قال اﷲ تعالٰی ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۴؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمھیں آگ چھوئے گی۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳)
حرام کو مدار اسلام بنانا کفر ہے۔
والتفصیل فی المحجۃ المؤتمنۃ
(اور تفصیل المحجۃ المؤتمنہ میں ہے۔ ت)
(۶) یہ حرام ہے اور بحکم قرآن سخت ضلالت وبے دینی ۔
قال اﷲ تعالٰی یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت وقدامروا ان یکفروا بہ و یرید الشیطن یضلہم ضلٰلا بعیدا ۵؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : وہ چاہتے ہیں کہ شیطان کے پاس اپنا فیصلہ لے جائیں حالانکہ انھیں حکم دیا گیا کہ اس کا انکار کریں حالانکہ شیطان چاہتاہے کہ ان کو دور کی گمراہی میں بہکا دے۔ (ت)
(۵؎ القرآن الکریم ۴ /۶۰)
(۷) یہ حرام ہے۔ بدخواہی اسلام ہے۔ مشرک کی خوشی کو شعار اسلام کابندکرنا حرام ہے۔ مسلمان پر اس کے جائز فعل کے سبب تشدد کرنا ظلم صریح اور شیطان کا کام ہے۔ خود ان کے بڑے لیڈر مولوی عبدالباری صاحب نے اپنے رسالہ''قربانی گاؤ'' میں تصریح کردی ہے کہ ہنودکی خاطر یا مروت کے لئے گاؤ کشی چھوڑنا حرام ہے۔
والتفصیل فی الطارئ الداری
(اور پوری تفصیل رسالہ مذکورہ الطاری الداری میں ہے۔ ت)۔
(۸)مسجد میں سکونت وخوردونوش سوائے معتکف کسی کو جائز نہیں،
فتاوٰی سراجیہ میں ہے :
یکرہ النوم والأکل فیہ لغیر المعتکف ۱؎۔
معتکف کے علاوہ کسی کو مسجد میں سونا، کھانا پینا مکروہ ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی سراجیہ کتا ب الکراھیۃ باب المسجد نولکشور لکھنؤ ص۷۱)
اور مشرکین کا مجمع توہن مسجد ہے۔
وانظر المحجۃ المؤتمنۃ
(اور تفصیل المحجۃ المؤتمنہ میں دیکھئے۔ ت)
(۹) وہ نوٹ لکھوانا یا روپیہ جمع کراکر ضبط کرنا یا گناہ پر مالی جرمانہ ڈالنا یہ سب حرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولا تاکلوا اموالک بینکم بالباطل ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) اپنے مال آپس میں ناجائز طور پر مت نہ کھاؤ۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم ۲ /۱۸۸)
مالی جرمانہ منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل حرام ہے۔
(۱۰) یہ سنت نصارٰی اور شرعا حرام ورشوت ہے اور رشوت لینے دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الراشی والمرتشی کلاہما فی النار ۳؎۔
رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں دوزخی ہیں۔ (ت)
(۳؎ کنز العمال حدیث ۱۵۰۷۷ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۶ /۱۱۳)
(۱۱) کافر کی زمین پر مسجد تعمیر نہیں ہوسکتی، نہ وہ مسجد مسجد ہوگی، نہ مسجد وقف ہوگی۔
قال ا ﷲ تعالٰی وان المسجد ﷲ ۴؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا : مسجدیں اللہ تعالٰی کی ہیں۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۷۲ /۱۸)
مسلمان اسے وقف نہیں کرسکتے کہ پرائی ملک ہے۔
ردالمحتار میں ہے :
الواقف لابدان یکون مالکالہ وقت الوقف ملکاباتا ۱؎۔
کسی چیز کو وقف کرنے والے کےلیے ضروری ہے کہ وہ وقف کرتے وقت اس چیز کا مکمل طور پر مالک ہو۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۹)
مسجد کے لئے کافر وقف نہیں کرسکتا کہ وہ ا س کا اہل نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی ماکان للمشرکین ان یعمروا مسٰجداﷲ ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : شرک کرنے والوں کو لائق نہیں کہ وہ اللہ تعالٰی کے گھرو کی تعمیر کریں۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۹ /۱۷)
ہاں اگر کافر کسی مسلمان کو اپنی زمین بیعا یا ہبۃ دے دیتا اور مسلمان کی ملک ہوجاتی وہ اپنی طرف سے وقف کرتا تو جائز تھا اور مشرک سے امو دینیہ میں مددلینی بھی جائز نہیں، تفسیر ارشاد العقل وتفسیر فتوحات الہییہ زیر آیہ کریمہ
لایتخذالمؤمنون الکٰفرین اولیاء
(مسلمانوں کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ ت) ہے :
نھوا عن موالاتہم وعن الاستعانۃ بہم فی الغزو و سائر الامور الدینیۃ ۳؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
انھیں (مسلمانوں کو ) کافروں کی دوستی سے روک دیا گیاا ور غزوات اور تمام دینی کاموں میں کافروں سے مددلینے کی ممانعت ہے۔ اور اللہ تعالٰی پاک اور برتر سب سے بڑا عالم ہے۔ اور اس بڑی شان والے کا علم زیادہ کامل اور زیادہ پختہ ہے۔ (ت)
(۳؎ الفتوحات الٰہیہ تحت آیۃ لایتخذ المومنون الخ ۳ /۲۸ مصطفی البابی مصر ۱ /۲۵۷)
مسئلہ ۱۳۷: از پوکھریرا محلہ نور الحلیم شاہ شریف آباد مسئولہ اراکین انجمن نور الاسلام ۹ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس جلسہ میں وہابی، ندوی، نیچری، دیوبندی، ہندو مقرر ، لکچرار، واعظ ہوں اور ان کا صدر دیوبندی وغیرہا یا بندو ہوا یسے جلسوں میں مسلمانان اہلسنت وجماعت کو شرعا شریک ہونا جائز ہے یانہیں؟ اور جو مسلمان ایسے جلسوں میں شریک نہ ہو وہ خارج از اسلام ہے یا نہیں؟ اس سے ترک موالات کرنا شرعا جائز ہے یانہیں؟
الجواب
ایسے جلسوں میں شریک ہونا قطعا حرام اور سخت مضر اسلام ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے:
واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین۱؎،
اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
اللہ تعالٰی ان کے پاس بیٹھنے کو شیطانی کام بتاتاہے اور بھولے سے بیٹھ گیاہو تو یاد آنے پر فورا اٹھ آنے کا حکم فرماتاہے نہ کہ ان کا وعظ ولکچر سننا، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۲؎۔
ان سےدور بھاگو انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردین کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔
(۲؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰)
نہ کہ انھیں مسند رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر بٹھانا، انھیں صدر یا واعظ بنانے میں ان کی تعظیم و توقیر ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۳؎۔
جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی بے شک اس نے دین اسلام ڈھا دینے پر مدد کی ۔
فتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر ومنح الغفار ودرمختار وغیرہا میں ہے :
تبجیل الکافر کفر ۳؎
کافر کی تعظیم کفر ہے۔
(۴؎درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱)
تو جو مسلمان ایسے جلسوں میں شریک نہ ہو وہ اللہ ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاحکم مانتے ہیں اپنے اسلام کو دستبردِ کفار ومرتدین وشیاطین سے بچاتے ہیں، اس بناء پر جو ان کو خارج از اسلام بتاتا ہے خود خارج از اسلام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
فقد باء بہا احد ھما ۵؎
جو کسی کو کافر کہے اگر وہ کافر نہیں تو یہ کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہے
(۵؎ صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۰۱)
جو ان سے اس بناء پر ترک موالات کرے وہ ابلیس سے موالات کرتاہے مسلمانوں کو اس سے ترک موالات چاہئے۔
قال اﷲ تعالٰی لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۱؎۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی واﷲ تعالٰی اعلم۔
(اللہ تعالٰی نے فرمایا) ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گی، اللہ تعالٰی کی پناہ اور اللہ تعالٰی سب کچھ اچھی جانتاہے (ت)