Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
49 - 144
مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) کسی کی زبان سےکلمہ کفر نکل گیا یا اللہ ورسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو گالی دی پھرنادم ہو کر فورا توبہ کی، اب بی بی اس کی نکاح میں اس کی رہے گی یانہیں؟

(۲) یہ جو مسئلہ مشہور ہے کہ اگر کوئی جاہل عالم کو گالی دے تو بی بی پر اس کے طلاق واقع ہوجاتی ہے یہ صحیح ہے یانہیں؟ اگر صحیح ہے تو عالم کو کس مرتبہ کاہونا اور گالی کا کس مرتبہ کا ہونا شرط ہے اور اگر عالم بدخو یا فاسد العقیدہ کو گالی دے یا صحیح العقیدہ کو کسی بات پر خواہ دنیاوی یا اُخروی یا مسئلہ اختلافی لےکر جھگڑا کرکے باہم گالی گلوچ کی، یہ جھگڑا مابین دو عالموں کے ہو تو شرع شریف کا کیاحکم ہے؟
الجواب :

(۱) جس نے کلمہ کفر قصدا کہا یا اللہ یا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی وہ کافر ہوجاتاہے اس کی عورت نکاح سے نکل جاتی ہے پھر اگر مسلمان ہو او ر توبہ کرے عورت کو اختیار ہے کہ اس سے دوبارہ نکاح کرے خواہ بعد عدت کے اور سے کرے۔

(۲) عالم دین کو برا کہنا اگر اس کے عالم دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے اور عورت نکاح سے باہر، خواہ برا کہنے والا خود عالم ہو یا جاہل، اور عالم سنی العقیدہ کی توہین جاہل کو جائز نہیں،اگر چہ اس کے عمل کیسے ہی ہوں، اور بدمذہب وگمراہ اگرچہ عالم کہلاتاہو اسے برا کہاجائے گا مگراسی قدر جنتے کا و ہ مستحق ہے۔ اور فحش کلمہ سے ہمیشہ اجتناب چاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۵ تا ۱۵۸: از آورہ محلہ نوادہ ڈاک بنگلہ مرسلہ محبوب علی وعبدالغفور صاحب آخری ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ

ایک پنڈت صاحب ساکن بلیا کے وہ آج کل آرہ میں آکر بہت زوروں کے ساتھ ہندو مسلمانوں کو ایک جامجمع کرکے لکچر دیا کرتے ہیں بعد ختم لکچر کے پنڈت صاحب اکثر موقعو ں پرخود اپنے  ہاتھ ہندوؤں مسلمانوں کو ٹیکا دیتے ہیں بعد اس کے مسلمان سے گلے گلے ملتے ہیں مگر قبل ٹیکا دینے کے مسلمانوں سے دریافت کرتے ہیں کہ آپ لوگوں کے یہاں ممانعت ہے یانہیں؟ اس پر چند مسلمانوں نے جواب دیا کہ کوئی ممانعت نہیں ہے اور نہ ٹیکے سے انکار ہے۔ اس کہنے پر وہ ٹیکا دیتے ہیں اور گلے گلے ملتے ہیں اور اسی لکچر کے اندر یہ کہا کہ ہندو  ومسلمان ایک دل ہوکر اپنے اپنے گھروں میں انتظام کریں بلکہ اس کے انتظام کے لئے چند مسلمان ممبر بنائے گئے اور یہ رائے مانی کہ اس غلہ کو بیچ کر ایک جگہ جمع کیا جائے، اسی رائے کو دونوں فریق نے پاس کرکے ایک ہندو کے یہاں جمع کرنے کے لئے قرار دیا گیااور یہ کہا گیا کہ دونوں فریق کی رائے سے یہ پیسہ اپنے کار خیر کے لئے خرچ کریں، اب میں علمائے دین سے اس امر کو دریافت کرتاہوں کہ وہ شراکت کا پیسہ ہم لوگ اپنے کار خیر میں جیسے مسجد کی مرمت یا تجہیز وتکفین مدارات میت وغیرہ وغیرہ میں لاسکتے ہیں یا نہیں۔ اور ایک روز پنڈت صاحب نے مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آج ہم اپنے رامائن کا اور مسلمانوں کے قرآن مجید کی اور انگریزوں کی بائبل کی یعنی تینوں کتابوں کی پوچا کریں گے، اس کے اتنظام اور اہتمام کےلئے یہ تھا کہ ایک ڈولہ جس کو وہ لوگ سنگا سن کہتے ہیں اس کو بڑے تکلف کے ساتھ ہار پھول سے سجوا کر اس کے اندر ایک طرف رامائن یاک طرف بائبل اور بیچ میں قرآن مجید منگوا کررکھا اور بڑے اہتمام کے ساتھ بھجن گاتے اورڈھول وجھانج وغیرہ بجاتے اور اس میں مسلمان بھی شریک ہوکر شہر سے گھماتے ہوئے اپنے مندر کے اندر لیجا کر رکھا، خیر کہا ہماری شریعت میں علماء نے اس امر کوکہ کلام پاک غیر مذہب میں بے دین کی مجلس میں لے جانا اور یہ برتاؤ کرنا اور مندر کے اندر لیجا کر رکھنا کیاجائز ہے؟ جب مسلمانوں سے کہا گیا تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ اس میں حرج ہی کیا ہوا اگر ایسا کیا گیا کیونکہ ہم لوگوں نے شہر کے ایک ایک مولوی صاحب سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ٹیکا کے بارے میں بھی یہی جواب ملا، ان سب واقعات کو لکھ کر خدمت بابرکت میں اپنے علمائے دین شرع متین کے پیش کرتاہوں کہ فی الحقیقت یہ سب بات شرع کے اندر جائز ہے یانہیں جیسا کہ یہاں پر مسلمان ہم کو جواب دیتے ہیں کہ ہم نے یہ سب مولوی صاحب سے دریافت کرلیا ہے لہذا ذیل چند جملے درج کرتاہوں جو مضمون بالا کا لب لباب ہوسکتاہے ان سوالوں کے جواب سے بالتفصیل سرفراز فرمایا جائے تاکہ ان بھائی مسلمانوں کی خدمت میں پیش کرکے ان کی اصلاح کی جائے، ان کے عقائد درباہ مذکورہ درست نہیں ہیں اور ان کی ان خود پرستیوں کی پوری پوری گوشمالی ہوجائے ، وہ مذہب پر دھبہ لگانے والی حرکت سے باز آکر راہ راست پر آجائیں، اس لئے گزارش خدمت عالی ہے کہ جلد جواب اسی پرچہ کی پشت پر تحریر فرمائیں،
 (۱) مسلمانوں کو پیشانی پرٹیکا لگانا خواہ وہ کسی قسم کا مانند زعفران وصندل وغیرہ کے ہوجائز ہے یانہیں؟

(۲) ہندؤوں کے شال غول باندھا کرگاتے بجاتے رامائن وغیرہ ہندوؤں کی کتابوں کو بڑے اہتمام کے ساتھ سنگاسن وغیرہ میں رکھ کر ہندوؤں کی مجلس میں جانا جہاں پر ''رام چندر کی جے'' کی صدا بلند ہوتی ہو مسلمانوں کے لئے جائز ہے یانہیں؟

(۳) قرآن مجید کا دوسری کتابوں کے شامل مانند رامائن بائبل وغیرہ ہندؤوں کے ساتھ پوجا کیا نا خواہ مندر کے اندر لیجانا اور اس کے اہتمام میں مسلمانوں کا شریک ہونا درست ہے یانہیں؟

(۴) ہندوؤں کے شامل چند ہ جمع کرنا اور اس چندہ سے رفاہ عام مسلمان کرنا مثلا مرمت مسجد تجہیر وتکفین میت لاوارث مسلمانی، امداد بیوگان، مسلم یا یتیم بچوں کی تربیت وتعلیم وغیرہ وغیرہ ممنوع ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) ماتھے پر قشقہ(ٹیکا) لگانا خاص شعار کفر ہے ا ور اپنے لئے جو شعار کفرپر راضی ہو اس پر لزوم کفر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من تشبہ بقوم فہو منہ ۱؎
جو کسی قم سے مشابہت پید کرے وہ انھیں میں سے ہے۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۲۰۳)
اشباہ والنظائر میں ہے :
عبادۃ الصنم کفر ولا اعتبار فی قلبہ وکذا لوتزنر بزنار الیہود والنصارٰی دخل کنیستہم اولم یدخل ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بت کی پوجا کرنا کفر ہے اور جو کچھ اس کے دل میں ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔اور اسی طرح اگر کسی نے یہودیوں اور عیسائیوں کا زنار گلے میں ڈالا چاہے ان کے گرجوں میں جائے نہ جائے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر     کتاب السیر والردۃ    الفن الثانی     ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۲۹۵)
(۲) مسائل یہ پوچھتاہے کہ وہ حرکات ملعونہ جائز ہیں یانہیں۔ یہ پوچھے کہ کفر ہے یانہیں۔ ان کی عورتیں نکاح سے نکلیں یانہیں ان حرکات سے۔

جامع الفصولین منح الروح الازہر میں ہے :
من خرج الی السدۃ (قال القاری ای مجمع اھل الکفر) کفر لان فیہ اعلام الکفر وکانہ اعان علیہ ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جوکوئی(دارالاسلام کو چھوڑ کر) کفارومشرکین کے مجمع میں جائے (السدۃ۔ محدث ملاعلی قاری نے فرمایا: اس کا معنی مجمع اہل کفر ہے) تو وہ کافر ہوگیا کیونکہ ا س میں کفر کا اعلان ہے۔ گو یا وہ کفر پر ان کی امداد کررہا ہے۔ اور اللہ تعالٰی سب کچھ زیادہ جاننے والا ہے۔ (ت)
 (۳؎ منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر  فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ   مصطفی البابی مصر    ص۱۸۶)

(جامع الفصولین   الفصل الثامن والثلاثون   اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲ /۳۱۳)
 (۳) قرآن عظیم کا مندر میں لیجا نا اس کی توہین ہے اور قرآن عظیم کی توہین کفر اور رامائن کی پوجا اگر کفر نہ ہوئی تو دنیا میں کوئی بات کفر نہیں ہوسکتی، اور کفر کے اہتمام میں شریک ہونا اور اس پر راضی ہونا کفر ہے
الرضا بالکفر کفر
 (کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ ت) وہ لوگ اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ 

(۴) ممنوع ہے اور سخت ممنوع ہے شرکت کے سبب اگر ان کا روپیہ ہمارے یہاں کے کار خیرمیں میں صرف ہوگا تو مسلمان کا روپیہ ان کے کفر کے کاموں میں صرف ہوگا جن کو وہ کارخیر سمجھتے ہیں مثلا مندروں کی اعانت بتوں کی زینت وغیرہ، اور ان پر راضی ہونا کفر ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter