Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
41 - 144
(۱۲) عجب کی وہ پارٹی جسے عمر بھر ایسی ہی باتوں اور ان سے زائد میں ابتلا رہاا ور ہنود کے ساتھ بہت اخبث واخنع ہیں اب علانیہ مبتلا ہے ایسے سوال ان بندگان خدا سے کرے جن کو ہمیشہ تلوث دنیا سے بکرمہٖ تعالٰی محفوظ رکھا ایسے افعال اگر بضرورت صحیحہ ہوں محذور نہیں اورخوشامد سلطنت کے لئے ہوں جب بھی شرکت کفر نہیں کہ لزوم کفر ہو، آگے حکم وفرق اسی طرح ہیں جو ابھی گزرے خوشامد سلطنت نہ اضطرار ہے نہ مفید دین ٹھہرا کر خالص طیب قلب سے استحسان واختیار بخلاف پر ستش جلوس گاندھی وغیرہ مشرکین کہ اس اتحاد ملعون کی بنا پر ہے جسے بہبود دین بنا کر غایت درجہ استحسان میں بتایا جاتاہے تو وہ ضرور شرکت کفر ہے۔ اور اس پر لزوم کفر اور تجدید ایمان ونکاح کاحکم، ہاں جسے نہ یہ اتحاد منظور تھا نہ تعظیم شرک مقصود محض بطور تماشائی جلوس گاندھی میں شریک ہوا اس پر بھی لزوم کفر نہیں، البتہ اتنا کہا گیا اوریہ ضرور حق ہے کہ حرام فعل کا تماشا دیکھنابھی حرام ہے۔
 (۱۳) معاملات مجردہ مثل بیع وشرائے اشیاء مباحہ شرع نے کسی خاص قوم سے واجب کئے نہ حرام، مباح کا فعل وترک یکساں ہے جب تک خارج سے کوئی وجہ داعی یا مانع نہ پید اہو مگر کسی امر مباح کو شرعا فرض ٹھہرا لینا جائز جیسا پارٹی والے کررہے ہیں یہ قطعا حرام اور شریعت مطہرہ پر افتراء واتہام ہے 

(۱۴) ان مشرکین سے دین میں مدد لینی ہی حرام ہے۔ کوئی بات خلاف شرع لازم نہ آنا کیامعنی، اس کی تفصیل المحجۃ المؤتمنہ میں ہے:
 (۱۵ و ۱۶) کالج ہو یا مدرسہ اگر چہ کیسا ہی دینی کہلاتاہو اعتبار تعلیم کاہے اگر اس میں دین اسلام یا مذہب اہلسنت یاشریعت مطہرہ کے خلاف تعلیم دی جاتی تلقین کی جاتی ہے تواس کی امداد بھی حرام اوراس میں پڑھنا پڑھوانا بھی حرام، علی گڑھ کالج زمانہ پیر نیچر میں ان باتوں کا معدن تھا اور اب اس کی حالت جہاں تک معلوم ہے عام کالجوں کی ہے مسلمانوں بچوں کو زندیق وبے دین بنانے کی خاص لگاتارجان توڑ کوشش جو پیر نیچر کو تھی ظاہرا اب اس میں اس کا جانشین کوئی نہیں۔ ایک انگریزی کی تعلیم گاہ ہے جس میں حساب، ریاضی، ہندسہ، جبرو مقابلہ وغیرہ علوم جائزہ کے ساتھ سائنس وجغرافیہ بھی پڑھائے جاتے ہیں کہ بعض کفریات پر مشتمل ہیں جس طرح درس نظامی کے عام مدارشس میں فلسفہ قدیمہ پڑھاتے ہیں وہ کیا کفریات سے خالی ہے
قدم زمانہ وقدم عقول وقدم افلاک وقدم انواع عناصر خالقیت عقول ومسئلہ الواحد لای صدر عنہ الاالواحد
 (اوریہ مسئلہ ہے کہ سے صر ف ایک ہی صادرہوتاہے۔ ت) فلاسفہ قدیم کا یہ خیال ہے) ونفی علم جزئیات وغیرہا کثیر کفریات کیا ا س میں نہیں پھر اگر پڑھانے والے پڑھائیں اور پوری کوشش سے اس کا رد طلبہ کے ذہن نشین نہ کریں تووہ سب نظامی مدارس علی گڑھ کالج ہی ہیں اور اگر علی گڑھ کالج کے معلم حرکت ارض وسکون شمس وغیرہا کفریات کا رد متعلمین کے ذہن نشین کریں تو وہ بھی ایک مدرسہ نظامیہ کے رنگ پر ہے۔ ہاں اب خصوصیت کے ساتھ تمام ہندوستان میں تعلیم کفر وتلقین ارتداد و سلب ایمان کا مرکز مدرسہ دیوبند ہے جو کمیٹی کے شیخ الہند اور بہت جو شیلے لیڈروں کا مرجع وماوی ہے یونہی دہلی، سہارن پور، میرٹھ، بریلی وغیرہا کے مدرسے جو اسی مدرسہ دیوبند کی فاسد شاخیں ہیں ان سب میں امداد قطعا حرام اور پڑھنا پڑھانا حرام قاطع اسلام، اب علی گڑھ کے متعدد پڑھے ہوئے مسلمان پائے لیکن دیوبند اور اس کی شاخوں کا رنگ جس پر چڑھا وہ اللہ ورسول کو گالیاں دینے والا مرتد ہی نظر پڑا۔
 (۱۷) کالج ہویا مدرسہ جس کی ملازمت اعانت کفر یا ضلال یا حرام کے لئے ہو باختلاف احوال کفر یا ضلال یاحرام ہے، اور جو ملازمت اس سے پاک ہو اس میں حرج نہیں، اور اگر کوئی عالم خدا شناس خدا ترس، سنی المذہب، حامی دین، ایسی جگہ تعلیم کی ملازمت اس نیت سے کرے کہ کفریات سے طلبہ کو بچاؤں گا ان کا ر د ذہن نشین کروں گا گمراہی کی طر ف نہ جانے دوں گا، اور ایسا ہی کرے تو اس کے لئے اجر عظیم ہے۔ وہ بازار میں ذاکر کے مثل ہے کہ اموات میں زندہ ہے نہیں نہیں بلکہ جو موت کے منہ میں ہیں انھیں زندگی کی طرف لانے والا۔
 (۱۸ و ۱۹) حرم شریف سے سائلوں کی مراد مسجد الحرام شریف ہے ورنہ مکہ معظمہ ومدینہ منورہ خود حرم ہیں بلکہ ان کے گردوپیش کے جنگل بھی، مسجد الحرام شریف نہ صرف مسجد الحرام، کسی مسجد میں کسی کافر حربی کالے جانا مطلقا ناجائزہے خصوصا یہ ظلم جو اہل پارٹی نے متعدد مساجد کے ساتھ برتا کہ ان میں مشرکین کو بطور استعلاء لے گئے اورانھیں واعظ مسلمین بناکر مسلمانوں سے اونچا کھڑا کیا اور مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مسند پر جلوہ دیایہ خاص وحی شیطان ومخالف دین وایمان ہوا پھر اسکی حلت پر زور دینا اور اغوائے مسلمین کے لئے اس کے جواز میں رسائل لکھنا صریح نیابت ابلیس اور اپنے باطنی کفر کی تلبیس ہے جزیرہ عرب شریف میں کفار کو ساکن ومتوطن کرنا ناجائز ہے مگر مدتوں سے سلاطین جہاں حدود و غیرہ احکام شرعیہ بدل دیئے اس حکم پر بھی عامل نہ رہے تجارت وغیرہا کے لئے نہ آمد ورفت ممنوع نہ اس کی اجازت مدفوع۔
 (۲۰) جلسے اور ریزولیوشن اگر معاملہ مسجد کانپور میں کئے جاتے تو ضرور امید منفعت تھی جس کا بیان "ابانۃ المتواری" سے واضح ہے۔ ملک اور وہ بھی اتنا وسیع اور وہ بھی مسلمانوں کا اور وہ بھی نصارٰی سے محض چیخ وپکار کی بناء پر واپس مل جانا کسی طرح قرین قیاس نہیں، شرع مطہر مہمل بات فرض نہیں کرتی، ہندوستان یا ذرا سالکھنو ہی واپس لینے کے لئے لیڈر بننے والوں میں جن جن کے باپ دادا اہل علم تھے انھوں نے کتنے جلسے کئے کتنے ریزولیوشن پاس کئے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵: ازبھاگلپور مسئولہ عظمت حسین صاحب پیشکار سب جج،     ۷رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید ایک شخص پکا سنی ہے اور اس کےیہاں  برادری کی قید ہے اور چند لوگ اس کی برادری کے پکے وہابی ہیں، ان وہابیوں کی چند عورات زید سنی کے یہاں آیا کرتی ہیں اور زید ان کی پوری خاطر مدارات کرتاہے اور پلاؤ قورمہ پکاکر کھلاتاہے مطابق فتوٰی حسام الحرمین کے زید سنی رہا یا وہابی ہوگیا؟ آیا اسلام میں اس کے کسی قسم کا فرق آیا یانہیں؟ دائرہ اسلام کے اندر رہا یا خارج ہوگیا ؟ بیان زید یہ ہے کہ ہم اس کے عقیدہ کو برا سمجھتے ہیں مگر بخیال رشتہ کے اس کی خاطر کرتے ہیں بینوا توجروا
الجواب

اگر فی الواقع زید اس کے مذہب کو برا ا ور وہابیہ کو کافر جانتاہے تو وہ اس حرکت سے وہابی تو نہ ہوا مگر گنہ گار فاسق ضرور ہوا، اس پر توبہ لازم ہے اور آئندہ احتیاط فرض ، برادری ہی کب رہی جب دین مختلف ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے :
یایھا الذین اٰمنوا لاتتخذوا اٰباء کم واخوانکم اولیاءان استحبوا لکفر علی الایمان ومن یتولہم فاولئک ھم الظلمون ۱؎۔
اے ایمان والو! اپنے باپ بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی پکا ظالم ہوگا۔
(۱؎ القرآن الکریم      ۹ /۲۳)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتصاحب الا مؤمنا ولایاکل طعامک الاتقی، رواہ احمد وابوداؤد الترمذی۱؎ وابن حبان والحاکم باسانید صحیحۃ عن ابن سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
رفاقت نہ کر مگر مسلمان سے ، اور تیرا کھانا نہ کھائے مگر پرہیز گار یعنی سنی، (امام احمد، ابوداؤد، جامع ترمذی، ابن حبان اور امام حاکم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کیا، انھوں نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے روایت فرمائی۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الادب با ب من یؤمر ان یجالس      آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۰۸)

(جامع الترمذی     ابواب الزہد باب ماجاء فی صحبۃ المومن  امین کمپنی کراچی    ۲ /۶۲)
Flag Counter