____ حدیثوں کی تو گنتی ہی نہیں بکثرت احادیث میں صاف صاف حکم ہے۔ کہ____ صبح کی عبادت سے استعانت کرو___ شام کی عبادت سے استعانت کرو__
کچھ رات رہے کی عبادت سے استعانت کرو ____ علم کے لکھنے سے استعانت کرو ____ سحری کے کھانے سے استعانت کرو____ دوپہر کے سونے سے وصدقہ سےاستعانت کرو ____ عورتوں کی خانہ نشینی میں انھیں ننگارکھنے سے استعانت کرو ____ حاجت روائیوں میں حاجتیں چھپانے سے استعانت کرو ____ کیا یہ سب چیزیں وہابیہ کی خد اہیں کہ ان سے استعانت کاحکم آیا ۔ یہ حدیثیں خیال میں نہ ہوں تو مجھ سے سنئے:
(۱) البخاری والنسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اِسْتَعِیْنُوْا بِالْغدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَیئ مِّنَ الدّلْجۃِ ۱؎۔
امام بخاری اورنسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: صبح وشام اور رات کے کچھ حصہ میں عبادت سے استعانت کرو۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الایمان باب الدین یسر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰)
(۲) الترمذی عن ابی ہریرۃ ۲؎۔
ترمذی نے ابوہریرہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۲؎جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی الرخصۃ فیہ امین کمپنی کراچی ۲ /۹۱)
(۳) والحکیم الترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعن بیمینک علی حفظک ۳؎۔
حکیم ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اپنے حافظہ کی امداد کرو اپنے ہاتھ سے۔ (ت)
(۳؎ کنز العمال حدیث ۲۹۳۰۵ ۱۰/ ۲۴۵ و مجمع الزوائد کتاب العلم باب کتاب العلم ۱ /۱۵۲)
(۴) ابن ماجہ والحاکم والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی شعب الایمان عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعینوا بطعام السحر علی صیام النہار وبالقیلولۃ علی قیام اللیل ۴؎۔
ابن ماجہ اور حاکم اورطبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: دن کے روزے رکھنے پر سحری کے کھانے سے استعانت کرو اور رات کے قیام کے لئے قیلولہ سے استعانت کرو۔ (ت)
(۴؎ سنن ابن ماجۃ ابواب الصیام باب ماجاء فی السحور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۳)
(المستدرک للحاکم کتاب الصوم الاستعانۃبطعام السحر دارالفکر بیروت ۱ /۴۱۵)
(۵) الدیلمی فی مسند الفردوس عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعینوا علی الرزق بالصدقۃ ۱؎۔
دیلمی نے مسند فردوس میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے انھوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ رزق پر صدقہ سے استعانت کرو۔ (ت)
(۱؎ کنز العمال بحوالہ فر عن عبداللہ بن عمرو حدیث ۱۵۹۶۱ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶ /۳۴۳)
(۶) ابن عدی فی الکامل عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعینوا علی النساء بالعری فان احدھن اذاکثرت ثیابہا واحسنت زینتہا اعجبہا الخروج ۲؎۔
ابن عدی نے کامل میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ عورتوں کے خلاف استعانت حاصل کرو تنگی لباس سے، کیونکہ جب وہ ان کے جوڑے زیادہ ہوں گے اور ان کی زینت اچھی بنے گی وہ باہر نکلنا پسند کریں گی۔ (ت)
(۲؎ کنز العمال بحوالہ عد عن انس حدیث ۴۴۹۵۲ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۳۷۲)
(۷) الطبرانی فی الکبیر والعقیلی و ابن عدی وابونعیم فی الحلیۃ والبیہقی فی الشعب عن معاذ بن جبل ۳؎۔
طبرانی نے کبیر میں اور عقیلی اور ابن عدی اور ابو نعیم نے حلیہ میں اور بیہقی نے شعب میں معاذ بن جبل سے روایت کیا۔ (ت)
(۳؎ حلیۃ الاولیاء ترجمہ خالد بن معدان دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۲۱۵)
(۸) والخطیب عن ابن عباس ۴؎۔
خطیب نے ابن عباس سے روایت کیا (ت)
(۴؎ تاریخ بغداد ترجمہ حسین بن عبیداللہ ۴۱۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۸ /۵۷)
(۹) والخلعی فی فوائدہ عن امیر المؤمنین علی ن المرتضی ۵؎۔
خلعی نے اپنی فوائد میں امیر المؤمین حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا۔ ت(ت)
(۵؎ الجامع الصغیر حدیث ۹۸۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۶۶)
(۱۰) والخرائطی فی اعتلال القلوب عن امیر المومنین عمر الفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعینوا علی انجاح الحوائج بالکتمان ۱؎۔
خرائطی نے اعتلال میں امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہم سے انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ
وسلم سے روایت کیا کہ حاجت روائیوں میں حاجتیں چھپانے سے استعانت کرو۔ (ت)
(۱؎ کنز العمال بحوالہ عق ، عد، طب، حل، ھب عن معاذ بن جبل،الخرائطی فی اعتلال القلوب عن عمر خط وابن عساکر خل فی فوائدہ عن علی، حدیث ۱۶۸۰۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۵۱۷)
یہ دس حدیثیں تو افعال سے استعانت میں ہوئیں، بیس حدیثیں اشخاص سے استعانت میں لیجئے کہ تیس احادیث کا عدد کامل ہو۔
حدیث ۱۱: احمد وابوداؤد وابن ماجہ بسند صحیح ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا لانستعین بمشرک ۲؎
ہم کسی مشرک سے استعانت نہیں کرتے۔
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی المشرک یسہم لہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۹)
(مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۶۸)
(سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸)
اگر مسلمان سے استعانت بھی ناجائز ہوتی تو مشرک کی تخصیص کیوں فرمائی جاتی، ولہذا امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے ایک نصرانی غلام وثیق نامی سے کہ دنیاوی طور کا امانت دار تھا ارشاد فرماتے ہیں:
مسلمان ہوجا کہ میں مسلمانوں کی امانت پر تجھ سے استعانت کروں۔
وہ نہ مانتا تو فرماتے ہم کافر سے استعانت نہ کریں گے۔
حدیث ۱۲: امام بخاری تاریخ میں حبیب بن یساف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا لانستعین بالمشرکین علی المشرکین ۳؎۔ ورواہ الامام احمد ایضا۔
ہم مشرکوں سے مشرکوں پر استعانت نہیں کرتے، (امام احمد نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ ت)
(۳؎ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرکین ادارۃ القرآن ۱۲ /۳۹۴)
(مسنداحمد بن حنبل حدیث جد خبیب رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۵۴)
حدیث ۱۳: صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن نسائی میں ہے چند قبائل عرب نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے استعانت کی، حضور والا نے مدد عطا فرمائی۔
عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتاہ رعل وذکوان وعصیۃ وبنولحیان فزعموا انہم قد اسلموا واستمدوہ علی قومہم فامدہم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎ الحدیث۔
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس رعل، ذکوان، عصیہ اور بنولحیان قبائل کے لوگ آئے اور انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور اپنی قوم کے لئے آپ سے مدد طلب کی ، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی مدد کی۔ الحدیث۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الجہاد باب العون بالمدد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۳۱)