Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
44 - 144
مسئلہ ۱۳۸ : از بنارس محلہ مدنپورہ متصل دہتوریاپورہ مسئولہ محمدامین ومحمد سلیمان ۱۸ شعبان ۱۳۳۹ھ

شہربنارس میں جس میں تاریخ کو آپ کا اشتہار جماعت رضائےمصطفی کی طرف سے بابت نکاح کےجو آیا ہے اس پر مخالف لوگ اعتراض کررہے ہیں ہم لوگ بہت پریشان ہیں لہذا ہم نے دوسرے ہفتہ کو جو کاروبار بند کردیا ہے یہ مسئلہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ بند کرنے سے ہم کو کلمہ پڑھنے کے بعد نکاح دوبارہ کرنے کی ضرورت ہوگی، اور ہم لوگوں کو خلافت کمیٹی سے حکم ہوا تھا کہ تم لوگ ہڑتال کردو یعنی اپنا کاروبار بند کردو جس میں سے کچھ لوگ مسجد میں دعا کرنے کے لئے گئے اور کچھ لوگ فضول ادھر ادھر گھومتے رہے،لہذاہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے موقع پر جو لوگ دعامانگنے کے لئے گئے تو ان کے واسطے کیا مسئلہ ہے اور جولوگ کہ فضول گھومتے رہے ان کے لئے کیا مسئلہ ہے۔ مگر خاص کہ ہڑتال کی وجہ سے بند تھا بالکل کاروبار، مہربانی فرماکر جواب سے جلد مشرف فرمایا جائے۔
الجواب

مخالفوں کے اعتراض کی پرواہ نہ کیجئے، وہ تو قرآن وحدیث کو پیٹھ دے کر مشرک کے پیرو ہولئے ہیں، مشرک کو اپنا رہنما بنالیا ہے۔ مشرک جوکہتاہے وہی مانتے ہیں حالانکہ مشرک کی اطاعت کو قرآن مجید نے حرام فرمایا ہے۔ مشرکوں کا سوگ درکنار تین دن بعد مسلمان کا سوگ بھی صحیح حدیثوں نے حرام فرمایا ہے۔ مشرکوں کے سوگ میں بازار بندکرنا مشرک کی تعظیم ہے۔ اور کافر کی تعظیم کو فقہائے کرام نےکفر فرمایا ہے۔ مشرکوں سے اتحاد حرام وکفر ہے۔ مشرک کے حکم سے کاروبار بند کرنا حرام ہے۔ حرام کو حلال وخوب سمجھنا کفر ہے، جن لوگون نے مفسدوں کے مجبور کرنے سے دفع فتنہ کے لئے دکان بند کی ان پر تجدید اسلام ونکاح کا حکم نہیں کہ وہ اس پر راضی نہ تھے، ہاں یہ الزام ہے کہ بلا مجبوری خلاف شرع بات کرنے میں مجبور بن گئے اگر کوئی دس روپے چھیننا چاہتاہے تویوں سہل مجبور بن جاتے ہیں اور جن لوگوں نے خوشی سے بند کئے وہ سخت کبیرہ گناہ کےمرتکب ہوئے، پھر اگر مشرک کا سوگ منانا یا مشرک کاحکم اس کی فرمانبرداری کو ماننا منظور تھا تو بیشک ان پر لازم ہے کہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں، اس کے بعد اگر اپنی عورتیں رکھنا چاہیں تو ان سے دوبارہ نکاح کریں، فضول گھومنا برا ہے، اور دعا اگر اچھی ہے خوب ہے مگر مشرک کاحکم ماننے کو دعا کرنا روزہ رکھنا رسالت میں شرک ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹ : از راندیر ضلع سورت ڈاکخانہ خاص مسئولہ جناب مولانا مولوی فقیر غلام محی الدین صاحب ۲۷رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کسی ضروری امر کے لئے سورت گیا قریب مغرب ایک مسجد میں پہنچا، امام نے گاندھوی خبثا کے لئے ہار بنائے تھے، اقامت ہونے کے سبب امامت تو مصلی پرکھڑاہوگیا، یہ خبثا آئے تو اس شخص کو چند احباب نے گھیر کر کہا کہ یہ ہار پہنادو، ان احباب کے کہنے سے شخص مذکور نے ہار پہناکر اپنی جان چھڑائی اور بعد میں اس امام کے پیچھے امام بلکہ اس مسجد ہی میں نماز نہ پڑھی، اس کے دل میں نہ امام کی عظمت نہ ان خبثا کی عزت، لیکن مجبورا شرما شرمی ہار پہنائے ہیں، اس میں کچھ گناہ ثابت ہوگایانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ ت)
الجواب : یہ ہار پہنانا عرفا تعظیم ہے اور یہ لوگ فساق وگمراہ ہیں بلکہ ان میں بعض فنافی المشرکین ہوکر اسلام سے بھی گزرگئے، تعظیم فاسق ناجائز ہے۔
تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمۃ وقد وجب علیہم اہانتہ شرعا ۱؎۔
چونکہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے جبکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین وتذلیل واجب ہے۔ (ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق     باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ     المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر    ۱/ ۱۳۴)
اورتعظیم کافر کو علماء کرام نے کفر لکھاہے۔ درمختاروغیرہ میں ہے :
لوسلم علی الذمی تبجیلا کفر لان تبجیل الکافر کفر ۲؎۔
اگر کافر کےاحترام میں اس کو سلام کیا تو کافر ہوگا کیونکہ کافر کا احترام کفر ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار  کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۵۱)
شخص مذکور نے اس امام کے پیچھے نماز نہ پڑھی بہت اچھا کیا مگر یہ ہار پہنانا اس سے بڑی خطا ہوئی تو بہ فرض ہے منکر کا حکم دینے والے احباب نہ تھے نہ احباب کی خاطر کوئی شرعی مجبوری، ہاں اکراہ کی حالت ہوتی تو معذوری تھی، وھو تعالٰی اعلم (اور اللہ سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ ت)
مسئلہ ۱۴۰ : از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راوالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

رئیس المحققین قاطع بیدین عمدۃ الامین دام لطفہ تسلیم کے بعد حضور انور کی خدمت اقدس میں غلامانہ عرض ہے کہ ایک مولوی صاحب نے ارشاد کیا ہے کہ جو شخص غیر مقلدین اورمرزائی کے ساتھ نشست برخاست کرے گا وہ کافر اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی حالانکہ نشست وبرخاست ان کے ساتھ برائے امور دنیا ہے قرابت یا کسی امر ضروری کے سبب سے ان کے شریک مجلس ہونا ضروری پڑتاہے ان کے افعال واقوال کو اچھا نہیں سمجھا جاتاہے تب بھی ان کی مجلس میں شرکت کفرہے۔ اب جو حکم شرعی ہو بیان فرمائیں۔ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب: وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبندی ومرزائی وغیرہم فرقے آج کل سب کفار مرتدین ہں ان کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے ان سے میل جول حرام ہے اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۱؎ o وقال تعالٰی لا تجد قوما یومنون باﷲ و الیوم الاخر یوادون من حاداﷲ و رسولہ ولو کانوا آبائہم  اواخوانہم اوعشیرتہم ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو، اور اللہ تعالٰی نے فرمایا: تم لوگوں کو ایسا نہ پاؤ گےکہ جو اللہ تعالٰی اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ ان سے دوستی رکھیں کہ جنہوں نے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اگر چہ وہ ان کے باپ دادا یا انکے بھائی یا انکے قبیلہ کے لوگ ہوں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم  ۶ /۶۸)	(۲؎القرآن الکریم     ۵۸ /۲۲)
اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں،
کما بیناہ فی المحجۃ المؤتمنہ
 (جیسا کہ ہم نے اسے اپنی کتاب المحجۃ المؤتمنہ میں بیان کردیا ہے۔ ت) ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتاہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلاشبہ خود کافر ہے۔
فتاوٰی بزایہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے :
من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۱؎.
جس نے ان کے عذاب اور کفر میں شک کیا تو بلا شبہ وہ بھی کافر ہوگیا۔ (ت)
(۱؎ درمختار   کتاب الجہاد  باب المرتد    مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶)
اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے اور اسے امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی قریب بحرام کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب، اور معاذاللہ بالآخر اس پر اندیشہ کفر ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ شرح الصدور میں فرماتے ہیں ایک شخص رافضیوں کے پاس بیٹھا کرتا تھا اس کے مرتے وقت لوگوں نے اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کی، اس نے کہا نہیں کہا جاتا، پوچھا کیوں؟ کہا یہ دو شخص کھڑے ہیں یہ کہتے ہیں تو ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا جو ابوبکر و عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہما)کو برا کہتے تھے اب چاہتاہے کہ کلمہ پڑھ کر اٹھے نہ پڑھنے دیں گے ۲؎۔
 (۲؎ شرح الصدور    باب مایقول الانسان فی مرض الموت مصطفی البابی مصر    ص۱۶)
جب صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما ) کو برا کہنے والوں کے پاس بیٹھنے والوں کو یہ حالت ہے تو یہ لوگ تو اللہ جل وعلا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بر ا کہتے ہیں ان کی تنقیص شان کرتے ہیں انھیں طرح طرح کے عیب لگاتے ہیں ان کے پاس بیٹھنے والے کو کلمہ نصیب ہونا اور بھی دشوار ہے ۔
نسأل اﷲ العفوا والعافیۃ
 (ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت چاہتے ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter