تفسیر کبیر میں انھیں امور دنیویہ میں ان سے مشاورت وموانست کو سبب نزول کریمہ اور اس سے نہی مطلق کے لئے بتایا اور اسے اس گمان کا کہ ان سے مخالفت تو دین میں ہے دنیوی امور میں بدخواہی نہ کریں گے، رد ٹھہرایاکہ :
ان المسلمین کانوا یشاور ونہم فی امور ھم ویؤانسونہم لما کان بینہم من الرضاع والحلف ظنا منہم انہم خالفوھم فی الدین فہم ینصحون لہم فی اسباب المعاش فنہاھم اﷲ تعالٰی بہذہ الایۃ عنہ، فمنع المؤمنین ان یتخذوا بطانۃ من غیر المومنین فیکون ذٰلک نہیا عن جمیع الکفار وقال تعالٰی یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء ومما یؤکد ذٰلک ماروی انہ قیل لعمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھہنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لایعرف اقوی حفظا ولااحسن خطامنہ ، فان رأیت ان تخذہ کاتبا فامتنع عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ من ذٰلک وقال اذا اتخذت بطانۃ من غیر المومنین فقد جعل عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھذہ الایۃ دلیلا علی النہی عن اتخاذ النصرانی بطانۃ ۱؎۔
مسلمان اپنے دنیوی معاملات میں کافروں سے مشورہ کیا کرتے تھے اور ان سے موانست رکھتے تھے اس لئے دونوں کے درمیان رضاعت اور قسمیں تھیں، پس مسلمانوں کایہ خیال تھا کہ اگر چہ کافر دین میں ان کے مخالف ہیں تاہم اسباب معاش وغیرہ میں ان کے خیرخواہ ہیں،پھر اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو اس آیۃ مذکورہ میں کافروں کے ساتھ رواداری اور راز داری سے منع فرمایا لہذا اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو اہل ایمان کے علاوہ غیروں کو راز دار بنانے کی ممانعت فرمائی، پھر یہ تمام کافروں سے نہی ہے۔ اور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : اے ایمان والو!میرے اوراپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ اور اس کی اس روایت سے تاکید ہوتی ہےکہ جس میں یہ مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں یہ درخواست کی گئی کہ یہاں اہل حیرہ میں سے ایک شخص عیسائی ہے اس کی یادداشت (قوت حافظہ) بھی بڑی قوی ہے اور خط بھی خوبصورت (یعنی خوشنویس) ہے اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنے ہاں اسے منشی مقرر کرلیں، ارشاد فرمایا پھر تومیں غیر مسلموں کو اپنا راز دار بنالیا، لہذا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس آیۃ مذکورہ کو اس پر دلیل ٹھہرایا کہ عیسائی کو راز دار بنانے کی ممانعت ہے۔ (ت)
(۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ یایہاالذین آمنوا لاتتخذوا بطانۃ الخ مطبعۃ البہیمۃ المصریۃ مصر ۸ /۱۰ ۔۲۰۹)
اس سے جملہ انواع معاملت کیوں ناجائز ہوگئے۔ بیع وشراء اجارہ داستئجار وغیرہا میں کیا راز داربنانا یا اس کی خیر خواہی پر اعتماد کرنا ہے جیسے چمار کو دام دئے جوتا گنٹھوالیا، بھنگی کو مہینہ دیا پاخانہ اٹھوالیا،بزار کو روپے دئے کپڑا مول لے لیا، آپ تاجر ہےکوئی جائز چیز اس کے ہاتھ بیچی دام لے لئے وغیرہ وغیرہ، ہر کافرحربی کافر محارب ہے حربی ومحارب ایک ہی ہے جیسے جدلی ومجادلی۔ وہ ذمی ومعاہد کا مقابل ہے۔ راز داربناناذمی ومعاہد کو بھی جائز نہیں، امیر المومنین کا وہ ارشاد ذمی ہی کے بارے میں ہے یونہی موالات مطلقا جملہ کفار سے حرام ہے حربی ہو یا ذمی، ہاں صرف دربارہ برواحسان ان میں فرق ہے معاہد سے جائز ہے کہ
لاینھکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ۱؎
(اللہ تعالٰی تمھیں ان لوگوں سے (معاملات کرنے سے) نہیں روکتا جو دین میں تم سے جنگ نہیں کرتے ۔ت) اور حربی سے حرام کہ
انما ینھکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین ۲؎
(البتہ ان لوگوں سے تمھیں منع فرماتاہے جو دین میں تم سے جنگ کرتے ہیں۔ ت)
(۱؎القرآن الکریم ۶۰/ ۸) (۲؎ القرآن الکریم ۶۰/ ۹)
عبارت کبیر منقولہ سوال کایہی مطلب ہے یہی قول اکثر اہل تاویل ہے اور اسی پر اعتماد وتعویل ہے۔ اور ائمہ حنفیہ کے یہاں تو اس پر اتفاق جلیل ہے خود کبیر میں زیرکریمہ لاینھکم اﷲ ہے :
الاکثرون علی انہم اھل العہد وھذا قول ابن عباس ولمقاتلین والکلبی ۳؎۔
اکثر ائمہ تفیسر کی رائے یہ ہے کہ اس سے اہل عہد مراد ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس۔ دو مقاتلوں اور کلبی کایہی قول ہے۔ (ت)
(۳؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ لاینہکم الذین لم یقاتلوکم الخ مطبعۃ البہیمۃ المصریۃ مصر ۲۹/ ۳۰۳)
ہم نے المحجۃ المؤتمنہ میں یہ
مطلب نفیس جامع صغیر امام محمد وہدایہ ودرر الحکام وغایۃ البیان وکفایہ و جوہرہ نیرہ ومستصفٰی ونہایہ وفتح القدیر وبحرالرائق وکافی والتبیین الحقائق وتفسیر احمدی وفتح اللہ المعین وغنیہ ذوی الاحکام ومعراج الدرایہ وعنایہ ومحیط برہانی وجوی زادہ وبدائع امام ملک العلماء
سے ثابت کیا
حضور رحمۃ اللعٰلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رحمۃ اللعٰلمین ہیں قبل ارشاد واغلظ علیہم (کافروں اور منافقوں پر سختی کرو۔ ت) انواع انواع کے نرمی وعفو وصفح فرمائے خود اموال غنیمت میں مؤلفۃ القلوب کاایک سہم مقرر تھا مگر اس ارشاد کریم پر عفو وسفہ کو نسخ فرمادیا اور مؤلفۃ القلوب کاسہم ساقط ہوگیا۔
وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر انا اعتدنا للظلمین نارا احاط بہم سراد قہا ۴؎۔
فرمادیجئے حق تمھارے رب کی طرف سے ہے لہذا جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے یقینا ہم نے ظالموں کے لئے ایک ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ جس کی دیواروں نے انھیں گھیرے میں لے رکھا ہے۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۱۸/۲۹)
سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے افضل الاساتذہ امام عطاء بن ابی رباح رضی اللہ تعالٰی عن جن کی نسبت امام فرماتے ہیں میں نے ان سے افضل کسی کو نہ دیکھا وہ کریمہ واغلظ علیہم کو فرماتے ہیں :
نسخت ھذہ الاٰۃ کل شیئ من العقود والصفح ۱؎۔
اس آیت کریمہ نے ہر قسم کی معافی اور درگزر کرنےکو منسوخ کردیا ہے۔ (ت)
(۱؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ واغلظ علیہم الخ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۳ ۔ ۱۲۲)
قرآن عظیم نے یہود مشرکین کو عداوت مسلمین میں سب کافروں سے سخت تر فرمایا:
لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین اٰمنوا الیہود والذین اشرکوا ۲؎۔
تم اہل ایمان سے عداوت کرنے میں سب سے زیادہ یہودیوں اور مشرکوں کا پاؤ گے۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم ۵ /۸۲)
مگر ارشاد :
یایھا النبی جاھدا لکفار والمنفقین و اغلظ علیہم ومأوٰھم جھنم و بئس المصیر ۳؎۔
اے نبی مکرم! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر و اور ان پر سختی کیا کرو، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (ت)
(۳؎القرآن الکریم ۹/ ۷۳)
عام آیہ اس میں سب کا استثناء نہ فرمایا کسی وصف پر حکم مرتب ہونا اس کی علیت کا مشعر ہوتاہے یہاں انھیں وصف کفر سے ذکر فرماکر اس پر جہاد وغلظت کا حکم دیا تو یہ سزا ان کے نفس کفر کی ہے۔ نہ کہ عداوت مومنین کی، اور نفس کفر میں وہ سب برابر ہیں،
الکفر ملۃ واحدۃ
(سارا کفر ایک ہی ملت ہے۔ ت) ہاں معاہدکا استثناء دلائل قاطعہ متواترہ ہے سے ضرورۃ معلوم ومستقر فی الاذہان کہ حکم جاہد سن کر اس کی طرف ذہن جاتاہی نہیں فنفس النص لم یتعلق بہ ابتداء
کما افادہ فی البحرالرائق
(پھر نفس نص ابتداء ہی اس سے متعلق نہیں(یعنی معاہد کو نص شامل ہی نہیں) جیسا کہ البحرالرائق میں یہ افادہ پیش کیا ہے۔ ت) تفاوت عداوت پر بنائے کار ہوتی تویہود کوحکم مجوسی سے سخت تر ہوتاہے حالانکہ امر بالعکس ہے اور نصارٰی کا حکم یہود سے کم تر ہوتاہے حالانکہ یکساں ہے۔ ذمی وحربی کافر کافرق میں بتا چکاہوں اور یہ کہ ہرحربی محارب ہے حسب حاجت ذلیل قلیل ذمیوں سے حربیوں کے مقاتلہ (مقابلہ میں مدد لے سکتے ہیں ایسی جیسے سدھائے ہوئے مسخر کتے سے شکار میں،
امام سرخسی نے شرح صغیرمیں فرمایا :
والاستعانۃ باھل الذمۃ کالاستعانۃ بالکلاب ۱؎۔
ذمی کافروں سے مددلینا سدھائے ہوئے کتوں سے مددلینے کی طرح ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح الجامع الصغیر للسرخسی(محمد بن احمد)
اوربروایت امام طحاوی ہمارے ائمہ ممذہب امام اعظم وصاحبین وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم نے اس میں بھی کتابی کی تخصیص فرمائی مشرک سے استعانت مطلقا ناجائز رکھی اگر چہ ذمی ہو ان مباحث کی تفصیل جلیل
''المحجۃ المؤتمنۃ''
میں ملاحظہ ہو۔
رہا کافر طبیب سے علاج کرانا خارجی یا ظاہر مکشوف علاج جس میں اس کی بدخواہی نہ چل سکے وہ تو
لایألونکم خبالا ۲؎
(وہ کافر تمھیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔ ت) سے بالکل بےعلاقہ ہے اور دنیاوی معاملات میں بیع وشراء واجارہ واستئجار کی مثل ہے۔ ہاں اندرونی علاج جس میں اس کے فریب کی گنجائش ہو اس میں اگر کافروں پر یوں اعتماد کیا کہ ان کو اپنی مصیبت میں ہمدرد اپنا ولی خیر خواہ اپنا مخلص بااخلاص خلوص کے ساتھ ہمدردی کرکے اپنا دوست بنانے والا اس کی بیکسی میں اس کی طرف اتحاد کا ہاتھ بڑھانے والا جانا تو توبیشک آیہ کریمہ کا مخالف ہے اور ارشاد آیت جان کر ایسا سمجھا تو نہ صرف اپنی جان بلکہ جان وایمان وقرآن سب کا دشمن اورانھیں اس کی خبر ہوجائے اور اس کے بعد واقعی دل سے اس کی خیرخواہی کریں تو کچھ بعیدنہیں کہ وہ تو مسلمان کے دشمن ہیں اوریہ مسلمان ہی نہ رہا
فانہ منہم ۳؎
( وہ انہی میں سے ہے۔ ت) ہوگیا،
(۲؎ القرآن الکریم ۳ /۱۱۸) (۳؎سنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲ /۲۰۳)
ان کی تو دلی تمنایہی تھی:
قال تعالٰی ودوالوتکفرون کما کفروا فتکونون سواء ۴؎۔
(اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا) ان کی آرزو ہے کہ کسی طرح تم بھی ان کی کسی طرح تم بھی ان کی طرح کافر بنو تو تم اور وہ ایک سے ہوجاؤ۔
(۴؎القرآن الکریم۴/۸۹)
والعیاذ باﷲ تعالٰی
(اور اللہ تعالٰی کی پناہ۔ ت) _____ گر الحمد ﷲ کوئی مسلمان آیہ کریم پرمطلع ہوکر ہر گز نہ جانے گا اور جانے تو آپ ہی اس نے تکذیب قرآن کی، بلکہ یہ خیال ہوتاہے کہ یہ ان کا پیشہ ہے اس سے روٹیاں کماتے ہیں ایسا کریں تو بدنام ہوں دکان پھیکی پڑے، کھل جائے تو حکومت کا مواخذہ ہو سزا ہو یوں بدخواہی سے بازرہتے ہیں تو اپنے خیر خواہ ہیں نہ کہ ہمارے، اس میں تکذیب نہ ہوئی، پھر بھی خلاف احتیاط و شنیع ضرور ہے خصوصا یہود ومشرکین سے خصوصا سربرآوردہ مسلمان کو جس کے کم ہونے میں وہ اشقیاء اپنی فتح سمجھیں وہ جسے جان وایمان دونوں عزیز ہیں اس بارے میں کریمہ
لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لایألونکم خبالا ۱؎
کسی کافر کو راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے۔ وکریمہ
ولم یتخذوا من دون اﷲ ولا رسولہ ولاالمومنین ولیجۃ ۲؎
اللہ وررسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو دخیل کار نہ بنانا، وحدیث مذکور
لاتستضیئوا بنار المشرکین ۳؎
(مشرکوں کی آگ سے روشنی نہ لو) بس ہیں۔ اپنی جان کامعاملہ اس کے ہاتھ میں دے دینے سے زیادہ کیا راز دار ودخیل کار ومشیر بنانا ہوگا،
(۱؎ القرآن الکریم ۳ /۱۱۸) (۲؎القرآن الکریم ۹/ ۱۶)
(۳؎ مسند امام احمد بن حنبل عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۹۹)
امام محمدعبدری ابن الحاج مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں :
واشد فی القبح واشنع ماارتکبہ بعض الناس فی ھذا الزمان من معالجۃ الطبیب والکحال الکافرین اللذین لایرجی منہما نصح ولاخیر بل یقطع بغشہما واذیتہما لمن ظفرا بہ من المسلمین سیما ان کان المریض کبیرا فی دینہ اوعلمہ ۴؎۔
یعنی سخت تر قبیح وشنیع ہے وہ جس کاارتکاب آجکل بعض لوگ کرتے ہیں، کافر طبیب اورسیتے سے علاج کرانا، جن سے خیر خواہی اور بھلائی کی امید درکنار یقین ہے کہ جس مسلمان پر قابو پائیں اس کی بد سگالی کرینگے اور اسے ایذا پہنچائیں گے خصوصاجبکہ مریض دین یا علم میں عظمت والا ہو۔
(۴؎ المدخل لابن الحاج فصل فی المزین الکحال والطبیب الکافرین دارالکتب العربی بیروت ۴ /۱۱۴)