Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
38 - 144
مسئلہ ۹۹: از امروہہ محلہ گذری مسئولہ سید خادم علی صاحب     ۱۷ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک طرف تو خلافت اسلامیہ کے دردناک مصیبت میں عالم اسلامی گھرا ہوا ہے اور مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ رہاہے اور دوسری طرف ہندوستان کے بعض مقامات پر مرزائیوں کا بعض مقامات پر شیعوں کا زور بڑھ رہا ہے وہ لوگ اہلسنت وجماعت سے مذہبی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اور عوام کا بہکاکر اور مطاعن مذہب سنا سنا کر اکثر کو مذہب میں متشکک اور بعض کو بالکل برگشتہ بنارہے ہیں اور اس مقصد کے لئے ان کے یہاں بہت سی انجمنیں قائم ہیں اور بہت سے رسائل موقت وشیوع وجاری ہیں ہزاروں روپیہ ماہوار وہ لوگ ان کاموں میں صرف کررہے ہیں آیا اس قت بحالت موجودہ اہلسنت کو وعظ کی مجالس قائم کرکے عوام کے خیالات کو صاف کرنے اور ان کو شکوک وشبہات سے بچانےکی غرض سے ان کا جواب دینا اوررد کرنا اوراگر فریق ثانی مباحثہ پر آمادہ ہو اور مطالبہ کرے تو اس کا انتظام کرنا چاہئے یا نہیں اور اگر چاہئے تو یہ کام فرض ہے یا واجب ؟ مستحب یا ناجائز؟ اور اگر زمانہ حال کا لحاظ کرکے اس طرف سے چشم پوشی کی جائے تویہ فعل جائز ہے یاناجائز، اور بعض ایسے مخصوص مقامات پر جہاں ان لوگوں کا زور ہے ان کی مدافعت کے لئے دو ایک ٹوٹی پھوٹی انجمنیں بھی قائم ہیں اور وہ کبھی کبھی ان کا رد کرتی ہیں اب ان انجمنوں کا قائم رکھنا اور مدافت کرتے رہنا چاہئے یا ان کاموں کو ترک کردینا چاہئے اور اس وقت ان امور مں روپیہ صر ف کرنا جائزہے یا نہیں ؟ بعض لیڈران قوم جن میں کچھ مولوی بھی ہیں جو آج کل مسئلہ خلافت میں بڑے بڑے کام کررہے ہیں زمانہ موجودہ میں کسی رد وجواب اور بحث مباحثہ کو اور اسی قسم کے دوسرے مذہبی کاموں میں اشتغال کو مسئلہ خلافت کے اہتمام میں مخل خیال فرماکر ناجائز فرماتے ہیں، ان کی یہ رائے صحیح اور ان کا یہ حکم قابل پابند ی ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب

جب کوئی گمراہ بددین رافضی ہو یا مرزائی، وہابی ہو یا دیوبندی وغیرہم خذلہم اﷲ تعالٰی اجمعین (اللہ تعالٰی ان کو بے یارومددگار چھوڑے ۔ ت) مسلمانوں کو بہکائے فتنہ وفساد پیدا کرے تو اس کا دفع اور قلوب مسلمین سے شہبات شیاطین کا رفع فرض اعظم ہے جو اس سے روکتا ہے
یصدون عن سبیل اﷲ ویبغونہا عوجا ۱؎
میں داخل ہے کہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم   ۷ /۴۵)
اور خلافت کمیٹی کا حیلہ اللہ کے فرض کو باطل نہیں کرتا نہ شیطان کے مکر کو دفع کرنے سے روکنا شیطان کے سوا کسی کا کام ہوسکتاہے۔ جوایسا کہتے ہیں اللہ عزوجل اور شریعت مطہرہ پر افتراء کرتے ہیں مستحق عذاب نار وغضب جبارہوتے ہیں۔ ادھر ہندو سے وداد واتحاد منایا، ادھر روافض ومرزائیہ وغیرہم ملاعنہ کا سد فتنہ ناجائز ٹھہرایا، غرض یہ ہےکہ ہر طرف سے ہر طرح سے اسلام کو بے چھری حلال کردیں اور خود مسلمان بلکہ لیڈر بنے رہیں،
واﷲ لایھدی القوم الظلمین ۲؎
(اور اللہ تعالٰی ظالم لوگوں کوراہ نہیں دکھاتا۔ ت)
 (۲؎القرآن الکریم     ۲ /۲۵۸)
مسلمانوں پر فرض ہے کہ ایسے گمراہوں، گمراہ گرو، بے دینوں کی بات پر کان نہ رکھیں، ان پر فرض ہے کہ روافض ومرزائیہ اور خود ان بے دینوں یا جس کا فتنہ اٹھتادیکھیں سدباب کریں، وعظ علماء کی ضرورت ہو وعظ کہلوائیں، اشاعت رسائل کی حاجت ہو اشاعت کرائیں، حسب استطاعت اس فرض عظیم میں روپیہ صرف کرنا مسلمانوں پر فرض ہے حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لما ظہرت الفتن اوقال البدع فلیظہر العالم علمہ ومن لم یفعل ذٰلک فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا ۱؎۔
جب ظاہر ہوں فتنے یا فساد یابدمذہبیاں اور عالم اپنا علم اس وقت ظاہر نہ کرے تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے۔ اللہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل،
(۱؎ الفردوس بماثور الخطاب     حدیث ۱۲۷۱  دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۳۲۱     وصحیح البخاری    ۲/ ۱۰۸۴)
جب بدمذہبوں کے دفع نہ کرنے والے پر لعنتیں ہیں توجو خبیث ان کے دفع کرنے سے روکے اس پر کس قدر اشد غضب ولعنت اکبر ہوگی۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۲؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ اور ظالم جلدی جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم       ۲۶ /۲۲۷)
مسئلہ ۱۰۰ تا ۱۰۲ :  از اجکوٹ کاٹھیا وار مسئولہ قاضی سید عبدالاول صاحب سنی حنفی ۱۳ جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ

(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک ہندو مشرک کا لکچر مسجد میں ہو اور سننے کو مشرک اور مسلمان مسجد میں جمع ہوں اور تالی اور جے اور اللہ اکبرکے نعرے بلند کریں، تو آیا یہ جائزہے یا ناجائز؟ زید کہتاہے کہ یہ جائز ہے اور علمائے دین نے فتوٰی دیا ہے اس بابت دہلی وغیرہ شہروں میں ایسا ہواہے۔

(۲) اور اس روز جمعہ تھا تو جائے نماز اور مصلی وغیرہ بچھے ہوئے تھے اور اس کے اوپر کھلے پیر پھرنے والے مشرک پیر دھوئے بغیر پھرتے رہے تو اب یہ جائے نماز اور مصلی دھو کر پاک کئے جائیں یانہیں؟

(۳) اور مولی شوکت علی ومحمد علی اور گاندھی وغیرہ خلافت کے نام کاجو چندہ کررہے ہیں اس چندہ میں روپیہ دیاجائے یا نہیں؟ بینوا توجرو (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ ت)

(نوٹ) : یہاں پر راجکوٹ میں ایک گاندھی کا چیلا آیا ہوا ہے اور لکچر کرکے ہنود مشرک اور مسلمان کو ایک کرنا چاہتاہے او ر مسلمان کثرت سے شامل ہورہے ہیں اورمالی امداد بھی دے رہے ہیں اور آئندہ بھی خوف ہے کہ مسجدمیں لکچر ہوں گے للہ آپ بہت جلد اس مسئلہ کا جواب مرحمت فرمائیں تاکہ اس خرافات کا بندوبست ہو۔
الجواب

(۱) یہ حرام حرام سخت حرام ہے، توہین مسجد ہے۔ تعظیم مشرک ہے۔ تذلیل اسلام ہے۔ جہاں ہوا ابلیس کے فتوے سے ہوا کسی مسلمان عالم اسلام نے اس کے جواز کا فتوٰی نہ دیا، اور جو پابندی اسلام سے آزد اور کفر ابلیس کے غلام ومنقاد ہوں نہ وہ قابل فتوٰی نہ ان کے بکنے پر التفات روا۔
والتفصیل فی المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ
 (اس کی تفصیل رسالہ المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ میں بیان کی گئی ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔ 

(۲) کتا اگر جانماز پر چلاجائے اور اس کے پاؤں اور جانماز دونوں خشک ہوں تو بالاتفاق اس کا دھونا لازم نہیں آتا تو مشرکوں کے یوں پھرنے سے مسجد کو توہین ضرور ہوئی مگر مصلٰی ناپاک نہ ہوئے، واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۳)گاندی کو امام بنانا ہندوؤں مشرکوں سے اتحاد منانا سخت سے سخت حرام کبیرہ ودشمنی اسلام ہے۔ اسلام کی بیخ کنی کے لئے چندہ دینا کسی مسلمان کا کام نہیں۔
قال اﷲ فیسنفقونہا ثم تکون علیہم حسرۃ ثم یغلبون ۱؎۔
یعنی اس وقت تو مال دے رہے ہیں پھر قیامت میں اس دینے کی حسرت اٹھائیں گے ہاتھ چاٹیں گے کہ مال بھی دیا اور خدا کا غضب بھی سر پر لیا پھر مغلوب ومقہور کرکے جنہم میں پھینک دئے جائیں گے۔
 (۱؎القرآن الکریم    ۸ /۳۶)
ترکوں کی حمایت اور اماکن مقدسہ کی حفاظت کانام دھوکے کی ٹٹی بنا رکھاہے۔ صاف چھاپ چکے ہیں کہ اگر ترکی مسئلہ حسب خواہش فیصل بھی ہوجائے جب بھی ہماری کوشش برابر جاری رہے گی جب تک گنگا جمنا کی مقدس زمینیں آباد نہ کرالیں، صاف چھاپ چکے ہیں کہ اگر ترک بھی ہندوستان پر چڑھ آئیں تو ہم ان سے بھی لڑیں گے تو اصل غرض ہندوؤں کی جے منانا اور گنگا جمنا کی زمینوں کو مقدس کرانا ہے ایسی کفری غرض کے لئے چندہ دینا اسلام کی دشمنی اور اللہ واحد قہار کی سخت ناراضی ہے۔
والعیاذ باللہ تعالٰی واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter