مسئلہ ۱۵۰: از دفتر ریلوے انجنئیر سرسہ ضلع حصار مسئولہ سید محمد ابراہیم نقشہ نویس صاحب ۱۳ ذی القعدہ الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس شخص کے بارے میں جو حضرت غوث پاک کی توہین اور ان کے خاندان کی بے عزتی روبرو اہل اسلام علانیہ کرتاہے اوراس پر اصرار کرتاہے آیا ایسا شخص مومن ہے یا دائرہ اسلام سے خارج ہے؟ ایسے شخص سے سلام یا کلام کرنا مسلمانوں کو چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب : حضور سیدنا غوث الاعظم قطب اکرم، جگر پارہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین فی نفسہٖ زہر قاتل وموجب بربادی دین ودنیا، بہجہ مقددسہ میں ہے:
تکذیبکم لی سم قاتل لادیانکم وسبب لذھاب دنیاکم واخراکم ۱؎۔
تم لوگوں کا مجھے جھٹلانا زہر قاتل اور تمھاری دنیا اور آخرت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے۔ (ت)
(۱؎ بہجۃ الاسرار ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ محدثا بنعمۃ ربہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۴)
اور یہاں نظریر واقع اس طرح توہین علانیہ کامرتکب ومصر نہ ہوگا مگر کٹر رافضی بغیض یاپکا وہابی خبیث،اوریہ دونوں قطعا دائرہ اسلام سے خارج ہیں
کما ھو مفصل فی حسام الحرمین و فتاوٰی الحرمین وردالرفضۃ
(جیسا کہ مسائل مذکورہ کی پوری تفصیل حسام الحرمین ، فتاوی حرمین اور ردالرفضہ میں ہے۔ ت) مسلمانوں کو ان سے میل جول رکھنا، سلام کرنا، پاس بیٹھنا، پاس بٹھانا سب حرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اگرتمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو (ورنہ ان جیسے ہی ہوجاؤ گے)۔ (ت)
(لوگو!) تم ان سے دور بھاگو، اور انھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں اور تمھیں کسی فتنے میں نہ ڈالدیں، اور اللہ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ (ت)
(۳؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰)
مسئلہ ۱۵۱: از بمبئی مرسلہ سید فیاض الدین بریلوی نواب مسجد لائن ۵۷ پوسٹ ۹ ، ۲۳ ذی القعدہ الحرام ۱۳۳۸ھ
الجواب: انھوں نے اللہ واحدقہارجل جلالہ اور اس کے رسول حبیب مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایذا دی ابلیس لعین کے قدموں پر اس کی پیروی کی نام اسلام کو ذلیل کیا کفر وکفار کو فروغ دیا غضب الٰہی اپنے سر پرلیا اپنی ملعونہ حرکات سے عرش الٰہی کو لرزادیا کفا رکے ساتھ ان کے خاص دفتر میں اپنا چہرہ دکھایا اللہ اور رسولوں اور ملائکہ سب کی لعنت کے کام کئے
ھم للکفر یومئذ اقرب منہم اللایمان ۱؎
(وہ لوگ اس دن ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے۔ت ) میں صراحۃ داخل ہوئے ان پر ہر فرض سے اعظم فرض ہےکہ اپنی ان کفری حرکات سے علی الاعلان توبہ کریں نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں پھر اپنی عورتوں کو رکھنا ہو تو ان سے دوبارہ نکاح کریں .
(۱؎ القرآن الکریم ۳ /۱۶۷)
اللہ عزوجل فرماتاہے :
ولاتتبعوا خطوٰت الشیطن انہ لکم عدو مبین ۲؎ o الی قولہ تعالٰی ھل ینظرون الا ان یاتیہم اﷲ فی ظلل من الغمام والملئکۃ قضی الامر ۳؎۔
(لوگو!) شیطان کے قدموں پر نہ چلو کیونکہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے (اللہ تعالٰی کے اس ارشاد تک) وہ نہیں انتظار کرتے مگریہ کہ ان پر چھائے ہوئے بادلوں میں (اللہ تعالٰی کا )عذاب آجائے اور فرشتے نازل ہوجائے اور کافر کا فیصلہ ہوجائے (تو پھر ایمان لانے کا کیا فائدہ)۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۰۸) (۳؎القرآن الکریم ۲ /۲۱۰)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من جامع المشرک وسکن معہ فانہ مثلہ ۴؎ اھ فاذا کان فی محض المساکنۃ فکیف فی مثل المعاونۃ۔
جو کوئی کسی مشرک کے ساتھ جمع ہوا اور اس کے ساتھ سکونت اختیار کی تو وہ اس جیسا ہوجائے گا اھ جب صرف رہنے سہنے کا یہ حکم ہے تو پھر مدد کرنے میں کتنا سخت حکم ہوگا۔ (ت)
(۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الاقامۃ بارض المشرک آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹)
دوسری حدیث میں ہے :
من کثرسواد قوم فہو منہم ۱؎۔
جس شخص نے کسی جماعت کو بڑھایا (اور پھیلایا) تو وہ اسی میں شمار ہوگا۔ (ت)
(۱؎ کنز العمال بحوالہ عن ابن مسعود حدیث ۲۴۷۳۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۴۲)
تیسری حدیث میں ہے :
من سود مع قوم فہو معہم ۲؎ اھ فاذا کان ھذا فی مجرد التسوید فکیف مع المشارکۃ المذکورۃ التایید .
جو کوئی کسی قوم کے ساتھ ہوکر انھیں بڑھائے (اور ان کی کثرت میں اضافہ کرے) تو وہ ان ہی کے ساتھ ہوگا اھ پھر جب طلب کثرت کا یہ حکم ہے تو پھر ان کے ساتھ شراکت مذکورہ کہ جس میں ان کی تائید وتصدیق ہے اس کا کتنا سخت حکم ہوگا۔ (ت)
(۲؎ کنز العمال بحوالہ خط عن انس حدیث ۲۴۶۸۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۱۰)
جب کسی نافرمان کی تعریف کی جائے تو اللہ تعالٰی غضب ناک ہوجاتاہے اور اس وجہ سے اس کا عرش کانپ جاتاہے اھ جب فاسق کا یہ حکم ہے توپھر کافر سرکش کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے۔ (ت)
(۳؎ شعب الایمان حدیث۴۸۸۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۲۳۰)
شفاء شریف امام قاضی عیاض واعلام امام ابن حجر مکی میں ہے :
وکذا (یکفر) من فعل فعلا اجمع المسلمون علی انہ لایصدر الا من کافر وان کان صاحبہ مصرحا بالا سلام مع فعلہ ۴؎۔
اور اسی طرح وہ شخص کافرہوجائے جس نے کوئی ایسا کام کیا کہ مسلمانوں کا جس پر اتفاق ہے کہ ایسا کام بغیر کسی کافر کے نہیں ہوسکتا اگر چہ وہ کام کرنے والا اپنا کام کرنے کے باوجود اسلام کا اظہا ر کرے۔ (ت)
(۴؎ الاعلام بقواطع الاسلام الفصل الثالث مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی ص۳۷۸)
جو کوئی کفار کی مجلس میکں جائے تو کافر ہوگیا اس لئے کہ اس میں کفر کااعلان ہے گویا وہ اس کے پاس امداد کے لئے گیا ہے اھ ، جب گویا میں یہ حکم ہے تو پھر اصل اور تحقیق میں کیاحکم ہوگا۔ (ت)
(۱؎ جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۳)
(منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا الخ مصطفی البابی مصر ص۱۸۶)
فتاوٰی امام ظہیر الدین واشباہ والنظائر وتنویر الابصارو درمختار میں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفر لان تبجیل الکافر کفر اوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلا کفر ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر کوئی ذمی کافر کو تعظیم کے طورپر سلام دے تو کافر ہوجائے گا اس لئے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔ اگر کسی نے آتش پرست کو بطور تعظیم ''اے کافر'' کہا تو کافر ہوگیا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱)