Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
37 - 144
مسئلہ ۹۵ تا ۹۷: از سندیلہ ضلع ہردوئی مکان چودھری نبی جان صاحب مرسلہ مولوی مقیم الدین صاحب دامانی ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وطریقت اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ رابطہ شیخ بدعت اور شرک ہے اور نماز میں کفر ہے۔ اور مکتوب ۳۰ جلد ثانی مکتوبات امام ربانی صاحب کی یہ تاویل کرتاہے کہ وہ حالت بے اختیار کی تھی اور بے اختیاری خیال نماز میں جائز ہے۔ عمرو کہتاہے کہ یہ مذہب فرقہ اسمعیلیہ کا ہے۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ قول زید کا حق ہے یا عمرو کا اگر قول عمرو کا حق ہے تو حکم کفر مطابق حدیث شریف زید پر عائد ہوگا یا نہیں؟ اور زید پر تعزیر شرعی آئے گی یانہیں؟ زید چونکہ علم سے ناواقف ہوکر فتوٰی دے بیٹھا تو مورد حدیث
فافتوا بغیر علم فضلوا واضلو ۱؎
 (پھر انھوں نے بغیر علم فتوٰی دیا تو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ ت) کا ہوگا یا نہیں؟
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب العلم باب کیف یقبض العلم     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۰)
اگر کوئی ایسا کامل ظہور ہو کہ جس کے فیض سے علاوہ فوائد دینی و دنیوی کے صدہا لوگ نمازوں میں روتے نظر آئیں اگر کوئی اس فیض کو روکنے کی کوشش کرے تو مورد
ویصدون عن سبیل اﷲ ۲؎
 ( اور وہ دوسروں کو اللہ تعالٰی کے راستہ سے روکتے ہیں۔ ت) کا ہوگا یانہیں؟
  (۲؎ القرآن الکریم   ۷ /۴۵)
دوسرا امریہ کہ علماء سابق کہ جن کا تقوٰی اور تبحر علمی شہرہ آفاق تھا انھوں نے مسائل اختلافیہ فقہیہ میں ایک جانب کو راجح سمجھ کر عوام میں رائج اور شائع کردیا اور عوام میں بلحاظ فتنہ وفساد اس اختلاف کو ظاہر نہ کیا، اب اس زمانہ میں بعض علماء نے دوسری جانب کو عوام میں شائع کرکے فتنہ اور فساد میں ڈال دیا کہ اول تو عوام کہنے لگے کہ ہم کس کس مولوی کی مانیں کہ کوئی مولوی کچھ کہتاہے کوئی کچھ کہتاہے، دوسرا علمائے سابق کہ تقوٰی اور تبحر علمی میں مشہور تھے ان پر الزام غلطی کا لگاکر ضمنا راستہ جہنم کا دکھایا۔
تیسرے پہلے تو ذبح قبور اور ذبح فو ق العقدہ اور ضاد ظا اور سنت فجر وغیرہ میں جھگڑا کرکے اپنا اعتبار جمایا پھر رفع یدین اور جہر آمین تک بھی پہنچیں گے کہ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے تو جب ان علماء سابق سے تقلید چھڑائی حالانکہ ان کے دلائل ترجیح کی کتابوں میں موجود ہیں کہ بعض رسالہ صیقل میں راقم نے ذکر کئے ایسا ہی بڑے اماموں سے بھی تقلید چھڑا کر اپنا مقلد بنا کر چھوڑیں گے تو ایسے مولویوں کاکیاحکم ہے؟

المستفتی خاکسار محمد مقیم الدین دامانی
الجواب

دربارہ رابطہ قول عمرو حق ہے اور قول زید سراسر باطل۔ را بطہ شیخ بلا شبہہ جائز ومستحسن وسنت اکابر ہے فقیر کا رسالہ
"الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ"
اسی مسئلہ کے بیان میں ہے عبارت مکتوبات کی تاویل کہ زید نے کی، تاویل نہیں، تحویل وتبدیل ہے۔ اور اسے شرک وکفر کہنا مسئلہ وہابیت ہے۔ اور وہابیہ خود مشرک وکافر ہیں، کسی شخص مسلم پر بلا وجہ شرعی حکم تکفیر بحسب ظواہر احادیث صحیحہ و نصوص صریحہ جمھورفقہاءخود قائل کے لئے مستلزم کفر ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقد باء بہ احد ھما ۱؎۔
   حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ''اوکافر '' کہے، تو وہ کفر دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹ پڑتاہے۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری     کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۹۰۱)
اور اس پر ضرور تعزیر شرعی لازم ہے کہ حاکم اسلام کی رائے پر ہے سلطان اسلام یا اس کے مقرر کردہ حکام ضرب وحبس سے قتل تک اسے تعزیر دے سکتے ہیں، تعزیر ہم لوگوں کے ہاتھ میں نہیں، ہمارے پاس اسی قدر ہے کہ اس سے میل جول سلام کلام ترک کریں۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فایاکم و ایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۲؎۔ وقال تبارک وتعالٰی
واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۳؎۔
      حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : (لوگو!) گمراہوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ تمھیں گمراہ نہ کریں اورتمھیں فتنے میں نہ ڈال دیں، اور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا :ـ اگر تمیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو (ت)
 (۲؎ صحیح مسلم     باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۰)

(۳؎ا لقرآن الکریم      ۶ /۶۸)
بے علم فتوٰی دینے والااگر چہ جاہلوں کا مقتدا ہو تو ضرور حدیث فضلوا واضلوا (وہ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ کا۔ ت) کا مصداق ہے آپ بھی گمراہ ہوا اور انھیں بھی گمراہ کرے گا کہ صدر حدیث یوں ہے :
اتخذ الناس رؤسا جہالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا ۱؎۔
لوگوں نے جاہل سرداروں کو (سربراہ) بنالیا ھر ان سے اسلامی مسائل دریافت کئے گئے تو انھوں نے بے علمی سے فتوے دئیے، خود بھی بھٹک گئے اور دوسروں کو بھی بہکا دیا۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب العلم   باب کیف یقبض العلم     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۰)
اور اگرمقتدائےدیگران  نہ ہو تو اس حدیث سے کسی حال بچ کر نہیں جا سکتا کہ  :
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۲؎۔
جو بغیر علم کے فتوٰی دے آسمان وزمین کے فرشتے اس پر لعنت کریں۔ (ت)
 (۲؎ کنزالعمال  حدیث ۲۹۰۱۸     موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۰ /۱۹۳)
والعیاذ باﷲ تعالٰی
 (اللہ تعالٰی کی پناہ۔ ت) نماز میں حضور قلب وخشوع وخضوع مغز مقصود واعز مطلوب ہے اگر واقعی کسی کامل کے فیض سے حاصل ہو جو شرائط اربعہ مشیخت کا جامع ہے تو اس سے روکنے والے بیشک
فصدواعن سبیل اﷲ ۳؎
 (پھر وہ اوروں کو اللہ تعالٰی کی راہ سے روکتے ہیں۔ ت) کے مصداق ہیں باطل یا ضعیف یا مشکوک مسائل پھیلا کر مسلمانوں میں اختلاف وفتنہ وفساد ڈالنا حرام ہے۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۵۸ /۱۶)
قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بشروا ولاتنفروا ۴؎۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : بشارت دیا کرو ، نفرت نہ دلایاکرو۔ (ت)
(۴؎ صحیح البخاری   کتاب العلم ماکان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ الخ   قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶)
جو بنا علم کسب شہرت کے لئے ایسا کرے عالم نہیں، عالم دین نائب رسول ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور مسلمانوں میں بلاوجہ شرعی اختلاف وفتنہ پیدا کرنا نیابت شیطان،
حدیث میں ہے :
  الفتنۃ نائمۃ لعن اﷲ من ایقظہا ۵؎۔
فتنہ سو رہاہے اس کے جگانے والے پر اللہ کی لعنت۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی (اور اللہ تعالٰی کی پناہ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۵؎ کشف الخفاء  حرف الفاء   حدیث ۱۸۱۵  دارالکتب العلمیہ بیروت  ۲ /۷۷)
مسئلہ ۹۸: از قصبہ مالیگاؤں ضلع ناسک احاطہ بمبئی مسئولہ سیکریٹری انجمن ہدایت اسلام  ۲۵ جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ

بحضور ہادی متین مدظلہ العالی پس از سلام سنت والاسلام ہم چند درد مند مسلمانان قصبہ مالیگاؤں خدمت اقدس میں عرض پرداز ہیں کہ آیا گاندھی کو مہاتما کہناجائز ہے؟ نا ن کوآپریشن میں ہم شریک ہوں یانہیں؟ اور ہمارے مدرسہ میں گورنمنٹ سے گرانٹ ملتی ہے آیا ہمارے لئے اس کا لینا شرعا جائزہے یانہیں؟ یہ بات واضح رائے عالی ہےکہ گورنمنٹ مالگزاری کے ساتھ بطریق ابواب ہم لوگوں سے بنام نہاد تعلیم، ڈاکخانہ، سڑک، شفاخانہ وغیرہ وغیرہ روپیہ وصول کرلیتی ہے تویہ روپیہ ہمار اہی ہے جو ہم کو ملتاہے۔ زیادہ ادب!
الجواب

گاندھی خواہ کسی مشرک یاکافر بدمذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے۔ ''مہاتما'' کے معنی ہے روح اعظم۔ یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ہے۔ مخالفان دین کی ایسی تعریف اللہ عزوجل ورسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایذا دینا ہے۔
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزلذلک العرش ۱؎۔ رواہ ابویعلی فی مسندہ والبیہقی فی شعب الایمان عن انس وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہا۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتاہے اور عرش الٰہی ہل جاتاہے۔ (ابویعلی نے اپنی مسند میں اور بہیقی نے شعب الایمان میں حضرت انس سے اس کو روایت کیا اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ الکامل فی ضعفاء الرجال     ترجمہ سابق بن عبداللہ الرقی         دارالفکربیروت    ۳ /۱۳۰۷)

(شعب الایمان     حدیث ۴۸۸۶    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴ /۲۳۰)
جب فاسق کی مدح پر یہ حکم اس مشر ک کی مدح پر اور ایسی عظیم مدح پر کیا حال ہوگا، نان کوآپریشن کہ آج کل کے لیڈر بننے والوں نے نکالا محض بے بنیاد ہے شرع مطہرمیں اس کی کچھ اصل نہیں، شرع شریف میں ہر کافر سے مطلقا ترک موالات کاحکم ہے۔ مجوس ہوں یا ہنود، نصارٰی یا یہود، خصوصا وہابیہ وغیرہم مرتدین عنود، 

اور عام طور پر صاف ارشاد ہوا:
لایتخذوا المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذٰلک فلیس من اﷲ فی شیئ ۱؎۔
مسلمان مسلمانوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہیں ۔
 (۱؎القرآن الکریم  ۳ /۲۸)
اور صاف تر فرمادیا :
ومن یتولہم منکم فانہ منہم ۲؎۔
جو تم میں ان سے دوستی کرے وہ انھیں میں سے ہے۔
 (۲؎ القرآن الکریم  ۵/ ۵۱)
ان ساختہ لیڈروں نے معاملت کانام موالات رکھ کر اسے تو مطلقا حرام بلکہ کفر ٹھہرایا، اور مشرکوں سے موالات بلکہ اتحاد بالکہ ان کی غلامی وانقیاد کو حلال بلکہ موجب رضائے الٰہی بنالیا ہر طرح اللہ ورسول و شریعت پر سخت افتراء کیا، جس مدرسہ میں تعلیم خلاف شرع ہوتی ہو اور کسی طرح مخالفت شرع ہو وہ خود ہی ناجائز ہے اورناجائز پر امداد لینی بھی ناجائز، ورنہ جو امداد نہ کسی امر خلاف شرع سے مشروط نہ اس کی طرف منجر ہو اس میں حرج نہیں خصوصا جبکہ ہمارا ہی روپیہ ہم کو دیا جاتاہے اسے حرام کہنا شریعت پر افتراء ہے۔
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون ۳؎۔
جو لوگ اللہ تعالٰی کے ذمہ جھوٹ لگاتے ہیں وہ کبھی بامراد نہیں ہوسکتے۔ (ت)
(۳؎القرآن الکریم     ۱۰ /۶۹)
مسائل موالات وامداد کے روشن بیان میں ہماری کتاب
"المحجۃ المؤتمنہ فی اٰیۃ الممتحنۃ"
زیر طبع (عہ)ہے اس سے تفصیل معلوم ہوسکتی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ:  فتاوٰی رضویہ کی جلد ۱۴ میں شامل اشاعت کردی گئی ہے۔
Flag Counter