Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
31 - 144
مسئلہ ۷۹: از موضع ہری پورہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو مسلمان کافر کو نفع پہنچائے اور مسلمانوں کو ضرر اورمسلمانوں کو ضرر،اور مسلمانوں کو برا کہے اور کافروں کو اچھا سمجھے اور ان کی طرفداری کرے اور مسلمانوں کی نہیں، کیاحکم ہے اس شخص پر اور دائرہ اسلام میں ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

تفصیل واقعہ کی لکھی جائے اجمالی لفظ ہولناک ہوتے ہیں، اور تفصیل معلوم کی جائے تو کچھ سے کچھ نکلتا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۰: از مرادآبا دحسن پور     مرسلہ عبدالرحمن مدرس     ۸/ ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ

کواکب فلکی کے اثرات سعد ونحس پر عقیدت رکھنا کیساہے؟ اور تعویذات میں عامل کو ان کی رعایت کہاں تک درست ہے؟
الجواب

مسلمان مطیع پر کوئی چیز نحس نہیں اور کافروں کے لئے کچھ سعدنہیں، اور مسلمان عاصی کے لئے اس کا اسلام سعد ہے۔ طاعت بشرط قبول سعد ہے۔ معصیت بجائے خود نحس ہے اگر رحمت و شفاعت اس کی نحوست سے بچالیں بلکہ نحوست کو سعادت کردیں،
اولئک یبدل اﷲ سیاٰتہم حسنات ۲؎
 (یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالٰی ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیتاہے۔ ت)
(۲؎القرآن الکریم         ۶۵/ ۷۰)
بلکہ کبھی گناہ یوں سعادت ہوجاتا ہے کہ بندہ اس پر خائف وترساں وتائب وکوشاں رہتاہے وہ دُھل گیا اور بہت سی حسنات مل گئیں، باقی کواکب میں کوئی سعادت ونحوست نہیں اگر ان کو خود مؤثر جانے شرک ہے اور ان سے مدد مانگے تو حرام ہے ورنہ ان کی رعایت ضرور خلاف توکل ہے۔
اشعۃ اللمعات میں ہے:
آنچہ اہل عزائم وتکسیرمی کنند مثل تبخیر وتلوین وحفظ ساعات نیز مکروہ وحرام ست نزد اہل دیانت و تقوٰی کذا قال العلماء ۱؎۔
جو کچھ اہل عزائم اور اصحاب تکسیر کرتے ہیں جیسے تبخیر (یعنی بخورات کا استعمال کرنا) اور تلوین (یعنی مصلی وغیرہ کوستاروں کے خصوصی رنگوں کی طرح رنگین کرنا) اور ان کی ساعات کی حفاظت کرنا پس یہ بھی اہل دیانت اور احباب تقوٰی کے نزدیک مکروہ اور حرام ہے۔ (چنانچہ) علمائے کرام نے اسی طرح فرمایاہے۔
 (۱؎ اشعۃ اللمعات     کتاب الطب والرقی     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر پاکستان    ۳/ ۵۹۸)
تبخیرسے مراد حسب رعایت کواکب وقت اس کے بخورات خاصہ کا استعمال،  ورنہ تعظیم ذکر وتلاوت کے لئے عود و لوبان سلگانا مستحب ہے، اور تلوین سے مراد مصلی وغیر کو الوان خاصہ کواکب سے رنگین کرنا اور فقیر نے اس کے ہامش پر لکھا۔
یعنی چونکہ مقصود استعانت بکواکب باشد حرام ست کہ استعانت بانچہ استقلال اوبزعم مشرکان راسخ شدہ است روانبود ورنہ مکروہ وترک اولٰی ست کہ از اعمال اہل توکل نیست ومشابہتے دارد بافعال آنان وظاہر ست کہ اگر استعانت بکواکب نباشد واہل تجربہ صلحاء بتجربہ دانستہ باشد کہ مراعات ایں امور ہمچوں مراعات اوزان و تخصیصات کثیرہ در ادویہ مقصود وبقضاء اللہ تعالٰی مے افتد دریں حال باکے نیست خود اشد ہم فی امر اﷲ عزوجل امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی ہنگام استسقاء بمراعات منزل قمر امر فرمود وہمبرین محمول باشد آنچہ شاہ محمد غوث گوالیاری وحضرت شیخ محمد شناوی وغیرہما اجلہ اکابر قدست اسرارہم کردہ اندو درکتب نفیسسہ خود ہا ہمچو جواہر وشروح آن باوتصریح فرمودہ فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق ۱؎۔
چونکہ اصل مقصود ستاروں سے طلب امداد ہے اس لئے حرام ہے اس لئے کہ ان اشیاء سے مدد لینا جائز نہیں کہ جن کا استقلال مشرکین کے خیال میں پختہ ہوگیا ہے ورنہ مکروہ اور ترک اولٰی ہے (یعنی بہتر کام نہ کرنا) اس لئے کہ یہ ارباب توکل کے اعمال میں سے نہیں بلکہ ان دوسرے لوگوں کے افعال سے مشابہ ہے اور یہ ظاہر ہے بشرطیکہ طلب امداد ستاروں سے نہ ہو اور صالح اہل تجربہ اپنے تجربہ سے جانتے ہیں کہ ان امور کی رعایت کرنا بالکل اسی طرح ہے جس طرح اوزان اور بے شمار تخصیصات کی رعایت کرنا دواؤں میں مناسب مقصود، اور وہ اللہ تعالٰی کے فیصلہ کے مطابق واقع ہو (اور ان کا ظہور ہو) پس اس صورت میں کچھ ڈر نہیں (کیا غورنہیں کرتے) کہ خود وہ بزرگ ہستی جو اللہ تعالٰی غالب اور جلیل القدر کے معاملات میں بہت سخت گیر تھے یعنی مومنوں کے امیر حضرت عمر، سب سے بڑے فرق کرنےوالے (یعنی حق وباطل میں معیار اور کسوٹی)، اللہ تعالی ان سے راضی ہو ، نے طلب باراں کی دعا مانگتے وقت منزل قمر کی رعایت کرنے کاحکم فرمایا، اور اسی پر وہ سب باتیں قیاس شدہ ہیں جو شاہ محمدغوث گوالیاری اور حضرت شیخ محمد شناوی اور ان کے علاوہ دوسرے جلیل القدر اکابرین نے (ان کے اسرار ورموز پاک کردئے جائیں) اپنی اپنی عمدہ کتابوں میں ذکر فرمائیں، جیسا کہ جواہر خمسہ اور اس کی شروح میں ان کی صراحت فرمائی، لہذا توفیق ہونی چاہئے، اور حصول توفیق اللہ تعالٰی کے فضل وکرم ہی سے ہوسکتی ہے۔ (ت)
 (۱؎ حاشیہ امام احمد رضا خاں علی اشعۃ اللمعات)
مسئلہ ۸۱: ازشہرکہنہ محلہ قاضی ٹولہ کلن خاں     ۴ محرم الحرام ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے پالے کی بازی بدی، پھر ایک شخص کے سمجھانے سے منکر ہوگیا، جب پالے والے مصر ہوئے اور کھیل پر مجبور کیا تو اس معصیت کے بچانے کی غرض سے دو شخصوں نے جھوٹ کہہ دیا کہ اس نے بازی نہیں بدی تھی، پس بازی والوں نے ان دو شخصوں سے طعنا پوچھا کیا تمھارے یہاں فقیری میں جھوٹ بولنا اور حرام کھانا جائزہے؟ ان شخصوں نے جواب دیا: ہاں اس میں جائزہے۔ اور نیت جانب خیر سے یہ الفاظ کہے، پس اس صورت میں ان پر کیا معصیت ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب

سوال میں حرام کھانا بھی تھا اور حرام کھانا کبھی جائز نہیں ہوتا جس وقت جائز ہوتا ہے اس وقت وہ حرام نہیں رہتا اگر ''ہاں جائز ہے'' کہنے میں حرام کھانا بھی اس نے مراد لیا تو البتہ سخت لفظ کہا توبہ لازم ہے بلکہ تجدید اسلام چاہئے، اوراگر صرف جھوٹ بولنے کی نسبت کہا کہ ایسی صورت میں جہاں حرام سے بچنا ہوتا ہو خلاف واقع بات کہنا جائز ہے توحرج نہیں، اگر چہ اس میں بھی تفصیل ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۲ تا ۷۵: از محلہ کچی باغ مسئولہ خلیل الرحمن بنارسی     ۶/ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

معدن عالم صوری ومخزن اسرار معنوی جناب مولانا حافظ مفتی احمد رضاخاں دام ظلہ بعد ہدیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، بکمال ادب ملتجی ہوں براہ کرم اپنے اوقات  گرانمایہ سے چند منٹ حرج فرماکر جواب سوالات مرسلہ مزین فرماکر بصیغہ بیرنگ پتہ ذیل سے مرحمت فرماکر مجھ مترصد کو شاد فرمائے، ان مسائل کی یہاں سخت ضررت ہے۔ ہم سب اعلٰیحضرت دام فیضہ کے معتقدین سے ہیں لہذاہم سب بیحد انتظار کرتے رہیں گے، اگر جلد جواب سے مزین فرما کر مرحمت فرمایاجائے تو عنایت لطف وکرم ہے۔ اس سے پیشتر حقیر نے اعلٰیحضرت کے دار الافتاء سے ڈھائی سو نسخے رسالہ ''انفس الفکر'' منگوا کر مسلمانوں کو تقسیم کیا جس سے بہ نسبت سال گزشتہ سال پیوستہ کے امسال باوجود کوشش بلیغ دشمنان دین کے قربانی گاؤ بکثرت المضاعف ہوئی، الحمدللہ حضور کا فیض ایسا ہی ہے۔ زیادہ بجز تمنائے حصول زیارت اور کیا عرض کروں فقط۔
آپ کا خادم عاصی خلیل الرحمن عفی عنہ بنارسی از محلہ کچی باغ مؤرخہ ۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ہجری

(۱) یہ کہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ جس میں عرصہ پچیس سال سے خزانہ گورنمنٹ سے امداد ماہوار ایک سو روپے مقرر ہے جس سے یہ درسگاہ جس میں کتب فقہ واحادیث وقرآن شریف کی تعلیم ہوتی ہے۔ اس میں ممبران خلافت کمیٹی نے جو تجویز پا س کیا ہے کہ گورنمنٹ سے امدادنہ لینا چاہئے، پس استفسار ہے کہ یہ امداد جو گورنمنٹ سے عرصہ پچیس سال سے برابر ملتی ہے اب لینا جائز ہے یانہیں؟ مدرسہ ہذا میں سوائے تعلیم دینیات کے ایک حرف کسی غیر ملت وغیر زبان کی نہیں ہوتی۔
 (۲) یہ کہ زید جو اس درسگاہ دینی کا منتظم وخادم ہے بسبب حسن انتظام گورنمنٹ نے خطاب دیا ہے او ریہ خطاب بھی عرصہ دس سال سے ملاہے ممبران خلافت کمیٹی نے یہ بھی پاس کیا ہے کہ گورنمنٹ کو خطاب واپس کردینا چاہئے پس ایسی حالت میں کہ جس خدمت انتظام درسگاہ تعلیم علوم دین کے صلہ میں خطاب دیا ہے اندیشہ ہے کہ واپس کرنے میں یہ امداد بھی نہ ملے ایسی حالت میں خطاب کا واپس کرنا ضروری ہے یانہیں؟
Flag Counter