رسالہ
برکات الامداد لاہل الاستمداد(۱۳۱۱ھ)
(مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۶۵: از سہسواں محلہ شہباز پورہ مرسلہ احمد نبی خان ۱۴/ شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیۃ وایاک نستعین کے معنی وہابی یوں بیان کرتا ہے کہ استعانت غیر حق سے شرک ہے ؎
دیکھ حصر نستعین اے پاک دیں استعانت غیر سے لائق نہیں
ذات حق بیشک ہے نعم المستعان حیف ہے جو غیر حق کاہو دھیان
اور علمائے صوفیہ کرام کا عقیدہ یوں ظاہر کرتاہے کہ حضرت مصلح الدین سعدی شیرازی رحمہ اللہ تعالٰی کا بھی یہی ایمان تھا کہ ع
نداریم غیر از تو فریاد رس
(ہم تیرے سوا کوئی فریاد کو پہنچنے والانہیں رکھتے۔ ت)
اور حضرت مولانا نظامی گنجوی رحمہ اللہ تعالٰی بھی دعا میں عرض کرتے تھے ؎
بزرگا بزرگی دہا بیکسم توئی یاوری بخشش ویاری رسم
(اے بزرگ ! بزرگی عطا فرما کہ میں بیکس ہوں، تو ہی حمایت کرنے ولا اورمیری مدد کو پہنچنے والاہے)
اور حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کاقصہ دلچسپ وعبرت دلہا بیان کرتاہے جو تحفۃ العاشقین میں لکھا ہے کہ ایک روز آپ نماز پڑھ رہے تھے جب نستعین پر پہنچے بیہوش ہوکر گر پڑے، جب ہوش ہوا فرمایا: جب
رب العالمین ایاک نستعین
فرمائے اور میں غیر حق سے مانگوں مجھ سے زیادہ بے ادب کون ہوگا، دوسری آیت شریف جناب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے قصہ کی کہ
انی وجہت وجھی للذی
سے بیان کرتاہے اور بہت سی آیت شریفہ اور حدیث پاک اور قول علماء وصوفیہ بتاتا ہے لہذا مستدعی خدمت عالی ہوں کہ تردید اس کی مرحمت ہوکہ اس وہابی سے بیان کروں جو اب قرآن کا قرآن سے ، حدیث کا حدیث سے، اقوال کا اقوال سے، ارشاد فرمائے گا او رمعنی لفظی ہوں، بینوا توجروا
راقم نیاز احمد نبی خاں، سہسوان
الجواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ وبہ نستعین والصلٰوۃ والسلام علی اعظم غوث اکرم ومعین محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین۔
سب حمدیں اللہ تعالٰی کے لیے، اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں، اور صلٰوۃ وسلام سب سے بڑے بزرگی والے غوث ومددگار محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وصحبہ اجمعین۔(ت)
الحمدُ للہ آیات کریمہ تو مسلمان کی ہیں اور حضرت مولٰنا سعدی ومولٰنا نظامی قدس سرہ السامی کے جو اشعار نقل کئے وہ بھی حق ہیں، مگر وہابی حق باتوں سے باطل معنی کا ثبوت چاہتاہے جو ہر گز نہ ہوگا آیہ کریمہ
انی وجّہت وَجْہِیَ
کو تو اس مقام سے کوئی علاقہ ہی نہیں اس میں توجہ بقصد عبادت کا ذکر ہے کہ میں اپنی عبادت سے اسی کا قصد کرتاہوں جس نے پیدا کئے زمین وآسمان، نہ یہ کہ مطلق توجہ کا جس میں انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے استعانت بھی داخل ہوسکے، جلالین شریفین میں اس آیہ کریمہ کی تفسیر فرمائی۔
قالوالہ ماتعبد قال انی وجہت وجہی قصدت بعبادتی ۱؎ الخ۔
یعنی کافروں نے سیدنا ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہا تم کسے پوجتے ہو فرمایا: میں اپنی عبادت سے اس کا قصد کرتاہوں جس نے بنائے آسمان وزمین ۔
آیت میں اگر مطلق توجہ مرادہو تو کسی کی طرف منہ کرکے باتیں کرنا بھی شرک ہونماز میں قبلہ کی طرف توجہ بھی شرک ہو کہ قبلہ بھی غیر خدا ہے خدانہیں،
اور رب العزت جل وعلا کاارشادہے:
حیثما کنتم فولوا وجوھکم شطرہ ۱؎۔
جہاں کہیں ہو اپنا منہ قبلہ کی طرف کرو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۱۴۴)
معاذاللہ شرک کا حکم دینا ٹھہرے ، مگر وہابیہ کی عقل کم ہے۔ آیہ کریمہ وایاک نستعین مناجات سعدی ونظامی میں استعانت وفریاد رسی ویاوری دیاری حقیقی کا حضرت عزوجل وعلا میں حصرہے نہ کہ مطلق کا، اور بلا شبہہ حقیقت ان امور بلکہ ہر کمال بلکہ ہر وجوہ ہستی کی خاص بجناب احدیت عزوجل ہے استعانت حقیقیہ یہ کہ اسے قادر بالذات ومالک مستقل وغنی بے نیاز جانے کہ بے عطائے الٰہی وہ خود اپنی ذات سے اس کام کی قدرت رکھتاہے، اس معنی کا غیر خدا کے ساتھ اعتقاد ہر مسلمان کے نزدیک شرک ہے نہ ہر گز کوئی مسلمان غیر کے ساتھ اس معنی کا قصد کرتا ہے بلکہ واسطہ وصول فیض وذریعہ ووسیلہ قضائے حاجات جانتے ہیں اور یہ قطعا حق ہے۔ خود رب العزت تبارک وتعالٰی نے قرآن عظیم میں حکم فرمایا:
وابتغوا الیہ الوسیلۃ ۲؎
اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵ /۳۵)
بایں معنی استعانت بالغیر ہر گز اس سے حصرایاک نستعین کے منافی نہیں، جس طرح وجود حقیقی کہ خود اپنی ذات سے بے کسی کے پیدا کئے موجود ہونا خالص بجناب الٰہی تعالٰی وتقدس ہے۔ پھر اس کے سبب دوسرے کو موجود کہنا شرک نہ ہوگیا جب تک وہی وجود حقیقی نہ مرادلے۔ حقائق الاشیاء ثابتۃ پہلا عقیدہ اہل اسلام کا ہے۔یونہی علم حقیقی کہ اپنی ذات سے بے عطائے غیر ہو، اور تعلیم حقیقی کہ بذات خود بے حاجت بہ دیگرے القائے علم کرے، اللہ جل جلالہ سے خاص ہیں، پھر دوسرے کو عالم کہنا یا اس سے علم طلب کرنا شرک نہیں ہوسکتا جب تک وہی معنی اصلی مقصود نہ ہوں، خود رب العزت تبارک وتعالٰی قرآن عظیم میں اپنے بندوں کو علیم وعلماء فرماتاہے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت ارشاد کرتاہے:
یعلمہم الکتب والحکمۃ ۳؎
یہ نبی انھیں کتاب وحکمت کا علم عطا کرتاہے۔
(۳؎القرآن الکریم ۳ /۱۶۴)
یہی حال استعانت وفریاد رسی کا ہے کہ ان کی حقیقت خاص بخدا اور بمعنی وسیلہ وتوسل وتوسط غیر کے لئے ثابت اور قطعا روا، بلکہ یہ معنی تو غیر خدا ہی کے لئے خاص ہیں اللہ عزوجل وسیلہ وتوسل وتوسط بننے سے پاک ہے۔ اس سے اوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہوگا اور اس کے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے۔ کہ یہ بیچ میں واسطہ بنے گا، ولہذا حدیث میں ہے جب اعرابی نے حضور پر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ سے عرض کیاکہ یارسول اللہ ! ہم حضور کو اللہ تعالٰی کی طرف شفیع بناتے ہیں اور اللہ عزوجل کو حضور کے سامنے شفیع لاتے ہیں۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سخت گراں گزرا دیر تک سبحان اللہ فرماتے رہے ۔ پھر فرمایا:
ویحک انہ لایستشفع با ﷲ علی احد شان اﷲ اعظم من ذٰلک، روہ ابوداؤد عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ارے نادان! اللہ کو کسی کے پاس سفارشی نہیں لاتے ہیں کہ اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے (اسے ابوداؤد نے جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الجہیمۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹۴)
اہل اسلام انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سے یہی استعانت کرتے ہیں جو اللہ عزوجل سے کیجئے تو اللہ اور اس کا رسول(جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) غضب فرمائیں اور اسے اللہ جل وعلا کی شان میں بے ادبی ٹھہرائیں، اور حق تویہ ہے کہ اس استعانت کے معنی اعتقاد کرکے جناب الٰہی جل وعلا سے کرے تو کافر ہوجائے مگر وہابیہ کی بد عقلی کو کیا کہئے، نہ اللہ (جل جلالہ) کا ادب نہ رسول(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) سے خوف، نہ ایمان کاپاس خواہی نخواہی اس استعانت کو ایاک نستعین میں داخل کرکے جو اللہ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہے اسے اللہ تعالٰی سے خاص کئے دیتے ہیں۔ ایک بیوقوف وہابی نے کہا تھا ؎
وہ کیا ہے جو نہیں ملتا خدا سے جسے تم مانگتے ہو اولیاء سے
فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے کہا: ؎
توسل کرنہیں سکتے خدا سے اسے ہم مانگتے ہیں اولیاء سے
یعنی یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ خدا سے توسل کرکے اسے کسی کے یہاں وسیلہ وذریعہ بنائے اس وسیلہ بننے کوہم اولیائے کرام سے مانگتے ہیں کہ وہ دربارہ الٰہی میں ہمارا وسیلہ وذریعہ وواسطہ قضائے حاجات ہوجائیں اس بے وقوفی کے سوال کا جواب اللہ عزوجل نے اس آیہ کریمہ میں دیا ہے۔
اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم یعنی گناہ کرکے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ سے معافی چاہیں اور معافی مانگے ان کے لئے رسول، تو بیشک اللہ کو توبہ قبول کرنیوالا مہربان پائیں گے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۶۴)
کیااللہ تعالٰی اپنے آپ نہیں بخش سکتا تھا۔ پھریہ کیوں فرمایا کہ اے نبی! تیرے پاس حاضرہوں اورتو اللہ سے ان کی بخشش چاہے تو یہ دولت ونعمت پائیں گے۔ یہی ہمارا مطلب ہے۔ جو قرآن کی آیت صاف فرمارہی ہے۔ مگر وہابیہ تو عقل نہیں رکھتے۔
خدارا انصاف ! اگر آیہ کریمہ
ایاک نستعین
میں مطلق استعانت کا ذات الہٰی جل وعلا میں حصر مقصود ہو تو کیا صرف انبیاء علیہم الصلٰوۃوالسلام ہی سے استعانت شرک ہوگی، کیا یہی غیر خدا ہیں، اور سب اشخاص واشیاء وہابیہ کے نزدیک خدا ہیں یا آیت میں خاص انھیں کا نام لے دیا ہے کہ ان سے شرک اوروں سے روا ہے۔ نہیں نہیں، جب مطلقا ذات احدیت سے تخصیص اور غیر سے شرک ماننے کی ٹھہری تو کیسی ہی استعانت کسی غیر خدا سے کی جائے ہمیشہ ہر طرح شرک ہی ہوگی کہ انسان ہوں یا جمادات ، احیاء ہوں یا اموات، ذوات ہوں یا صفات، افعال ہوں یا حالات، غیر خدا ہونے میں سب داخل ہیں، اب کیاجواب ہے آیہ کریمہ کا کہ رب جل وعلا فرماتاہے:
واستعینوا بالصبروالصلٰوۃ ۲؎۔
استعانت کرو صبر ونماز سے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۱۵۳)
کیا صبر خدا ہے جس سے استعانت کا حکم ہوا ہے۔ کیا نماز خدا ہے جس سے استعانت کو ارشاد کیا ہے۔ دوسری آیت میں فرماتاہے:
وتعاونوا علی البر والتقوٰی ۳؎۔
آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرو بھلائی اور پرہیزگاری پر۔
(۳؎القرآن الکریم ۵ /۲)
کیوں صاحب ! اگرغیر خدا سے مددلینی مطلقا محال ہے تو اس حکم الٰہی کا حاصل کیا، اور اگر ممکن ہو تو جس سے مدد مل سکتی ہے اس سے مدد مانگنے میں کیا زہر گھل گیا۔