Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
42 - 144
مسئلہ ۱۲۶ تا ۱۳۶ : ازمہروناگھاٹ ڈاکخانہ قصبہ لار ضلع گور کھپور مسئولہ شیخ عباس وشیخ غوث علی و شیخ فضل حسین وشیخ رخت علی زمینداران     ۲۲ رجب ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے کرام ذیل کے مسائل میں، زید خیالات مندرجہ کی عام پر طور پر تبلیغ کرتاہے جواب بحوالہ نام کتاب وعبارت وصفحہ وسطر درکار ہے۔

(۱) مشرک وکفار کے جنازہ میں مشایعت، کاندھا دینا اہل اسلام کے لئے نہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے۔

(۲) مساجد وعیدگاہ میں جلسہ وسبھا کرتاہے اور تمام بت پرست بلاروک ٹوک آتے جاتے ہیں جس میں صدر جلسہ وسبھابت پرست مشرک ہوتاہے عیدگاہ میں اس مشرک صدر کے لئے کرسی بچھائی جاتی ہے وہ اس پر بیٹھتاہے اور نام کے اہل اسلام زمین پر ہوتے ہیں ستر عورت مشرکین کا عام طور پر کھلاہوتاہے جلسہ میں عام پر طور پر تالیاں بجتی اور مشرکین کے جے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
 (۳) سوم بکرے کے گوشت کا نرخ چھ پیسے مقرر کیا ہے اس لئے کہ ارزاں دیکھ کر اہل السلام کھائیں اور گائے کے گوشت سے احتراز کریں اور کہتاہےکہ جو اس مقرر نرخ سے زائد دام لے یا زائد دام سے خریدے وہ سوئر بیچتاہے اور سوئر خریدتاہے۔ اور جو نرخ مقرر سے زائد دام دے کر بکرے کا گوشت کھائے وہ سوئر کھاتاہے۔

(۴) شوالہ مندر میں جاکر لکچر دیتا ہے جس میں عالم اہل اسلام کو بھی شریک کرتاہے اور کہتاہے کہ جیسے مسلمانوں کا قرآن ایسا ہنود کا ویدہے مسلمانوں کوقرآن پر اور ہنودکو اپنے وید پرعمل کرنا چاہے،

(۵) ہزار داڑھی بڑھاؤ ہزا ر مسجد بناؤ مسلمان نہیں کچھ ثواب نہیں جب تک ہنود کے ساتھ میل جول کرکے ساتھ ہوکر مالک کی بہبود میں سعی نہ کرو دیس بھگت نہ بنو۔
 (۶) مسلمانوں کے امور فیصلہ کے لئے پنچایت مقرر کی ہے جس میں ہنود سر پنچ وپنچ میں ہر قسم کے فیصلہ جات شرعی کو بھی ان پنچوں سے کراتاہے۔ بعض مواقع پر اہل اسلام نے کہا کہ ہم لوگ فلاں معاملہ کا فیصلہ بحسب شریعت چاہتے ہیں اس میں بھی دیگر اہل اسلام پنچ کے ساتھ ایک مشرک ہندو کو پنچ بناکر شریک فیصلہ کیا جب اہل اسلام نے اس پر اعتراض کیا کہ ہندو شرعی معاملہ میں کیسے پنچ ہوسکتاہے تو ناراض ہوکر اس ہندو کی خاطر سے بلا فیصلہ اٹھ گیا اور کہا کہ میں اس وقت تک شریک فیصلہ نہیں ہوسکتا جب تک ہندو کو بحیثیت پنچ شریک فیصلہ نہ کرو گے۔
 (۷) لوگوں کو ترغیب وتحریص کرتاہے کہ ہندو بھائی کی خاطر سے گائے کا ذبح کرنا اس کا گوشت کھانا چوڑ دو، اور اگر کوئی چھپا کر دوسرے گاؤں سے گائے کا گوشت لاتاہے۔ اس پر تشدد کیا جاتاہے۔

(۸) باجود یہ کہ ہر گاؤ ں میں قیام کر موقع مسجد کے علاوہ دوسرے مکان اہل اسلام پر آسانی سے ممکن ہے اور ہر اہل اسلام مکان پر قیام کو کہتا بھی ہے لیکن مسجد میں قیام، بود وباش خوردونوش رکھتاہے اور ہر وقت مشرکین وعوام کا مجمع عام رہتاہے جس میں ہر قسم کا فیصلہ مسلم وغیر مسلم ہوتاہے۔
 (۹) مسلمانوں سے محض دباؤ کے خیال سے ایک پرامیسری پرونوٹ ہر فیصلے سے پہلے رکھو الیتاہے کہ بعد فیصلہ اگر فیصلے سے انکار کرو گے تو یہ پرونوٹ کا روپیہ تم سے وصول کرلیاجائے گا یا نقد روپیہ جمع کراتاہے اور اگر فیصلہ پنچی سے انکار کرو گے تو یہ روپیہ سوخت ہوجائے گا، جس خیال کی تبلیغ کرتاہے اس پر وہ ترک صلٰوۃ وارتکاب منہیات پر جرمانہ ایک مقدار میں وصول کرتاہے۔

(۱۰) فیصلہ معاملات کے لئے جو لوگ درخواست پنچایت میں دیتے ہیں ان میں سے (عہ ۴/) یا کم سے کم( ۵/) رسوم وصول کیا جاتاہے۔

(۱۱) اہل ہنود سے بلا کسی معاوضہ کے بناء مسجد کے لئے زمین لی ہے اور اس کی تعمیر میں بھی ان سے ہر قسم کی مدد لیتاہے۔
الجواب:  (۱) زید شریعت مطہر پر افتراء کرتاہے جلد بتائے کہ کہاں شریعت نے مشرک وکافر کے جنازے کو کندھا دینا اور مشایعت کرنا ضروری بتایا ہے ورنہ کریمہ :
لاتقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اﷲ الکذب ان الدین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون ۱؎۔
 (۱؎ القرآن الکریم      ۱۶ /۱۱۶)
 (لوگو! جو کچھ تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں اس کے متعلق یہ نہ کہا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ تم اللہ تعالٰی پر جھو ٹ باندھو بیشک جو لوگ اللہ تعالٰی کے ذمے جھوٹ لگاتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔ (ت) 

میں داخل ہونے کا اقرار کرے، حدیث میں تو روافض کے لئے فرمایا:
وذا ماتوا فلا تشہدوھم ۲؎
(اور جب وہ مرجائیں تو ان کی نماز جنازہ میں حاضر نہ ہوں۔ ت) نہ کہ کفار اگر اس کا حکم ہوتارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ضرور جنازہ ابوطالب کی مشایعت فرماتے۔
 (۲؎ کنز العمال   حدیث ۳۲۵۴۲    مؤسسۃ الرسالہ بیروت            ۱۱ /۵۴۲)

(تہذیب تاریخ دمشق الکبیر  ترجمہ حسین بن الولید السمین النیسابوری  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۳۶۹)
 (۲) یہ تعظیم مشرک ہے اور تعظیم مشرک کفرہے۔  ظہیریہ واشباہ ودرمختار میں ہے :
تبجیل الکافر کفر ۳؎
(کافر کی تعظیم کفر ہے۔ ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب الحظر و الاباحۃ فصل فی البیع   مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۵۱)
مشرک کا اس طرح مسجد میں لے جانا بلا شبہ حرام ہے۔ المحجۃ المؤتمنہ میں اس کی تفصیل تام ہے۔ اور مساجد وعیدگاہ میں ا یسے جلسے اور سبھائیں حرام ہیں،   رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان المساجد لم تبن لہذا ۴؎
 (مسجدیں اس لئے تعمیرنہیں ہوئیں۔ ت)
 (۴؎ سنن ابی داؤد   کتاب الصلٰوۃ باب فی کراھیۃ  انشادالضالۃ فی المسجد     آفتاب عالم پریس لاہور         ۱ /۶۸)
مشرک کی جے پکارنا مشرک کا کام ہے رب عزوجل اس پر غضب فرماتاہے اور عرش الٰہی ہل جاتاہے
کما فی الحدیث ۵؎ عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 (جیسا کہ حدیث پاک میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے۔ ت)
(۵؎ شعب الایمان   حدیث ۴۸۸۶  دارالکتب العلمیہ بیروت   ۴ /۲۳۰)
 (۳) یہ اس کے منہ کا سوئر ہے، مسلمانوں پر اس کا کیا اثر ہے۔ وہ اس شریعت پرافتراگر ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتسعرو ۶؎
 (لوگو! قیمتیں مقرر نہ کرو۔ ت)
(۶؎ کشف الخفاء حدیث ۳۰۱۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۲ /۳۲۱)
بلکہ اگر بیچنے والے اس کے جبر سے اتنا ارزاں بیچیں تو خریدنا اور کھانا حرام ہے۔  اللہ عزوجل فرماتاہے:
الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۱؎۔
مگریہ کہ تجارت تمھاری آپس کی رضامندی سے ہو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم   ۴ /۲۹)
 (۴) مندر ماوائے شیاطین ہے۔ اس میں مسلمانوں کو جانا منع ہے۔
ردالمحتارمیں ہے :
فی التتارخانیۃ یکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والکنیسۃ حیث انہ مجمع الشیاطین قال فی البحر الظاھر انہا تحریمۃ لانہا المرادۃ عند اطلاقہم اھ فاذا  حرم الدخول فالصلٰوۃ اولی۲؎۔
فتاوٰی تاتارخانیہ میں ہے کسی مسلمانوں کو یہودیوں، عیسائیوں کے گرجوں میں جانا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ شیطانوں کے جمع ہونے کے مکانات ہیں، بحرالرائق میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ یہاں کراہت سے کراہۃ تحریمی مرا دہے کیونکہ اطلاق کے وقت یہی مراد ہواکرتی ہے اھ جب وہاں جانا حرام ہے تو پھر نماز پڑھنا بدرجہ اولٰی حرام ہے۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار   کتاب الصلٰوۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۲۵۴)
جب اس میں یونہی جاناحرام ہے جن مقاصد فاسد کے لئے زید سا شخص لے جاتاہو ان کا کا ذکر، قرآن عظیم کو مثل وید بتانا کفر ہے۔ اور ہندوؤں کے وید پر عمل کاحکم کفر کفر ہےاور حکمِ کفر کفرہے ۔
عام کتب میں ہے :
الرضا بالکفر کفر ۳؎
 (کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ ت)
(۳؎ منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً     مصطفی البابی مصر ص۱۷۷)
Flag Counter