حدیث ۱۴: صحیح مسلم وابوداؤد وابن ماجہ ومعجم کبیرطبرانی میں ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے حضور پر نور سید العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: مانگ کیا مانگتاہے کہ ہم تجھے عطافرمائیں، عرض کی میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں حضور کی رفاقت عطا ہو، فرمایا بھلا اور کچھ، عرض کی بس میری مراد تو یہی ہے، فرمایا تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجود سے،
قال کنت ابیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل، ولفظ الطبرانی فقال یوما یاربیعۃ سلنی فاعطیک رجعنا الی لفظ مسلم فقال فقلت اسألک مرافقتک فی الجنۃ، قال اوغیرذٰلک ۔ قلت ہو ذاک، قال فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود ۲؎۔
الحمدللہ یہ جلیل ونفیس حدیث صحیح اپنے ہر ہر فقرہ سے وہابیت کش ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اَعِنِّیْ فرمایا کہ میری اعانت کر، اسی کو استعانت کہتے ہیں، یہ درکنار حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مطلق طور پر سَلْ فرماناکہ مانگ کیا مانگتاہے، جان وہابیت پر کیسا پہاڑ ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضو رہر قسم کی حاجت روا فرماسکتے ہیں، دنیا وآخرت کی سب مرادیں حضور کے اختیار میں ہیں جب تو بلاتقیید وتخصیص فرمایا: مانگ کیا مانگتاہے۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب فضل السجود و الحث علیہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۳)
(المعجم الکبیر عن ربیعہ بن کعب حدیث ۴۵۷۶ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۵ /۵۸)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوٰۃ شریف میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
ازاطلاق سوال کہ فرمود سل بخواہ وتخصیص نکرد بمطلوبی خاص معلوم میشود کہ کارہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی تعالٰی علیہ وسلم ہر چہ خواہد وہر کراخواہد باذن پروردگار خود بدہد ؎
فان من جودک الدنیا وضرتہا
ومن علومک علم اللوح والقلم ۱؎۔
مطلق سوال کے متعلق فرمایا ''سوال کر'' جس میں کسی مطلوب کی تخصیص نہ فرمائی، تومعلوم ہوا کہ تمام اختیارات آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دست کرامت میں ہیں، جو چاہیں جس کو چاہیں اللہ تعالٰی کے اذن سے عطا کریں، آپ کی عطا کا ایک حصہ دنیا وآخرت ہے اور آپ کے علوم کا ایک حصہ لوح وقلم کا علم۔ (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب السجود وفضلہ فصل اول مکتبہ نبویہ رضویہ سکھر ۱ /۳۹۶)
علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
یوخذ من اطلاق صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الامربالسؤال ان اﷲ مکنہ من اعطاء کل مااراد من خزائن الحق ۲؎۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جو مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے مستفاد ہوتاہے کہ اللہ عزوجل نے حضور کوقدرت بخشی ہے کہ اللہ تعالٰی کے خزانوں میں سے جو کچھ چاہیں عطافرمائیں۔ (ت)
(۲؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الصلٰوۃ مکتبۃ حبیبہ کوئٹہ ۲ /۶۱۵)
پھر لکھا :
وذکر ابن سبع فی خصائصہ وغیرہ ان اﷲ تعالٰی اقطعہ ارض الجنۃ یعطی منہا ماشاء لمن یشاء ۳؎۔
یعنی امام ابن سبع وغیرہ علماء نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خصائص کریمہ میں ذکر کیا ہے کہ جنت کی زمین اللہ عزوجل نے حضور کی جاگیر کردی ہے کہ اس میں سے جو چاہیں جسے چاہیں بخش دیں۔ (ت)
(۳؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب الصلٰوۃ مکتبۃ حبیبہ کوئٹہ ۲ /۶۱۵)
اما م اجل سیدی ابن حجر مکی قدس سرہ، الملکی ''جو ہر منظم'' میں فرماتے ہیں :
انہ صلی تعالٰی علیہ وسلم خلیفۃ اﷲ الذی جعل خزائن کرمہ وموائد نعمہ طوع یدیہ وتحت ارادتہ یعطی منہا من یشاء ویمنع من یشاء ۱؎۔
بے شک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ عزوجل کے خلیفہ ہیں، اللہ تعالٰی نے اپنے کرم کے خزانے اور اپنی نعمتوں کے خوان حضور کے دست قدرت کے فرمانبردار اور حضور کے زیر حکم وارادہ واختیار کردئے ہیں کہ جسے چاہیں عطا فرماتے ہیں اور جسے چاہیں نہیں دیتے۔ (ت)
(۱؎ الجوہر المنظم الفصل السادس المطبعۃ الخیرۃ مصر ص۴۲)
اس مضمون کی تصریحیں کلمات ائمہ وعلماء واولیاء وعرفاء میں حد تواتر پر ہیں جو ان کے انوار سے دیدہ ایمان منور کرنا چاہے فقیر کا رسالہ
سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الورٰی (۱۲۹۷ء)
مطالعہ کرے۔
اس جلیل حدیث میں سب سے بڑھ کر جان وہابیت پر یہ کیسی آفت کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد پر حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے جنت مانگی کہ
اسألک مرافقتک فی الجنۃ یار سول اﷲ!
میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں رفاقت والا سے مشرف ہوں، وہابیہ کے طور سے یہ کیساکھلا شرک ہے مگر اس کی شکایت کیا، ابھی فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ نے بجواب سوال دہلی ایک نفیس رسالہ
"اکمال الطامۃ علی شرک سوی بالامور العامۃ"
تالیف کیا اور بتوفیقہٖ تعالٰی اس میں تین سو ساٹھ آیتوں حدیثوں سے ثبوت دیا کہ وہابیہ کے طور پر حضرات انبیاء کرام وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام سے لے کر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور خود حضرت رب العزت جل جلالہ تک معاذاللہ کوئی شرک سے محفوظ نہیں،
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم ؎
اشراک بمذہبے کہ تاحق برسد
مذہب معلوم واہل مذہب معلوم
(ایک مذہب میں شرک اللہ تعالٰی تک پہنچتاہے وہ سب کو معلوم ہے اور مذہب والے بھی سب کو معلوم ہیں)
حدیث ۱۵ تا ۲۸: چودہ حدیثوں میں ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فان قضٰی حاجتک قضاھا بوجہ طلق و ان ردک ردک بوجہ طلق، اخرجہ الامام البخاری فی التاریخ ۴؎ وابوبکر بن ابی الدنیا فی قضاء ۵؎ الحوائج وابویعلی فی مسندہ ۶؎ والطبرانی فی الکبیر والعقیلی۷؎ وابن عدی۸؎ والبیہقی فی شعب الایمان۱؎ وابن عساکر۲؎ ۔
خوش جمال آدمی اگر تیری حاجت روا کرے گا تو بکشادہ روئی اور تجھے پھیرے گا تو بکشادہ پیشانی۔ (اسے امام بخاری نے تاریخ میں، ابوبکر بن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں ابویعلٰی نے اپنی مسند میں طبرانی نے کبیر میں۔ عقیلی نے عدی نے بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے روایت کیا ۔ ت)
(۴؎ التاریخ الکبیر حدیث ۴۶۸ دارالباز مکۃ المکرمۃ ۱ /۱۵۷)
(۵؎ موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج حدیث ۵۴ موسسۃ الکتب الثقافیۃ بیروت ۲ /۵۱)
(۶؎ مسند ابی یعلی عن عائشہ رضی اللہ عنہا حدیث ۴۷۴۰ موسسۃ علوم القرآن بیروت ۴ /۳۸۶)
(۷؎ الضعفاء الکبیر حدیث ۵۹۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۱۲۱)
(۸؎ الکامل لابن عدی ترجمہ حکم بن عبداللہ بن سعد دارالفکر بیروت ۲ /۶۲۲)
(۱؎ شعب الایمان حدیث ۳۵۴۱و ۳۵۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۷۸)
(۲؎ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن عائشہ حدیث ۱۶۷۹۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۶)
(۱۵) عن ام المؤمنین الصدیقۃ وعبد بن حمید فی مسندہ، وابن حبان فی الضعفاء وابن عدی فی الکامل ۳؎ والسلفی فی الطیوریات۔
(۱۵) حضرت ام المومنیں صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کو عبد بن حمید نے اپنی مسند اور ابن حبان نے ضعفاء اور ابن عدی نے کامل اور سلفی نے طیوریات میں ذکر کیا ۔ (ت)
(۱۶) عن عبداﷲ بن عمر الفاروق، وابن عساکر۴؎ وکذا الخطیب۵؎ فی تاریخہما۔
(۱۶) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی روایت کو اور ابن عساکر اور ایسے ہی خطیب نے اپنی اپنی تاریخ میں ذکر کیا۔ (ت)
(۴؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر ترجمہ خیثمہ بن سلیمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۸۸)
(۵؎ تاریخ بغداد ترجمہ ۱۲۸۷ محمد بن محمد المقری دارالکتب العربی بیروت ۳/۲۲۶)
(۱۷) عن انس بن مالک بلفظ التمسواء والطبرانی فی الاوسط ۶؎ والعقیلی ۷؎ و الخرائطی فی اعتلال القلوب وتمام فی فوائدہ وابو سہل عبدالصمد بن عبدالرحمن البزار فی جزئہ وصاحب المہروانیات۔
(۱۷) حضرت انس بن مالک کی روایت میں التمسوا کالفظ ہے اور اس کو طبرانی نے اوسط اور عقیلی اور خرائطی نے اعتلال القلوب اورتمام نے اپنی فوائد میں اور ابوسہیل عبدالصمد بن عبدالرحمن بزار نے اپنی جزء میں اور مہر وانیات والے نے روایت کیا ہے۔ (ت)
(۱۸) عن جابن بن عبداﷲ والدارقطنی فی الافراد۸؎ بلفظ ابتغوا والعقیلی وابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج۱؎ و الطبرانی فی الاسط وتمام والخطیب فی رواۃ مالک۔
(۱۸) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کہ دارقطنی ''ابتغوا'' کے لفظ کے ساتھ اور عقیلی اور ابن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں اور طبرانی نے اوسط میں اور تمام اور خطیب نے رواۃ مالک میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
(۸؎ کنز العمال بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۱۶۷۹۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۶)
(۱؎ موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج حدیث ۵۳ موسسۃ الکتب بیروت ۲ /۵۱)
( ۱۹) عن ابی ہریرۃ وابن النجار فی تاریخۃ۔ ۲؎۔
(۱۹) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کو ابن النجار نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
(۲؎ کشف الخفاء بحوالہ ابن النجار فی تاریخ بغداد حدیث ۵۲۷ موسسۃ الکتب العلمیہ ۱ /۱۶۰)
(۲۰) عن امیر المومنین علی المرتضی والطبرافی فی الکبیر ۳؎۔
(۲۰) حضرت امیر المومنین علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کو طبرانی نے کبیر میں ذکر کیا۔