Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
55 - 144
اقوال علماء: رہے اقوال علماء ان کا نام لینا تو وہابی صاحبوں کی بڑی حیاداری ہے صدہا قول علماء اہلسنت وائمہ ملت کے نہ صرف ایک بار بلکہ بار بار نہ صرف ایک آدھ رسالے بلکہ تصانیف کثیرہ اہلسنت میں ان حضرات کے سامنے پیش ہوچکے، دیکھ چکے، سن چکے، جانچ چکے، جن کے جواب سے آج تک عاجز ہیں اور بحوالہ تعالٰی قیامت تک عاجز رہیں گے۔ مگر آنکھوں کے ڈھلے پانی کا علاج کیا کہ اب بھی اقوال علماء کا نام لئے جاتے ہیں یعنی ہزار بار مارا تو مارا اب کی بار مارلو تو جانیں۔ سبحان اﷲ!
شفاء السقام امام علامہ مجتہد فہامہ سیدی تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی وکتاب الافکار امام اجل اکمل سیدی ابو زکریا نووی واحیاء العلوم وغیرہ تصانیف عظیمہ امام الانام حجۃ الاسلام قطب الوجود محمد غزالی وروض الریاحین وخلاصۃ المفاخر، ونشر المحاسن وغیرہا تصانیف جلیلہ امام اجل اکرم عارف باللہ فقیہ محقق عبداللہ بن سعد یافعی وحصن حصین امام شمس الدین ابوالخیر ابن جزری ومدخل امام ابن الحاج محمد عبدری مکی ومواہب لدینہ ومنح محمدیہ امام احمد قسطلانی وافضل القرٰی لقرٰی ام القرٰی وجوہر منظم و عقود الجمان وغیرہ تصانیف امام عارف باللہ سیدی، ابن حجر مکی ومیزان امام اجل عارف باللہ عبدالوہاب شعرانی وحرز ثمین ملا علی قاری ومجمع بحار الانوار علامہ طاہر فتنی ولمعات التنقیح واشعۃ اللمعات و جذب القلوب ومجمع البرکات ومدارج النبوۃ وغیرہا تالیف شیخ الشیوخ علماء الہند مولانا عبدالحق محدث دہلوی وفتاوٰی خیریہ خیر الملۃ والدین رملی ومراقی الفلاح علامہ حسن وفائی شرنبلالی ومطالع المسرات علامہ فاسی وشرح مواہب علامہ محمد زرقانی ونسیم الریاض علامہ شہاب الدین خفا جی وغیرہا تصانیف کثیرہ
علمائے کرام وسادات اسلام جن کی تحقیق وتنقیح واثبات وتصریح استمداد واعانت سے زمین وآسمان گونج رہے ہیں، اگر مطالعہ کرنے کی لیا قت نہ تھی تو کیا (۱) تصحیح المسائل و(۲) سیف الجبار و (۳) بوارق محمدیہ وغیرہا تصانیف نفیسہ عمادالسنۃ معین الحق حضرت مولانا فضل رسول قدس  سرہ المقبول بھی نہ دیکھیں یہ تو عام فہم زبان اردو فارسی میں خاص تمھارے ہی مذہب نامذہب کے رد میں تصنیف ہوئیں اور بحمداللہ بار ہا مطبوع ہوکر راحت قلوب صادقین وغیظ صدور مارقین ہواکیں، علی الخصوص (۴)کتاب جلیل فیوض ارواح اقدس جس میں خاندان عزیزی کے صدہا اقوال صریحہ قاتل وہابیت قبیحہ منقول، مگر ہے یہ کہ ع
بیحیا باش وآنچہ خواہی کن
 (بیحیا ہوجا پھر جو چاہے کر۔ ت)
تصانیف فقیر غفراللہ تعالٰی لہ سے
(۵)کتاب حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات و(۶) رسالہ انہار الانوار من یم صلاۃ الاسرار و(۷) رسالہ انوار الانتباہ فی حل ندایا رسول اﷲ و(۸) رسالہ الاھلال بفیض الاولیاء بعد الوصال و(۹)کتاب الامن والعلی لنا عتی المصطفی بدافع البلاء خصوصا (۱۰)کتاب مستطاب سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الورٰی وغیرہا
میں جابجا بکثرت ارشادات واقوال ائمہ وعلماء واولیائے کرام مذکوریہاں ان کے ذکر سے اطالت کی حاجت نہیں اور خود اسی تحریر میں جو اقوال حضرت شیخ محقق ومولانا علی قاری وامام ابن حجر مکی رحمہم اللہ تعالٰی زیر حدیث ۱۴ مذکور ہوئے قتل وہابیت کو کیا کم ہیں، پھر وہابی صاحب کی اس سے بڑھ کر پرلے سرے کی شوخ چشمی یہ کہ علماء کے ساتھ صوفیاء کرام کا نام پاک بھی لے دیا، کیا وہابیت وحیا میں ایسا ہی تناقض تام ہے کہ ایک آن کو بھی حیا کا کوئی شمہ وہابیت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا،
اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
دربارہ استعانت صوفیاء کرام کے اقوال افعال، اعمال سے دفتر بھرے ہیں دریا بہہ رہے ہیں اس دیدے کی صفائی کا کیا کہنا، ذرا آنکھوں پر ایمان کی عینک لگا کر حضرت شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز کا ترجمہ مشکوٰۃ شریف ملاحظہ ہو،
اس مسئلہ میں حضرات اولیائے کرام قدست اسرارھم سے کیاذکر کرتے ہیں فرماتے ہیں :
آنچہ مروی ومحکی ست از مشائخ اہل کشف در استمداد از ارواح کمل واستفادہ ازاں خارج از حصر است ومذکورست در کتب ورسائل ایشاں ومشہوراست میاں ایشاں کہ حاجت نیست کہ آں راذکر کنیم وشاید کہ منکر ومتعصب سود نہ کند او راکلمات ایشاں عافانا اﷲ من ذٰلک ۱؎۔
مشائخ اہل کشف سے کامل لوگوں کی ارواح سے استمداد اور استفادہ گنتی سے باہر ہے اور ان کی کتب ورسائل میں مذکور ہے اور ان میں مشہور ہے لہذا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہوسکتاہے کہ ان کے کلمات منکر ومتعصب لوگوں کو فائدہ نہ دیں۔ اللہ تعالٰی اس سے محفوظ رکھے (ت)
 (۱؎ اشعۃ اللمعات     کتاب الجہاد باب حکم الاسراء     فصل اول     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۴۰۲)
اللہ اکبر، ان منکران بے دولت کی بے نصیبی یہاں تک پہنچی کہ اکابر علماء وعرفاء کو کلمات حضرت اولیائے کرام سے انھیں نفع پہنچنے کی امید نہ رہی اور فی الواقع ایسا ہی ہے۔ یوں نہ مانئے تو آزمالیجئے اور ان ہزار در ہزار ارشادات بیشمار سے امتحانا صرف ایک کلام پاک فرزند دلبند صاحب لولاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر کریں جو بتصریح اعاظم اولیاء سید الاولیاء وامام الاصفیاء وقطب الاقطاب وتاج الاوتاد ومرجع الابدال ومفزع الافراد اور باعتراف اکابر علماء امام شریعت وسردار امت ومحی دین وملت ونظام طریقت وبحر حقیقت وعین ہدایت ودریائے کرامت ہے ۔ وہ کون ، ہاں وہ سید الاسیادواہب المراد سیدنا ومولٰنا وملاذنا و ماوٰنا وغوثنا وغیثنا حضرت قطب عالم وغوث اعظم سید ابومحمد عبدالقادر حسنی حسینی صلی اللہ تعالٰی علی جدہ الاکرام وعلی آلہ وعلیہ وبارک وسلم، اور وہ کلام پاک نہ ایسا کہ کسی ایسے ویسے رسالے یا محض زبانوں پر مشہور ہوا بلکہ اکابر واجلہ ائمہ کرام وعلمائے عظام مثل امام اجل عارف باللہ سید القرآء ثقہ ثبت، حجت فقیہ محدث راویۃالحضرۃ والعلیۃ القادریۃ سید نا امام ابوالحسن نور الدین علی بن الجریر لخمی شطنوفی پھر امام کرام شیخ الفقہاء فردالوفاء عالم ربانی لوائے حکمت یمانی سیدنا امام عبداللہ بن اسعد یافعی شافعی مکی پھر فاضل اجل فقہیہ اکمل محدث اجمل شیخ الحرم المحترم مولٰنا علی قادری حنفی ہروی مکی وبقیۃ السلف جلیل الشرف صاحب کرامات عالی وبرکات معالی ومولٰنا محمد ابوالمعالی سلمی معالی پھر شیخ شیوخ علماء الہند محقق فقیہ عارف نبیہ مولٰنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی وغیرہم کبرائے ملت وعظمائے امت قدسنا اللہ تعالٰی باسرارہم وافاض علینا من برکاتہم وانوارہم نے اپنی تصانیف جلیلہ جمیلہ ومستندہ ومثل بہجۃ الاسرار شریف وخلاصۃ المفاخر ونزہۃ الخاطرالفاتر وتحفۃ قادریہ واخبار الاخیار وزبدۃ الآثار وغیرہ میں ذ کر وروایت فرمایا کہ حضور پر نور جگر پارہ شافع یوم النشور صلی ااﷲ تعالٰی علیہ فعلیہ وبارک وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
من استغاث فی کربۃ کشف عنہ و من نادانی  باسمی فی شدۃ فرجت عنہ ومن توسل بی الی اﷲ فی حاجۃ قضیت لہ ومن صلی رکعتین یقراء فی کل رکعۃ بعد الفاتحۃ سورۃ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم یصلی ویسلم علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد السلام ویذکر نی ثم یخطو الی جہۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ ویذکر اسمی ویذکر حاجتہ فانہا تقضی باذن اﷲ تعالٰی ۱؎۔
جو کسی مصیبت میں مجھ سے فریاد کرے وہ مصیبت دور ہو اور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دفع ہو اور جو اللہ عزوجل کی طرف کسی حاجت میں مجھ سے وسیلہ کرے وہ حاجت پوری ہو، اور جو دورکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں بعد فاتحہ گیارہ بار سورہ اخلاص پڑھے پھرسلام پھیر کر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر

درود وسلام بھیجے اور مجھے یاد کرے، پھر بغداد شریف کی طرف گیارہ قدم چلے اور میرا نام لے اور اپنی حاجت کاذکر کرے تو بیشک اللہ تعالٰی کے حکم سے وہ حاجت روا ہو۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار  ذکر فضل اصحابہ وبشراہم  مصطفی البابی مصر ص۱۰۲)
یقول العبد صدقت یا سیدی یا مولائی رضی اﷲ تعالٰی عنک وعن کل من کان لک ومنک فالحمدﷲ الذی جعل وارث ابیک المرسل رحمۃ ومولی النعمۃ وصلی اﷲ تعالٰی علی ابیک وعلیک وعلی کل من انتمی الیک و بارک وسلم وشرف وکرم اٰمین اٰمین یاارحم الراحمین والحمدﷲ رب العالمین۔
یہ بندہ (یعنی احمد رضا) عرض کرتاہے کہ میرے آقا مولٰی! آپ نے سچ فرمایا اللہ تعالٰی آپ سے اور آپ کے متوسلین اور آپ کی اولاد سے راضی ہو، تمام حمدیں اللہ تعالٰی کے لئے جس نے آپ کے والد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وارث، رحمت اور آقائے نعمت بتایا، اللہ تعالٰی آپ کے والد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور آپ پر اور آپ سے منسوب سب پر رحمتیں نازل فرمائے اور برکتیں اور سلامتی اور کرم فرمائے، آمین یا ارحم الراحمین۔ والحمدللہ رب العالمین (ت)
حضرت ابوالمعالی قدس سرہ العالی کی روایت میں الفاظ کریمہ کشفتُ فرّجتْ قضیت بصیغہ متکلم معلوم ہیں، وہ ان کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں:
عمر بزاز قدس سرہ میگوید من شنیدہ ام از حضرت شیخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ ہر کہ در کربتے بمن استغاثہ کند کشفت عنہ دور گردانم آن کر بت را از و، وہر کہ در شدتے بنام من ندا کند فرجت عنہ خلاص بخشم اور اازاں شدت وہر کہ درحاجتے توسل بمن کند در حضرت جل وعلا قضیت لہ حاجت او را برآرم ۱؎۔
عمر بزاز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سنا کہ جو شخص مصیبت میں مجھ سے استغاثہ کرے گا میں مدد کروں گا، اس سے اس کی تکلیف دور کروں گا اور جو سختی میں مجھے ند ا کرے گا اس کی سختی کو دورکردوں گا اور خلاصی دلاؤں گا، اور جو اپنی حاجت میں مجھے سے توسل کرے گا اللہ تعالٰی کے دربار میں اس کی حاجت پوری کروں گا۔ (ت)
 (۱؎تحفہ قادریہ    باب دہم فی التوسل الیہ الخ قلمی    ص۷۶)
علامہ علی قاری بعد ذکر روایت فرماتے ہیں :
قَدْ جُرِّبَ ذٰلِکَ مِرَارا فصَحَّ رَضِیَ اﷲُ تَعالٰی عَنْہُ ۲؎۔
بیشک یہ بار ہا تجربہ کیا گیا ٹھیک اترا، اللہ تعالٰی کی رضا شیخ پر ہو۔ (ت)
 (۱؎ نزہۃ الخاطر والفاتر)
فقیر غفرلہ نے اس نماز مبارک کی ترکیب وبعض نکات ولطائف غریب میں ایک مختصر رسالہ
"مسمی بہ ازہار الانوار من صباء صلٰوۃ الاسرار (۱۳۰۵ھ)"
میں اس کے ہر ہر فعل کے ثبوت کو کافی، ہر ہر جز کے احادیث کثیرہ واقوال ائمہ وحکم شرعیہ سے اثبات وافی ہیں ایک مفصل رسالہ نفیسہ بر فوائد جلیلہ مسمی بہ
"ازھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار (۱۳۰۵ھ)"
تصنیف کیا جس کی خداداد  شوکت قاہرہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے وﷲ الحمد ۔ ایمان سے کہنا یہ  وہی اولیاء ہیں جن پر تم یہ جیتا بہتان اٹھاتے ہو مگر وہ تو حضرات اولیاء تمھیں منکر متعصب فرماہی چکے، تم پر ارشادات اولیاء کا کیا اثر ہو،
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔
عنان قلم روکتے روکتے سخن طویل ہوا جاتا ہے۔ چند فوائد ضروریہ لکھ کر ختم کیا چاہئے۔
Flag Counter