(۳) یہ کہ زید جلسہ خلافت کمیٹی میں اس سبب سے شرکت نہیں کرتا کہ اس میں اہل ہنود جن کو اس وقت ممبران خلافت کمیٹی اپنا بھائی کہتے ہیں اور ان سے اس قدرارتباط بڑھا رکھا ہے کہ تلک مہراج کے مرنے کے غم میں بروز دسواں جامع مسجد میں ننگے سرننگے پیر جمع ہو کر تلک مہراج کے لے دعا اور فاتحہ اور نماز کا ان کی مغفرت کے لئے اشتہار شائع کیا اور قربانی گاؤ کو بخاطر اہل ہنود منع کرتے ہیں اور بکری قربانی کرناافضل وفعل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بتلاتے ہیں اور نقصان اور عدم جواز قربانی گاؤ میں رسالے چھاپتے ہیں اور جلسہ خلافت کمیٹی میں کل دشمنان دین محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اسپیچ وتقریر کراتے ہیں جو اپنی کتاب "الجرح علی ابی حنیفۃ" میں حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی کو سگ وزندیق وبے علم وصد ہا باتیں ناشائستہ ناگفتہ بہ لکھاہے۔ اگر ایسے شخصوں کی تقریر نہ سننے کی غرض سے اور کفار کی اعانت وشرکت نہ کرنے کی غرض سے اگر زید ایسے جلسوں میں نہ شریک ہو تو کیا بوجہ ان امور متذکرہ بالا کے زید قابل ملامت وناقابل امامت ہے۔ کیونکہ جو لوگ کہ ان وجوہ سے شرکت نہیں کرتے ان کے پیچھے نمازپڑھنا ناجائز بتلاتے ہیں، ان لوگوں نے اس قدر ارتباط ان کفاروں سے بڑھا رکھا ہے کہ جس وقت ان میں کوئی مقرر ونا مور کسی شہر میں جاتاہے تو اہل اسلام ان کفاروں کی گاڑیاں بدست خود کھینچ لاتے ہیں، ان کفاروں نے اس قدر تعصب اپنے مذہب میں بڑھا رکھا ہے کہ یہاں بعض مسجد میں اذان نہیں کہنے دیتے، بعض مسجدوں کے فرش پرجوان کی پرستش کے درخت کی ڈالیں لٹکی ہوئی ہیں جس سے حوض دہ دردہ کاپانی پتیوں کے گرنے اور سڑنے سے متغیر ومتعفن ہوجاتاہے اس درخت کی ڈال کو تعصب مذہبی سے نہیں کاٹتے، بعض مسجد پر صحن مسجد میں جو ان کا بت پرستش کا نصب ہے اس کی پرستش کے لئے فرش مسجد پر سے جو سجدہ گاہ مسلمانان ہے بپائے نجس مرور کرتے ہیں، مگر افسوس کہ مسلمانان اہل ہنود کو اپنا بھائی بناتے ہیں اور ان کی خاطر داری سے گاؤ کی قربانی بند کرنے میں بہر نوع کوشش تام کرتے ہیں اپنے مساجد کی بے حرمتی ونقصان اور اذان بند ہونے کا جو بعض مسجد پر بند کررکھا ہے کچھ صدمہ وخیال نہیں ہوتا، آیا ایسے دشمنوں کے جلسہ میں نہ شرکت ہونے سے کیا آدمی گنہگار ہوتاہے قابل امامت نہیں رہتا۔
(۴) یہ کہ زید جو پنجگانہ وبروز جمعہ وخطبہ ثانیہ بروز جمعہ وخطبہ عیدین وغیرہا میں بیشتر مسلمانان کی جماعت کثیر میں بہ اعلان تمام دعاء وترقی جاہ وجلال وقیام سلطنت سلطان اعظم والی سلطنت روم بلاد عرب کےلئے محافظت مقامات مقدسہ حرمین شریفین کے لئے دعاکرتاہے اور خطبہ نباتہ جس کے خطبہ ثانیہ میں سلطان المعظم کے لئے خلد اللہ ملکہ کے لئے دعا دراز طبع ہے پڑھتاہے سامعین آمین کہتے ہیں، آیا اس طریق پر دعا کرنا سلطان المعظم کے لئے جائز ہے یا جلسہ کفار اور غیر مقلدین میں شریک ہوکر دشنام دہی کرنا اور اظہار وفاداری سلطان المعظم کے لیے کرنا جائز ہے ،زید پر بیحد حملہ اس امر کا ہے کہ تو کیوں نہیں ایسے جلسوں میں شریک ہوتا،اس لئے طرح طرح کی بندشیں عدم جواز امامت وواپسی خطاب وغیرہ کے لئے حملہ کرتاہے، پس آیا اس صورت سے دعا کرنا بعد نماز ودرمیان خطبہ جائز ہے یا اس جلسہ مخالفین میں؟
بینو ا بالکتاب وتوجروا بالصواب
(کتاب کے حوالہ سے (مسئلہ کو) بیان فرماؤ اور راہ صواب یعنی راہ راست کا اجر پاؤ۔ ت)
الجواب
(۱) جبکہ وہ مدرسہ صرف دینیات کا ہے اور امداد کی بناء پر انگریزی وغیرہ اس میں داخل نہ کی گئی تو اس کے لینے میں شرعاکوئی حرج نہیں، تعلیم دینیات کو جو مدد پہنچی تھی اس کا بند کرنا محض بے وجہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) خطاب واپس کرنا نہ کرنا کوئی مسئلہ شرعی نہیں اوراگر یہ اندیشہ صحیح ہے کہ واپسی خطاب میں امداد بھی بند ہوجائے گی تو واپس کرنا حماقت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳) اگر یہ امور واقعی ہیں تو ایسے جلسوں کی شرکت حرام ہے اور جو ان میں شریک ہو قابل ملامت اور ناقابل امامت ہے۔ نہ وہ کہ احتراز کرے، دشمنان دین سے احتراز فرض ہے، اور فرض کا تارک موجب ملامت اور مانع امامت ہے نہ کہ اس کا بجالانا، اور کافر کے لئے دعائے مغفرت وفاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیب قراؑن عظیم ہے
کما فی العالمگیریۃ وغیرہا
(جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری اور اس کے علاوہ دوسرے فتاووں میں مسئلہ مذکور ہے۔ ت) اور ان کے خار وبوار کے لئے یہی بہت تھا کہ مشرک کے ماتم میں سر ننگا کیا اور اس پر ظلم شدید یہ کہ عبادت گاہ واحد قہار کو مشرک کا ماتم گاہ بنایا پھر اس کے لئے نماز کا اشتہار پورا پورا موجب لعنت جبار قہار ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولا تصل علی احد منہم مات ابداولا تقم علی قبرہ ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو اس پر نماز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۸۴)
بلا شبہہ یہ اشتہار دینے اور اس پر عمل کرنے والے سب قطعی مرتد ہیں وہ اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں نکاح سے
قاتلہم اﷲ انی یؤفکون ۲؎
(اللہ تعالٰی انھیں مارے وہ کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت) اور قربانی گاؤ شعار اسلام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی والبدن جعلنہا لکم من شعائر اﷲ ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: ہم نے بدنہ (قربانی کا جانور) کو تمھارے لئے اللہ تعالٰی کی نشانیوں میں سے کیاہے۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم ۹/ ۳۰)(۳؎القرآن الکریم ۲۲/ ۳۶)
اور ہندوستان میں اس کا جاری رکھنا واجب ہے
کما حققناہ فی انفس الفکر فی قربان البقر
(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق (اپنے ایک رسالہ بنام)
انفس الفکر فی قربان البقر
(بہت عمدہ سوچ گائیوں کی قربانی کرنے میں) میں کردی۔ ت) اور خوشنودی ہنود کےلئے اس کا بند کرنا حرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: (لوگو!) ظالموں کی طرف مت جھکو (اور مائل نہو) ورنہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳)
ناپاکوں کافروں مرتدوں کو واعظ مسلمین بنانے والے اسلام کو ڈھاتے ہیں اور کفر ولعنت الٰہی کی نیو چنواتے ہیں حدیث تو بد مذہب کی توقیر پر فرماتی ہے:
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ہدم الاسلام ۲؎۔
جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے دین اسلام کے ڈھادینے پر مدد دی۔ (ت)
(۲؎ کنز العمال حدیث ۱۱۰۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۱۹)
نہ کہ کفار و زنادقہ مثل وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبند یہ وغیرہم کو واعظ مسلمین وپیشوائے دین بنانا کہ صراحۃً اسلام کو کند چھری سے ذبح کرنا ہے۔ افسوس کہ گائے کی قربانی بنداور ذبح اسلام کے نعرے بلند مگر اسلام گائے سے بھی گیا گزرا، عزت وجبروت ہے اس کے لئے جس نے ان کی دل الٹ دئے اور آنکھیں پلٹ دیں کہ ان کو اسلام کفر سوجھتا ہے اور کفر اسلام۔
فسبحن مقلب القلوب والابصار ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب۔
پاک اور منزہ ہے دلوں او ر آنکھوں کا پھیرنے والا اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کردیجئے اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا کردیجئے، یقینا تو بلا معاوضہ بہت زیادہ بخشش اور عطا فرمانے والا ہے۔ (ت)
کفا ر اور مشرکین سے اتحاد و وداد حرام قطعی ہے۔ قرآن عظیم کے نصوص اس کی تحریم سے گونج رہے ہیں اور کچھ نہ ہو تو اتنا کافی ہے کہ:
من یتولہم منکم فانہ منہم ۳؎۔
واحد قہار فرماتاہے کہ تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا وہ بیشک انھیں میں سے ہے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۵/ ۵۱)
اللہ عزوجل کا ارشاد اور وہ بھی ''بیشک'' کے ساتھ، آخر اس کے نتائج ظاہر ہیں کہ کفار سے اتحاد و وداد منانے والے موافق ارشاد الٰہی بیشک منہم (انہی میں سے) ہوگئے، کیاآج تک کبھی ہوا تھاکہ مشرک کے ماتم میں مسلمان سر برہنہ ہوئے ہوں، مسلمانوں نے مسجد کواس کی ماتم گاہ بنایا ہو، مسلمانوں نے اس کے لئے دعا ونماز کا اشتہار دیا ہو۔ مسلمان مشرکوں کی گاڑی کے بیل بنے ہوں ، اور یہ ہونا ہی تھا کہ جب اسلام چھوڑا انسانیت خود گئی، اب جو چاہے بیل بنے چاہے گدھا کہ اللہ عزوجل فرماچکا:
اولئک کالانعام بل ھم اضل ۱؎۔
وہی لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ بھٹکے ہوئے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۷/ ۱۷۹)
بلکہ فرمایا:
اولئک ھم شرالبریّۃ ۲؎۔
وہی لوگ بدترین مخلو ق ہیں۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم ۹۸/ ۶)
کافر تو کافر فاسق کی تعریف پر حدیث میں فرمایا:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذٰلک العرش ۳؎۔
جب فاسق کی تعر یف کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتاہے اور عرش الٰہی ہل جاتاہے۔
(۳؎ کشف الخفاء حدیث ۲۷۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۸۷)
(لوگو!) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں مستور ہیں۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۴۶)
سائل بیچارہ اس کا شاکی ہے کہ ہندوؤں نے اذان بند کی اور یہ کیا اوریہ کیا، ان مسلمان کہلانے والوں نے اس کے برعکس یہ کچھ کیا، یہ شکایت محض بے جا ونادانی ہے۔ ہندو اپنے دین باطل پر قائم ہیں وہ کیوں چھوڑیں دین تو انھوں نے چھوڑا ہے۔ ہر جھوٹ انھیں کی طرف سے چاہئے ایسے لوگوں کے جلسوں میں شرکت ہر گزجائز نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۴) جلسہ مخالفین کا حکم اوپر گزرا اور سلاطین اسلام وممالک اسلام واماکن مقدسہ اسلام کے لئے دعا خطبہ جمعہ وخطبہ عیدین میں او رہر نماز کے بعد مستحب ومندوب ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔