مسئلہ ۱۴۵ تا ۱۴۹ : از حسن پور ضلع مراد آباد مسئولہ عبدالرحمن مدرس ۸ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :
(۱) تمام علماء دیوبند قطعی کافر ہیں جو ان کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہیں۔
(۲) جو علمائے دیوبندیہ ظاہر کریں کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں جو منسوب کیا جاتاہے بلکہ ہم لوگ بھی ایسے عقائد رکھنے والے کو کافر سمجھتے ہیں تو اس حیلہ شرعی سے بریت ہوسکتی ہے یا نہیں۔ علاوہ ازیں وہ تقویۃ الایمان وغیرہ کی عبارت کی تاویل کرکے ان کا اچھا مطلب نکالتے ہیں، تو ایسے علماء کے متعلق شرع شریف میں کیاحکم ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اوریہ لوگ امکان کذب کے قائل ہیں، اور اقرار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو امکان کذب کا قائل نہیں وہ کافر ہے۔ تو ان کے لئے کیا حکم ہے؟ اور ہم کو گزشتہ نمازیں جو ان کے پیچھے ادا کی گئی ہیں لوٹائی چاہئیں یا نہیں؟
(۳) جو اشخاص نہ عالم ہیں نہ دیوبند کے تعلیم یافتہ ، نہ ان سے بیعت وعقیدت رکھتے ہیں محض اپنی لاعلمی عقائد کی وجہ سے ان کو کافر نہیں سمجھتے اور ان کے عقائد بھی ایسے بالکل نہیں ہیں جن پر تکفیر لازم آتی ہے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے یا تنہا بہترہے۔ اور جو امام مسجدوں کے اور حافظ ایسے ہیں کہ تقویۃ الایمان وغیرہ کو برا سمجھتے ہیں اور نہ ان کے عقائد باطلہ میں صرف علمائے دیوبند کو کافر نہیں سمجھے اور ان کے پیچھے نماز پڑتھے ہیں تو کیا ایسے لوگ بھی کافر ہیں اور قابل اقتداء نہیں۔
(۴)کیایہ حدیث ہے کہ کسی کافر کو بھی کافرنہیں کہنا چاہئے اور کیوں؟ اور اگر کسی نے علمائے دیوبند یا او رکسی کافر کو کہا تو اس کے ذمہ کتنا گناہ ہوگا؟
(۵) مصنف تقویۃ الایمان ، صراط مستقیم، تحذیر الناس، حفظ الایمان، یکروزی کے کون کون ہیں؟ اور شرع شریف میں ان کے لئے کیا حکم ہے؟
مدلل ومفصل جواب حوالہ کتب مع مہر ودستخط فرمادیں، خدائے عزوجل جزائے خیر عطا فرمائے، آمین!
الجواب : بیشک وہ سب کفار ہیں اور جو ان کے اقوال پر مطلع ہوکر انھیں کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے، علمائے کرام حرمین طیبین نے بالاتفاق ان کی نسبت فرمایا ہے :
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎۔
جو ان کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ۔
(۱؎ حسام الحرمین علی منح الکفر والمین مقدمۃ الکتاب مکتبہ بنویہ لاہور ص۱۳)
(٢)قال اﷲ تعالٰی یحلفون باﷲ ماقالوا ولقد قالوا کلمۃ الکفر و کفروا بعد اسلامہم ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: وہ اللہ تعالٰی کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انھوں نے نہیں کہا اور بیشک وہ کفر کا بول بولے ا ور اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۹ /۷۴)
یہ حیلہ شرعی نہیں حیلہ شیطانی ہے اور اس سے برأت نہیں ہوسکتی وہ ملعون عقائد واقوال ان کی کتابوں میں موجود ہیں اور ان پر اب تک مصر ہیں ان کو بار بار چھاپ رہے ہیں تو وہ کا فقط ناواقف کے بہلادینےکو ہوتاہے اور جو واقف ہے مگر ذی علم نہیں اس کے سامنے یہ حیلہ ہوتاہے کہ ان عبارتوں کا یہ مطلب نہیں، اور جو ذی علم ہے اس کے سامنے یہ ہوتاہے کہ رنگون پہنچے وہاں سے بھاگا کلکتے میں پیچھا کیا وہاں سے بھی اڑگیا، اہل علم کے سامنے یہ ہوتاہےکہ میں اس فن سے جاہل ہوں میرے اساتذہ بھی جاہل تھے تم مجھے معقول بھی کرد و تو میں وہی کہے جاؤں گا، تقویۃ الایمان کو جو اچھا سمجھے یا امکان کذب نہ ماننے والے کو کافر کہے ان سب پر ستر ستر اور زائد زائد وجوہ سے کفر لازم ہے۔ جس کی تفصیل
سبحٰن السبوح وکوکبۃ شہابیہ وکشف ضلال دیوبند شرح الاستمداد وغیرہا
میں ہے اس کے پیچھے نماز باطل ہے اور جو پہلے پڑھیں ان کا پھیرنا فرض ہے اور نہ پھیرنا فسق۔
(۳) سائل صورت وہ فرض کرتاہے جو واقع نہ ہوگی، دیوبندیوں کے عقائد کفر طشت ازبان ہوگئے منکر بننے والے اپنی جان چھڑانے کے لئے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں جو منکر ہو اس سے کہئے فتاوٰی موجود وشائع ہیں دیکھو کہ کافروں کا کفر معلوم ہو اور دھوکے سے بچے اور ان کے پیچھے نمازیں غارت نہ کرو، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں سے دشمنی فرض ہے اس فرض پر قائم ہوتو کہتے ہیں ہمیں کتابیں دیکھنے کی حاجت نہیں، یہ ان کا کید ہے ان کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علہ وسلم کی عظمت ہوتی تو جن کی نسبت ایسی عام اشاعت سننے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دشنام دہندہ ہے۔اس سے فورا خود ہی کنارہ کشی ہوتے اور آپ ہی اس کی تحقیق کو بیقرار ہوتے، کیا کوئی کسی کو سننے کہ تیرے قتل کےلئے گھات میں بیٹھا ہے اعتبار نہ آئے تو چل تجھے دکھادیں، وہ یوں ہی بے پروائی برتے گا اور کہے گا مجھے نہ تحقیقات کی ضرورت ہے نہ اس سے احتراز کی حاجت تو یہ لوگ ضرور مکار اور بباطن انھیں سے انفار یا دین سے محض بےعلاقہ و بیزار ہوتے ہیں ان کے پیچھے نماز سے احتراز فرض ہے۔ ہاں اگر واقع میں کوئی نو وارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ اوازیں نہ گئیں او ربوجہ ناواقفی محض انھیں کافر نہ سمجھا وہ اس وقت تک معذور ہے جبکہ سمجھانے سے فورا قبول کرے۔
(۴) یہ حدیث پر کافر پرستوں کا افتراء ہے جس نے دیوبندیہ وغیرہم کفا ر کو کفار کہا اس پر کوئی گناہ نہیں، اللہ عزوجل نے کافر کو کافر کہنے کا حکم دیا
قل یٰا یھاالکفرون ۱؎
(اے نبی! فرمادیجئے اے کافرو!) ہاں کافر ذمی کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہوکر رہتا ہے اسے کافر کہہ کر پکارنا منع ہے اگر اسے ناگوار ہو،
(۱؎ القرآن الکریم ۱۰۹/ ۱)
درمختار میں ہے:
شتم مسلم ذمیا عزروفی القنیۃ قال لیہودی اومجوسی یاکافر یأثم ان شق علیہ ۲؎۔
کسی مسلمان نے کسی ذمی کافر کو گالی دی تو اس پر تعزیر جاری کی جائے گی، قنیہ میں ہے: کسی یہودی یا آتش پرست کو ''اے کافر'' کہا توکہنے والا گنہگار ہوگا اگر اسے ناگوار گزرا۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الحدود باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۹)
یوں ہی گڑی سلطنت اسلام میں جبکہ کافر کو ''او کافر'' کہہ کر پکارنے میں مقدمہ چلتاہو۔
فانہ لایحل لمسلم ان یذل نفسہ الا بضرورۃ شرعیۃ۔
تو کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے مگر جبکہ کوئی شرعی مجبوری ہو۔ (ت)
مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کافر کو کافرنہ جانے یہ خود کفر ہے۔
من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۳؎۔
جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شک کیا تو وہ بلاشبہ کافر ہوگیا۔ (ت)
(۳؎درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
اسی طرح جب کسی کافر کی نسبت پوچھا جائے کہ وہ کیسا ہے اس وقت اس کا حکم واقعی بتانا واجب ہے، حدیث میں ہے :
اترعون من ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکر والفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۴؎۔
کیا تم بدکارکا ذکر کرنے سے گھبراتے اور خوف رکھتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہنچائیں گے لہذ وہ بدکار کا ان برائیوں سے ذکر کرو جو اس میں موجود ہیں تاکہ لوگ اس سے بچیں اور ہوشیار رہیں۔ (ت)
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اللہ وہی ہے جس نے تمھیں پیدا فرمایا پھر کچھ تمھارے اند ر کافر ہیں اور کچھ تمھارے اندر مومن ہیں۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶۴ /۲)
سوال حکم کے وقت حکم کو چھپانا اگر یوں ہے کہ اسے یقینا کافر جانتاہے او راسے کافر کہنا معیوب نہیں جانتا مگر اپنی مصلحت کے سبب بچتاہے تو صرف گنہگار ہے جبکہ وہ مصلحت صحیحہ تاحد ضرورت شرعیہ نہ ہو، اور اگر واقعی کافر کوکافر کہنا معیوب وخلاف تہذیب جانتاہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتاہے اور قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے اور اسے کافر جانتاہی نہیں تو خود اس کے کافر ہونے میں کیا کلام ہےکہ اس نے کفر کو کفر نہ جانا تو ضرور کفر کو اسلام جانا لعدم الواسطہ کیونکہ کفر اوراسلام کے درمیان کوئی واسطہ نہیں) تواسلام کو کفر جانا
لان ماکان کفرا فضدہ الاسلام فاذا جعلہ اسلاما فقد جعل ضدہ کفرا لان الاسلام لایضادہ الا الکفر والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
اس لئے کہ جو کچھ کفر ہو تو اس اس کی ضد اسلا م ہے۔ پھر جب کفر کو اسلام ٹھہرایا تو پھر اس کی ضد کفر ہوگی (یعنی اسلام کفر اور کفر اسلام ہوجائے گا) کیونکہ اسلام کے مخالف صرف کفر ہے اور اللہ تعالٰی کی پناہ (ت)
(۵) تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ویکروزی کا مصنف اسمعیل دہلوی ہے اس پر صد ہا وجہ سے لزوم کفر ہے۔ دیکھو "سبحن السبوح" و"کوکبہ شہابیہ" ومتن و"شرح الاستمداد" اور تحذیر الناس نانوتوی وبراہین قاطعہ گنگوہی وخفض الایمان تھانوی میں قطعی یقینی اللہ ورسول کو گالیاں ہیں اور ان کے مصنفین مرتدین ان کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایاہے :
من شک فی کفرہ وعذاب فقد کفر ۲؎۔
جو ان کے کفروعذاب میں شک ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔ دیکھو کتاب
"مستطاب حسام الحرمین" ، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ حسام الحرمین علی منح الکفر والمین مقدمۃ الکتاب مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳)