Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
54 - 144
(۲۱) عن یزید بن خصیفہ عن ابیہ عن جدہ ابی خصیفہ بلفظ التمسوا وتمام فی الفوائد۔
 (۲۱) حضرت یزید بن خصیفہ نے اپنے والد انھوں نے یزید کے دادا ابی خصیفہ سے ''المتسوا'' کے لفظ کے ساتھ اور تمام نے فوائد میں ذکر کیا۔
 (۲۲) عن ابی بکرۃ والخطیب ۴؎ وتمام ولفظ التمسوا والبیہقی فی الشعب والطبرانی ۵؎۔
 (۲۲) حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کو اورخطیب اور تمام نے ''المتسوا'' کے لفظ کو اور بیہقی نے شعب میں اور طبرانی نے ذکر کیا۔ (ت)
 (۴؎ تاریخ بغداد     ترجمہ محمد بن محمد ابوبکر المقری ۱۲۸۷     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۳ /۲۲۶)

(۵؎ المعجم الکبیر   عن ابن عباس حدیث ۱۱۱۱۰    المکتبۃالفیصلیہ بیروت    ۱۱ /۸۱)
 (۲۳) عن عبداﷲ بن عباس ہذا الاخیر منہم خاصۃ عن ابن عباس باللفظ الثانی وابن عدی عن ام المومنین باللفظ الثالث، واخرجہ بن عدی فی الکامل والبیہقی فی الشعب ۶؎۔
 (۲۳) یہ آخری ان سے خاص حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ثانی لفظ کے ساتھ اور ابن عدی نے حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے تیسرے لفظ کے ساتھ اس کو ابن عدی نے کامل میں اور بیہقی نے شعب میں ذکر کیا۔ (ت)
(۶؎ شعب الایمان    حدیث ۱۰۸۷۶    دارالکتب العلمیہ بیروت   ۷ /۲۳۵)
 (۲۴) عن عبداﷲ بن جراد باللفظ الرابع، واحمد بن منیع فی مسندہ عن الحجاج بن یزید۔
 (۲۴) حضرت عبداللہ بن جراد سے چوتھے لفظ کے ساتھ اور احمد بن منیع نے اپنی مسند میں حجاج بن یزید نے ذکر کیا۔ (ت)
 (۲۵) عن ابیہ یزید القسملی ۱؎ باللفظ الخامس رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ہذہ کلہا مسندات وابوبکرابن  ابی شیبۃ فی مصنفہ۔
 (۲۵) اس نے اپنے باپ یزید قسملی سے پانچویں لفظ کے ساتھ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین یہ تمام مسندات اورابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ذکر کیا۔ (ت)
 (۱؎ کشف الخفاء بحوالہ القسمی حدیث ۵۲۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۶۰)
 (۲۶) عن ابن مصعب ۲؎ الانصاری و (۲۷) عن عطاء۳؎ و(۲۸) عن الزہری ۴؎مرسلات۔
 (۲۶) ابن مصعب انصاری سے اور (۲۷) عطاء سے (۲۸) اور زہر ی سے سب مرسلات ہیں۔
 (۲؎ المصنف لابن ابی شیبہ     کتاب الادب ماذکر فی طلب الحوائج     حدیث ۶۳۲۷     کراچی    ۹ /۱۰)

(۳؎المصنف لابن ابی شیبہ     کتاب الادب ماذکر فی طلب الحوائج     حدیث ۶۳۲۸   کراچی    ۹ /۱۰)

(۴؎المصنف لابن ابی شیبہ     کتاب الادب ماذکر فی طلب الحوائج     حدیث ۲۹ ۶۳   کراچی    ۹ /۱۰)
امام محقق جلال الملۃ والدین سیوطی فرماتے ہیں :
الحدیث فی نقدی حسن صحیح ۵؎
یہ حدیث میری پر کھ میں حسن صحیح ہے۔
قلت وقولہ ھذا لاشک حسن صحیح فقد بلغ حد التواتر علی رائی
 (میں کہتاہوں اور ان کا یہ قول حق ہے بیشک یہ حسن صحیح حد تواتر کو پہنچی ہے میری رائے میں)
 (۵؎ کشف الخفاء     تحت حدیث ۵۲۷     دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۱ /۱۶۰)
حضرت عبداللہ بن رواحہ یا حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں:
قد سمعنا نبینا قال قولا     ہو لمن یطلب الحوائج راحۃ

اغتدوا واطلبوا الحوائج ممن        زین اﷲ وجہہ بصباحۃ ۶؎
یعنی بے شک ہم نے اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایک بات فرماتے سنا کہ وہ حاجت مانگنے والوں کےلئے آسائش ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ صبح کرو اور حاجتیں اس سے مانگو جس کا چہرہ اللہ تعالٰی نے گورے رنگ سے آراستہ کیا ہے۔ رواہ العسکری۔
 (۶؎ الدرالمنثور فی الاحادیث المشتہرہ     تحت حدیث ۸۸     المکتب الاسلامی بیروت    ص۶۸)
حدیث ۲۹: کہ حضرت پر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلی آلہ فرماتے ہیں :
اطلبوا الفضل عند الرحماء من امتی تعیشوا فی اکنافہم فان فیہم رحمتی ۱؎۔
فضل میرے رحمدل امتیوں کے پاس طلب کرو کہ ان کے سائے میں چین کرو گے کہ ان میں میری رحمت ہے۔
 (۱؎ کنز العمال     بحوالہ الخراطی فی مکارم الاخلاق     حدیث ۱۶۸۰۶     موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶ /۵۱۹)
وفی لفظ (اور دوسرے الفاظ میں۔ ت) : اطلبوا الحوائج الی ذوی الرحمۃ من امتی ترزقواتنجحوا ۲؎۔
اپنی حاجتیں میرے رحمدل امتیوں سے مانگو رزق پاؤگے مرادیں پاؤگے۔
 (۲؎ کنز العمال     بحوالہ عق وطس عن ابی سعید خدری     حدیث ۱۱۸۰۱  موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶ /۵۱۸)
وفی لفظ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 (بالفاظ دیگرر سول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت) :
یقول اﷲ عزوجل اطلبوا الفضل من الرحماء من عبادی تعیشوا فی اکنافہم فانی جعلت فیہم رحمتی ۳؎۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے فضل میرے رحمدل بندوں سے مانگو ان کے دامن میں عیش کروگے کہ میں نے اپنی رحمت ان میں رکھی ہے۔
 (۳؎ الضعفاء الکبیر     حدیث ۹۵۷    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۳ /۳)
رواہ باللفظ الاول ابن حبان والخرائطی فی مکارم الاخلاق والقضاعی فی مسند الشہاب والحاکم فی التاریخ وابوالحسن الموصلی وبالثانی العقیلی والطبرانی فی الاوسط وبالثالث العقیلی، کلہم عن ابی سعید ن الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
روایت کیا پہلی حدیث کو ابن حبان اور خرائطی نے مکارم الاخلاق میں اور قضاعی نے مسند الشہاب میں اور حاکم نے تاریخ میں، اور ابوالحسن موصلی نے اور دوسری حدیث کو عقیلی اور طبرانی نے اوسط میں، اور تیسری حدیث کو عقیلی نے یہ ساری حدیثیں ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی گئیں۔ (ت)
حدیث۳۰: کہ حضوروالاارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اطلبوا المعروف من رحماء امتی تعیشوا فی اکنافہم، اخرجہ الحاکم۱؎ فی المستدرک عن امیر المومنین علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ الاسنی۔
میرے نرم دل امتیوں سے نیکی واحسان مانگو ان کے ظل عنایت میں آرام کرو گے، (اسے حاکم نے مستدرک میں امیر المومنین علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الاسنی سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ المستدرک للحاکم     کتاب الرقاق     دارالفکر بیروت    ۴ /۳۲۱)
انصاف کی آنکھیں کہاں ہیں، ذرا ایمان کی نگاہ سے دیکھیں یہ سولہ بلکہ سترہ حدیثیں کیسا صاف صاف واشگاف فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے نیک امتیوں سے استعانت کرنے ان سے حاجتیں مانگنے، ان سے خیر واحسان کرنے کاحکم دیا کہ وہ تمھاری حاجتیں بکشادہ پیشانی روا کرینگے، ان سے مانگو تو رزق پاؤ گے،مرادیں پاؤ گے، ان کے دامن حمایت میں چین کرو گے ان کے سایہ عنایت میں عیش اٹھاؤ گے۔

یارب! مگر استعانت اور کس چیز کانام ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا صورت استعانت ہوگی، پھر حضرات اولیاء سے زیادہ کون سا امتی نیک ورحمدل ہوگا کہ ان سے استعانت شرک ٹھہرا کہ اس سے حاجتیں مانگنے کا حکم دیاجائے گا، الحمدللہ حق کا آفتاب بے پردہ وحجاب روشن ہوا، مگر وہابیہ کا منہ خدا نے مارا ہے انھیں اس عیش چین آرام، خیر، برکت، سایہ رحمت، دامن رافت میں حصہ کہاں، جس کی طرف مہربان خدا مہربان رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے امتیوں کو بلا رہا ہے ع
گر برتو حرام ست حرامت بادا
 (اگر تجھ پر حرام ہے تو حرام رہے۔ ت)
والحمدللہ رب العلمین
تیس حدیث کا وعدہ بحمداللہ پورا ہوا، آخرمیں تین حدیثیں وہابیت کش اور سنتے جائیے کہ عدد وتر اللہ عزوجل کو محبوب ہے:
حدیث ۳۱ : کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
اذا ضل احد کم شیئا وارادعونا وہو بارض لیس بہا انیس فلیقل یاعباد اﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی یا عباداﷲ اعینونی فان اﷲ عباد الایراہم ۲؎ ۔ (والحمداﷲ) رواہ الطبرانی عن عتبۃ بن غزوان رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے یا راہ بھول جائے اور مدد چاہے اور ایسی جگہ ہو جہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہئے یوں پکارے اے اللہ کے بندو میری مدد کرو، اے اللہ کے بندومیر ی مدد کرو۔ اے اللہ کے بندو میری مدد کرو۔ کہ اللہ کے کچھ بندے ہیں جنھیں یہ نہیں دیکھتا وہ اس کی مدد کرینگے (والحمدللہ) (اسے طبرانی نے عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالٰی سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ المعجم الکبیر عن عتبہ بن غزوان     حدیث ۲۹۰     المکتبہ الفیصیلۃ بیروت    ۱۷ /۱۸۔۱۱۷)
حدیث ۳۲ : کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:جب جنگل میں جانور چھوٹ جائے
فلیناد یاعباد اﷲ احبسوا
تو یوں ندا کرے اے اللہ کے بندو! روک دو، عباداﷲ اسے روک دیں گے،
رواہ ابن السنی ۱؂ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(اسے ابن السنی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ عمل الیوم واللیلۃ لابن سنی     باب مایقول اذا انفلت الدابۃ     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۱۷۰)
حدیث ۳۳ :کہ فرماتے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :یوں ندا کرے
اعینوا یا عباداﷲ
مدد کرو اے اللہ کے بندو۔
رواہ ابن ابی شیبہ ۲؎ والبزار عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما
 ( اسے ابن بی شیبہ اور بزار نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ المصنف لابن ابی شیبہ     کتاب الدعائ     باب مایدعو بہ الرجل الخ حدیث ۹۷۷۰         ۱۰ /۳۹۰)
یہ حدیثیں کہ تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے روایت فرمائیں قدیم سے اکابر علمائے دین رحمہم اللہ تعالٰی کی مقبول ومعمول ومجرب ہیں، اس مطلب کی قدرے تفصیل اوران حدیثوں کی شوکت قاہرہ کے حضور وہابیہ کی حرکت مذبوحی کا حال دیکھنا ہو تو فقیر کا رسالہ
"انہار الانوار من یم صلاۃ الاسرار "
ملاحظہ ہو۔ اور اس سے زائد ان حضرات کی بری حالت حدیث اجل واعظم
یا محمد انی توجہت بک الی ربی ۳؎
 (یامحمد! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہواہوں۔ ت) کے حضور ہے کہ وہ حدیث صحیح وجلیل ومشہور منجملہ اعظم واکبر احادیث استعانت ہے جس سے ہمیشہ ائمہ دین مسئلہ استعانت میں استدلال فرماتے رہے ۔
 (۳؎ جامع الترمذی     ابواب الدعوات     امین کمپنی دہلی            ۲ /۱۹۷)

(المستدرک للحاکم     کتاب صلٰوۃ التطوع     دارالفکر بیروت        ۱ /۳۱۳و ۵۱۹)
ا س کی تفصیل بھی فقیر کے اسی رسالے میں مسطور ہے کہ یہاں بخوف تطویل ذکر نہ کی۔
Flag Counter