مخالفین جب سب طرح عاجز آجاتے ہیں اور کسی طرف راہ مفر نہیں پاتے تو ایک نیا شگوفہ چھوڑتے ہیں کہ صاحبو! ہم بھی اسی استعانت کو شرک کہتے ہیں جو غیر خدا کو قادر بالذات و مالک مستقل بے عطائے الٰہی جان کر کی جائے، اور اپنی بات بنانے اور خجلت مٹانے کو ناحق ناروا بیچارے عوام مومنین پر جیتا بہتان باندھتے ہیں کہ وہ ایسا ہی سمجھ کرانبیاء واولیاء سے استعانت کرتے ہیں ہمارایہ حکم شرک انھیں کی نسبت ہے۔ اس ہار ے درجہ کی بناوٹ کا لفافہ تین طرح کھل جائے گا۔
اولا صریح جھوٹے ہیں کہ صرف اسی صور ت کو شرک جانتے ہیں ان کے امام خود تقویۃ الایمان میں لکھ گئے ہیں:
''کہ پھر خواہ یوں سمجھے کہ ان کاموں کی طاقت ان کو خود بخود ہے خواہ یوں سمجھے کہ اللہ نے ان کو ایسی قدرت بخشی ہے ہرطرح شرک ہوتاہے۔''۱؎(
۱؎تقویۃ الایمان پہلاباب توحید وشرک کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۷)
کیوں اب کہاں گئے وہ جھوٹے دعوے۔
ثانیا ان کے سامنے یوں کہئے کہ یا رسول اللہ ! حضور کو اللہ تعالٰی نے اپنا خلیفہ اعظم ونائب اکرم وقاسم نعم کیا، دنیا کی کنجیاں، زمین کی کنجیاں، خزانو ں کی کنجیاں، مدد کی کنجیاں، نفع کی کنجیاں حضور کے دست مبارک میں رکھیں، روزانہ دو وقت تمام امت کے اعمال حضور کی بارگاہ میں پیش کرائے، یارسول اللہ! میرے کام میں نظررحمت فرمائے اللہ کے حکم سے میری مدد واعانت فرمائے۔
اب ان لفظوں میں توصراحۃ قدرت ذاتی کاانکار اور مظہر عون الہٰی کی تصریح ہے ان میں تو معاذاللہ اس ناپاک گمان کی بو بھی نہیں آسکتی، یہ کہتے جائے اور ان صاحبوں کے چہرے کو غور کرتے جائے، اگر بکشادہ پیشانی سے سنیں اور آثار کراہت وغیظ ظاہر نہ ہو جب تو خیر، اور اگر دیکھئے کہ صورت بگڑی، ناک بھوں سمٹی، منہ پر دھوئیں کی مانند تاریکی دوڑی، تو جان لیجئے کہ دلی آگ اپنا رنگ لائی ع
کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں
سبحان اللہ ! میں عبث امتحان کو کہتا ہوں بارہا امتحان ہو ہی لیا، ان صاحبوں میں نواب دہلوی مصنف ظفر جلیل تھے، حدیث عظیم وجلیل ثابت
کہ صحاح ستہ سے تین صحاح جامع ترمذی ، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، میں مروی اور اکابر محدثین مثل امام ترمذی وامام طبرانی وامام بیہقی وابوعبداللہ حاکم امام عبدالعظیم منذری وغیرہم اسے صحیح فرماتے آئے ہیں جسے خود حضور پر نور سید یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے لئے تعلیم، اور صحابہ وتابعین رضی اللہ تعالٰی عنہم نے زمانہ اقدس اور حضورکے بعد زمانہ امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں حاجت روائی کا ذریعہ بنایا، اس میں کیا تھا، یہی نا کہ یار سول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طر ف توجہ کرتاہوں کہ وہ میری حاجت روا فرمائے،
(۲؎ جامع الترمذی ابواب لدعوات ۲/ ۱۹۷ و المستدرک کتاب صلٰوۃ التطوع ۱/ ۳۱۳، وکتاب الدعا ۵۱۹)
(سنن ابن ماجہ ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی صلٰوۃ الحاجۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۰)
اس میں معاذاللہ قدرت بالذات کی کہاں بو تھی جو نواب صاحب کو پسند نہ آئی کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد کا پاس نہ صحابہ وتابعین کی تعلیم وعمل کا لحاظ نہ اکابر حفاظ حدیث کی تصحیح کا خیال، سخت ڈھٹائی کے ساتھ حاشیہ ظفر جلیل پر حدیث صحیح کو بزور زبان وزور بہتان رد کرنے کے لئے عقل و شرع کی قید سےنکل بے دھڑک بے پرکی اڑادی کہ یہ حدیث قابل حجت نہیں،
انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
اس واقعہ عبرت خیز کا بیان ہمارے رسالہ انھار الانوار میں ہے۔ اب دیکھئے کہ نہ فقط اولیاء بلکہ خود حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والثناء سے استعانت جائز ومحمودہ، خود حضور اقدس کی فرمودہ ، صحابہ وتابعین کی معمولہ ومقبولہ، صحیح حدیث میں ان لوگوں کا یہ حال ہے
قل موتوا بغیظکم ان اﷲ علیم بذات الصدور۱؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳ /۱۱۹)
ثالثا سب جانے دو، سرے سے یہ ناپاک ادعاہے کہ بندگان خدا محبوبان خدا کو قادر مستقل جان کر استعانت کرتے ہیں، ایک ایسی سخت بات ہے جس کی شناعت پر اطلاع پاؤ تو مدتوں تمھیں توبہ کرنی پڑے
اہل لا الہ الا اﷲ
پر بدگمانی حرام ، اور ان کے کام کہ جس کے صحیح معنی بے تکلف درست ہوں خواہی نخواہی معاذاللہ معنی کفر کی طرف ڈھال لے جانا قطعا گناہ کبیرہ ہے۔
حق سبحانہ وتعالٰی فرماتاہے :
یایھاالذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۲؎۔
اے ایمان والو! بہت گمانوں کے پاس نہ جاؤ، بیشک کچھ گمان گناہ ہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم ۴۹ /۱۲)
اور فرماتاہے :
ولاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسئولا ۱؎۔
پیچھے نہ پڑ اس بات کے جو تجھے تحقیق نہیں۔بیشک کان آنکھ، دل سب سے سوال ہوناہے۔
گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔ (اسے امام مالک، بخاری، مسلم، ابوداؤ، اور ترمذی نے روایت کیا۔ ت)
(۴؎ صحیح بخاری باب قول اللہ عزوجل من بعد وصیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۴)
اور فرماتے ہیں :
افلا شققت عن قلبہ ۵؎ رواہ مسلم وغیرہ۔
تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا (اسے امام مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔ ت)
(۵؎ سنن ابی داؤد باب علی مایقاتل المشرکون آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۵۵)
علماء کرام فرماتے ہیں کلمہ گو کے کلام میں اگر ننانوے معنی کفر کے نکلیں اور ایک تاویل اسلام کی پیدا ہو تو واجب ہے اسی تاویل کو اختیار کریں اور اسے مسلمان ٹھہرائیں کہ حدیث میں آیا ہے۔
الاسلام یعلو ولایعلٰی ۶؎ رواہ الرؤیانی والدار قطنی والبیہقی والضیاء والخلیل عن عائذ بن عمر المزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ سلم۔
اسلام غالب رہتا ہے اور مغلوب نہیں کیا جاتا،(اسے رؤیائی، دارقطنی، بہیقی، ضیاء اور خلیل نے عائذ بن عمروالمزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ ت)
(۶؎ سنن الدارقطنی کتاب النکاح باب المہر دارالمحاسن اللطباعۃ قاہرۃ ۳ /۲۵۲)
نہ کہ بلاوجہ منہ زوری سے صاف ظاہر، واضح، معلوم، معروف معنی کا انکار کرکے اپنی طرف سے ایک ملعون ، مردود، مصنوع مطرود احتمال گھڑیں اور اپنے لئے علم غیب اور اطلاع حال کا دعوٰی کرکے زبردستی وہی ناپاک مرادمسلمانوں کے سر باندھیں، قیامت تونہ آئے گی، حساب تو نہ ہوگا، ان بہتانوں، طوفانوں پر بار گاہ قہار سے مطالبہ جواب تو نہ ہوگا، ہاں ہاں جواب تیار کر رکھواس سخت وقت کے لئے جب مسلمانوں کی طرف سے جھگڑتا آئے گا،
لا الہ الا اﷲ
ہاں اب جانا چاہتے ہیں ستمگر لوگ کہ کس پلٹے پر پلٹاکھاتے ہیں، یوں اعتبار نہ آئے تو اپنے کذب کا امتحان کرلو، اہل استعانت سے پوچھو تو کہ تم انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والسلام والثناء کو عیاذا باللہ خدا یا خدا کا ہمسر یا قادر بالذات یا معین مستقل جانتے ہو یا اللہ عزوجل کے مقبول بندے اس کی سرکار میں عزت ووجاہت والے اس کے حکم سے اس کی نعمتیں بانٹنے والے مانتے ہو، دیکھو تو تمھیں کیا جواب ملتاہے۔
اما م علامہ خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین فقیہ محدث ناصر السنۃ ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رضی اللہ تعالٰی عنہ کتاب مستطاب شفاء السقام میں استمداد واستعانت کو بہت احادیث صریحہ سے ثابت کرکے ارشاد فرماتے ہیں:
لیس المراد نسبۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی الخلق والاستقلال بالافعال ہذا لا یقصدہ مسلم فصرف الکلام الیہ ومنعہ من باب التلبیس فی الدین والتشویش علی عوام الموحدین ۱؎۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مددمانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور کو خالق اور فاعل مستقل ٹھہراتے ہوں یہ تو اس معنی پر کلام کو ڈھال کر استعانت سے منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اور عوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے
(۱؎ شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام الباب الثامن فی التوسل الخ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۷۵)
صدقت یا سیدی جزاک اﷲ عن الاسلام والمسلمین خیرا، اٰمین!
اے میرے آقا ! آپ نے سچ فرمایا اللہ تعالٰی ۤآپ کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیرعطا فرمائے۔آمین(ت)