Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
28 - 144
(۲) حلال کام میں تیس روپیہ مہینہ پاتاہے اور نصرانی ناقوس بجانے پر ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار دیں گے اس منفعت کے لئے یہ نوکری جائز نہیں۔

(۳) یوہیں بھٹی کے لئے شیرہ نکالنے کی، فتاوٰی امام اجل قاضی خان میں ہے:
رجل اٰجر نفسہ من النصاری لضرب الناقوس کل یوم بخسمۃ دراہم ویعطی فی عمل اٰخر کل یوم درہم قال ابراہیم بن یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی لاینبغی ان یؤاجر نفسہ منہم انما علیہ ان یطلب الرزق من موضع اٰخر وکذا لو اٰجر نفسہ منہم بعصر العنب للخمر لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ ولسم لعن العاصر ۲؎ اھ۔
ایک آدمی عیسائیوں کے ہاں بگل بجانے کی نوکری اختیار کرتاہے کہ اسے ہر دن اس کام پر پانچ  درھم ملیں گے لیکن اگر کوئی دوسرا جائز کام کرے تو اس پر یومیہ ایک درہم ملے گا امام ابراہیم بن یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ عیسائیوں کے باں بگل بجانے کی نوکری کرے، بلکہ اس کے لئے لازم ہے کہ وہ کسی دوسری جگہ سے رزق حلال تلاش کرے،اوریہی حکم ہے اس شخص کا جو شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑنےکی ملازمت کرتاہے اس لئے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس باب میں جن بدنصیبوں پر لعنت فرمائی ان میں انگور نچوڑنے والا بھی شامل ہے (عبارت مکمل ہوگئی)۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الحظروالاباحۃ     نولکشور لکھنؤ        ۴/ ۷۸۰)
اقول:  ولاینبغی ہھنا بمعنی لایجوز بدلیل قولہ ''علیہ'' فانہ لایجاب وبدلیل تشبیہ فی الحاکم بماصح علیہ اللعن۔
اقول: (میں کہتاہوں) لاینبغی یہاں بمعنی لایجوز ہے۔ یعنی اس کے لئے یہ جائز ہی نہیں، اور اس کی دلیل مصنف کا یہ قول ''علیہ'' ہے کیونکہ لفظ علی ایجاب کے لئے آتا ہے اور اس دلیل سے کہ مصنف نے اس مسئلے کوحکم میں اس سے تشبیہ دی کہ جس پر لعنت ہے۔ (ت)

(۴و ۵) موچی کو نیچری وغیرہ فاسقانہ وضع کا جوتا بنانے یا درزی کو ایسی وضع کے کپڑے سینے پر کتنی ہی اجرت ملے اجازت نہیں، کہ معصیت پر اعانت ہے۔
خانیہ میں متصل عبارت مذکورہ ہے:
وکذا الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذٰلک کثیراجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۱؎ اھ، اقول: ولایستحب ہھنا للنہی لاجل التشبیہ المذکور و بدلیل الدلیل ففی الخانیۃ مسئلۃ الطبل لایجوز لانہ اعانۃعلی المعصیۃ ۲؎ وفی اوائل شہادات الہندیۃ عن المحیط الاعانۃ علی المعاصی من جملۃ الکبائر ۳؎۔
اوریہی حکم ہے موچی اور درزی کا کہ جب اسے کسی ایسی چیز کے لینے اور بنانے پر اُجرت دی جائے جو فاسقوں کی وضع اور شکل کا لباس ہو، اور اس میں اسے زیادہ اجرت دینے کا وعدہ کیا جائے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ کام کرے اس لئے کہ گناہ پر یہ دوسرے کی امداد کرناہے۔ اھ اقول (میں کہتاہوں کہ) یہاں ''لایستحب'' بمعنی نہی ہے تشبیہ مذکور کی وجہ سے، اور دلیل کی دلیل کی وجہ سے چنانچہ فتاوٰی قاضی خاں میں طبلہ بجانے کے متعلق ہے کہ جائز نہیں اس لئے کہ یہ گناہ پر امداد دینا ہے اور فتاوٰی عالمگیری کی بحث ''اوائل شہادات'' میں محیط سے نقل کیا کہ گناہ کے کاموں میں کسی کی امداد کرنا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتا ب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر والمس         نولکشور لکھنؤ        ۴/ ۷۸۰)

(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتا ب الحظرولاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ     نولکشور لکھنؤ        ۴/ ۷۹۴)

(۳؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الشہادات الباب الاول     نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۴۵۱)
(۶) لکڑی جنگل سے مفت مل سکتی ہے اور ایک شخص لینے نہیں دیتا جب تک اسے رشوت نہ دو، دینا حرام، بحرالرائق میں ہے:
وفی القنیۃ قبیل التحری الظلمۃ تمنع الناس من الاحتطاب من المروج الا بدفع شیئ الیہم فالدفع والاخذ حرام لانہ رشوۃ ۱؎۔
قنیہ کی بحث تحری، سے تھوڑا پہلے یہ مسئلہ مذکورہے کہ ظالم لوگ چراگاہ سے لوگوں کو لکڑیاں نہیں لانے دیتے جب تک کہ انھیں کچھ نہ دے، اور دینااور لینا دونوں حرام ہیں اس لئے کہ یہ رشوت ہے۔ (ت)
(۱؎ بحرالرائق     کتاب القضاء     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶/ ۲۶۲)
 (۷)کعبہ معظمہ کی داخلی کس درجہ منفعت عظیمہ ہے مگر بے لئے دئے نہ کرنے دیں تو جائز نہیں کہ اس پر لینا حرام ہے تو دینا بھی حرام ، اور حرام محض منفعت کے لئے حلال نہیں ہوسکتا،
ردالمحتارمیں ہے:
فی شرح اللباب ویحرم اخذ الاجرۃ لمن یدخل البیت اویقصد زیارۃ مقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام بلاخلاف بین علماء الاسلام وائمۃ الانام کما صرح بہ فی البحر وغیرہ اھ وقد صرحوا بان ماحرم اخذہ حرم دفعہ الا لضرورۃ ولا ضرورۃ ہنا لان دخول البیت لیس من مناسک الحج ۲؎ اھ۔
شرح لباب میں ہے اس شخص کو اجرت دینا حرام ہے جو کسی کو کعبہ شریف کے اندر لے جائے، یا وہ مقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کرنے کاارادہ کرے، اس مسئلہ میں تمام علماء کا اتفاق ہے۔ علماء اسلام اور ائمہ انام میں سے کسی کا اختلاف نہیں جیسا کہ ''بحررائق'' وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی اھ، اہل علم نے یہ تصریح فرمائی کہ جس چیز کا لینا حرام اس چیز کا دوسرے کو دینا بھی حرام ہے۔ مگریہ کہ خاص مجبوری ہو، اور یہاں کوئی مجبوری نہیں، کیونکہ کعبہ شریف کے اندر داخل ہونا احکام حج میں سے نہیں اھ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الحج باب الہدی     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۵۶۔ ۲۵۵)
اس پر حواشی فقیر میں ہے:
ولاہو واجبا فی نفسہ فمن الجہل ارتکابہ لاتیان مستحب بل این الاستحباب مع لزوم الحرام وما عن الامام رضی اﷲ تعالٰی عنہ من بذلہ شطر مالہ للسدنۃ لیبیت لیلۃ فی الکعبۃ الشریفۃ فختم فیہا القراٰن الکریم فی رکعتین فاقول:  یجب انہ کان بعد التصریح بنفی الاجرۃ والصریح یفوق الدلالۃ کما نصوا علیہ فی الخانیۃ وغیرہا۔
اور یہ اس بناء پر بذاتہٖ واجب بھی نہیں تو پھر مستحب ادا کرنے کے لئے اجرت دینے کا ارتکاب جہالت ہے بلکہ لزوم حرام کے ساتھ استحباب کیسے ہوسکتاہے۔ اور جو کچھ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے مال کا کچھ حصہ خادمان کعبہ کےلئے خرچ کیا تاکہ خانہ کعبہ میں رات گزاریں اور وہاں دو نفلوں میں پورا قرآن مجید ختم کریں، فاقول: (پس میں کہتاہوں) ضروری ہے کہ یہ کام نفی اجرت کی تصریح کے بعد ہو، اور صریح کلام دلالت سے فائق (اوپر) ہوتا ہے، جیسا کہ فتاوٰی قاضٰیخاں وغیرہ میں ائمہ کرام کی اس پر تصریح موجود ہے۔ (ت)

(۸) وقف اگر قابل انتفاع نہ رہے اسے بیچ کراس کے عوض دوسری زمین خرید کر وقف کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ قابل انتفاع ہے اور اس کی قیمت کو دوسری جگہ وہ زمین مل سکتی ہے کہ اس سے سو حصے زائد منفعت رکھتی ہو تبدیل جائز نہیں،
فتح القدیرمیں ہے:
الاستبدلال لا عن شرط ان کان لخروج الوقف عن انتفاع الموقوف علیہم بہ فینبغی ان لا یختلف فیہ وان کان لالذٰلک بل امکن ان یوخذ بثمن الوقف ماہو خیر منہ فینبغی ان لا یجوز لان الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۱؎ (ملتقطا)
تبادلہ کرنا بغیر شرط جبکہ وقف ''موقوف علیہ'' کے لئے قابل انتفاع نہ ہو، مناسب ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہ کیا جائے، اور اگر یہ نہ ہو (یعنی وقف قابل انتفاع ہو)لیکن وقف کو فروخت کردیا جائے اور اس کے بدل اس سے اعلٰی اور عمدہ زمین خرید لی جائے تو مناسب ہے کہ یہ صورت جائزنہ ہو، کیونکہ واجب یہ ہے کہ جس حالت پر پہلے وقف تھا اسی حالت پر اسے باقی رکھا جائے اور اس میں کوئی زیادت اور اضافہ نہ کیا جائے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر         کتاب الوقف     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۴۴۰)
بالجملہ مسائل بکثرت ہیں کہ محض منفعت مبیح ممنوع نہیں ہوسکتی۔
فانقلت الیس فی سیر الہندیۃ عن الذخیرۃ وفی کراہیتہا عن المحیط مانصہ وان اراد الخروج للتجارۃ الی ارض العدو بامان فکرہا (ای الابوان) خروجہ فان کان امرایخاف علیہ منہ وکانوا قوما یوفون بالعہد یعرفون بذٰلک ولہ فی ذٰلک منفعۃ فلا باس بان یعصیھما ۱؎ اھ فقد ابیح عصیا نہما للمنفعۃ اقول:  یجب ان یراد بہ مااذا کان نہیھما لمجرد محبۃ وکراہۃ فراقہ غیر جاز م ولذا فرضوا خروجہ بامان وکونہم معروفین بالوفاء حتی لا یخاف علیہ منہ اما اذا خیف لم یحل لہ الخروج بغیر اذنہما لان نہیھما اذن یکون نہی جزم ففی الکتابین بعدہ وانکان یخرج فی تجارۃ ارض العدو مع عسکر من عساکر المسلمین فکرہ ذٰلک ابواہ او احد ہما فان کان ذٰلک العسکر عظیما لایخاف علیہم من العد وبالکبرالرائ فلا باس بان یخرج وان کان یخاف علی العسکر من العدو الغالب الرائ لایخرج بغیر اذنہما و کذٰلک ان کانت سریۃ اوجریدۃ الخیل لایخرج الاباذنہما لان الغالب ہو الہلاک فی السرایا ۱؎ اھ فتسمیۃ عصیانا بحسب الصورۃ الا تری ان العبد بسبیل من خیرۃ نفسہ فی نہی الشرع الارشادی الغیر الجازم فکیف بنہی الابوین کذٰلک لو لم یرد ذٰلک فکیف یحل عصیانھما لمنفعۃ مالیۃ وہذا نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قائلا ولا تعقن والدیک وان امراک ان تخرج من اہلک ومالک رواہ احمد ۲؎ بسند صحیح علی اصولنا والطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولفظہ فی اوسط الطبرانی اطع والدیک وان اخرجاک من مالک وعن کل شیئ ہو لک۳؂ فافہم وتثبت بالتنبہ فلیس الفقہ الابالتفقہ ولا تفقہ الا بالتوفیق۔
اگر کہا جائے کہ کیا فتاوٰی عالمگیری بحث سیر، بحوالہ ذخیرہ اور بحث کراہیۃ بحوالہ محیط میں یہ مذکور نہیں کہ جس کی اس نے تصریح فرمائی اگر تجارت کے لئے سرزمین دشمن کی طرف اجازت نامہ لے کر جانا چاہے لیکن والدین اس کے وہاں جانے کو ناپسند کریں، اگر معاملہ پر امن ہو، اس میں کوئی خطرہ اور اندیشہ نہ ہو، اور وہ وعدہ وفا کرتے ہوں اور اس وصف میں مشہور ومعروف ہوں اور اس کا بھی وہاں جانے میں فائدہ ہو، تو پھر اس صورت میں والدین کاحکم نہ ماننے میں کوئی حرج نہیں اھ (یہاں دیکھئے کہ) حصول فائدہ کےلئے والدین کی نافرمانی کو جائز اور مباح قرار دیا گیا اقول: ( میں کہتاہوں) واجب ہے کہ اس سے وہ صورت مراد ہو کہ جس میں والدین کا اور اسے روکنا محض محبت اور شفقت کے طور پر ہو اور اس کی جدائی کا ناپسند ہونا غیر یقینی ہو، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے خروج کو امن اور وہاں کے لوگوں کا وفادار ہونے میں مشہور ومعروف ہونے پر مسئلہ کو فرض کیا یہاں تک کہ اسے اس معاملہ میں کوئی خوف وخطرہ نہ ہو، لیکن اگر خطرہ واندیشہ ہو تو پھر والدین کی اجازت بغیر اس کا باہر جانا اور سفر کرنا جائز نہیں، اس لئے کہ دریں صورت ان کی نہی یقینی ہوگی، پھر ازیں بعد دو کتابوں میں مذکور ہے اگر کاروبار کے لئے دشمن کے ملک میں اسلامی فوجوں میں سے کسی اسلامی فوج کے ساتھ باہر جائے تو والدین یا ان میں سے کوئی ایک اس جانے کو ناپسند کریں، پس اگریہ لشکر عظیم ہو کہ ان کی موجودگی میں غالب رائے کے مطابق دشمن سے کوئی خطرہ اور کھٹکا نہ ہو تو پھر اس صورت میں اس کے باہر جانے میں کچھ حرج نہیں لیکن اگر لشکر اسلام کو غالب رائے کے مطابق دشمن سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ وخطرہ ہو تو پھر والدین کی اجازت کے بغیر نہ جائے اور اسی طرح اگر فوجی دستہ یا گھڑ سواروں کا رسالہ  ہو تو بغیر اجازت والدین باہر نہ جائے کیونکہ فوجی دستوں میں غالبا ہلاکت ہوا کرتی ہے اھ پھر اس کو ''عصیان'' کہنا بلحاظ صورت ہے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ شرعی غیر جازم نہیں اورشادی کے باوجود بندے کو اپنے نفس کا اختیا رہوتاہے، پھر جب والدین کی نفی بھی ایسی ہے تو کیسے نہ ہوگااگریہ مراد نہ ہو تو پھر ا ن کا ''عصیان'' دنیاوی مالی فائدے کے لئے کیسے جائز ہوگا، یہ ہمارے حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمارہے ہیں ''اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو اگر چہ وہ تمھیں اہل وعیال اور مال سے الگ ہونے کا حکم دیں'' امام احمد نے ہمارے اصولوں کے مطابق سند حسن کے ساتھ اس کو روایت فرمایا، اور امام طبرانی نے معجم الکبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے اس کو روایت فرمایا۔ اور اس کے الفاظ ''اوسط طبرانی'' میں یہ ہیں: ''(اے شخص!) اپنے والدین کی اطاعت کیجئے اگر چہ تمھیں تمھارے مال اور تمھارے ہر مملوکہ شے سے تمھیں الگ اوربرطرف کردیں'' اس کو خوب سمجھ لیجئے، اور ہوشیاری سے ثابت قدم رہیے، کیونکہ فقہ بغیر سمجھے نہیں ہوسکتی، اور سمجھ بوجھ حصول توفیق کے بغیر نہیں ہوسکتی ت)
رسالہ جلی النص فی اماکن الرخص ختم شد)
 (۱؎ فتاوی ٰ ہندیہ         کتا ب السیر الباب الاول         نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۱۸۹)

(فتاوی ٰ ہندیہ  کتاب الکراہیۃ     الباب السادس والعشرون         نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۶۶۔ ۳۶۵)

 (۱؎ فتاوی ہندیہ         کتاب السیر الباب الاول         نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۱۸۹)

(فتاوی ہندیہ   کتا ب الکراھیۃ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۶۶)

(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل     ترجمہ معاذ بن جبل         دارالفکر بیروت    ۵/ ۲۳۸)

(۳؎ المعجم الاوسط للطبرانی     ترجمہ معاذ بن جبل   ٭ المعارف الریاض     ۸/ ۴۶۰)
Flag Counter