Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
25 - 144
مگر مواضع ضرورت مستثنٰی رہتے ہیں،
الضرورات تبیح المحظورات ۲؎
(ضرورتیں (مجبوریاں) ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت )اور حرج  بیّن وضرورت ومشقت شدیدہ کا بھی لحاظ فرمایا گیا ہے۔
 (۲؎ الاشباہ والنظائر   الفن الاول     القاعدۃ الخامسۃ     ۱ /۱۱۸)
ماجعل علیکم فی الدین من حرج ۳؎
لاضرر ولاضرار ۴؎۔
یریداﷲ بکم الیسر ولایرید بکم العسر ۵؎۔
اللہ تعالٰی نے دین اسلام میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، نہ توکسی سے نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اللہ تعالٰی تم پر آسانی کرنے کا ارادہ رکھتاہے وہ تمھیں کسی تنگی میں ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم    ۲۲ /۷۸)

(۴؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۳۱۳)

(۵؎ القرآن الکریم     ۲ /۱۸۵)
ہاں مجردتحصیل منفعت کےلئے کوئی ممنوع مباح نہیںہوسکتا مثلا جائز نوکری تیس روپیہ ماہوار کی ملتی ہواور ناجائز ڈیڑھ سو روپیہ مہینہ کی تو اس ایک سو بیس روپے ماہانہ نفع کے لئے ناجائز کا اختیار حرام ہے۔
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے :
رجل اٰخر نفسہ من النصارٰی لضرب الناقوس کل یوم بخمسۃ دراھم ویعطی فی عمل اٰخر کل یوم درھم علیہ ان یطلب الرزق من موضع اٰخر ۶؎۔
ایک شخص نے عیسائیوں کے ہاں اجرت پر بگل بجانے کی ملازمت اختیار کی اس شرط پر کہ اسے یومیہ پانچ درہم ملیں گے، اور کسی دوسرے (جائز کام پر )ہر روز اسے ایک درہم دئے جانے کا وعدہ ہوا تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ دوسری جگہ رزق حلال تلاش کرے لہذا تھوڑی اجرت پرجائز کام کرے اور زیادہ پر حرام کام نہ کرے)
 (۶؎ فتاوٰی قاضی خاں   کتاب الحظروالاباحۃ     مطبع نولکشور دہلی    ۴ /۷۸۰)
اس سوال کے ورود پر ہم نے ایک رسالہ
''جلی النص فی اماکن الرخص ''(۱۳۳۷ھ)
 (مقامات رخصت میں واضح اور ظاہر نص کا بیان۔ ت) تحققیات جلیلہ پر مشتمل لکھا ان تمام مباحث کی تنقیح وتشریح اس میں ہے تصویر کھینچوانے میں معصیت بوجہ اعانت معصیت ہے پھراگر بخوشی ہو تو بلاشبہ خود کھینچے ہی کی مثل ہے یونہی اگر اسے کھینچوانا مقصود نہیں بلکہ دوسرا مقصد مباح مثلا کوئی جائز سفر، مگر قانونا تصویر دینی ہوگی تو اگر وہ مقصد ضرورت وحاجت صحیحہ موجب حرام وضرورت مشقت شدیدہ تک نہ پہنچا جب بھی ناجائز کہ منفعت کے لئے ناجائز جائز نہیں ہوسکتا، اور اگر یہ حالت ہے تو ایسی صور ت میں فعل کی نسبت فاعل پر مقتصر رہتی ہے اور یہ اس نیت سے بری اور اپنے اوپر سے دفع حرج وضرر کا قاصد ہونے کے سبب
لا تزر وازرۃ وزر اخری ۱؎
 (کوئی شخص کسی دوسرے کا شخص کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ ت) اور
انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۲؎
(یاد رکھو اعمال کا دارومدار ارادوں پر ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔ ت) کافائدہ پاتاہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶ /۱۶۴)

(۲؎صحیح البخاری     باب کیف کان بدء الوحی الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲)
فتح القدیر میں ہے :
ماذکر انہ لایتوصل الی الحج الا بارشائہم فتکون الطاعۃ سبب المعصیۃ فیہ نظر بل الاثم فی مثلہ علی الاخذ لا المعطی علی ما عرف من تقسیم الرشوۃ فی کتاب القضاء ۳؎۔
جو کچھ ذکر کیا گیا یہ ہے کہ ادائیگی حج کا سوائے رشوت دینے کے اور کوئی ذریعہ نہیں، توپھر (اس صورت میں) طاعت گناہ کاسبب ہوجائے گی، اس پر اعتراض اور اشکال ہے وہ یہ ہے کہ اس نوع کے مسائل میں رشوت لینے والے کو گناہ ہوگا نہ کہ دینے والے کو جیسا کہ کتاب القضاء میں ''تقسیم رشوت'' کے عنوان سے معلوم ہوا۔ (ت)
 (۳؎ فتح القدیر    کتاب الحج مقدمۃ یکرہ الخروج الی الحج     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۳۲۹)
اہل وعیال کے پاس جانے یا انھیں لانے کی ضرورت بیشک ضرورت ہے رؤف ورحیم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شریعت ہر گز یہ حکم نہ دے گی کہ تصویر لیں گے تم یہیں رہوا ور انھیں سمندر پار پڑا رہنے دو کہ نہ تم ان کی موت وحیات میں شریک ہو سکو نہ وہ تمھاری، تجارت اگر پہلے سے وہاں تھی اور اب اسے قطع کرکے مال وہاں سے لانے کے لئے ایک بار جاناہے اگر نہ جائے تو مال جائے تو یہ بھی صورت اجازت ہے کہ شرع میں مال شقیق نفس ہے۔
قال اﷲ تعالٰی اموالکم التی جعل اﷲ لکم قیٰما ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) تمھارے وہ مال کہ جنھیں اللہ تعالٰی نے تمھارے ٹھہراؤ اور قیام کاذریعہ بنایاہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم   ۴ /۵)
اور اگر تجارت قائم رکھنے کو جاناہے مگر ایک ہی بار کہ پھر وہیں توطن کا ارادہ ہے یا بارہا، مگر تصویر اول ہی بارلی جائے گی تویہ بھی جواز میں ہے کہ ایک بار جانے سے چارہ نہیں، اور اگر ہر بار تصویر دینی ہوگ تو دو صورتیں ہیںـ : اول یہ کہ اس کے پاس ذریعہ رزق وہی تجارت ہے اور وہ تجارت وہیں چلتی ہیں، اگریہاں مال آٹھالائے بیکارجائے یا نقصان شدید اٹھائے تو یہ پھر حرج وضرر کی صورت میں آگیا والحرج مدفوع، اور اگر اس کے قطع میں معتمد بہ ضرر نہیں یا وہ تجارت یہاں بھی چلے گی اگر چہ نفع کم ملے گا تو صرف بغرض قطع ایک بار جانے کی اجازت ہے دوبارہ کی نہیں کہ منفعت کے لئے ناروا، روا کرنا ناروا، اعلائے کلمۃ اللہ میں تین صورتیں ہیں اگر کچھ کافروں نے وہاں سے اسے لکھا کہ ہم تمھارے ہی ہاتھ پر مسلمان ہوں گے آکر ہمیں مسلمان کرلو، تو لازم ہے کہ جائے کہ اس کے لئے فرض نماز کی نیت توڑ دینا واجب ہوتاہے۔
حدیقۃ ندیہ بحث آفات الید میں ہے :
وقال ذمی للمسلم اعرض علی الاسلام یقطع وان کان فی الفرض کذا فی خزانۃ الفتاوی ۲؎۔
اگر کسی ذمی کافر نے مسلمان سے کہا کہ مجھ پر اسلام پیش کیجئے، تو وہ فرض نماز کی نیت توڑدے (اور پہلی فرصت میں اس کافر کو مسلمان کردے) خزانۃ الفتاوٰی میں یونہی مذکور ہے۔ (ت)
 (۲؎ الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ   الصنف الخامس   المکتبہ النوریۃ الرضویہ لائلپور     ۲ /۴۵۹)
یا وہاں کچھ کفار اسلام کی طرف مائل ہیں کوئی ہدایت کرنے والا ہو تو ظن غالب رہے کہ مسلمان ہوجائیں گے، اس صورت میں بھی اجازت ہوگی
فان الظن الغالب ملتحق بالیقین
 (کیونکہ ظن غالب (یعنی غالب گمان) یقین کے ساتھ لاحق ہے۔ ت) بلکہ ا س صورت میں بھی وجوب چاہئے کہ ایسی حالت میں تاخیر جائز نہیں، کیا معلوم کہ دیرمیں شیطان راہ ماردے اوریہ مستعدی جاتی رہے اور یہاں یہ خیال نہیں ہوسکتا کہ کچھ میں ہی تو متعین نہیں کہ ہر ایک یہی خیال کرے تو کوئی نہ جائے گا اور اگر یہ بھی نہیں عام کفا رکی سی حالت ہے تو بحمداللہ دعوت اسلام ایک ایک ذرہ زمین کو پہنچ چکی، ولہذا اب قتال کفار میں تقدیم دعوت صرف مستحب ہے۔
ہدایہ میں ہے :
یستحب ان یدوعو من بلغۃ الدعوۃ مبالغۃ فی الانذار ولایجب ذٰلک ۱؎۔
جس شخص کو دعوت اسلام پہنچ گئی ہو تو اسے ڈراوے میں مبالغہ کرتے ہوئے دوبارہ اسلام کی دعوت دینا مستحب ہے لیکن واجب نہیں۔ (ت)
 (۱؎ الہدایہ   کتا ب السیر  باب کیفیۃالقتال     المکتبۃ العربیہ کراچی    ۲ /۵۴۰)
اب یہ صرف منفعت کے درجہ میں آگیا اس کے لئے اجازت نہ چاہئے، ہا ں اگر معلوم ہو کہ وہاں ہنوز دعوت اسلام پہنچی ہی نہیں تو تبلیغ واجب ہے یہ صورت دوم کی مثل ہو کہ اجازت میں رہے گا، ظاہر ہے کہ صورت سوال و ہ نئی تازی حال کی صورت ہے کہ کتب میں ہونا درکنار اس سے پہلے کبھی سننے ہی میں نہیں آئی ، فقیر نے جو کچھ ذکر کیا تفقہا ہے اور مولٰی تعالٰی سے امید صواب وثواب ہے،
فان اصبت فمن ربی ولہ الحمد  وان اخطأنت فمنی ومن الشیطان واﷲ ورسولہ عنہ برئیان جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر میں مصیب ہوا (مراد یہ کہ میں نے ٹھیک کہا) تو پھر یہ میرے پرورگار کی طرف سے ہے اور اگر میں خطا کارہوا تو پھر یہ میرا قصور اور شیطان کا وسوسہ ہے لہذا اللہ تعالٰی اور اس کا محبوب رسول دونوں اس سے بری الذمہ ہیں، اللہ تعالٰی بڑی شان والا اور بلند مرتبہ ہے۔ رسول گرامی پر اللہ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو، اور اللہ سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ (ت)
Flag Counter