Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
27 - 144
علماء فرماتے ہیں: مراتب پانچ ہیں:

(۱) ضرورت (۲) حاجت (۳) منفعت (۴) زینت (۵) فضول

امام محقق علی الاطلاق نے اسے اقسام اکل میں دکھایا اور ضرورت یہ بتائی کہ بے اس کے ہلاک یا قریب ہلاک ہو، اور حاجت یہ کہ حرج ومشقت میں پڑے، باقیوں کی تعریف نہ فرمائی مثال بتائی، منفعت گیہوں کی روٹی بکری کا گوشت، زینت حلوا، مٹھائی، فضول طعام شبہہ حرام،
ونقلہ فی غمز العیون ۱؎ من قاعدۃ الضرر یزال واقتصر علیہ
 (غمز العیون میں اسے اس قاعدے سے نقل فرمایا کہ نقصان دور کیا جائے۔ اور اسی پر اکتفاء کیا۔ ت)
 (۱؎ غمز عیون البصائر القاعدۃ الخامسۃ الضرر یزال     ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/ ۱۱۹)
فقیر بقدر فہم کلام عام کرے فاقول: (پس میں کہتاہوں) پانچ چیزیں ہیں جن کے حفظ کو اقامت شرائع الٰہیہ ہے دین وعقل ونسب ونفس ومال عبث محض کے سوا تمام افعال انھیں میں دورہ کرتے ہیں اب اگر فعل (کہ ترک بمعنی کف کو کہ وہی مقدور وزیر تکلیف ہے نہ کہ بمعنی عدم کما فی الغمز وغیرہ بھی شامل ) اگر ان میں کسی کا موقوف علیہ ہے کہ بے اس کے یہ فوت یا قریب فوت ہو تو یہ مرتبہ ضرورت ہے جیسے دین کے لئے تعلم ایمانیات و فرائض عین، عقل ونسب کے لئے ترک خمروزنا، نفس کے لئے اکل وشرب بقدر قیام بنیہ، مال کے لئے کسب ودفع غصب امثال ذٰلک، اور اگر توقف نہیں مگر ترک میں لحوق مشقت وضرر وحرج ہے تو حاجت جیسے معیشت کے لئے چراغ کہ موقوف علیہ نہیں ابتدائے زمانہ رسالت
علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ
 (صاحب رسالت پر عمدہ درود اور ثناء ہو۔ ت) میں ان مبارک مقدس کاشانو ں میں چراغ نہ ہوتا،
ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:
والبیوت یومئذ لیس فیہا مصابیح، رواہ الشیخان ۲؎۔
گھروں میں ان دنوں چراغ نہیں ہوتے تھے بخاری ومسلم نے اسے روایت کیا۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ علی الفروش    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۵۶)

(صحیح مسلم  کتاب الصلوٰۃ     باب سترۃ المصلی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱/ ۱۹۸)
مگر عامہ کے لئے گھر میں بالکل روشنی نہ ہونا ضرورباعث مشقت وحرج ہے، اوراگر یہ بھی نہ ہو مگر حصول مفید ہے نفس فائدہ مقصودہ اس سے حاصل ہوتا ہے، تو منفعت جیسے مکان کے ہر دالان میں ایک چراغ، اوراگر فائدہ مقصودہ کی تحصیل اس پر نہیں بلکہ ایک امرزائد زیب وزیبائش بقدر اعتدال کے لئے ہے تو زینت جیسے چراغ کی جگہ فانوس، اوراگر اس سے اتنافائدہ بھی نہیں یا اس میں افراط اور خروج عن الحد ہے فضول جیسے بے کسی نیت محمودہ کے گھر میں چراغاں، اب مواضع ضرورت کا استثناء تو بدیہی جس کے لئے اصل دوم کافی اور اس کی فروع معروف ومشہور اور استفسار سے بعید و مہجور، مثلا کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ کر پڑھے ورنہ لیٹ کر ورنہ اشارہ سے
الی غیر ذٰلک مما لایخفی
(ان کے علاوہ باقی صورتیں جو کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ت) ا س کے لئے تمام ممنوعات کہ کسی حال میں قابل اباحت یا متحمل رخصت ہوں یا مرخص ہوجاتے ہیں نہ مثل زنا وقتل ناحق مسلم کہ کسی شدید سے شدید ضرورت کے لئے بھی مرخص نہیں ہوسکتے، یہاں تک کہ اگر صحیح خوف قتل کے سبب بھی ان پر اقدام کرے گا مجرم ہوگا، حکم ہے کہ بازر ہے اگر چہ قتل ہوجائے، اگر مارا گیا اجر پائے گا
کما نصوا علیہ اصولا و فروعا
(جیسا کہ اصول وفروع کے لحاظ سے ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی۔ ت) پھر اپنی ضرورت تو ضرورت ہے ہی دوسرے مسلم کی ضرورت کا بھی لحاظ فرمایا گیا۔ مثلا:
 (۱) دریا کے کنارے نماز پڑھتا ہے اور کوئی شخص ڈوبنے لگااور یہ بچا سکتا ہے لازم ہے کہ نیت توڑ ے اور اسے بچائے، حالانکہ ابطال عمل حرام تھا۔
قال تعالٰی لاتبطلوا اعمالکم ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو اپنے اعمال کو باطل نہ کیا کرو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم       ۲۷/ ۳۳)
 (۲) نماز کا وقت تنگ ہے ڈوبتے کو بچانے میں نکل جائے گا، بچائے، اور نماز قضاء پڑھے اگر چہ قصد ا قضا کرنا حرام تھا۔

(۳) نماز کا وقت جاتاہے اور قابلہ اگر نماز میں مشغول ہو بچے پر ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نماز کی تاخیر کرے۔

(۴) نماز پڑھتاہے اور اندھا کنویں کے قریب پہنچا، اگر یہ نہ بتائے وہ کنویں میں گرجائے نیت تو ڑکر بتانا واجب ہے۔ اشباہ میں ہے :
تخفیفات الشرع انواع الخامس تخفیف تاخیر کتاخیر الصلوٰۃ عن وقتہا فی حق مشتغل بانقاذ غریق  و نحوہ ۱؎۔
شریعت کی سہولتوں کی کئی قسمیں ہیں، پانچویں قسم یہ ہے کہ تاخیر کی سہولت ہے۔ جیسے دو شخص جو کسی ڈوبتے ہوئے کو بچائے تو اس کا اپنی نماز میں تاخیر کرنا۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ         ادارۃ القرآن وعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/ ۱۱۷)
ردالمحتار کتا ب الحج میں ہے:
جاز قطع الصلوٰۃ اوتاخیرہا لخوفہ علی نفسہ اومالہ او نفس غیرہ اومالہ کخوف القابلۃ علی الولد والخوف من تردی اعمی وخوف الراعی من الذئب وامثال ذٰلک ۲؎۔
نماز توڑنا دینا یا اس میں تاخیر کرنا جائزہے جبکہ کسی شخص کو اپنی جان یا اپنے مال کا خطرہ ہو، یا کسی دوسرے کی جان ومال کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہو، جیسے دایہ کا بچے کی پیدائش کے وقت ڈریا اندھے کے کنویں میں گرنے کا خوف، یا چرواہے کا بھیڑئیے سے خطرہ، یا اس قسم کے دوسرے مواقع (ت)
(۲؎ ردالمحتار         کتاب الحج             داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۱۴۴)
اقول: (میں کہتاہوں) یہ بھی حقیقۃ اپنے نفس کی طرف راجع کہ یہ شرعا ان کے بچانے پر مامور ہے ؎
اگر بینم کہ نابینا وچاہ است     اگر خاموش نبشینم گناہ است
 (اگر میں یہ دیکھوں کہ اندھا اور کنواں ہے تو اگر اس موقع پر خاموش رہوں تو گناہ ہے۔ ت)

ولہذا جن کا نفقہ اس پر لازم ہے  بے ان کا بندوبست کئے حج کو نہ جائے اور جن کا نفقہ اس پر نہیں اگر چہ اس کے چلے جانے سے ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو اس پر لحاظ لازم نہیں کہ یہ یہاں رہتاجب بھی تو انھیں نفقہ دینے کا شرعا مامور نہ تھا،
پھر عالمگیریہ میں ہے:
کرھت خروجہ (ای للحج) زوجتہ واولادہ او من سواہم ممن تلزمہ نفقتہ وہو لایخاف الضیعۃ علیہم فلا باس بان یخرج ومن لاتلزم نفقتہ لوکان حاضرا فلاباس بالخروج مع کراہتہ وان کان یخاف الضیعۃ علیہم ۱؎۔
اگر اس کی بیوی اور بچے یا ان کے علاوہ دوسرے افراد کنبہ کہ جن کا خرچہ اس پر لازم ہے اگر یہ حج کے لئے جائے اوریہ سب اس کے جانے کو پسند نہ کریں اور اسے ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر اس صورت میں اس کے جانے میں کوئی حرج نہیں اور جن لوگوں کا خرچہ اس پر لازم نہیں، اگر یہ موجود ہو تو ناپسندیدگی کے باجود اس کے باہر جانے میں کوئی حرج نہیں اگر چہ اس کے ضائع ہونے کا خدشہ ہو۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ         کتا ب المناسک الباب الاول     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۲۲۱)
اور زینت وفضول کے لیے کسی ممنوع شرعی کی اصلا رخصت نہ ہوسکنا بھی ایضاح سے غنی جس پر اصل اول بدرجہ اولٰی دلیل وافی ورنہ احکام معاذاللہ ہوائے نفس کا بازیچہ ہوجائیں ، اقول: یوہیں مجرد منفعت کے لئے کہ وہ اصل مدلول اصل اول اور اس پر کتب معتمدہ میں فروع کثیرہ دال:
 (۱) حقنہ بضرورت مرض جائز ہے اور منفعت ظاہرہ مثلا قوت جماع کے لئے ناجائز ہے ۔

ردالمحتار میں ذخیرہ امام اجل برہان الدین محمود سے ہے:
یجوز الاحقان للمرض فلواحتقن لا لضرورۃ بل لمنفعۃ  ظاہرۃ بان یتقوی علی الجماع لایحل عندنا ۲؎ اھ
بیما ر کے لئے حقنہ کرنے کی اجازت ہے اگر اس نے بغیر ضرورت حقنہ لیا کسی ظاہر ی فائدے کے لے مثلا اس لئے کہ جماع پر قوی ہو تو ہمارے لئے یہ حلال نہیں اھ (ت)
(۲؎ ردالمحتار  کتاب الحظرو الاباحۃ فصل فی النظر والمس     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۳۷)
اس پر حواشی فقیر میں ہے:
اقول: ہذا ظاہر اذا کان معہ من القوۃ مایقدر بہ علی اداء حق المرأۃ فی الدیانۃ وتحصین فرجہا اما اذاعجز عن ذٰلک فہل یعد ضرورۃ الظاہر لالانہ بسبیل من ان یطلقہا فتنکح من شاءت فان الواجب علیہ احد امرین امساک بمعروف او تصریح باحسان فان عجز عن الاول لم یعجز عن الاخر نعم المعہود فی الہندان النساء یتعیرن بالزواج الثانی تعیراشدیدالکن ہذا من قبلہن بجہلہن لیس علیہ فیہ اخذ فلیتأمل ۱؎ انتہی ماکتبت علیہ۔
میں کہتاہوں کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جب اس میں قوت مردمی موجو دہو کہ جس کی وجہ سے یہ عورت کا حق ادا کرنے پرقدرت رکھتا ہے دیانت اور حفاظت فروج کے لحاظ سے لیکن اگر یہ اس سے عاجز ہے تو کیا اس کو بھی ضرورت میں شمار کیا جائے گا ؟ ظاہر یہ ہے کہ صورت ضرورت میں شمار نہیں، کیونکہ اس کے لئے یہ راستہ ہے کہ اس صورت میں یہ عورت کو طلاق دے دے تو پھر وہ جس سے چاہے نکاح کرلے، کیونکہ اس پر دوباتوں میں سے ایک واجب ہے۔ یا بھلائی کے ساتھ روک رکھنا یا احسان کرتے ہوئے چھوڑ دینا، اگریہ پہلی بات سے عاجز ہوگیا تو دوسری سے عاجز نہیں، ہاں البتہ ہندوستان میں مشہور ومتعارف یہ ہے کہ عورتیں دوسرا نکاح کرنے سے سخت عار محسوس کرتی ہیں، لیکن یہ پابندی عورتوں کی طرف سے عائد کردہ ہے ان کی ناسمجھی کی وجہ سے، اس میں اس پر کوئی گرفت نہیں، اس بات میں غور وفکر کرنا چاہئے، یہ آخر عبارت ہے جو میں نے اس کے حاشیہ میں لکھی۔ (ت)
 (۱؎ جدالممتارعلی ردالمحتار)
Flag Counter