Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
45 - 144
مسئلہ ۱۴۱ تا ۱۴۳ : مسئولہ مولٰنا مولوی احمد مختار صاحب میرٹھی مورخہ ۸ شعبان المعظم ۱۳۳۸ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام
(اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد گرامی ہے۔ ت)
 (۱) مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد، مہدی، مسیح موعود اور پیغمبر صاحب وحی والہام ماننے والے مسلم ہیں یا خارج از اسلام اور مرتد؟

(۲) بشکل ثانی اس کا نکاح کسی مسلمہ یا غیر مسلمہ یا ان کی ہم عقیدہ عورت سے شرعا درست ہے یانہیں؟

(۳)بصورت ثانیہ جن عورات کا نکاح ان لوگوں کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے ان عورات کو اختیار حاصل ہے کہ بغیر طلاق لئے اور بلا عدت کسی مرد مسلم سے عقد نکاح کرلیں، بینوا اجرکم اللہ تعالٰی (بیان کرو اللہ تعالٰی تمھیں اجر وثواب عطا فرمائے۔ت)
الجواب

(۱) لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
کے بعد کسی کو نبوت ملنے کا جو قائل ہو وہ تو مطلق کافر مرتد ہے۔ اگر چہ کسی ولی یا صحابی کے لئے مانے۔
قال اﷲ تعالٰی ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین ۱؎
وقال صلی اﷲ علیہ وسلم انا خاتم النبیین لانبی بعدی ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : لیکن محمد کریم اللہ تعالٰی کے رسول ہیں اور سب بنیوں سے آخر ہیں، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : میں تمام انبیاء کرام سے آخر میں آیا لہذا میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۳۳ /۴۰)

(۲؎ اللآلی المصنوعۃ     کتاب المناقب     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱/ ۲۴۳)

(الموضوعات لابن جوزی     کتاب الفضائل   باب ذکر انہ لانبی بعدہ     دارالفکر بیروت    ۱ /۲۸۰)
لیکن قادیانی تو ایسا مرتد ہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ :
من شک فی کفرہ فقد کفر ۳؎۔
جس نے سا کے کفر میں شک کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ (ت)
 (۳؎ درمختار     کتاب الجہاد باب المرتد    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۳۵۶)
اسے معاذاللہ مسیح موعود یا مہدی یا مجدد یا ایک ادنٰی درج کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہو کر اس کے کافر ہونے میں ادنٰی شک کرے وہ خود کافر مرتد ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

 (۲) قادیانی عقیدے والے یا قادیانی کو کافر مرتد نہ ماننے والے مرد خواہ عورت کانکاح اصلا قطعا ہر گز زنہار کسی مسلم کافر یا مرتد اس کے ہم عقیدہ یا مخالفت العقیدہ غرض تمام جہان میں انسان حیوان جن شیطان کسی سے نہیں ہوسکتا جس سے ہوگا  زنائے خالص ہوگا،
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذٰلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذا فی المبسوط ۴؎۔
کسی مرتد مرد کے لئے جائز نہیں کو وہ کسی مرتد عورت سے یا کسی اصلی کافر عورت سے نکاح کرے، اسی طرح کسی مرتد عورت کو بھی جائز نہیں کہ وہ کسی شخص سے نکاح کرے، مبسوط میں یونہی ہے۔ (ت)
 (۴؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب النکاح الباب لثالث القسم السابع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۲۸۲)
اسی میں درباہ تصرفات مرتد ہے :
منہا ماھو باطل بالاتفاق نحوالنکاح لایجوز لہ ان یتزوجل امرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ ولاذمیۃ ولاحرۃ ولو مملوکۃ ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مرتد آدمی کے بعض تصرفات بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح کرنا، لہذا مرتد شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان عورت یا اپنے جیسی کسی مرتد عورت یا ذمی کافر ہ عورت چاہے آزادہو یا لونڈی سے نکاح کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب السیر     الباب التاسع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۲ /۲۵۵)
(۳) جس مسلمان عورت کا غلطی یاجہالت سے کسی ایسے کے ساتھ نکاح باندھا گیا اس پر فرض فرض فرض ہے کہ فوراً فوراً فوراً اس سے جدا ہوجائے کہ زنائے سے بچے، اور طلاق کی کچھ حاجت نہیں، بلکہ طلاق کا کوئی محل ہی نہیں، طلاق تو جب ہوکہ نکاح ہوا ہو، نکاح ہی سرے سے نہ ہوا، نہ اصلا عدت کی ضرورت کہ زنائے کے لئے عدت نہیں، بلا طلاق وبلا عدت جس مسلمان سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
درمختار میں ہے:
نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لایثبت النسب منہ ولا تجب العدۃ لانہ نکاح باطل ۲؎۔
کسی کافر نے کسی مسلمان عورت سے (اپنے خیال میں) نکاح کرلیا تو اس سے عورت نے بچہ جنا تو اس سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا۔ اور نہ عورت پر عدت واجب ہوگی، اس لئے کہ وہ ایک باطل نکاح ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب الطلاق    فصل فی ثبوت النسب     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۶۳)
ردالمحتار میں ہے :
ای فالوطء، فیہ زنا لایثبت بہ النسب ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ وطی زنا قرار پائے گی اس سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار     کتاب الطلاق    فصل فی ثبوت النسب    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۳۳)
مسئلہ ۱۴۴: از لاہور مسجد بیگم شاہی مرسلہ مولوی احمد الدین صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں اکثر واعظین لوگوں کوکابل ہجرت کرنے پر مجبور کررہے ہیں اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب : شریعت مجبور نہیں کرتی، ہندوستان میں بکثرت شعائر اسلام اب تک جاری ہیں تو ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک بدستور دارالاسلام ہے،
مابقیت علقۃ من علائق الاسلام فان الاسلام یعلو ولایعلی کما فی جامع الفصولین والدرالمختار و جلائل الاسفار۔
جب تک اسلام کے ذرائع میں سے کوئی ذریعہ اسلام موجود ہو تو وہ داراسلام ہے۔ کیونکہ اسلام ہمیشہ غالب ہوتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا، جیسا کہ جامع الفصولین ، درمختار اور دوسری بڑی بڑی کتابوں میں (یہ مسئلہ) مذکور ہے۔ (ت)
اور داراسلام سے ہجرت فرض نہیں۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاھجرۃ بعد الفتح ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : فتح کے بعد ہجرت جائز نہیں۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الجہاد  باب وجوب النفیر الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۹۷)

(صحیح مسلم     کتاب الامارۃ    باب المبایعۃ بعد الفتح       قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲ /۱۳۱)

(المعجم الکبیر     حدیث ۳۳۹۰    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۳ /۲۷۳)
اوریہ ہجرت جائز ہمیشہ تھی اوراب بھی ہے مگر عالم دین کو جس کے علم کی طرف یہاں کے لوگوں کو حاجت ہے اسے ہجرت ناجائز ہے۔ ہجرت درکنار اسے سفر طویل کی اجازت نہیں دیتے، 

حتی کہ بزازیہ وتنویر الابصار وغیرہا میں ہے :
فقیہ فی بلدۃ لیس فیہا غیرہ افقہ منہ یرید ان یغٖز و لیس لہ ذٰلک ولفظ الدر من صدر کتاب الجہاد وعمم فی البزازیۃ السفر ولایخفی ان المقید یفید غیرہ بالاولی ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر کسی شہر میں کوئی ایسا عالم ہو کہ اس سے بڑا اس شہر میں کوئی اور عالم نہ ہو اگر وہ جہاد پر جانا چاہے تویہ اس کے لئے مناسب نہیں، یعنی وہ جہادکےلئے نہ جائے، درمختار کے کتاب الجہاد میں ہے کہ فتاوٰی بزازیہ میں سفر کو عام رکھاہے۔ اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ سفرمقید، یہ فائدہ دیتاہے کہ سفیر غیر مقید میں بطریق اولٰی یہ حکم جاری ہے (اس کی وضاحت یہ ہے جب جہاد کے لئے جانا جائز نہیں تو پھر دوسرے کاموں کے لئے سفر کرنے کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے) واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار   کتا ب الجہاد  مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۳۳۹)
Flag Counter