Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
26 - 144
رسالہ

جلی النص فی اماکن الرخص (۱۳۳۷ھ)

(مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
مسئلہ ۶۷: بعض اوقات بعض ممنوعات میں رخصت ملتی ہے ان کی اجمالی تفصیل کیا ہے؟
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، الحمد ﷲ الذی بعث نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشریعۃ سمحۃ سہلۃ غراء بیضاء لیلہا کنہار ہا وافضل الصلوٰۃ واکمل السلام علی من احل لنا الطیبات وحرم علینا الخبائث ووضع عنا ما کان علی الامم الخالیۃ من الاصرو الاغلال واو زارہا وعلی الہ وصحبہ واولیائہ وحزبہ الذین جعلہم ربہم امۃ وسطا فقالوا بالحق وقاموابالعدل وفاز وابفیوض الشریعۃ وانوارہا وعلینا بہم و لہم وفیہم یاارحم الراحمین ابدالابدین فی کل ان وحین عدد اوبار الہدایا واصواف الضحایا واشعار ہا اٰمین!
اللہ تعالٰی کے مقدس نام سے شروع کرتاہوں جو بے حد رحم کرنے والا مہربان ہے ہر قسم کی تعریف اس اللہ تعالٰی کے لئے ہے کہ جس نے ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایسی شریعت دے کر بھیجا جو کشادہ، نرم، آسان اور بے حد روشن ہے جس کی رات دن کی طرح ہے۔ اور عمدہ درود اور سب سے زیادہ کامل سلام ان پر نازل  ہو کہ جنھوں نے ہمارے لئے پاک اور ستھری چیزیں حلال فرمادیں، اور گندی چیزی ہم پر حرام کردیں، اور جو بوجھ طوق اور گناہ گزشتہ امتوں کے ذمے تھے وہ ہم سے اتار دیئے، اور ان کی اولاد، صحابہ، دوست اور ان کے گروہ پر بھی (درودوسلام ہو) جن کو ان کے پروردگار نے درمیانی امت بنایا، پھر انھوں نے حق بیان فرمایا اور انصاف قائم کیا، اور شریعت کے فیوضات و انوار کی وجہ سے کامیاب ہوئے، پھر ان کی وجہ سے ہم پر اور ان کے لئے اور ان کے اندر، اے سب سے بڑے رحم کرنے والے ! ہر لمحہ اور ہمیشہ ہمیشہ رہے، قربانی کے اونٹوں کے بال اور مینڈھوں  کی اون اور بکریوں کے بالوں کی تعداد کے مطابق رہے، یا اللہ! ہماری اس دعا کو شرف قبولیت سے نواز دے۔ (ت)
اما بعد، یہ چندسطور کا شفۃ الستور بعون الغفور لامعۃ النور
(چندسطریں پردہ اٹھانے والی، گناہ بخشنے والے روشن نور کی مدد سے۔ت) اس بیان میں ہیں کہ بعض اوقات بعض ممنوعات میں رخصت ملتی ہے۔ اس کی اجمالی تفصیل کیا ہے۔ ظاہرہے کہ نہ ہر ممنوع کسی نہ کسی وقت مباح ہوسکتا ہے نہ ہر وقت ایسا کہ کسی نہ کسی ممنوع میں رخصت کی قابلیت رکھتا ہے ادھر اس کے متعلق بعض قواعد فقہیہ میں بظاہر تعارض معلوم ہوتاہے،
ایک اصل یہ ہے کہ
درء المفاسدا ہم من جلب المصالح ۱؎
مفسدہ کا دفع مصلحت کی تحصیل سے زیادہ اہم ہے۔
 (۱؎ الاشباہ والنظائر         الفن الاول القاعدۃ الخامسہ     ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۲۵)
حدیث ذکر کی جاتی ہے:
ترک ذرۃ ممانہی اﷲ عنہ افضل من عبادۃ الثقلین ۲؎۔
ایک ذرہ ممنوع شرعی کا چھوڑدینا جن وانس کی عبادت سے افضل ہے۔یہ قاعدہ مطلقا لحاظ نہی بتاتا ہے۔
 (۲؎الاشباہ والنظائر         الفن الاول القاعدۃ الخامسہ     اداراۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۲۵)
دوم الضرورات تبیح المحظورات ۳؎
مجبوریاں ممنوع کو مباح کردیتی ہیں۔
 (۳؎الاشباہ والنظائر         الفن الاول القاعدۃ الخامسہ     اداراۃ القرآن کراچی   ۱ /۱۱۸)
اقول: (میں کہتاہوں ۔ت) اس کا استنباط کریمہ
فاتقواا ﷲ ما استطعتم ۴؎ وکریمہ لایکلف اﷲ نفسا الا وسعہا۱؎
میں ہے یعنی مقدور ربھر پرہیزگاری کرو اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتا، یہ مطلقا لحاظ ضرورت فرماتاہے۔
(۴؎ القرآن الکریم     ۲/ ۲۸۶)	(۱؎القرآن الکریم       ۶۴/ ۱۶)
سوم من ابتلی ببلیتین اختارا ہو نہما ۲؎
دوبلاؤں کا مبتلا ان میں ہلکی کو اختیار کرے ۔
 (۲؎ کشف الخفاء     حدیث ۲۳۹۸     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۲۰۷)

(الاشباہ والنظائر     الفن الاول    القاعدۃ الخامسۃ     ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۲۳)
اقول: (میں کہتاہوں۔ ت) یہ کریمہ
 الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ۳؎
 (مگر وہ شخص کہ جس پر زبردستی کی جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔ ت) سے ماخوذ ہے یہ قاعدہ دونوں اطلاق نہیں کرتا بلکہ موازنہ چاہتاہے۔
 (۳؎ القرآن الکریم         ۱۶ /۱۰۶)
چہارم الضرر یزال ۴؎
(نقصان کو دو رکیا جاتاہے۔ ت) ضرر مدفوع ہے۔
قال عزوجل ماجعل علیکم فی الدین من حرج ۵؎
 (اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ) تم پر دین میں کوئی تنگی نہ رکھی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاضرر ولا ضرار، رواہ ابن ماجۃ ۶؎ عن عبادۃ واحمد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم بسند حسن۔
نہ ضرر لو نہ ضرر دو، (ابن ماجہ نے اس کو حضرت عبادہ سے روایت کیا اور امام احمد نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)

ارتکاب ممنوع بھی ضرر ہے تویہ اصل اول سے موافق ہے اورانسانی ضرورت بھی ضرر ہے تو اصل دوم کے مطابق ہے۔
 (۴؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول القاعدۃ الخامسہ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۱۸)

(۵؎ القرآن الکریم        ۲۲ /۷۸)

(۶؎ سنن ابن ماجہ     کتاب الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ الخ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۷۰)

(مسند امام احمد بن حنبل     عن ابن عباس رضی اللہ عنہما      المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۱۰۵)
پنجم المشقۃ تجلب التیسیر ۷؎
مشقت آسانی لاتی ہے۔ اور اسی کے معنی میں ہے
ماضاق امر الا اتسع ۱؎
 (کوئی معاملہ تنگ نہیں ہوا مگر اس میں کشادگی رکھی گئی۔ ت)
 (۷؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ     ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۸۹)

(۱؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ     ۱ /۱۱۷    )
مولٰی سبحانہ فرماتاہے:
یرید اﷲ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر ۲؎۔
اللہ تمھارے ساتھ آسانی چاہتاہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔
 (۲؎ القرآن الکریم       ۲ /۱۸۵)
اس کا دائرہ ضرورت ومجبوری سے وسیع ترہے۔
ششم ماحرم اخذہ حرام اعطاؤہ ۳؎
جس کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام۔
قال تعالٰی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۴؎۔
 (اللہ تعالٰی نے فرمایا:) گناہ اور حد سے بڑھنے پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
 (۳؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول القاعدہ الرابعۃ عشر  ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۸۹)

(۴؎ القرآن الکریم       ۵ /۲)
ہفتم انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوٰی ۵؎۔
اعمال نیتوں پر ہیں اور ہر ایک کے لئے اس کی نیت۔
 (۵؎ صحیح البخاری      باب کیف ماکان بدء الوحی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲)
قال عزوجل:
یا یھاالذین اٰمنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم ۶؎۔
ایمان والو! آپ ٹھیک رہو دوسرے کا بہکنا تمھیں ضرر نہ دے گا جب تم راہ پر ہو۔
 (۶؎ القرآن الکریم      ۵ /۱۰۵)
ہم دیکھتے ہیں حج میں مدت سے ٹیکس لئے جاتے ہیں اور اس سے حج ممنوع نہیں ہوجاتام، تجارتوں پر صدہا سال سے تمام  دنیا میں ٹیکس اور چنگیاں ہیں اس اس سے تجارت بند نہیں کی جاتی یہ قاعدہ ہفتم کے موافق ہے لیکن سود کا لینا دینا دونوں حرام ، حدیث صحیح میں دونوں پر لعنت فرمائی،
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
الراشی والمرتشی کلاہما فی النار ۷؎۔
رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنم میں ہیں ۔
 (۷؎ کنزالعمال بحوالہ طب ص     حدیث ۱۵۰۷۷     موسسۃ الرسالہ بیروت        ۶ /۱۱۳)

(الترغیب والترہیب ترہیب الراشی والمرتشی         مصطفی البابی مصر        ۳ /۱۸۰)
یہ قاعدہ ششم کے مطابق ہے لہذا بقدر وسعت ان مواقع واماکن کا بیان چاہئے جہاں رخصت ملتی ہے اورجہاں نہیں کہ ان قواعد کے موارد واضح ہوں نیز مسائل کثیرہ ومباحت غزیرہ باذنہ تعالٰی روشن ولائح ہوں نیز اس شریعت مطہر کی رحمتیں اور اس کااعتدلال اور برخلاف شرائع یہو د نصارٰی سختی ونرمی محض سے انفصال ظاہرہوں وباﷲ التوفیق (اللہ تعالٰی ہی کے کرم سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ ت)
Flag Counter