اللہ تعالٰی کے مقدس نام سے شروع جو نہایت رحم کرنے والا مہربان ہے۔ ہم اللہ تعالٰی کی نئی نئی تعریف کرتے ہیں اور اس کے رسول کریم پر نئے نئے انداز سے درود بھیجتے ہیں، اے اللہ کے محبوب کے حبیب! میری روح آپ پر قربان ہو دونوںجہاں کے قبلہ اور دنیا واخرت کے کعبہ، ان کے فیوض وبرکات ہمیشہ رہیں۔ (ت)
بعد تسلیمات فدویانہ تمنائے حصول سعادت آستانہ بوسی التماس ایں کہ بفضلہ تعالٰی کمترین بخیریت ہے صحتوری ملازمان سامی کی مدام بارگاہ احدیث سے مطلوب، اشتہار اسلامی پیام میں عبدالماجد کے اس لکھنے پر کہ''مسلمان ڈوب رہاہے نا مسلم تیراک ہاتھ دے تو جان بچانا چاہئے یانہیں'' یوں درج ہے کہ''مسلمان کو اگر ڈوبنے پر یقین نہ ہو ہاتھ پاؤں مارکر بچ جانے کی امیدہو یا کوئی مسلمان فریاد رس خواہ کوئی درخت وغیرہ ملنے کاظن ہو تو کافر کو ہاتھ دینے کی اجازت نہیں الخ''، معلوم ہوتاہے کہ کفار سے معاملت کی بھی اجازت نہ ہو ان سے علاج بھی نہ کرائے
لایألونکم خبالا
(وہ تمھیں نقصان پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ ت) سے کیا مقصودہے آیا دین کے معاملہ میں کفار محارب فی الدین نقصان پہنچانے میں کمی نہ کریں گے یا ہر معاملہ میں اور ہروقت جب موقع پائیں اور ایک کافر گو غیر محارب ہو تفسیر کبیر میں آیہ کریمہ
لاینھکم اﷲ عن الذین لم یقاتلونکم الی اٰخرالایۃ
(اللہ تعالٰی تمھیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جو تم سے جنگ نہیں کرتے الی اخر الآیۃ۔ ت) کے متعلق لکھاہے :
وقال اھل التاویل ھذہ الایۃ تدل علی جواز البربین المشرکین والمسلمین وان کانت الموالاۃ منقطعۃ ۱؎۔
(امام رازی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ) ائمہ تفسیر نے اس آیۃ کے متعلق فرمایا کہ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اہل شرک اور اہل اسلاام کے درمیان حسن سلوک کرنا جائز ہے اگر چہ موالات منقطع ہے (ت)
(۱؎ مفاتیح الغیب (تفسیر الکبیر) تحت آیۃ لاینھکم اﷲ عن الذین الخ مطبعۃ البہیمۃ المصریۃ مصر ۲۹ /۳۰۴)
رسالہ الرضا بابت ماہ ذیقعدہ حصہ ملفوظات ص ۸۶ میں ہے : ''حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انھیں سے خلق فرماتے ہیں جو رجوع لانے والے ہوتے جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہے اور کفار ومرتدین کے ساتھ ہمیشہ سختی فرمائی الخ''
بعض کفار کی انکھوں میں سلائی پھیرنا تو قصاصا تھا کیا رسول کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم قبل نزول آیت
یٰایھا النبی جاھدالکفار والمنفقین ۲؎
(اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ ت) نرمی نہ فرماتے تھے اور کیا رجوع نہ لانے والے تھے ان سے ہمیشہ بشدت پیش آتے تھے یا پہلے ان سے بھی نرمی سے پیش آتے، کفار مختلف طبائع کے تھے، اور ہیں بعض کو اسلام اور مسلمانوں سے سخت عداوت ہے اور بعض کو بہت کم ۔ کیا سب سے یکساں حکم ہے یا امر المعروف (نہی عن المنکرمیں ان سے حسب مراتب تدریجا سختی کرنے کاحکم ہے اور محارب وغیر محارب کا فرق ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۹ /۷۳)
حضور فدوی کو اس مسئلہ میں کہ مرتدہ کا نکاح باقی رہتاہے لیکن فتاوٰی کی کتابوں کے خلاف ہونے کی وجہ خلجان رہتاہے حضور کے فتاوٰی میں اور کتابوں کے خلاف لکھاہے گو بعض احکام بوجہ اختلاف زمانہ مختلف ہوجاتے ہیں، لیکن فتاوٰی ہندیہ جو قریب زمانہ کی ہے اس میں بھی نہیں ہے اگر چہ بوجہ سلطنت اسلامیہ نہ ہونے کے مرتدہ پر احکام شریعت نہیں جاری کئے جاسکتے ہیں مثل ضرب وغیرہ کے، لیکن جب وہ اسلام سے خارج ہوگئی تو نکاح کاباقی رہنا کیسا، کیا وہ ترکہ بھی اپنے سابق شوہر کا شرعا پائے گی اور اس کے مرنے پر اس کا جو پہلے شوہر تھا ترکہ اس کا شوہر پائے گا، اگر کفار غیر محارب کے ہمراہ محارب کفار کا مقابلہ کیا جائے اور محارب کفار کہ غیر محارب کے امداد سے نقصان پہنچا یا جائے تو کیا گناہ ہے اسی ''اسلامی پیغام'' میں ہے ''اب جو قرآن کو جھٹلائے'' وہ مشرک یا مرتد کو ڈوبنے سے نجات دینے والا حامی ومدد گار جانے'' کیا نعوذ باللہ جتنے مسلمان کفار سے علاج کراتے ہیں اور معاملات میں ان سے مدد لیتے ہیں سب قرآن کو جھٹلاتے ہیں فقط والتسلیم عریضہ ادب فدوی محمد آصف
یغفراﷲ لہ ولوالد یہ ولجمیع المؤمنین والمؤمنات بحرمۃ النبی الکریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم
(اللہ تعالٰی اسے اس کے والدین اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو حضور نبی کریم کے طفیل بخش دے، ان پر صلٰوۃ وسلام کا نزول ہو۔ ت)
الجواب
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، مولانا المکرم اکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔
اللہ تعالٰی کے عظیم نام سے شروع جو بیحد رحم کرنے والا ہے، ہم اللہ تعالٰی کی تعریف کرتے ہیں اور اس کے رسول کریم پر درود بھیجتے ہیں مولانا گرامی! اللہ تعالٰی تمھاری عزت وتوقیر فرمائے تم پر سلام ہو اور اللہ تعالٰی کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ (ت)
ارشاد الٰہی
یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لا یألونکم خبالا ۱؎
(اے ایمان والو! اپنے سوا غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمھیں نقصان پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ ت) عام ومطلق ہے کافر کو راز دار بنانا مطلقاممنوع ہے اگر چہ امور دنیویہ میں ہو وہ ہر گز تاقدرقدرت ہماری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے
قل صدق اﷲ ۲؎ ومن اصدق من اﷲ قیلا ۳؎
(فرمادیجئے اللہ تعالٰی نے سچ فرمایا اور بات کرنے میں اللہ تعالٰی سے زیادہ سچا کون ہوسکتاہے۔ ت)
(۱؎القرآن الکریم ۳/ ۱۱۸) (۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۹۵) (۳؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۲۲)
سیدنا امام اجل حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حدیث
لاتستضیئوا بنارالمشرکین ۴؎
(مشرکین کی آگ سے روشنی نہ لو) کی تفسیر فرمائی کہ اپنے کسی کام میں ان سے مشورہ نہ لو اور اسے اسی آیہ کریمہ سے ثابت بتایا،
(۴؎ مسند احمد بن حنبل عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۹۹)
ابویعلی مسند اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن المنذر وابن حاتم تفاسیر اور بہیقی شعب الایمان میں بطریق ازہر بن راشد انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روای:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتستضیئوا بنارالمشرکین قال فلم تدر ماذلک حتی اتوالحسن فسألوہ فقال نعم، یقول لاتستشیرو ھم فی شیئ من امور کم قال الحسن وتصدیق ذٰلک فی کتاب اﷲ تعالٰی ثم تلا ھذہ الایۃ یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم ۱؎۔
انس بن مالک نے فرمایا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) شرک کرنے والوں کی آگ سے روشنی نہ لو، فرمایا : ہم نہ سمجھے کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ حسن بصری کے پاس گئے ان سے اس کا مفہوم دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ٹھیک ہے اللہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے کہ ''اپنے کسی کام میں شرک کرنے والوں سے مشورہ نہ لو'' حضرت حسن نے فرمایا کہ اس کی تصدیق اللہ تعالٰی کی کتاب میں موجود ہے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی، اے ایمان والو! اپنے سوادوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ (ت)
(۱؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ یٰایہا الذین اٰمنوا لاتتخذوا بطانۃ الخ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۴ /۳۸)
(شعب الایمان حدیث ۹۳۷۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ /۴۰)
امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسی آیت کریمہ سے کافر کو محرر بنانا منع فرمایا ابن ابی شیبہ مصنف اور ابنائے حمید وابی حاتم رازی تفاسیر میں اس جناب سے راوی :
انہ قیل لہ ان ھہنا غلاما من اھل الحیرۃ حافظا کاتبا فلوا تخذتہ کاتبا قال اتخذت اذا بطانۃ من دون المؤمنین ۲؎۔
حضرت عمر فاروق کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ یہاں حیرہ کا رہنے والا ایک غلام ہے جو حافظ اور کاتب ہے اگر آپ اس کو اپنے ہاں کاتب مقرر کردیں تو (کیا ہی اچھا ہوگا) اس پر ارشاد فرمایا کہ پھر تو میں نے مسلمانوں کو چھوڑ کر اس کافر کو اپنا راز دار بنالیا۔ (ت)