| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
مسئلہ ۱۵۲: واقع دربارہ عالیہ بھر چونڈی شریف اسٹیشن ڈھرکی ضلع سکھر (سند) مسئولہ عاکف فقیر عبداللہ قادری ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ بسم اﷲ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم۔ بخدمت تاج الفقہاء سراج العلماء المدققین حامی السنۃ والدین غیاث الاسلام والمسلمین مجدد مائۃ حاضر جناب سید احمد رضا خاں صاحب قادری بعد الوف تسلیمات مع التکریمات بصدآداب واضح برائے عالی بادکہ مسئلہ ہجرت معروفہ معلومہ کہ درہندوسندھ کہ بتمام جوش وخروش علماء وقت بفرضیت اوقائل شدہ اند واعظ دینیہ وزاہد وجاہد بعام وخاص بمجالس مخصوصہ بشدت وحدت تمام دریں بارہ گشتہ اند بحدیکہ از اکثر علماء وقت مقال بدین منوال رفتہ کہ ہر آنکہ ہجرت نکنند ویاقائل بفرضیت اونشوند خارج از ایمان اندوزنان برایشاں حرام گردند آیا آں مفتی الزمان دریں مسئلہ کہ منزلۃ الاقوام است چہ فرمایند بدلائل قاطعہ وبراہین ساطعہ دریں باب چہ تحریر دارند براہ نوازش وعنایت بترسیم حقیقت مسئلہ حق مسئولہ شتاب بہ جواب سرفراز فرمایند کہ مادر فرضیت واستحبابیت ایں ہجرت سخت متردد ومتشکک ومضطرب حال مذبذب بایم تاکید مزید۔
بخدمت فقہا کے تاج، باریک بین علمائے کرام کے چراغ، سنت اور دین کے مددگار، اسلام اورمسلمانوں کے فریاد رس اس موجودہ صدی کے مجدد، جناب سید احمد رضا خاں صاحب قادری، ہزاروں ہزاروں سلام عزت واحترام کے ساتھ، سیکڑں قسم کے آداب بجالاتے ہوئے حضور کی رائے عالی پر ظاہر ہو کہ مسئلہ ہجرت جو مشہور ومعروف ہے کہ ہند اور سندھ میں پورے جوش وخروش سے وقت علماء اس کی فرضیت کے قائل ہوگئے ہیں پس دینی وعظ کرنے والے گوشہ نشین زاہد اور جہاد کرنیوالے عام اور خاص خصوصی مجالس میں انتہائی وحدت اختیار کرتے ہوئے اس معاملہ میں ایک ہوگئے ہیں یہاں تک کہ اکثر علماء سے اس طرز پر گفتگو کرتے وقت وہ اس طرف گئے ہیں، جو لوگ ہجرت نہیں کرتے یا اس کی فرضیت کے قائل نہیں تو وہ ایمان سے خارج ہیں اور منکوحہ عورتیں ان پر حرام ہیں، کیا زمانے کے مفتی حضرات اس مسئلہ میں کہ لغزش اقدام کا سبب ہے یقینی دلائل اور روشن شواہد کے پیش نظر اس باب میں کیا تحریر رکھتے ہیں رائے نوازش اور نظر عنایت سے اس مسئلہ مسئولہ کاجلدی جواب عنایت فرماکرسرفراز فرمائیں اس لئے کہ ہم اس ہجرت کے فرض اور مستحب ہونے میں سخت تردد، شک اور اضطراب اور تذبذب میں اپنے آپ کو پاتے ہیں اور مزید تاکید سے عرض کرتے ہیں۔ (ت)
الجواب : بحمداللہ ہندوسند تاحال داراسلام است کما حققناہ فی رسالتنا اعلام الاعلام بان ھندستان دارالاسلام جمعہ وعیدین و اذان واقامت وغیرہا بکثرت شعار اسلام جاری ست وشہرے کہ دارالاسلام بود تا رشتہ از رشتہاء اسلام برجاست ہمچناں دارالاسلام ست کہ اسلام غالب ست ومغلو نتواں شد وﷲ الحجۃ البالغۃ درجامع الفصولین ست مابقی شیئ من احکام دارالاسلام تبقی دارالاسلام علی ماعرف ان الحکم اذا ثبت بعلۃ فمابقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ ۱؎ ھکذا ذکر شیخ الاسلام ابوبکر فی شرح سیر الاصل۔
اللہ تعالٰی کی تعریف وستائش کرتے ہوئے گزارش ہے کہ ہندوستان ابھی تک داراسلام ہیں جیسا کہ ہم نے اپنے ایک رسالہ موسومہ ''اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام'' میں اس کی تحقیق کی ہے نماز، جمعہ، عیدین، اذان اور اقامت وغیرہ بے شمار شعائر اسلامیہ اس میں جاری ہیں اور جو شہر کہ داراسلام ہے جب تک اسلام کے رشتوں میں سے کوئی رشتہ قائم ہے تو وہ حسب سابق دارالاسلام ہی ہے کیونکہ اسلام غالب ہے اور کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا اور کامل دلیل اللہ تعالی ہی کے لئے ہے۔ چنانچہ جامع الفصولین میں ہے جب تک داراسلام کا کوئی حکم باقی ہو تو وہ دارالاسلام ہی رہے گا، جیسا کہ معلوم ہے کہ کوئی حکم جب کسی علت کی وجہ سے ثابت ہو تو جب تک وہ علت موجود رہے گی وہ حکم باقی رہے گا، شیخ الاسلام حضرت ابوبکر نے شرح سیر الاصل میں اسی طرح بیان فرمایا۔
(۱؎ جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)
ودرفصول عمادی ست دارالاسلام لاتصیر دارالحرب اذا بقی شیئ من احکام الاسلام وان زال غلبۃ اھل السلام ۲؎ امام ناصر الدین فرماید مابقیت علقۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام ۳؎ ۔
اور فصول عماوی میں ہےکہ دارالاسلام میں جب تک کوئی حکم اسلامی موجود ہو تو وہ ''دارحرب'' نہ ہوگا اگر چہ مسلمانوں کا غلبہ ختم ہوگیا ہے۔ امام ناصر الدین فرماتے ہیں کہ جب تک اسلام کے رشتوں میں سے کوئی رشتہ باقی ہو تو اسلام کی جانب ترجیح ہوگی۔
(۲؎ فتاوٰی جامع الفوائد بحوالہ فصل العمادی کتاب الجہاد مکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص۴۴۴) (۳؎فتاوٰی جامع الفوائد ناصر الدین مکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص۴۴۵)
و در شرح نقایہ است ان الدار محکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیہا کما فی الحمادی ۴؎ وغیرھا وہجرت ازا دارالحرب فرض است نہ از دارالاسلام، قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاھجرۃ بعد الفتح رواہ الشیخان ۵؎ ۔
اور ''شرح نقایہ'' میں مذکور ہےکہ اگر ملک میں ایک بھی اسلامی حکم باقی ہو تو اس پر دارالاسلام کا حکم لگایا جائے گا جیسا کہ ''حمادی'' وغیرہ میں مذکور ہے۔ اور ہجرت کرنا دار کفر سے فرض ہے نہ کہ دارالاسلام سے، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فتح مکتہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں، بخاری ومسلم نے اسے روایت فرمایا۔
(۴؎ جامع الرموز کتاب الجہاد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ /۵۵۷) (۵؎ صحیح البخاری کتاب الجہاد باب وجوب النفیر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۹۶) (صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب المبایعۃ بعد الفتح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۱)
ہجرت خاصہ کہ برشخصے خاص بوجہ خاص لازم آید چیزے دیگر ست وآواز محلہ بمحلہ بلکہ از خانہ بخانہ دیگر توان شد والیہا الاشارۃ فی حدیث من فربدینہ ۱؎ الحدیث، واما ہجرت عامہ نباشد مگر از دارالحرب و ادعائے فرضیتش از دارالاسلام باطل محض ست و اصلی ندارد وتفوہ بتکفیر فرضیت غلو فی الدین ست وتکفیر تارک ازاں ہم بالاتر ضلال مبین ست مگر آنا نتر سنداز احادیث کثیرہ ناطقہ بانکہ اکفار مسلم کفر ست قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایما امرء قال لاخیہ کافر فقد باء بہا احد ھما فان کان کما قال والا رجعت علیہ رواہ مسلم ۲؎ والترمذی عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما موجب ہجرت اگر تسلط نصارٰی است او نہ از امروز ست صد سال بیش می گزرد اینہا و آباء ایناں تاحال قیامت داشتند وبرزعم خود بترک تخم کدام حکم کاشتند واگر چیزے ست کہ درممالک دیر ناشیئ پس ایں حکم عجبے ست کہ حادثے بملکے رود ہجرت از ملک دیگر واجب شود، نسأل اﷲ العفو والعافیۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
خاص ہجرت کہ کسی شخص پر کسی خاص وجہ کی بناء پر لزم ہو تویہ ایک دوسری باتہے۔ ایک محلہ سے دوسرے محلہ تک بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر تک آواز پہنچ سکتی ہے۔حدیث میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو کوئی اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا الحدیث، لیکن عام ہجرت سوائے دار حرب کے نہیں ہوسکتی لہذا دارالاسلام سے ہجرت کی فرضیت کادعوٰی کرنا بلا شبہہ باطل ہے یہ اپنے اندر کوئی اصلیت نہیں رکھتا۔ اور جو کوئی اس کی فرضیت کاا نکار کرے اسے کافر قرار دینا دین میں بڑی زیادتی ہے پھر تارک کی تکفیر اس سے بھی بڑھ کر گمراہی ہے، مگرکیا وہ لوگ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ بے شمار روایات اس پر ناطق ہیں کہ کسی مسلمان کوکافر قرار دینا کفر ہے۔ چنانچہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس آدمی نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو یہ کفر ان دونوں میں سے کسی ایک پر پلٹ جائے گا، لہذا اگر کہنے والے کے مطابق وہ کافر ہے تو وہی کافر ہوگا ورنہ کہنے والے پر کفر لوٹ آئے گا، امام مسلم اور امام ترمذی نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس حدیث کو روایت کیا (جو لوگ ہجرت کے قائل ہیں اور اسے فریضہ ایمان قرار دیتے ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ) ہجرت کرنے کا سبب اور وجہ کیا ہے؟ اگر عیسائیوں کا تسلط ہے تو وہ کوئی آج نہیں ہوا بلکہ آج سے سو سال پہلے کا ہے پھراتنی مدت پر یہ لوگ اور ان کے باپ دادے اب تک یہاں کیوں ٹھہرے رہے اور اپنے خیال میں ہجرت نہ کرکے انھوں نے کون سے حکم کا بیچ بویا؟ اور اگر ہجرت کسی ایسے کم کی وجہ سے ہے جو کسی دوسرے ممالک میں پیدا ہوگیا، تو پھر یہ حکم عجیب ہے کہ کوئی جدید حادثہ کسی ملک یں پیدا ہوجائے تو پھر ہجرت کرنا کسی دوسرے ملک پرواجب ہوجائے۔ (خلاصہ کلام) ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت کی دعا کرتے ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ الدرالمنثور بحوالہ ابن مردویہ تحت آیۃ ۵۷ /۱۹ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۶ /۱۷۶) (۲؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ یاکافر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۷) (جامع الترمذی کتاب الایمان باب ماجاء فی من رمی اخاہ بکفر امین کمپنی دہلی ۲ /۱۸)