ النصائح رسالہ نذور)
ایمان سے کہیو، ''غوث الاعظم'' کے یہی معنی ہوئے کہ ''سب سے بڑے فریاد رس'' یاکچھ اور۔ خدا کو ایک جان کر کہنا ''غوث الثقلین'' کا یہی ترجمہ ہوا کہ ''جن وبشر کے فریاد رس'' یا کچھ اور، پھر یہ کیسا کھلا شرک تمھارا امام اور اس کا سارا خاندان بول رہا ہے قول کے سچے ہو تو ان سب کو ذرا جی کراکر کے مشرک بے ایمان کہہ دو، ورنہ شریعت کیا ان کی خانگی ساخت ہے کہ فقط باہر والوں کے لئے خاص ہے گھر والے سب اس سے مستثنٰی ہیں۔
افسوس اس امام کی تلون مزاجیوں نے طائفہ کی مٹی اور بھی خراب کی ہے۔ آپ ہی تو شرک کا قانون سکھائے جس کی بناء پر طائفہ کے نواب بھوپالی بہادر دبی زبان سے کہہ بھی گئے، غوث اعظم یا غوث الثقلین کہنا شرک سے خالی نہیں اور آپ ہی جب تلو ن کی لہرآئے تو اپنی موج میں آکر انھیں گہرے میں دھکا دے اور خود دور کھڑا قہقہے لگائے کہ
انی بریئ منک انی اخاف اﷲ رب العالمین ۱؎
(میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتاہوں جو سارے جہاں کا رب ہے)
(۱؎ القرآن الکریم ۵۹ /۱۶)
اب یہ بیچارے رویا کریں ؎
اپنا بیڑا کھے گئے اور ہوگئے ندیا پار
بانھ نہ میری تھام لی سوآن پڑی منجدھار
کون سنتاہے الحق ؎
دو گونہ رنج وعذاب است جان مجنوں را بلائے صحبت لیلٰی وفرقت لیلٰی
(مجنون کی جان کے لئے دوہرا دکھ اور عذاب ہے صحبت لیلٰی کی مصیبت اور لیلٰی کا فراق)
ضعف الطالب والمطلوب o لبئس المولٰی ولبئس العشیر، وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل، ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز الحکیم، نعم المولٰی ونعم النصیر، والحمدﷲ رب العالمین، وقیل بعداللقوم الظلمین، وصلی اﷲ تعالٰی علی سید المرسلین غوث الدنیا وغیاث الدین سیدنا ومولٰنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔ اٰمین!
طالب ومطلوب کمزور ہوئے، توبرا مددگار اور براخاندان، ہمیں اللہ تعالٰی کافی اور وہ اچھا وکیل، نیکی کی طرف پھرنا اور قوت صرف اللہ تعالٰی کی مدد سے ہے جو غالب حکمت والا ہے۔ وہی اچھا مددگاراور اچھا آقا ہے۔ اور رب العالمین کے لئے تمام حمدیں، اور ظالم قوم کو کہا گیا تمھارے لئے بُعد ہے۔
وصلی اللہ تعالٰی علی سید المرسلین غوث الدنیا وغیاث الدین سیدنا ومولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔ آمین! (ت)
الحمدللہ
کہ یہ نہایت اجمالی جواب اور اتنے اجمال پر کافی ووافی موضع صواب چند جلسات میں ۱۶/ شعبان المعظم روز مبارک جمعہ ۱۳۱۱ ہجریہ قدسیہ کو بوقت عصر تمام اور بلحاظ تاریخ
برکات الامداد لاھل الاستمداد (۱۳۱۱ھ) نام ہوا، نفعنی اللہ بہ وبسائر تصانیفی والمسلمین فی الدارین بالنفع الاتم، وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ وسلم ، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
تمت
کتب عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی
عفی عنہ بمحمدن المصطفٰی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم