| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
مسئلہ ۱۵۹ : از امرتسر کٹرہ پرجہ مرسلہ غلام محمد صاحب دکاندار ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرح متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ اگر ہجرت ہی کرنی ہے تو بجائے کابل کے مدینہ منورہ ہجرت کروں گا کم از کم یہ تو ہوگا کہ مسجد نبوی شریف میں ایک نماز پرھنے سے بچاس ہزار نماز کا ثواب ہوگا اور کہتاہے دین مدینہ منور ہ سے نکلا ہے اور پھر اسی طرف پلٹ جائے گا، پس اس جگہ سے کون جگہ افضل ہوگی، اور اس زمانہ میں جبکہ نصارٰی کا قبضہ اس جگہ سے ہے کابل سے ہزار درجہ اس جگہ کی ہجرت کو افضل کہتاہے اور اپنے لئے باعث سلامتی دین وشفاعت تصور کرتاہے، زید کایہ خیال درست ہے یانہیں؟ یہ ہجرت اس کی درست ثابت ہوگی یا نہیں؟ اور اگر ہجرت میں یہ نیت کرے کہ جب تک بیت اللہ شریف او رمدینہ منورہ پر کفار کا قبضہ ہے اتنی مدت اپنے وطن میں نہ آئے گا، ایسی نیت اس کی درست ہوگی یا نہیں؟
الجواب : زید کے بالائی خیالات سب صحیح ہیں بیشک مدینہ طیبہ سے کسی شہر کو نسبت نہیں ہوسکتی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
والمدینۃ خیرلہم لو کانوا یعلمون ۱؎۔
مدینہ ان کے لئے سب سے بہتر ہے اور وہ جانیں .
(۱؎صحیح البخاری فضائل المدینۃ باب من رغب عن المدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۲) (صحیح مسلم کتا ب الحج باب ترغیب الناس فی سکنی المدینہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۵)
مگر مدینہ طیبہ میں مجاورت ہمارے ائمہ کے نزدیک مکروہ ہے کہ حفظ آداب نہ ہوسکے گا اور قبضہ کفار کا بیان غلط ہے اور ہو تو یہ نیت کہ ان کے قبضہ تک وہیں رہے گا الٹی نیت ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۶۰و ۱۶۱ : از کلکتہ زکریا اسٹریٹ ۳۳ مرسلہ حکیم سعید الرحمن صاحب دہلوی ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ حضرت اقدس جناب مولانا صاحب قبلہ دام فیضہ السلام علیکم،مزاج گرامی ! نہایت ادب سے مگر بیتابی کے ساتھ خدمت والا میں گزارش ہیں کہ برائے کرم امور ذیل کا جواب مرحمت فرماکر خادم کی تسلی فرمائیں۔ (۱)مسائل خلافت اسلامیہ وہجرت عن الہند کے متعلق مولوی عبدالباری اور ابوالکلام وغیرہ نے جو کچھ آواز اٹھائی ہے یہ حدود اسلامیہ وشرعیہ کے موافق ہے یا خلاف؟ (۲) ہر لحاظ سے جناب والا کی خاموشی کن مصالح کی بنا پر ہے؟ اگر موافق ہے تو کیوں ان اصحاب کی تائید میں آواز نہیں اٹھاتے؟ اور اگر خلاف ہے تو دوسرے مسلمانوں کو خطرناک ہلاکت سے نہیں روکا گیا جناب والا نے اپنے لیے کیا راہ عمل تجویز فرمائی ہے؟
الجواب : مقصد بتایا جاتاہے اماکن مقدسہ کی حفاظت، اس میں کون مسلمان خلاف کرسکتاہے اور کاروائی کی جاتی ہے کفار سے اتحاد مشرک لیڈر وں کی غلامی و تقلید قرآن وحدیث کی عمر کو بت پرستی پر نثار کرنا مسلمانوں کا قشقہ لگوانا، کافروں کی جے بولنا، رام لچھمن پر پھول چڑھانا، رامائن کی پوجا میں شریک ہونا، مشرک کا جنازہ اپنے کندھو ں پر اٹھا کر اس کی جے بولتے ہوئے مرگھٹ کو لے جانا، کافروں کو مسجدمیں لیجا کر مسلمانوں کا واعظ بنانا، شعار اسلام قربانی گاؤ کو کفار کی خوشامد میں بند کرنا ایک ایسے مذہب کی فکرمیں ہونا جو اسلام وکفر کی تمییز اٹھاد ے اور بتوں کے معبد پر آگ کومقدس ٹھہرائے، اور اسی طرح کے بہت اقوال احوال افعال جن کا پانی سر سے گزر گیا اور جنھوں نے اسلام پر یکسرپانی پھیر دیا، کون مسلمان ان میں مواقفت کرسکتاہے ان حرکات خبیثہ کے رد میں فتوے لکھے گئے اورلکھے جارہے ہیں اس سے زیادہ کیا اختیار ہے پاکی ہے اسے جو مقلب القلوب والابصار ہے۔
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
(اورہمیں اللہ تعالٰی کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ گناہوں سے تحفظ اورنیکی بجالانے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اللہ تعالٰی بلند شان والے، بڑی عظمت والے کی توفیق سے ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲ تا ۱۶۴ : از گوری ڈاک خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالجبار صاحب یکم شعبان ۱۳۳۶ھ (۱) ایک شخص نماز نہیں پڑھتا ہے لوگوں نے زبردستی نماز پڑھنے کو کہا اور اس نے انکار کیا، اس صورت میں انکار کرنے والے اور تاکید کرنے والے کے ایمان میں نقص آیا یانہیں؟ اگر نقص کیا تو کس درجہ کا؟ بصورت اکراہ وخوف سزا سے جبر یہ نماز پڑھتاہے۔ نہ معلوم نماز ریا اداکرتاہے یا خلوص، لیکن ظاہر اسباب زبردستی دباؤ ہے۔ پس نماز عام جاہل کے دباؤ سے مقبول ہے یانہیں؟ (۲) ذابح البقرجس نے اپنا پیشہ ذبح کرنا مویشیوں کا ونفع اٹھانا فروخت گوشت سے ہمیشہ اختیار کرلیا ہے بخشا جائے گا یانہیں؟ وپرسش خون ناحق کا یوم الحشر میں ہوگایا نہیں؟ (۳) ایک مسلمان نذر لغیر اللہ کھاتاہے اور امداد مخلوق مثل شیخ سدو وخواجہ خضر وکالی بھوانی وغیرہ تعزیہ پرستی سے طلب کرتاہے وبصورت حصول مراد نہیں نذر دینے سے ضرر جان ومال کا تصور کرتاہے۔ ان صورتوں میں نقص ایمان واقع ہوا یا نہیں؟ وذبیحہ اس کا کھانا جائزہے یانہیں؟
الجواب: (۱) تاکید کرنے والے پر الزام نہیں، اور انکار اگر یوں ہے کہ تیرے کہنے سے نہیں پڑھتا تو گنا ہ ہی ہے اور اگر فرضیت نما ز سے انکار کرے تو
کفر کما فی جامع الفصولین ۱؎ وغیرہ
(جیسا کہ جامع الفصولین وغیرہ میں ہے۔ ت)
(۱؎ جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ص۳۰۶)
قبول وعدم قبول کو بیان اوپر گزرا سقوط فرض ہوجائے گا
لاریاء فی الفرائض کما فی الاشباہ وغیرھا
(فرائض میں دکھاوا نہیں جیساکہ الاشباہ وغیرہ میں مذکورہے۔ ت) مسلمانوں پر بدگمانی حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۲) ذبح بقر کو خون ناحق کہنا کلمہ کفر ہے اور اس کی بخشش نہ جاننا ضلالت وگمراہی اور اس پیشے کے جواز میں کوئی شبہ نہیں اور ذابح البقر کی وعید موضوع وبے اصل ہے حوالہ اس پر ہے جو ان دعاوی باطلہ کا مدعی ہوا الٹا مطالبہ جہالت وہابیہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۳) کالی بھولالی سے مدد مانگنے والے کو مسلمان کہنا کفر ہے۔ کہنے والے پر تجدید اسلام وتجدید نکاح لازم ہے۔ اور کالی بھوانی ، شیخ سدو اور ارواح خبیثہ کے ساتھ نبی اللہ خضر علیہ الصلٰوۃوالسلام سے استمداد کو ملانا صریح گمراہی اور اور نبی اللہ کی توہین اور امام الوہابیہ مخزولی کی طرز لعین ہے۔ تو بہ فرض ہے اور جب وہ کالی بھوانی سے مددمانگتاہے تو قطعا کافر مشرک ہے اس کے ایمان کے نقصان کمال اور اس کے ذبیحہ سے سوال نادانی ہے۔ نہ اسکے بعد کسی امر محتمل سے بحث کی حاجت نہ کہ جائز مستحب۔ واللہ تعالٰی اعلم۔