Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
56 - 144
فائدہ ضروریہ
حضرت امام سفیان ثوری قدس سرہ النوری کی نقل قول میں مخالف نے ستم کار سازی کو کام فرمایا ہے۔ اصل حکایت شاہ عبدالعزیز صاحب کی فتح العزیز سے سنئے، لکھتے ہیں:
شیخ سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالٰی علیہ در نماز شام امامت میکرد ،چوں ایاک نعبد وایاک نستعین گفت بیہوش افتاد ،چوں بخود آمد گفتند اے شیخ ! تراچہ شدہ بود ؟ گفت چوں وایاک نستعین گفتم ترسیدم کہ مرا بگویند کہ اے دروغ گو ! چرا از طبیب دارو می خواہی واز امیر روزی واز بادشاہ یاری می جوئی ، ولہذا بعضے از علماء گفتہ اند کہ مرد را باید کہ شرم کند ازانکہ ہر روز وشب پنج نوبت در مواجہہ پروردگار خود استادہ دروغ گفتہ باشد ، لیکن درینجا باید فہمید کہ استعانت از غیر بوجہے کہ اعتماد برآں غیر باشد و او را مظہر عون الہی نداند حرام است ، واگر التفات محض بجانب حق است واو را مظاہر عون دانستہ ونظربہ کارخانہ اسباب وحکمت او تعالی در آں نمودہ بغیر استعانت ظاہری نماید ، دور از عرفان نخواہد بود ،ودر شرع نیز جائز وروا ست ،وانبیاء واولیا ء ایں نوع استعانت بغیر کردہ اند ودرحقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحضرت حق است لاغیر ،۱؂
شیخ سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے شام کی نماز میں امامت فرمائی جب ایاک نعبد وایاک نستعین پر پہنچے بیہوش ہوکرگر پڑے، جب ہوش میں آئے تولوگوں نے دریافت کیا، اے شیخ! آپ کو کیا ہوگیا تھا؟ فرمایا: جب ایاک نستعین کہا تو خوف ہوا کہ مجھ سے یہ نہ کہا جائے اے جھوٹے، پھر طبیب سے دواکیوں لیتاہے۔ امیر سے روزی اور بادشاہ سے مدد کیوں مانگتاہے ؟ اس لئے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کو خدا سے شرم کرنی چاہئے کہ پانچ وقت اس کے حضور کھڑا ہوکر جھوٹ بولتا ہے مگر یہاں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ غیر اللہ سے اس طرح مدد مانگنا کہ اسی پراعتماد ہو اور اس کو اللہ کی مدد کامظہر نہ جانا جائے حرام ہے اور اگر توجہ حضرت حق ہی کی طرف ہے اور اس کو اللہ کی مدد کا مظہر جانتا ہے اور اللہ کی حکمت اور کارخانہ اسباب پر نظر کرتے ہوئے ظاہری طور پر غیر سے مدد چاہتاہے تو یہ عرفان سے دورنہیں، اورشریعت میں بھی جائز اور روا ہے اور انبیاء اور اولیاء نے ایسی استعانت کی ہے۔ اور درحقیقت یہ استعانت غیر سے نہیں ہے بلکہ یہ حضرت حق سے ہی استعانت ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتح العزیز (تفسیر عزیزی)     تفسیر سورہ فاتحہ     پار الم     افغانی دارالکتب دہلی    ص۸ )
مخالف صاحب نے دیکھا کہ حکایت اگر صحیح طور پر نقل کریں تو ساری قلعی کھل جاتی ہے طبیبوں سے دوا چاہنی، امیروں سے نوکری مانگنی، بادشاہوں سے مقدمات وغیرہا میں رجوع کرنا سب شرک ہوا جاتا ہے جس میں خود بھی مبتلا ہے۔ لہذا از طبیب دوا وغیرہ الفاظ کی جگہ یوں بتایا کہ ''غیر حق سے مدد مانگو مجھ سے زیادہ بے ادب کون ہوگا'' تاکہ جاہلوں کے بہکانے کو اسے بہ زور زبان حضرت انبیاء واولیاء علیہم السلام والثناء سے استعانت پر جمائیں اور آپ حکیم جی سے دوا کرانے ، نواب راجہ کی نوکری کرنے، منصف ڈپٹی کے یہاں نالش لڑانے کو الگ بچ جائیں، سبحان اللہ کہاں وہ تبتل تام واسقاط تدبیر واسباب کامقام جس کی طرف امام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس قول میں ارشاد فرمایا جس کے اہل مریض ہوں تو دوا نہ کریں۔ بیماری کو کسی سبب کی طرف نسبت نہ فرمائیں، عین معرکہ جہاد میں کوڑا ہاتھ سے گر پڑے تو دوسرے سے نہ کہیں آپ ہی اتر کے اٹھائیں، اور کہاں مقام شریعت مطہرہ واحکام جواز ومنع وشرک واسلام مگران ذی ہوشوں کے نزدیک کمال تبتل وشرک متقابل ہیں کہ جو اس اعلٰی درجہ انقطاع محض وتفویض تام پر نہ ہوا مشرک ٹھہرایا،
انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
ذرا آنکھیں کھول کردیکھو، اسی حکایت کے بعد شاہ صاحب نے کیسی تصریح فرمادی کہ استعانت بالغیروہی ناجائزہے کہ اس غیر کو مظہر عون الٰہی نہ جانے بلکہ اپنی ذات سے اعانت کا مالک جان کر اس پر بھروسا کرے، اور اگر مظہر عون الٰہی سمجھ کر استعانت بالغیر کرتاہے تو شرک وحرمت بالائے طاق، مقام معرفت کے بھی خلاف نہیں خود حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام نے ایسی استعانت بالغیر کی ہے۔
مسلمانو! مخالفین کے ا س ظلم وتعصب کا ٹھکانا ہے کہ بیمار پڑیں تو حکیم کے دوڑیں ، دوا پر گریں، کوئی مارے پیٹے تو تھانے کو جائیں، رپٹ لکھائیں، ڈپٹی وغیرہ سے فریاد کریں، کسی نے زمین دبالی کہ تمسک کا روپیہ نہ دیا تو منصف صاحب مدد کیجیو، جج بہادر خبر لیجیو، نالش کریں، استغاثہ کریں ، غرض دنیا بھر سے استعانت کریںِ اور حصر
ایاک نستعین
کو اس کے منافی نہ جانیں، ہاں انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء سے استعانت کی اور شرک آیا، ان کاموں کے وقت آیت کاحصر کیوں نہیں یاد آتا، وہاں تو یہ ہے کہ ہم خاص تجھی سے استعانت کرتے ہیں، کیا مخالفین کے نزدیک ''خاص تجھی'' میں بید، حکیم، تھانیدار، جمعدار، ڈپٹی، منصف، جج وغیرہ سب آگئے کہ یہ اس حصر سے خارج نہ ہوئے، یا معاذا للہ آیہ کریمہ کا حکم ان پر جاری نہیں، یہ خدا کے ملک سے کہیں الگ بستے ہیں،
ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
غرض مخالفین خود بھی دل میں خوب جانتے ہیں کہ آیہ کریمہ مطلق استعانت بالغیر کی اصلا ممانعت نہیں، نہ وہ ہر گز شرک یاممنوع ہوسکتی ہے بلکہ استعانت حقیقیہ ہی رب العزۃ جل وعلا سے خاص فرمائی گئی ہے اور اس کا اختصاص کسی طرح حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سے استعانت جائزہ کا منافی نہیں ہوسکتا مگر عوام بیچاروں کو بہکانے اور محبوبان خدا کا نام پاک ان کی زبان سے چھڑا نے کو دیدہ ودانستہ قرآن وحدیث کے معنی بدلتے ہیں، تو بات کیا  سر کی کھلی اور دل کی بند ہیں، پاؤ تلے کی نظر آتی ہے۔ حکیم جی کو علاج کرتے، تھانیدار کو چوریاں نکالتے، نواب راجہ کو نوکریاں دیتے، ڈپٹی منصف کو مقدمات بگاڑتے سنبھالتے، آنکھوں دیکھ رہے ہیں، ان کہ امداد و اعانت سے کیونکر منکر ہوں اور حضرات علیہ انبیاء واولیاء علیہم الـصلٰوۃ والثناء سے جو باطن وظاہر قاہر وباہر مددیں پہنچ رہیں ہیں، وہ نہ دل کے اندھوں کو سوجھیں اور نہ ہی اپنے  نصیبے میں ان کی برکات کا حصر سمجھیں پھر بھلا کیونکر یقین لائیں، جیسے معتزلہ خذلہم اللہ تعالٰی کہ ان کے پیشوا ظاہری عبادتیں کرتے کرتے مرگئے، کرامات اولیاء کی اپنے میں  بوند نہ پائی، ناچار منکر ہوگئے ع
چونہ دید ندحقیقت رہ افسانہ زدند
 (جب انھوں نے حقیقت کو نہ سمجھا تو افسانہ کی راہ اختیار کی۔ ت)
پھر ان حضرات کو ڈپٹی، منصف ، حکیم سے خود بھی کام پڑتا رہتاہے ان سے استعانت کیونکر شرک کہیں، معہذا ان لوگوں سے کوئی کاوش بھی نہیں۔ دل میں آزار تو حضرات انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃوالثناء سے ہے۔ ان کانام تعظیم ومحبت سے نہ آنے پائے ان کی طرف کوئی سچی عقیدت سے رجوع نہ لائے۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱؎
 (عنقریب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ (ت)
 (۱؎القرآن الکریم        ۲۶ /۲۲۷)
فائدہ مہمہ
مخالفین بیچارے کم علموں کو اکثر دھوکا دیتے ہیں کہ یہ تو زندہ ہیں فلاں عقیدہ یا معاملہ ان سے شرک نہیں، وہ مردہ ہیں ان سے شرک ہے۔ یا یہ تو پاس بیٹھے ہیں ان سے شرک نہیں، وہ دور ہیں ان سے شرک ہے وعلی ہذا القیاس طرح طرح کے بیہودہ وسواس ، مگریہ سخت جہالت بے مزہ ہے جو شرک ہے وہ جس کے ساتھ کیا جائے شرک ہی ہوگا، اورایک کے لئے شرک نہیں توکسی کے لئے بھی شرک نہیں ہوسکتا، کیا اللہ کے شریک مردے نہیں زندے ہوسکتے ہیں دور کے نہیں ہوسکتے پاس کے ہوسکتے ہیں، انبیاء نہیں ہوسکتے حکیم ہوسکتے ہیں، انسان نہیں ہوسکتے۔فرشتے ہوسکتے ہیں، حاشاللہ اللہ تبارک وتعالٰی کاکوئی شریک نہیں ہوسکتا، تو مثلا جوبات ندا خواہ کوئی شے جس اعتقاد کے ساتھ کسی پاس بیٹھے ہوئے زندہ آدمی سے شرک نہیں وہ اسی اعتقاد سے کسی دور والے یا مردے بلکہ اینٹ پتھر سے بھی شرک نہیں ہوسکتی، اور جو ان میں سے کسی سے شرک ٹھہرے وہ قطعا یقینا تمام عالم سے شرک ہوگی، اس استعانت ہی کو دیکھئے کہ جس معنی پر خدا سے شرک ہے یعنی اسے قادر بالذات ومالک مستقل جان کر مدد مانگنا ۔ بہ ایں معنی اگر دفع مرض میں طبیب یادوا سے استمداد کرے یا حاجت فقر میں امیر یا بادشاہ کے پاس جائے یا انصاف کرانے کو کسی کچہری میں مقدمہ لڑائے، بلکہ کسی سے روز مرہ کے معمولی کاموں ہی میں مدد لے جو بالیقین تمام مخالفین روزانہ اپنی عورتوں، بچوں، نوکروں سے کرتے کراتے رہتے ہیں، مثلایہ کہنا کہ فلاں چیزاٹھادے یا کھانا پکادے، یا پانی پلادے سب شرک قطعی ہے کہ جب یہ جانا کہ اس کام کے کردینے پر انھیں خود اپنی ذات سے بے عطائے الٰہی قدر ت ہے تو صریح کفر اور شرک میں کیا شبہہ رہا، اور جس معنی پر ان سب سے استعانت شرک نہیں یعنی مظہر عون الٰہی وواسطہ و سیلہ وسبب سمجھنا اس معنی پر حضرات انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء سے کیوں شرک ہونے لگی، مگر حکیم ، امیر ، جج، اولاد، نوکر، جورو، ان سب کو مظہر عون وسبب ووسیلہ جاننا جائز ہے۔ اور ان حضرات عالیہ کو کہ وہ اعلی مظہر واعظم سبب وافضل وسائل بلکہ منتہی الاسباب وغایۃ الوسائط ونہایۃ الوسائل ہیں، ایسا سمجھنا شرک ہوگیا، ہزار تف بریں بے عقلی وناانصافی، غرض پانی وہیں مڑتاہے کہ جو کچھ غصہ ہے۔ وہ حضرات محبوبان خداکے بارے میں ہے۔ جو رو، یار، بچے مددگار، نوکر، کارگزار مگر انبیاء، واولیاء کانام آیا اور سر پر شرک کا بھوت سوار یہ کیا دین ہے۔ کیسا ایمان ہے !
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
مسلمین اس نکتے کو خوب محفوظ ملحوظ رکھیں، جہاں ان چالاکوں ، عیاروں کو کوئی فرق کرتے دیکھیں کہ فلاں عمل یا فلاں اعتقاد فلاں کے ساتھ شرک ہے فلاں سے نہیں، یقین جان لیجئے کہ نرے جھوٹے ہیں، جب ایک جگہ شرک نہیں تو اس اعتقاد سے کسی جگہ شرک نہیں ہوسکتا،
واللہ الہادی الی طریق سوی۔
Flag Counter