الجواب
(۱) ترک اور تو نے کیا جانا کیا ترک۔صدہا سائل سے حامیان دین متین اور حافظان بیضہ دین خادمان حرمین محترمین اور مالأان قلب وعین ان کے اخیار نہ خلفاء کہ بیسوں خلفاء کہلانے والوں سے افضل واعلٰی خیرخواہی ونصیحت اور بقدر قدرت اعانت کی فرضیت لفظ خلافت پر موقوف جاننا جہالت اور اس کے لئے محض بلاوجہ احادیث متواترہ واجماع صحابہ واجماع تابعین واجماع ائمہ دین وعقیدہا جملہ اہلسنت وجماعت کارد کرنا اور خارجیوں معتزلیوں کا دامن پکڑنا ضلالت۔
(۲)یہ سوال اول پر متفرع تھا۔
(۳)جو جس قدر پر قادرہو شرع اسی قدر کا اسے حکم فرماتی ہے اس سے آگے بڑھانا شرع پر زیادت اور اللہ پر افترا اور
مسلمانوں کی بدخواہی ہے۔
(۴) لفظ خلیفہ سائل نے حماقۃ بڑھایا کیا سلطنت اسلام کی بدخواہی میں حرج نہیں رسیدیں دیں مدد یں دیں چندے دئے، طبی وفدکا سامان کہ جنگ بلقان میں مسلمانوں نے ترک کے لئے خریدا تھا گورنمنٹ کو دے دے جو بمقابلہ ترک استعمال میں آیا۔
(۵) مسلمان بادشاہ کی فوج میں بھی نوکر ہو کر خواہ بے نوکری مسلمانوں سے مقاتلہ کسی حال میں جائز نہیں مگر باغیوں خارجیوں وامثالہم سے تواہل خلافت کمیٹی جن کا مقولہ ہے کہ ہم ہندی قوم پرست ہیں ہمارا فرض ہے کہ ترکی بھی ہندوستان پر چڑھائی کرے توہم اس کے خلاف تلواریں اٹھائیں، خلافت کمیٹی کے طور پر بھی کافر وخارج از اسلام ہیں۔
(۶) اس کا جواب جواب سابق سے واضح ہے۔ سب جانتے ہیں کہ عمدا قتل ناحق مسلم اشد کبائر سے ہے اگر چہ لشکر مسلمین کے ساتھ ہو اس کی سزا اگر پارٹی دے سکتی ہے تو پہلے اپنے لیڈروں کو دے جن کا قول مذکور ہوا۔
(۷) شرع مطہر کا حکم عام ہے اسلامی ریاست خواہ اسلامی سلطنت کی بھی وہ ملازمت جس میں خلاف شرع حکم کرنا ہوجائز نہیں، قصدا خلاف شریعت حکم کرنا اگر براہ عنادیا استحسان یا استحلال مخالفت یا استخفاف حکم شریعت ہو کفر ہے ورنہ ظلم وفسق ، اور یہ کچھ ملازمت ہی پر موقوف نہیں، نہ مقدمات سے خاص ویسے ہی جو شخص خلاف
ماانزل اللہ حکم
کرے گا انھیں صورتوںپر کافر، ظالم، فاسق ہے جیسے یہ لوگ کہ ہندؤوں سے اتحاد منارہے ہیں، ان سے استمداد کررہے ہیں ان سے بھائی چارہ گانٹھ رہے ہیں انھیں رہنما اور آپ ان کے پس روبن رہے ہیں معاملہ دینی میں ان کی اطاعت کررہے ہیں جو وہ کہتے ہیں وہی مانتے ہیں انھیں مسجدوں میں لیجا کر مسلمانوں کا واعظ بناتے ہیں ان کی خاطر شعار اسلام بند کرتے ہیں ان کے معاہد وحلیف بنتے ہیں انھیں اپنا خیرخواہ سمجھتے ہیں وغیرہ وغیرہ کہ تمام لیڈر بننے والے ان میں مبتلا ہیں اور انھیں باتوں کا عوام کو حکم دیتے ہیں سب انھیں آیات
کفرون ، ظلمون، فٰسقون
کے تحت میں داخل ہےکہ یہ سب باتیں خلاف
ماانزل اﷲ ہیں۔
(۸)اس کا جواب جواب سابق سے واضح ۔
(۹) موالات کسی غیر مسلم بلکہ کسی غیر سنی سے جائز نہیں، مجرد دنیوی معاملات سوائے مرتد سب جائز ہے ہنود وہابیہ ودیوبندیہ سے جو موالاتیں خلافت کمیٹی والے کر رہے ہیں وہ سخت حرام وتباہی دین وموجب لعنت رب العالمین ہےکتابیوں سے بد تر مجوس ہیں، مجوس سے بدتر مشرکین ہےں، جیسے ہنود مشرکین سے بد تر مرتدین ہےں جیسے وہابیہ خصوصا دیوبندیہ سائلوں کی وہ پارٹی ہنود وہابیہ کی کیا کیا تعظیمیں کررہی ہے جو حسب روشن تصریحات فقہائے کرام کفر ہے۔ کیا پارٹی زیر حکم شریعت نہیں یا مسئلہ تعظیم کفار سے ہنوٌد وہابی، دیوبندی مستثنٰی ہیں،ہر گز نہیں، ہاں صورت ضرورت سلطنت مستثنٰی ہے
کما یفیدہ مافی المدارک والمفاتیح وغیرھما
(جیسا کہ مدارک اور تفسیرکبیر وغیرہ میں اس کا افادہ پیش فرمایا۔ ت)
خود قرآن عظیم اس استثناء پر دال۔
واﷲ یعلم المفسد من المصلح ۱؎
(اور اللہ تعالٰی فساد کرنے والے اصلاح کرنے والے کو جانتاہے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۰)
(۱۰) مذہبی منافرت بحسب مراتب کفر وضلالت ہے۔ ہنود مشرک بت پرست ہیں اور شرک بدترین اصناف کفر سے ہے۔ تو ہنود ہی سے مذہبی منافرت اشد وآکد ہے۔ اور ہنود سے بھی سخت تر منافت کے مستحق وہابیہ دیوبندیہ ہیں کہ مرتدین ہیں لیکن ہندوؤں اور دیوبندیوں سے اتحاد منایا جارہاہے، انھیں جگر کا پارا آنکھ کا تارا بنایا جارہا ہے۔ اسلام واحد قہار کے حضورتمھارا شاکی ہے۔
(۱۱) بڑے دن کاحکم پارٹی کے جگری بھائیوں کی ہولی دوالی سے خفیف تر ہے اور ماتھوں پر ہندوؤں سے قشقے لگوانا سب سے سخت تر۔ اگر ثابت ہوکہ یہ دن ولادت سیدنا عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ہے تو بے شک شرع میں ہر نبی کا روز ولادت صاحب عظمت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وجوہ فضیلت روز جمعہ سے پہلی وجہ یہی ارشداد فرمائی کہ اس میں تخلیق سیدنا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام ہوئی،
صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
خیر یوم طلعت علیہ الشمس یوم الجمعۃ فیہ خلق اٰدم ۲؎
حدیث سب سے بہتر دن کہ جس پر سورج طلوع ہوا ہو روز جمعہ ہے۔ اس میں حضرت آدم (علیہ الصلٰوۃ والسلام) پیدا کئے گئے۔ الحدیث (ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الجمعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۲)
ابن ماجہ نے ابولبابہ ابن عبدالمنذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان یوم الجمعۃ سید الایام واعظمہا عند اﷲ تعالٰی فیہ خمس خصال خلق اﷲ فیہ اٰدم ۱؎۔
یقینا روز جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ تعالٰی کے نزدیک ان سب سے عظیم تر ہے۔ اس میں پانچ خصلتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں اللہ تعالٰی نے حضرت آدم کو پیدا فرمایا۔ (ت)
(۱؎ سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ والسنۃ فیہا باب فی فضل الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۷)
اگر کوئی اس نکتے سے غافل ہو کر (جس سے آج بڑے بڑے لیڈر بننے والے اور تمام عوام غافل ہیں کہ شرع مطہر میں تاریخ قمری معتبر ہے نہ کہ شمسی، علماء نے فرمایا اپنے معاملات میں بھی مسلمانوں کو اس کے اعتبار کی اجازت نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی ان عدۃ الشہور عند اﷲ اثنا عشر شہرا فی کتاب اﷲ یوم خلق السمٰوٰت والارض منہا اربعۃ حرم ذٰلک الدین القیم ۲؎۔)
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: یقینا مہینوں کا شمار اللہ تعالٰی کے نزدیک بارہ مہینے ہیں نو شتہ الٰہی میں، جب سے اس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائے، ان میں چار عزت وحرمت رکھتے ہیں اوریہی ٹھیک دین ہے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۹ /۳۶)
اسے روز ولادت مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام جان کر بہ نیت تعظیم نبوت نہ کہ بہ نیت تشبہ نصارٰی تعظیم کرے، وہ ہر گز ہولی دوالی کی تعظیم مثل نہیں ہوسکتا کہ وہ اسی غفلت نکتہ کے باعث غلطی ہوئی، اور یہ کفر ہے ،
تنویر الابصار میں ہے:
الاعطاء باسم النیروز والمہر جان لایجوز وان قصد تعظیمہ یکفرو ۲؎۔
نیزور اور مہرجان کے نام پر کچھ دینا جائز نہیں، اگر ان کی تعظیم کا ارادہ کرے تو کافر ہوجائے گا۔ (ت)
(۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۰)
پھر ڈالی والوں کی نیت بوجہ سلطنت خوشامدہوتی ہے جس میں کسی نہ کسی وجہ پر عوام کو ابتلاء ہے اور خود لیڈر بننے والوں کو اب تک یاآج سے پہلے کل تک تھا بلکہ غناء کے سبب خوشامد مسلمان امراء کے ساتھ کب روا ہے،
من تواضع لغنی لاجل غناہ ذہب ثلث دینہ۱؎۔
جس نے کسی مالدار کی اس کے سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے عزت وتواضع کی اس کا دو حصے دین ضائع ہوگیا۔ (ت)
(۱؎ کشف الخفاء حدیث ۲۴۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۱۵)
اس سے بچتے ہیں تووہی بچتے ہیں جن کو اللہ عزوجل نے نعمت زہد وقناعت ومجانبت امراء عطا فرمائی ہے
وقلیل ماھم ۲؎
( اور وہ بچنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳۸ /۲۴)
یوں بھی تحائف ہوولی ودوالی ناجائز تر ہیں کہ بلاوجہ کفار کی طرف میل ہیں خصوصا جب اس اتحاد ملعون کے سبب ہوں جس کی آگ نے آج مشتعل ہوکر ان لوگوں کا دین یکسر پھونک دیا۔