Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
29 - 144
مسئلہ ۶۸ و ۶۹: مسئولہ عبدالرحیم صاحب دکان محمد عمر صاحب عطار     محلہ پاٹہ نالہ لکھنو

حضرت قامع ضلالت قیم ومروج سنت حسناتکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

(۱) جناب کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ زید نے مؤذن مسجد کی اذان کے ساتھ تمسخر کیا یعنی لفظ حیّ علی الصلوٰۃ سن کر یوں یوں مضحکہ اڑایا ''بھیا لٹھ چلا'' آیا زید کےلئے حکم ارتداد و سقوط نکاح ثابت ہوا یانہیں؟ اور زید کا نکاح ٹوٹا یانہیں؟ اس کی منکوحہ اس پر حرام ہوئی یانہیں؟ اور بغیر دوبارہ نکاح میں لائے ہوئے وطی کرنا حرام اور زنا کاری ہے یانہیں؟ اور بعد علم اگر منکوحہ زید نہ مانے اور ہمبستری ہوتی رہے تو منکوحہ زید پر بھی شرعا جرم زنا عائد ہوگایانہیں؟

(۲) زید نے ایک مرتبہ شعار اسلام داڑھی کے متعلق کہا کہ میں داڑھی نہیں رکھوں گا مجھے ان خفاش پروں کی ضرورت نہیں، یہ بھی دین کے ساتھ استہزاء اور موجب ردت وسقوط نکاح ہے یانہیں؟ اور زید کا عذر کہ ہم کو مسئلہ معلوم نہ تھا لہذا ہمارا نکاح باقی ہے۔ شریعت میں مقبول ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب

(۱) اذان سے استہزاء ضرور کفر ہے اگر اذان ہی سے اس نے استہزاء کیا تو بلا شبہہ کافرہوگیا، اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی، یہ اگر پھر مسلمان ہو اور عورت اس سے نکاح کرے اس وقت وطی حلال ہوگی ورنہ زنا، اور عورت اگر بلا اسلام ونکاح اس سے قربت پر راضی ہو وہ بھی زانیہ ہے۔ اور اگر اذان سے استہزاء مقصود نہ تھا بلکہ خاص اس مؤذن سے بایں وجہ کہ وہ غلط پڑھتاہے تو اس حالت میں زید کو تجدید اسلام وتجدید نکاح کاحکم دیا جائے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲) داڑھی کے ساتھ استہزاء بھی ضرور کفرہے۔ زید کاایمان زائل اورنکاح باطل اور عذر جہل غلط وعاطل کہ زید نہ کسی دور دراز پہاڑ کی تلی کا رہنے والا ہے نہ ابھی تازہ ہندو سے مسلمان ہوا ہے کہ اسے نہ معلوم ہو کہ  داڑھی شعار اسلام ہے۔ اور شعار اسلام سے استہزاءاسلام سے استہزاء ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ اس سے نکاح ٹوٹ جانانہ جانتاہو، مگر اس کا نہ جاننا اس کے نکاح کو محفوط نہ رکھے گا شیشے پر پتھر پھینکے شیشہ ضرورٹوٹ جائے گااگر چہ یہ نہ جانتاہو کہ اس سے ٹوٹ جاتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۰: مسئولہ حکیم محمد اکبر صاحب جگدیش کاچوک اودے پور میواڑ

جس شخص کے عقائد کاٹھکانہ نہ ہو دائرہ اسلام سے خارج ہے یانہیں؟
الجواب

عقائد کا ٹھکانہ نہ ہونا کئی معنی پر مشتمل ہوتاہے۔ کبھی یہ کہ اس کی صحت عقیدہ پر اطمینان نہیں، کبھی یہ کہ یہ مذبذب العقیدہ متزلزل العقیدہ ہے۔ کبھی سنیوں کی سی باتیں کرتاہے، کبھی بد مذہبوں کی سی ، ان دونوں پر معنی اسلام سے خارج ہونا لازم نہیں ہوتا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۱ تا ۷۳:  ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمد حبیب اللہ صاحب قادری رضوی خطیب مسجد جامع خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ

(۱) ہمزا د کیاہے؟ اس کے تسخیر کے لئے عمل کرنا کیساہے؟

(۲) آسیب، چڑیل وغیرہ شہید وغیرہ جو مشہور ہیں صحیح ہے یاغلط؟

(۳) دست غیب اور مصلی کے نیچے سے اشرفی وغیرہ کا نکلنا صحیح ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) ہمزاد از قسم شیاطین ہے۔ وہ شیطان کہ ہر وقت آدمی کے ساتھ رہتاہے وہ مطلقا کافر ملعون ابدی ہے سوا اس کے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھا وہ برکت صحبت اقدس سے مسلمان ہوگیا، صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامنکم من احد الا وقدوکل اﷲ قرینہ من الجن وقرینہ من الملئکۃ قالوا وایاک یارسول اﷲ قال وایای الاا ن اﷲ اعاننی علیہ فاسلم فلا یامرنی الابخیر ۱؎ اھ، اعنی علی روایۃ الفتح المؤیدۃ بمایأتی من الاحادیث۔
لوگو! تم میں سے کوئی شخص نہیں کہ جس کے ساتھ ہمزاد جن اور ہمزاد فرشتہ نہ ہو، لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ ارشاد فرمایا کہ ہاں میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالٰی نے میری مدد فرمائی کہ وہ مسلمان ہوگیا لہذا وہ مجھے سوائے بھلائی کے کچھ نہیں کہتا، اھ اس سے میری مراد فتح الباری کی روایت ہے کہ جس کی تائید آئندہ احادیث سے ہوتی ہے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب صفۃ المنافقین باب تحریش الشیطان الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۷۶)

(مسند احمد بن حنبل     عن ابن مسعود         المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۳۸۵)
اسی طرح طبرانی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی اور بزار حضرت عبداللہ بن عباس یا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فضلت علی الانبیاء بخصلتین کان شیطانی کافرا فاعاننی اﷲ علیہ حتی اسلم ۱؎ الحدیث
دوسرے انبیاء کرام پر دو باتوں میں مجھے فضیلت بخشی گئی، ایک یہ کہ میرا شیطان کافر تھا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے اس پر قوت دی یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا الحدیث (ت)
 (۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار     حدیث ۲۴۳۸     موسسۃ الرسالہ بیروت    ۳/ ۱۴۶)

(مجمع الزوائد البزار باب عصمتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عن القرین ۸/ ۲۲۵     وباب منہ خصائص     ۸/ ۲۶۹)
بہیقی وابونعیم دلائل النبوۃ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فضلت علی اٰدم بخصلتین کان شیطانی کافر افاعاننی اﷲ علیہ حتی اسلم وکن ازواجی عونالی وکان شیطان آدم کافراوزوجتہ عونا لہ علی خطیئتہ ۲؎۔
حضرت آدم پر مجھے دو خصلتوں میں فضیلت دی گئی، ایک یہ کہ میرا شیطان کافر تھا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے اس پر غلبہ دیا یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا اور میری بیویاں میری مدد گار ہیں، اور حضرت آدم کا شیطان کافر رہا اور انکی بیوی نے خطا پر ان کی مدد کی۔ (ت)
(۲؎ دلائل النبوۃ للبیہقی     باب ماجاء فی تحدث رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۵/ ۴۸۸)
اس کی تسخیر جو سفلیات سے ہو وہ تو حرام قطعی بلکہ اکثر صورتوں میں کفر ہے کہ بے ان کے خوشامد اور مدائح ومرضیات کے نہیں ہوتی، اور جو علویات سے ہو تو اگر چہ بصولت وسطوت ہے مگر اس کا ثمرہ غالبا اپنے کاموں میں شیطان سے ایک نوع استعانت سے خالی نہیں ہوتا کہ وہ غلبہ قاہرہ کہ :
ومن یزغ منہم عن امرہ نذقہ من عذاب السعیر ۳؎۔
اور ان میں سے جو کوئی اس کے حکم سے منہ پھیرے ہم اسے بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم    ۳۴/ ۱۲)
جو استجابت دعا
ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی ۱؎
 (مجھے ایسی بادشاہی دے ڈال جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ ت) سے تاشی ہر ایک کو کہاں نصیب اور بالفرض نہ بھی ہو تو کافر شیطان کی مخالطت ضرور مورث تغیر احوال وحدوث ظلمت،
(۱؎ القرآن الکریم             ۳۸/ ۳۵)
حضرت سیدنا شیخ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ کم از کم وہ ضرر کہ صحبت جن سے ہوتاہے یہ کہ آدمی متکبر ہوجاتاہے والعیاذباللہ ، تو راہ سلامت اس سے بعد ومجانبت ہی میں ہے، رب عزوجل تو اس دعا کا حکم دے کہ
اعوذ بک رب ان یحضرون ۲؎
 (اے میرے پرودگار! میں تیری پناہ مانگتاہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس حاضر ہوں۔ ت) اوریہاں یہ رٹ لگائی جائے کہ
حاضر شو حاضر شو والعیا ذ باللہ تعالٰی واللہ تعالٰی اعلم۔
 (حاضر ہوجا، حاضر ہوجا، اور اللہ تعالٰی کی پناہ ، اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ ت)
 (۲؎ القرآن الکریم            ۲۳/ ۹۸)
 (۲) ہاں جن اور ناپاک روحیں مرد وعورت احادیث سے ثابت ہیں اور وہ اکثر ناپاک موقعوں پر ہوتی ہیں ، انھیں سے پناہ کے لئے پاخانہ جانے سے پہلے یہ دعا وار د ہوئی:
اعوذباﷲ من الخبث والخبائث ۳؎۔
میں گندی اورناپاک چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگتاہوں۔ (ت)
 (۳؎ مسند امام احمد بن حنبل     عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۳/ ۱۰۱)
وہ سخت جھوٹے کذاب ہوتے ہیں اپنا نام کبھی شہید بتاتے ہیں او ر کبھی کچھ، اس وجہ سے جاہلان بے خرد ہیں شہیدوں کا سر پر آنا مشہور ہوگیا ورنہ شہداء کرام ایسی خبیث حرکات سے منزہ ومبراہیں، واللہ تعالٰی اعلم
 (۳) ہاں صحیح ہے مگر اس عملداری میں کمیاب بلکہ نایاب ہے۔ دست غیب کے نہایت درجہ کا حاصل اب صرف فتوح ظاہرہ ووسعت رزق ہونا ہے۔ پھر اگردست غیب اس طرح ہو کہ جن کو تابع کرکے اس کے ذریعہ سے لوگوں کے مال معصوم منگوائے جائیں توا شد سخت حرام کبیرہ ہے اور اگر سفلیات سے ہوتو قریب کفر اور علویات سے ہو توخود  یہ شخص ماراجائے گا یا کم از کم پاگل ہوجائے گا یا سخت سخت امراض وبلایا میں گرفتار ہو اعمال علویہ کو ذریعہ حرام بنانا ہمیشہ ایسے ثمرے لاتاہے اور اس کے حرام قطعی ہونے میں کیا شبہہ ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ۴؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : (لوگو!) اپنے مال آپس میں ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ۔ ت)
(۴؎القرآن الکریم                    ۲/ ۱۸۸)
اور اگر کسی دوسرے کی ملک معصوم نہ لائی جاتی ہو بلکہ خزانہ غیب سے اس کو کچھ پہنچایا جائے یا مال مباح غیر معصوم اور وہ جن کہ مسخر کیا جائے مسلمان ہو نہ کہ شیطان ،اور اعمال علویہ سے ہو نہ کہ سفلیہ سے اور اسے منگا کر مصارف محمودہ یا مباحہ میں صرف کرے، نہ کہ معاذاللہ حرام واسراف میں، تو یہ عمل جائز ہے، اور جو اس طریقے سے ملے اس کا صرف کرنا بھی جائز کہ جس طرح کسب حلال کے اور طُرق ہیں اسی طرح ایک طریقہ یہ بھی ہے۔ دست غیب کا، سب سے اعلٰی عمل قطعی عمل، یقینی عمل، جس میں تخلف ممکن نہیں اور سب اعمال سے سہل تر خود قرآن عظیم میں موجود ہے، لوگ اسے چھوڑ کر دشوار دشوار ظنیات بلکہ وہمیات کے پیچھے پڑتے ہیں اور اس سہل وآسان یقینی وقطعی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔
قال اﷲ تعالٰی ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا ویزرقہ من حیث لا یحتسب ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: جو اللہ سے ڈرے تقوٰی وپرہیزگاری کرے اللہ تعالٰی عزوجل ہر مشکل سے اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶۵ /۲)
اور دست غیب کسے کہتے ہیں، اسی طرح لوگ عمل حُب کے پیچھے خستہ وخوار پھرتے ہیں، اور نہیں ملتا، اور حُب کا سہل ویقینی قطعی عمل قرآن عظیم میں مذکور ہے اس کی غرض نہیں کرتے۔
قال اﷲ تعالٰی ان الذین اٰمنو ا وعملوا الصلحٰت سیجعل لہم الرحمٰن ودّا ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے قریب ہے کہ یہ رحمان ان کے لئے محبت کردے گا (دلوں میں ان کی حب ڈال دے گا)
 (۲؂القرآن الکریم                 ۱۹ /۹۶)
نسأل اﷲ حسن التوفیق
(ہم اللہ تعالٰی سے حسن توفیق مانگتے ہیں۔ ت)
واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter