Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
35 - 144
پھر فرمایا :
لہم لا یعطون لاحد من المسلمین شیئا من الادویۃ التی تضرھا ظاھرا لانہم لو فعلوا ذلک لظہر غشہم وانقطعت مادۃ معاشہم لکنہم یضیفون لہ من الادویۃ مایلیق بذلک المرض ویظہرون الصنعۃ فیہ و النصح وقد یتعا فی المریض فینسب ذٰلک الی حذق الطبیب ومعرفتہ لیقع علیہ المعاش کثیرا بسبب ماوقع لہ من الثناء علی نصحہ فی صنعۃ لکنہ یدس فی اثناء وصفہ حاجۃ لایفطن لما فیہا من الضرر غالبا وتکون تلک الحاجۃ مما تنفع ذٰلک المریض وینتعش منہ فی الحال، لکنہ یبقی المریض بعدھا مدۃ فی صحۃ وعافیۃ ثم یعود علیہ بالضرر فی اٰخر الحال وقد یدس حاجۃ اخری کما تقدم لکنہ ان جامع انتکس ومات وکذالک یفعل فی حاجۃ اٰخری یصح المریض بعد استعمالہا لکنہ اذا دخل الحمام انتکس ومات وقد یدس حاجۃ اخری فاذا استعملہا المریض صح واقام من مرضہ لکن لہا مدۃ فاذا انقضت تلک المدۃ عادت بالضرر علیہ، وتختلف المدۃ فی ذٰلک، فمنہا مایکون مدتہا سنۃ اواقل اواکثر الی غیر ذٰلک من غشہم وھو کثیر ثم یتعلل عدواﷲ بان ھذا مرض اٰخر دخل علیہ فلیس لہ فیہ حیلۃ فلوسلم منہ لعاش وصح ویظھر التأسف والحزن علی ما اصاب المریض ثم یصف بعد ذٰلک اشیاء تنفع لمرضہ لکنہا لاتفید بعد ان فات الامر فیہ فینصح حیث لاینفع نصحہ فمن یری ذٰلک منہ یعتقد انہ  من الناصحین وھو من اکبر الغاشین وقد قیل: ؎

کل العداوۃ قد ترجی ازالتہا

الاعداوۃ من عاداک فی الدین ۱؎
یعنی وہ مسلمان کو کھلے ضرر کی دوانہیں دیتے کہ یوں تو ان کی بدخواہی ظاہر ہوجائے اور ان کی روزی میں خلل آئے بلکہ مناسب دوا دیتے اور اس میں اپنی خیر خواہی وفن دافی ظاہر کرتے ہیں اور کبھی مریض اچھا ہوجاتاہے جس میں ان کا نام ہو اور معاش خوب چلے اور اسی کے ضمن میں ایسی دوا دیتے ہیں کہ فی الحال مریض کو نفع دے اور آئندہ ضرر لائے یا ایسی دوا کہ اس وقت مرض کھودے مگر جب مریض جماع کرے مرض لوٹ آئے اور مرجائے یا ایسی کہ سردست تندرست کردےمگر جب حمام کرے مرض پلٹے اور موت ہو یا ایسی کہ اسی وقت مریض کھڑا ہوجائے اور ایک مدت سال بھر یا کم وبیشک کے بعد وہ اپنا رنگ لائے اور ان کے سوا ان کے فریبوں کے اور بہت طریقے ہیں، پھر جب مرض پلٹا تو اللہ کا دشمن یوں بہانے بناتاہے کہ یہ جدید مرض ہے اس میں میرا کیا اختیار ہے اور مریض کی حالت پر افسوس کرتاہے پھر صحیح نافع نسخے بتاتا ہے مگر جب بات ہاتھ سے نکل گئی کیا فائدہ، تو اس وقت خیر خواہی دکھاتاہے جب اس سے نفع نہیں، دیکھنے والے اسے خیرخواہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت تربد خواہ ہے ؎ ہرعداوت کے ازالہ کے لئے امید کی جاسکتی ہے سوائے اس شخص کے جو تیرے ساتھ دین میں عداوت رکھے۔
 (۱؎المدخل لابن الحاج   فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر  دارالکتاب العربی بیروت    ۴ /۱۶۔ ۱۱۵)
پھر فرمایا :
وقد یستعملون النصح فی بعض الناس ممن لاخطر لہم فی الدین ولا علم وذٰلک ایضا من الغش لانہم لولم ینصحوا لما حصلت لہم الشہرۃ بالمعرفۃ بالطب ولتعطل علیہم معاشہم وقد ینفطن لغشہم ومن غشہم نصحہم لبعض انباء الدنیا لیشتھروا بذٰلک وتحصل لہم الحظوۃ عندہھ وعند کثیر ممن شابہہم ویتسلطون بسبب ذٰلک علی قتل العلماء والصالحین وھذا النوع موجود ظاہر ،وقد ینصحون العلماء والصالحین وذٰلک منہم غش ایضا لانہم یفعلون ذلک لکی تحصل لھم الشھرۃ وتظھر ضعتہم فیکون سببا الی اتلاف من یریدون اتلافہ منہم وھذا منہم مکر عظیم ۲؎۔
یعنی وہ کبھی عوام کے علاج میں خیرخواہی کرتے ہیں اوریہ بھی ان کا مکر ہے کہ ایسا نہ کریں تو شہرت کیسے ہو روٹیوں میں فرق آئے اور کبھی ان کے فریب پر لوگ چرچ جائیں، یوہیں یہ فریب ہےکہ بعض رئیسوں کا علاج اچھا کرتے ہیں کہ شہرت اور اس کے نزدیک اور اس جیسوں کی نگاہ میں وقعت ہو پھر علماء وصلحا کے قتل کا موقع ملے اور ایسے اب موجودو ظاہر ہیں اور کھبی علماء وصلحا کے علاج میں بھی خیرخواہی کرتے ہیں اور یہ بھی فریب ہےکہ مقصود ساکھ بندھن ہے پھر جس عالم یا دیندار کا قتل مقصود ہے اس کی راہ ملنا اور یہ ان کا بڑا مکر ہے پھر اپنے زمانے کا ایک واقعہ ثقہ معتمد کی زبانی بیان فرمایا کہ مصر میں ایک رئیس کے یہاں ایک یہودی طبیب تھا رئیس نے کسی بات پر ناراض ہوکر اسے نکال دیا وہ خوشامدیں کرتا رہا یہاں تک کہ رئیس راضی ہوگیا کافر وقت کا منتظر رہا پھر رئیس کو کوئی سخت مرض ہوا، میں طبیب مغربی سے طب پڑھ رہا تھا لوگ انھیں بلانے آئے انھوں نے عذر کیا لوگوں نے اصرار کیا، گئے، اور مجھے فرماگئے میرے آنے تک بیٹھے رہنا، تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ کانپتے تھر تھراتے واپس آئے، میں نے کہا خیر ہے۔ فرمایا میں نے پوچھا کہ یہودی نےکیا نسخہ دیا، معلوم ہوا کہ وہ رئیس کا کام تمام کرچکا، میں اندر نہ گیا کہ ایک تو اس کے بچنے کی امید نہیں پھر یہ اندیشہ کہ کہیں یہودی میرے ذمے نہ رکھ دے رئیس کل تک نہ بچے گا، وہی ہوا کہ صبح تک اس کا انتقال ہوگیا، پھر فرمایا کہ بعض لوگ کافر طبیب کے ساتھ مسلمان طبیب کو بھی شریک کرتے ہیں کہ جو نسخہ وہ بتائے مسلمان کو دکھالیں، یوں اس کے مکر سے امن سمجھتے ہیں اور اس میں کچھ حرج نہیں جانتے۔
 (۲؎المدخل لابن الحاج     فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر     دارالکتاب العربی بیروت   ۴ /۱۷ ۔۱۱۶)
فرمایا:
وھذا لیس بشیئ ایضا من وجوہ الاول ان المسلم قد یفعل عن بعض ماوصفہ الثانی مافیہ اقتداء الغیر بہ الثالث مافیہ الاعانۃ لہم علی کفرھم بما یعطیہ لہم، الرابع ما فیہ ذلۃ المسلم لہم الخامس مافیہ تعظیم شانہم سیما ان کان المریض رئیسا وقد امر الشارع علیہ الصلٰوۃ والسلام بتصغیر شانہم وھذا عکسہ ۱؎۔
یہ بوجوہ کچھ نہیں، ایک تو ممکن کہ جودوا کافر نے بتائی اس وقت مسلمان طبیب کے خیال میں اس کا ضرر نہ آئے پھر اس کو دیکھا دیکھی اور مسلمان بھی کافر سے علاج کرائیں گے۔ فیس وغیرہ جو اسے دی جائے وہ اس کے کفر پر مدد ہوگی، مسلمان کو اس کے لئے تواضع کرنی پڑے گی، علاج کی ناموری سے کافر کی شان بڑھے گی خصوصا اگر مریض رئیس تھا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی تحقیر کا حکم دیا اور یہ اس کا عکس ہے
 (۱؎ المدخل لابن الحاج     فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر     دارالکتب العربی بیروت    ۴ /۱۸۔۱۱۷)
پھر فرمایا :
ثم مع ذٰلک مایحصل من الانس والودلہم وان قل الامن عصم اﷲ وقلیل ماھم ولیس ذٰلک من اخلاق اھل الدین ۲؎۔
پھر ان سب وجو ہ کے ساتھ یہ ہے کہ اس سے ان کے ساتھ انس اور کچھ محبت پیدا ہوجاتی ہے اگر چہ تھوڑی ہی سہی سوا اس کے جسے اللہ محفوظ رکھے اور وہ بہت کم ہیں اور کافر سے انس اہل دین کی شان نہیں
 (۲؎المدخل لابن الحاج     فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر     دارالکتب العربی بیروت    ۴ /۱۲۰)
پھر فرمایا:
ومع ذلک یخشی علی دین بعض من یستطبہم من المسلمین ۳؎۔
ان سب قباحتوں کے ساتھ سخت آفت یہ ہے کہ کبھی ان سے علاج کروانے والے کے ایمان پر اندیشہ ہوتاہے۔
 ( ۳؎ المدخل لابن الحاج     فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر     دارالکتب العربی بیروت    ۴ /۱۲۰)
پھر اپنے بعض ثقہ معتمد برادران دینی کا واقعہ بیان فرمایا کہ ان کے یہاں بیماری ہوئی مریض نے ایک یہودی طبیب کی طرف رجوع پر اصرار کیا، انھوں نے اسے بلایا، وہ علاج کرتارہا ایک دن اسے خواب میں دیکھا کہ ان سے کہتاہے کہ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کادین قدیم ہے اسی کو اختیار کرنا چاہئے، اور یوہیں میں کیا کیا بکتا رہا، یہ ترساں ولرزاں جاگے اور عہد کرلیا کہ اب وہ میرے گھر نہ آنے پائے راستے میں بھی وہ جہاں ملتا یہ اور راہ ہوجاتے کہ مبادا اس کا وبال انھیں پہنچے،
امام فرماتے ہیں :
فہذاقد رحم بسبب انہ کان معتنی بہ فیخاف من استطبہم ولم یکن معتنی بہ ان یہلک معہم ولو لم یکن فیہ الا الخوف من ھذا الامر الخطر لکان متعینا ترکہ فکیف مع وجود ماتقدم ۱؎۔
ان صاحب پر تو یوں رحمت ہوئی کہ زیر عنایت تھے جو ایسا نہ ہو اور ان سے علاج کرائے اس پر خوف ہے کہ ان کے ساتھ ہلاک ہوجائے ان کے علاج میں اس شدید خطرناک خوف کے سوا اور کچھ نہ ہوتا تو اس قدر سے اس کا ترک لازم ہوتا نہ کہ اور شناعتوں کے ساتھ جن کا ذکر گزرا۔
 (۱؎ المدخل لابن الحاج     فی فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر     دارالکتب العربی بیروت    ۴ /۱۲۰)
ان امام ناصح رحمہ اللہ تعالٰی کے ان نفیس بیانوں کے بعد زیادت کی حاجت نہیں اور بالخصوص علمائے وعظمائے دین کے لئے زیادہ خطر کا مؤید امام مارزی رحمہ اللہ تعالٰی کا واقعہ ہے علیل ہوئے ایک یہودی معالج تھا اچھے ہوجاتے پھر مرض عود کرتا کئی بار یوہیں ہوا، آخر اسے تنہائی میں بلاکر دریافت فرمایا اس نے کہا اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ہمارے نزدیک اس سے زیادہ کوئی کار ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کھودوں، امام نے اسے دفع فرمایا، مولی تعالٰی نے شفا بخشی، پھر امام نے طب کی طرف متوجہ فرمائی اور اس میں تصانیف کیں اور طلبہ کو حاذق اطباء کردیا اور مسلمانوں کو ممانعت فرمادی کہ کافر طبیب سے کبھی علاج نہ کرائیں، یہود کے مثل مشرکین ہیں کہ قرآن عظیم نے دونوں کو ایک ساتھ مسلمانوں کا سب سے سخت تر دشمن بتایا اور
لایألونکم خبالا
تو عام کفار کے لئے فرمایا۔
عورت کا مرتد ہوکر نکاح سے نہ نکلنا تمام کتب ظاہر الروایۃ وجملہ متون وعام شروح وفتاوٰی قدیمہ سب کے خلا ف ہے اور سب کے موافق، خلاف ہے قول صوری کے اور موافق ہے قول ضروری کے، قول ضروری اور صوری کا فرق میرے رسالہ
اجل الاعلام بان الفتوٰی مطلقا علی قول الامام
(بالکل ظاہر اور واضح اعلان ہےکہ فتوٰی دینا علی الاطلاق امام کے قول پر ہے۔ ت) میں ملے گا کہ میرے فتاوی جلد اول (ف) میں طبع ہوا اور اس کا قول ضروری کے موافق ہونا میرے فتوئے سے کہ بجواب سول علی گڑھ لکھا ظاہر اس کی نقل حاضر ہوگی اوریہ حکم صرف نکاح میں ہے باقی تمام احکام ارتداد جاری ہوں گے، نہ وہ شوہر کا ترکہ پائے گی نہ شوہر اس کا اگر اپنے مرض الموت میں مرتدہ نہ ہوئی ہو، نیز جب تک وہ اسلام لائے شوہر کواسے ہاتھ لگانا حرام ہوگا،
ف: رسالہ اجل الاعلام فتاوٰی رضویہ، رضا فاؤنڈیشن لاہور     جلد اول کے صفحہ ۹۵ پر موجود ہے۔
عالمگیری منشاء مسئلہ مذکورہ سے خالی نہیں باب نکاح الکفار میں دیکھئے :
لواجرت کلمۃ الکفر علی لسانہا مغایظۃ لزوجہا او اخراجا لنفسہا عن حبالتہ او لاستیجاب المہر علیہ بنکاح مستانف تحرم علی زوجھا فتجبر علی الاسلام ولکل قاض ان یجدد النکاح بادنی شیئ ولو بدینار سخطت او رضیت ولیس لہا ان تتزوج الابزوجہا قال الہند وانی اخذ بہذا قال ابواللیث وبہ ناخذ کذا فی التمرتاشی ۱؎۔
اگر کسی منکوحہ عورت نے اپنی زبان پر کلمہ کفر جاری کیا اپنے شوہر کو طیش دلاتے ہوئے یا اپنی ذات کو اس سے باہر کرنے کے لئے یا اس لئے کہ اس پر جدید نکاح سے مہر واجب ہو تو وہ اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی پھر اسے اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، اور ہر قاضی کے جائز ہے کہ وہ بالکل کسی معمولی چیز سے دوبارہ اس کا نکاح پڑھادے اگر چہ ایک اشرفی ہی کیوں نہ ہو،  چاہے عورت ناراض ہو یا راضی ، اورعورت کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرے، فقیہ ہندوانی نے فرمایا کہ مں اسی کو اختیار کرتاہوں، فقیہ ابواللیث نے فرمایا کہ ہم اسی پر عمل کرتے ہیں، یونہی تمرتاشی میں مذکور ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب النکاح   الباب العاشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۳۳۹)
اسی کے بیان میں درمختارمیں ہے :
صرحوا بتعزیرھا خمسۃ وسبعین وتجبر علی الاسلام وعلی تجدید النکاح بمہر یسیر کدینار وعلیہ الفتوی والوالجیۃ ۲؎۔
فقہاء کرام نے تصریح فرمائی کہ عورت کو پچھتر کوڑے سزادی جائے اوراسلام لانے پر مجبورکیاجائے اور بالکل معمولی مہر سے جدید نکاح کیا جائے جیسے کہ ایک اشرفی وغیرہ، اور اسی پر فتوٰی ہے ولوالجیہ (ت)
 (۲؎ درمختار  کتاب النکاح   باب نکاح الکافر  مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۱۰)
یہ احکام اسی طرح مذہب کے خلاف ہیں جب مرتدہ ہوتے ہیں نکاح فورا فسخ ہوگیا کہ ارتداداحد ہما فسخ فی الحال (میاں بیوی دونون میں سے کسی ایک کا اسلام سے روگردانی کرنا فورا نکاح کو ختم کردیتاہے۔ ت) پھر بعدعدت دوسرے سے اسے نکاح ناجائز ہونا کیا معنی اور پہلے سے تجدید نکاح پر جبرکیا معنی، کیوں نہیں جائز کہ وہ کسی سے نکاح نہ کرے اور اس تجدید میں زبردستی ادنٰی  سے ادنی مہر باندھنے کا ہرقاضی کو اختیار ملنا کیا معنی، مہر عوض بضع ہے اور معاوضات میں تراضی شرط اقول (میں کہتاہوں) بلکہ ان اکابر کے قول ماخوذ ومفتٰی بہ کو کہ قول ائمہ بخارا ہے فتوائے ائمہ بلخ رحمہم اللہ تعالٰی سے جسے فقیر نے باتباع نہرالفائق وغیرہ اختیار کیابعد نہیں تجدید نکاح بنظر احتیاط ہے اور شوہر پر حرام ہوجانا موجب زوال نکاح نہیں، بارہا عورت ایک مدت تک حرام ہوجاتی ہے اور نکاح باقی ہے جیسے بحال نماز وروزہ رمضان واعتکاف واحرام وحیض ونفاس، یوہیں جبکہ زوجہ کی بہن سے نکاح کرکے قربت کرلے زوجہ حرام ہوگئی یہاں تک کہ اس کی بہن کو جدا کردے اور اس کی عدت گزر جائے بلکہ کبھی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے اور نکاح زائل نہیں جیسے حرمت مصاہرت طاری ہونے سے کہ متارکہ لازم ہے تو نکاح قائم ہے اور زن مفضاۃ کہ سبیلین ایک ہوجائیں نکاح میں اصل خلل نہیں، اور حرمت ابدی، دائم ہے
والمسائل منصوص علیہا فی الدروغیرہ من الاسفار الخ
 (مسائل مذکورہ کی درمختار وغیرہ بڑی کتابوں میں صراحت کردی گئی الخ ۔ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
___________

(رسالہ ''الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف '' ختم شد)
Flag Counter