مسئلہ ۷۴: مرسلہ حامد علی طالب عالم مدرسہ اہلسنت وجماعت بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص نصیر الدین طوسی ملوم ومذموم کو بلفظ مولی الاعظم اور
قدوۃ العلماء الراسخین اور نصیر الملۃ والدین قدس سرہ تعالٰی نفسہ روح رمسہ
(بڑا مولی، پختہ علماء کے پیشوا، دین اور ملت کے مددگار، اللہ تعالٰی ان کے نفس کو پاک کرے اور ان کی ہڈیوں کو آرام پہنچائے۔ ت) سے تعبیر کرے تو ایسے کو فاسق یا کافرنہ جاننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوا یا نہیں، اگر نہ ہواتوفاسق بھی ہوا یانہیں؟ امید کہ دلیل عقلی ونقلی سے اس کا اثبات فرمایا جائے۔
الجواب
طوسی کا رفض حدکفرنہ تھا بلکہ اس نے حتی الامکان اپنے اگلوں کے کفر کی تاویلات کیں، اور نہ بن پڑی تو منکر ہوگیا اور اس کی ایسی توجیہ گناہ ضرور ہے اور منطقی فلسفی شراح ومحشین معصوم نہیں جہاں جہاں اس نے خلاف اہلسنت کیا ہے اس کا رد کردیا گیا واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۵: ۲۳ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ جومشہورہے کہ گھر اور گھوڑا اور عورت منحوس ہوتے ہیں اس کی کیا اصل ہے؟
الجواب
یہ سب محض باطل ومردود خیالات ہندؤوں کے ہیں، شریعت مطہرہ میں ان کی کوئی اصل نہیں، شرعا گھر کی نحوست یہ ہے کہ تنگ ہو، ہمسائے برے ہوں، گھوڑے کی نحوست یہ کہ شریر ہو ، بدلگام ، بدرکاب ہو، عورت کی نحوست یہ کہ بدزبان ہو، بدرویہ ہو، باقی وہ خیال کہ عورت کے پہرے سے یہ ہوا، فلاں کے پہرے سے یہ، یہ سب باطل اور کافروں کے خیال ہیں۔ واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۶: از جاورہ مرسلہ مصاحب علی صاحب امام مسجد چھیپیاں ۲۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص تعزیہ ثواب وعبادت جان کر خود بنائے اور لوگوں کو بنانے کی ترغیب دے اور تعزیہ دیکھ کر تعظیماً کھڑا ہوجائے اور اس پر فاتحہ پڑھے اور تعزیہ کے ساتھ ننگے پیر تعظیما چلے اور مرثیہ بھی پڑھوا تاجائے شاہ مولینا عبدالعزیز صاحب علیہ الرحمۃ نے اپنے فتاوٰی کی جلد اول میں لکھا ہے کہ جو بدعت کو عبادت سمجھ کر کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ۱
اور اس پر ابن ماجہ کی ایک حدیث لائے ہیں اس کا مضمون یہ ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے:
'' بدعتی اسلام سے ایسا صاف نکل جاتاہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال صاف۲؎''
تو شاہ صاحب کے قول ''خارج اسلام ہے '' سے کیا مطلب ہے یعنی ایسا شخص کافر ومرتد ہے یا گمراہ ورافضی ہے۔ بہر نوع ایسے شخص کا ذبح کیا ہوا جانور حرام یا حلال؟ ایسے شخص کی نما زجنازہ درست ہے یا نہیں؟ جولوگ ایسے تعزیہ پر ست کے مرید ہوں ان کا کیا حکم ہے؟ ایسے تعزیہ پرست اور بت پرست میں کیا فرق ہے؟ ایسے تعزیہ پرست پر لعنت آتی ہے یانہیں؟ کیا بزرگان چشت سے کسی بزرگ نے تعزیہ بنایا یا بنوایا یا تعظیم دی ہے؟ بنیوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب
تعزیہ ضرور ناجائز وبدعت ہے مگرحاشا کفر نہیں کہ نماز جنازہ ناجائز یا ذبیحہ مرداریا بت پرستوں میں شمارہو، افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں، یہ حدیث ابن ماجہ قطع نظر اس سے کہ شدید الضعف ہے اپنے امثال کی طرح اسلام کامل سے مأول یا بدعت مکفرہ پر محمول ، ورنہ ہر بدعت سیئہ کفر ہو جبکہ اس کا صاحب استحسان کرے اوریہی غالب ہے۔ اور بدعت عقیدہ تو مطلقا کفر ہو جانا لازم کہ اس کی تعریف ہی یہ کہ:
مااحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و جعل دینا قویما وصراطا مستقیما کما فی البحر الرائق ۱؎۔
جو حق حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے (بطور یقین) ہمیں موصول ہوا اس کے خلاف کوئی نیا عقیدہ ایجاد کرکے اس کو ٹھیک اور سیدھا دین قرار دینا جیسا کہ بحرالرائق میں مذکور ہے (بدعت اعتقاد کرے)۔ (ت)
(۱بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۴۹)
حالانکہ باجماع امت بعض بد مذہبیاں کفرنہیں، فتاوٰی خلاصہ وفتح القدیر وعالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
الروافض ان فضل علیا علی غیرہ فہو مبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق فہو کافر ۲؎۔
اگر رافضی (کٹر شیعہ) جناب علی کو دوسرے خلفاء پر فضیلت دے تو وہ بدعتی ہے لیکن اگر حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کا انکار کرے تو پھر وہ کافر ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر باب احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴)
(خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الخامس عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹)
خلاصہ وغیرہ میں ہے:
اذقال ان ﷲ یدا او رجلا کماللعباد فہو کافر وان قال جسم لا کاجسام فہو مبتدع ۱؎۔
جب یہ کہے کہ بندوں کی طرح اللہ تعالٰی کے ہاتھ،پاؤں ہیں، تو وہ کافر ہے اور اگر کہے کہ اللہ تعالٰی کا جسم ہے لیکن دوسرے اجسام کی طرح نہیں تو وہ بدعتی ہے۔ (ت)
(۱؎خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الخامس عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹)
نیز اسی میں ہے:
وجملۃ ان من کان اہل قبلتنا ولم یغل فی ہواہ حتی لم یحکم بکونہ کافرا یجوز الصلوٰۃ خلفہ ویکرہ ۲؎۔
خلاصہ کلام اگر ہماری طرح اہل قبلہ ہیں، اور اپنی خواہش پرستی میں حد سے بڑھے ہوئے درجہ غلو میں نہیں یہاں تک کہ ان کے کافرہونے کا فیصلہ نہیں کیا گیا تو ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے لیکن مکروہ ہے۔ (ت)
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الخامس عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹)
ہزار ہا مسائل متواترہ اسی تفصیل پر دال ہیں تو حکم مطلق کیسے صحیح ہوسکتاہے ہاں افعال مذکورہ سوال کا مرتکب قابل بیعت نہیں کہ شرائط پیر سے اس کا سنی العقیدہ غیر فاسق معلن ہوناہے اور لعنت بہت سخت چیز ہے ہر مسلمان کو اس سے بچایاجائے بلکہ لعین کافر پر بھی لعنت جائز نہیں جب تک اس کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو، والعیاذ باللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۷: از مانیا والہ ڈاک خانہ قاسم پور گڈھی ضلع بجنور مرسلہ سید کفایت علی صاحب ۵/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مولوی قصبہ دیوبند مدرسہ مولوی اشرفعلی تھانوی کے یہاں سے سند یافتہ ہو ویسے ہی عقائد ہیں حقہ، سگریٹ وپان نماز خوردنوش میں شرکت، یہ سب باتیں چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت )
الجواب
دیوبندیوں کے عقائد والے مرتد ہیں ان کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا میل جول سب حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۸: ا ز گونڈل کاٹھیا وار مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب ۲۶/ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فریمیسن کیا ہے اور اس میں داخل ہونے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
فریمیسن سحر ہے اورجہاں تک اس کی نسبت معلوم ہوا وہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر ایمان کے سلب کے لئے رکھا گیا ہے فلہذا اس میں صرف مسلمان یا کتابی کو لیتے ہیں، معاذاللہ جو اس کے اثر کا معمول ہو جاتاہے بظاہر اپنے دین پر جو پہلے تھا زیادہ مستقیم ہوجاتاہے اور باطن میں تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے محض انکار
نقیض لہ شٰیطنا فہو لہ قرین ۱؎
( لہذا ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پھر وہ اس کا ہم نشین ہوجاتاہے۔ (اوروہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتاہے) ۔ت)کا کھلا مصداق ہوجاتاہے۔ ایک شیطان علانیہ اس کے ساتھ رہتاہے جسے وہ دیکھتاہے اوراس سے باتیں کرتاہے اور وہ اسے یہ راز ظاہر کرنے سے ہر وقت مانع رہتاہے، اوریہی سبب ہے کہ فریمیسن اگر شہر کے ایک کنارے سے گزرے تو دوسرے کو جو شہر کے دوسرے کنارے پر ہے اطلاع ہوجاتی ہے۔ ایک کاشیطان دوسرے کے شیطان کو اطلاع کردیتا ہے واللہ تعالٰی اعلم