مسئلہ ۸۷: از وزیر احمد مدرس مہارانا ہائی اسکول اودے پور میواڑ ۱۲/ محرم ۱۳۳۹ھ
بُت یا تعزیہ کا چڑھاوا مسلمان کو کھاناجائز ہے یانہیں؟
الجواب
مسلمان کے نزدیک بت اور تعزیہ برابر نہیں ہوسکتے اگرچہ تعزیہ بھی جائز نہیں، بت کا چڑھاوا غیر خدا کی عبادت ہے اور تعزیہ پر جوہوتاہے وہ حضرات شہدائے کرام کی نیاز ہے، اگر چہ تعزیہ پر رکھنا لغوہے۔ بت کی پوجا اور محبوبان خدا کی نیاز کیونکر برابر ہوسکتی ہے اس کا کھانا مسلمانوں کو حرام ہے، اور اس کا کھانا بھی نہ چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۸: از شہر کنہ مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۸ محرم الحرام کو روافض جریدہ اٹھاتے ہیں گشت کے وقت ان کو اگر کوئی اہل سنت وجماعت شربت کی سبیل لگا کر شربت پلائے یا ان کو چائے بسکٹ یا کھانا کھلائے اور ان کی شمول میں کچھ اہلسنت وجماعت بھی ہوں اور کھائیں پئیں، تو یہ فعل کیساہے اور اس سبیل وغیرہ میں چندہ دینا کیساہے؟
الجواب
یہ سبیل اور کھانا چائے بسکٹ کہ رافضیوں کے مجمع کے لئے کئے جائیں جو تبرا ولعنت کا مجمع ہے ناجائز وگناہ ہیں ا ور ان میں چندہ دینا گناہ ہے۔ اور ان میں شامل ہونے والوں کا حشر بھی انھیں کے ساتھ ہوگا۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من کثر سواد قوم فہو منہم ۱؎.
وقال اﷲ تعالٰی ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۲؎ وقال تعالٰی ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی جماعت کو بڑھائے (اور اس میں اضافہ کرے) تو وہ انہی میں سے شمار ہوگااور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) ظالموں کی طرف مائل نہ ہو ورنہ تمھیں آگ چھوئے گی، اور اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور گناہ اورزیادتی کے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔(ت)
(۱؎ کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن ابن مسعود حدیث ۲۴۷۳۵ مؤسسۃالرسالہ بیروت ۹ /۲۲)
(۲؎ القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳) (۳؎ القرآن الکریم ۵ /۲)
مسئلہ ۷۹: از موضع لاہور بڑا بازار مسئولہ اللہ دتہ زرگر ۱۶ / محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موضع مزنگ لاہور میں فرقہ وہابیہ ودیوبندیہ نے اس بات پر بہت زور دے رکھا ہے بلکہ جابجا اشتہار جاری کئے ہیں کہ محرم شریف کے دنوں میں تعزیہ نکالنا اور سبیل لگانا اور گھوڑا نکالنا سخت گناہ ہے برائے مہربانی ان کی تردید فرمائیں، بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب
سبیل لگانا ضرور جائز ہے۔ دیوبندی ضرور گمراہ ہیں بے دین ہیں، البتہ تعزیہ ناجائز ہے۔ اور گھوڑا نکالنا نقل بنانا ہے اور اکابر کی نقل بنانی بے ادبی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۰: خلیل الرحمن خاں صاحب رکن انجمن خادم الساجدین قاضی ٹولہ ۳/ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گاندھی کا جلوس جو آنے والا ہے اس کو لیڈر یعنی ہادی اور رہبر سمجھ کر اور یہ جان کر کہ اس کا بڑا رتبہ بڑی عزت ہے اور اس کے آنے سے شہر کی خاک پاک ہوجائے گی اس کا استقبال شاندار بنانےکےلئے جانا کیساہے۔ اور یہ جو بعض جاہلوں نے مشہور کیا ہے کہ کوئی کسی نیت سے جائے مطلقا کافر ہوجائے گا، یہ سچ ہے یا افتراء ؟ بینوا توجروا (بیان کرو تاکہ اجروثواب پاؤ۔ ت)
الجواب
اس جلوس میں شرکت حرام ہے اور اسے شاندار بنانے کی نیت بدخواہی اسلام ہے اور اس کی آمد سے شہر کی خاک پاک ہونے کا خیال تکذیب کلام ذی الجلال والاکرام ہے۔ اور صرف تماشا دیکھنے کی نیت سے جانا ہر گز کفر نہیں البتہ یہ بھی حرام ہے۔ طحطاوی علی الدرالمختارمیں ہے :
التفرج علی المحرم حرام ۱؎۔
حرام کام پر خوش ہونا حرام ہے۔ (ت)
(۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۳۱)
یہ جس نے کہا کہ مطلقا جانے پر حکم کفر ہے محض افتراء کیا، البتہ ایسی تعظیم کو ائمہ نے کفر لکھا ہے جبکہ بلااکراہ ہو،
اشباہ والنظائر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہ میں ہے :
لو سلم علی الذمی تبجیلا کفر ۲؎۔
اگر کسی نے ذمی کافر کی تعظیم کرتے ہوئے سلام دیا تو کافر ہوگیا۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الکراھیۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱)
انھیں میں ہے :
لوقال لمجوسی یا استاد تبجیلا یکفر ۱؎۔
اگر آتش پرست کو عزت افزائی سے ''اے استاد'' کہا تو کافر ہوجائے گا، (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الکراھیۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱)
جو صرف تماشا دیکھنے کو جائے اور شریک تعظیم نہ ہو اسے کافر کہنا وہابیوں کا شیوہ ہے ان کے یہاں یہ مسئلہ ہے کہ ہنود کے میلوں میں جانے سے مطلقا کافر ہوجاتاہے اور بی بی نکاح سے نکل جاتی ہے حالانکہ وہابیہ خود کافر ہیں، تماشا کافر نہیں ہوسکتا البتہ کوگنہگار ضرور ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۱: از شہر محلہ قانون گویاں مسئولہ دردی بیگ ۳/ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولوی شوکت علی اور مولوی محمد علی اور مسٹر گاندھی ان کے جلسہ میں جانا چاہئے یاکہ نہیں؟ اور جیسا حکم حضور دیں۔
الجواب : اس جلسہ میں جانا حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۲ تا ۹۴: از کراچی کمپ (سندھ) صدربازار مسئولہ سیٹھ حاجی ابوبکر وحاجی ایوب عفاللہ عنہ رکن اعلی مجلس منتظمہ مدرسہ اسلامیہ جماعت میمنان ۲۲ صفر ۱۳۳۹ھ
الحمداﷲ رب العٰلمین والصلٰوۃ والسلام علی رسولہ وحبیبہ سیدنا وسید المرسلین محمد واٰلہ الطیبین الطاہرین وصحبہ اجمعین۔
سب تعریف اللہ تعالٰی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور درود وسلام اس کے رسول اور اس کے حبیب پر ہو جو ہمارے آقا اور رسول کے سردارہیں جو کہ محمد کریم ہیں اور ان کی پاک صاف اولاد پر اور ان کے تمام ساتھیوں پر۔ (ت)
فامابعدکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان ومسند آرایان شرع متین حضرت سیدنا وسید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس باب میں کہ :
(۱) آج کل کی شور شہائے سیاسی میں ہندوستان کے اہل اسلام کو ارباب حکومت ہند سے شرعا قطع علائق ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کس حد تک؟
(۲) نیز ایک ایسے صوبہ میں جس کی قریبا پچاسی فیصد آبادی اسلامی فلاحین اور کاشتکاروں پر مشتمل ہے جن کے سالانا محاصل اراضی کا ایک حصہ تعلیمی امدا د کے ذیل وصولی کرکے پھر سے حصہ رسدی اور بلا تفریق مذہب وملت ومدارس مروجہ امدادیہ کو تقسیم کیاجاتاہے۔ آیا اس حصہ رسدی امداد سے جو ایک طرح سے اپنی ہی رقم ادا کردہ کاحصہ واپس کردہ ہے استفادہ کرنا شرعا جائز ہے یاناجائز، خصوصا ایسے مدارس ومکاتب کے لئے جو کامل اسلامی اہتمام کے ماتحت جاری ہیں اور جن کے دینی ومذہبی شعبہ تعلیم پر ارباب حکومت ہر گز کسی نہج معترض نہیں ہوتے اور جن کے نصاب تعلیم کا سرکاری حصہ مروجہ تعلیم بھی کسی خفیف سے خفیف شائبہ موانع شرعیہ سے جزءً ا وکلا پاک ہے مثلا کلام مجید، حدیث شریف، فقہ حنفیہ وغیرہ کی تعلیم وتدریس کی پوری پوری آزادی کے پہلو بہ پہلو صرف علوم مروجہ مثل ریاضیات ، تاریخ ، جغرافیہ اور کتب اردو بھی ا س اہتمام خاص کے ساتھ پڑھانے کی اجازت ہے کہ بجائے مقررہ مدارس گورنمنٹی کے کتب السلام پڑھائی جائیں جن کا بیشتر حصہ ارکان خمسہ اسلامی تشریح وتوضیح سے مملواور خالص ومستند اسلامی تاریخ مثل سریات وغزوات نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے معمو رہے اس امداد سے متمتع ہونا شرعا جائز ہے یا ناجائز؟
(۳) نیز بصورت جوازجوشخص (مسلمان) محض مشرکین ہنود سے خراج تحسین وآفرین حاصل کرنے کے لئے ایسے اسلامی مدارس کے لئے جن میں غریب ومفلس وکم استطاعت طلباء اور مساکین ویتامٰی کی تعلیم وتدریس دینی ودنیوی کا اہتمام مفت ہوتا ہو اور انھیں سال بھر میں دوبار سرد وگرم پوشاکیں بمناسبت موسم مفت بہبہ پہنچائی جاتی ہیں اور محض اللہ پاک کے بھروسہ پر اور کافی امدادی فنڈ کے بل بوتے پر ہی ان کی رہائش وخورش کااتنظام مناسب بھی زیر غور ہے نیز ان بیکس طلباء کو آئندہ اپنی تعلیمات دینی ودنیوی کے اس اہتمام کے یعنی اہتمام پابندی جملہ اشعار اسلام کے ساتھ جاری رکھتے ہیں للہ اور محض حبۃ لوجہ اللہ ہر طرح کی ممکن امداد دی جاتی ہے اسی امدادی سرکاری سے دست کشی پرمجبور کرکے اسے نقصان صریح پہنچانا چاہتاہو محض بایں خیال کہ چونکہ بعض مشرکین ہنود اسے ناجائز قرار دیتے ہیں لہذا یہ شرعا بھی ناجائز ہے ۔ اس کے باب میں شرعا کیا رائے ان کی درست ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
(۱)حکومت ہویا رعیت ہند کی ہو یا کہیں کی، ہر شخص سے جتنا تعلق حدود شرعی سے باہر نہیں، اپنے تنوع احوال پر جائز یا مستحسن یا فرض ہے اور جو کچھ حد سے باہر ہو باختلاف احوال مکروہ یا ممنوع یا حرام ہے یہ حکم جیسا پہلے تھا اب بھی ہے جدید شورشوں نے جو نئے احکام جاری کئے بے اصل ہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) جو مدارس ہر طرح خالص اسلامی ہوں اور ان میں وہابیت نیچریت وغیرہما کا دخل نہ ہو ان کا جاری رکھنا موجب اجر عظیم ہے احادیث کثیرہ ان کے فضائل سے مملوہیں، ایسے مدارس کے لئے گورنمنٹ اگر اپنے پاس سے امداد کرتی ہے بلا شبہ اس کا لینا جائز تھا اور اس کا قطع کرنا حماقت خصوصا جبکہ اس کے قطع سے مدرسہ نہ چلے کہ اب یہ سدباب خیر تھا اور مناع للخیر پر وعید شدید وارد ہے، نہ کہ جب وہ امداد بھی رعایا ہی کے مال سے ہو، اب دوہری حماقت بلکہ دوناظلم ہے کہ اپنے مال سے اپنے دین کو نفع پہنچانا بند کیا اور جب وہ مدارس اسلامیہ میں نہ لیا گیا گورنمنٹ اپنے قانون کے مطابق اسے دوسرے مدارس غیر اسلامیہ میں دے گی تو حاصل یہ ہوا کہ ہمارا مال ہمارے دین کی اشاعت میں صرف نہ ہوبلکہ اور کسی دین باطل کی تائید میں خرچ ہو کیا کوئی مسلم عاقل اسے گوارا کرسکتاہے،
ردالمحتار میں قبیل باب المرتد ہے :
وفی اواخر الفن الثالث من الاشباہ اذا ولی السلطان مدرسا لیس باہل لم تصح تولیتہ وفی البزازیۃ السلطان اذا اعطی غیر المستحق فقد ظلم مرتین بمنع المستحق واعطاء غیرہ اھ ففی توجیہ ھذہ الوضائف لابناء ہٰؤلاء الجھلۃ ضیاع العلم والدین واعانتہم علی اضرار المسلمین ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
الاشباہ والنظائر کے تیسرے فن کے آخر میں ہے کہ اگر بادشاہ کوئی ایسا پڑھانے والا استاد مقرر کرے کہ جو قابل نہ ہو تو اس کا تقرر کرنا صحیح نہیں، اور فتاوٰی بزازیہ میں ہے کہ جب بادشاہ کسی غیر مستحق کو کچھ دے تو اس نے دگنا ظلم کیا، ایک یہ کہ مستحق کو نہ دیا، دوسرایہ کہ غیر مستحق کو دے دیا (اھ) پس یہ وظائف اس قسم کے جاہلوں کودینا علم اور دین کو ضائع کرنا ہے۔ اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانے پر ان کی مدد کرنا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۸۱)
(۳) ظاہر ہے کہ اس کی یہ رائے باطل ومضر ہے اور مشرک کے کہنے کو شرع کاحکم ماننا سراسر خلاف اسلام ہے احمق جاہلوں نے آج کل مشرکین کو اپنا خیرخواہ سمجھ رکھاہے۔ اور یہ صراحۃ قرآن عظیم کی تکذیب ہے اللہ تعالٰی عزوجل فرماتاہے :
لایالونکم خبالا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افواھہم وماتخفی صدور ھم اکبر قد بینا لکم الاٰیت ان کنتم تعقلون ۲؎۔
وہ تمھاری نقصان رسانی میں گئی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے کہ تم مشقت میں پڑو بے شک عداوت ان کے منہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور وہ جو ان کے دلوں میں دبی ہے اور بڑی ہے بے شک ہم نے نشانیاں صاف بیان فرمادیں اگر تمھیں سمجھ ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔