Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
24 - 144
مسئلہ ۶۵ : از ریاست لشکر گوالیار بازار پاٹنگر مسئولہ عطا حسین صاحب مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن واقع مسجد بازار مذکور ۱۵ صفر ۱۳۳۷ھ
بسم اللہ الرحمن الرحمیم، نحمدہ  ونصلی علی رسولہ الکریم
امابعد، کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اعلان کرنے والے صاحب کی بابت جو باوجود اہل علم اور سنت وجماعت ہونے کے اپنے اعلان کی سطر چودہ وپندرہ میں تحریرفرماتے ہیں، اعتراض اول یہ کہ اعلان کے شروع میں نہ حمد ہے۔ نہ نعت۔اعتراض دوم سطور پندرہ وچودہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وسیلہ بھی تحریر نہیں، یہ دونوں اعتراض صحیح ہیں یا غلط؟ اگر صحیح ہیں تو اعلان کرنے والے صاحب کے حق میں شرعی حکم کیا ہے؟ اور وہ اہل سنت وجماعت کہے جاسکتے ہیں؟ اور اگر غلط ہے تو کس طرح؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت) امید ہے کہ حسب ذیل پتہ پر جواب باصواب سے مطلع فرمائیں گے تاکہ اس کو شائع کردیا جائے۔
الجواب

جب سوال میں اعلان دہندہ کے سنی ذی علم ہونے کا اقرار ہے تو سنی خصوصا ذی علم پر ایسی باتوں میں مواخذہ کوئی وجہ نہیں رکھتا، شروع میں حمد ونعت، نہ لکھنا ممکن کہ بلحاظ ادب ہو کہ ایسے پرچے لوگ احتیاط سے نہیں رکھتے ، اور وقت تحریر زبان سے ادا کرلینا کافی ہے۔ جیسا کہ امام ابن الحاجب نے کافیہ میں کیا مسلمان پر نیک گمان کا حکم ہے،
قال اللہ تعالٰی: ظن المومنون والمؤمنت بانفسہم خیرا ۱؎۔
مسلمان مردوں  اور مسلمان عورتوں کو اپنے لوگوں پراچھا گمان کرنا چاہئے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم      ۲۴/ ۱۲)
سطر چودہ میں  ہے: ''وہ ہماری خطاؤں کو محض اپنے فضل وکرم سے معاف فرمائے''، اس میں توسل کا ذکر نہیں تو معاذاللہ توسل سے انکار بھی تو نہیں، اور سنی کیونکر انکار کرے گا اور انکار کرے تو سنی کب ہوگا، مسلمان کے دل میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے توسل رچا ہوا ہے اس کی کوئی دعا توسل سے خالی نہیں ہوتی اگرچہ بعض وقت زبان سے نہ کہے،
مولٰنا قدس سرہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں: ؎
اے بسانا وردہ استثنا بہ گفت     جان اوباجان استثنا ست حقت ۲؎
 (اے شخص کہ بسا اوقات تیرے کلام میں استثناء نہیں لایا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی جان استثناء کی جان سے گانٹھی ہوئی ہے۔ ت)
(۲؎ مثنوی معنوی دفتر اول حکایت عاشق شدن بادشاہ برکنیز ک    نورانی کتب خانہ پشاور    ص۵)
اور ''محض'' کا لفظ معاذاللہ تو سل کی نفی نہیں، دین ودنیا وجسم وجان میں جو نعمت کسی کو ملی اور ملتی ہے اور ابدالآباد تک ملے گی سب حضور اقدس خلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وسیلے اور حضور کے مبارک ہاتھوں سے ملی اور ملتی ہے اور ابدا الاباد تک ملیگی
قال النبی انما انا قاسم ، واﷲ المعطی ۱؎
دینے والا اللہ ہے ور بانٹنے والا میں۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     ترجمہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ    دارالفکربیروت    ۲/ ۲۳۴)
بایں ہمہ جو نعمت ہے اللہ عزوجل کے محض فضل و کرم سے ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وسیلہ وواسطہ وقاسم ہر نعمت ہونا یہ بھی تو محض فضل وکرم الٰہی جل وعلا ہے۔
فبما رحمۃ من اﷲ لنت لہم ۲؎
اے محبوب اللہ کی کتنی رحمت ہے کہ تم ان کے لئے نرم ورحیم ومہربان ہوئے۔
والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
( ہرتعریف اللہ تعالٰی کے لئے ہے جو پروردگار ہے سارے جہانوں کا ۔ حضور پر اللہ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو۔ ت)
 (۲؎ القرآن الکریم      ۳/ ۱۵۹)
اعتراض اگر چہ صحیح نہیں مگر میں معترض کے اس حسن اعتقاد کی داد دیتاہوں کہ تو سل اقدس کا ذکر نہ آنا اسے ناگوار ہوا،
جزاہ اﷲ خیرا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(اللہ تعالٰی سائل کو بہت اچھا صلہ عطا فرمائے، اور اللہ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ ت)
مسئلہ ۶۶ :  از ڈربن ناٹال جنوبی افریقہ مسئولہ مولوی عبدالعلیم صاحب قادری برکاتی رضوی میرٹھی ۲۱ صفر ۱۳۳۷ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام
 (اے معزز اہل علم مسئلہ ذیل کے متعلق تمھارا کیا ارشاد ہے۔ ت) حکومت کی طرف سے اعلان ہواہے کہ اگر کوئی شخص ہندوستان سے باہر جاناچاہے یا باہر سے ہندوستان آنا چاہے تو اس کو گورنمنٹ سے ایک اجازت نامہ جس کو بزبان انگریزی پاسپورٹ کہتے ہیں لینا ضروری ہوگا ورنہ داخلہ خارجہ کی اجازت نہ دی جائے گی، یہ اجازت نامہ نہیں مل سکتاتاوقتیکہ ایک تصویر کم ازکم  نصف حصہ اعلٰی بدن کی اجازت لینے والا داخل کرے اس تصویر کی تین نقلیں ہوں گی جو تینوں بھیجی جائیں گی دو گورنمنٹ میں محفوظ رہیں گی اور ایک اجازت نامہ کے ساتھ واپس مل جائے گی جس کا اجازت گیرند ہ کو اپنے پاس رکھنا ضروری ہے بعض اشخاص مسلمین اپنے اہل وعیال سے دور بعض تجارتی کاروبار میں مبتلا نقل وحرکت کے بغیر چارہ نہیں، بعض علماء کو اعلاء کلمہ الحق کے لئے باہر جانے یا جاکر واپس آنے کی ضرورت ایسی اشد شدید ضروریات میں کہ جہاں بعض شکلوں میں سخت ترین دینی نقصانات بھی ہیں اجازت لینے کی غرض سے نصف حصہ اعلٰی بدن کی تصویر کھنچوانا بذریعہ فوٹو گراف جائزہے یانہیں اور اس اجازت نامہ کو اپنے پاس رکھنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب

شک نہیں کہ ذی روح کی تصویر کھینچنی بالاتفاق حرام ہے اگر چہ نصف اعلٰی بلکہ صرف چہرہ کی ہی ہو کہ تصویر چہرہ کا نام ہے۔ امام طحطاوی رحمہ اللہ تعالٰی شرح معانی الاثار میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے
راوی الصورۃ الرأس ۱؎
(سر کی تصویر کے لئے یہ حکم نہیں کیونکہ وہ جائز نہیں، اس لئے کہ تصویر چہرہ ہی کانام ہے۔ ت) اگر چہ ان کے پاس رکھنے میں خلاف ہے اور صحیح ومعتمد یہ ہے کہ ان کا بھی رکھنا حرام ہے جیسا پوری تصویر کا مگر جبکہ اتنی چھوٹی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہوکر دیکھنے سے اعضاء کی تفصیل نظر نہ آئے یاذلت وخواری کی جگہ مثلافرش پا انداز میں ہو یا چہرہ بگاڑدیں کاٹ دیں محو کریں کہ ان صورتوں میں پوری تصویر بھی رکھنی جائزہے یا ضرورت ومجبوری ہوجیسے سکہ کی تصویریں،
 (۱؎ شرح معانی الآثار     کتاب الکراہیۃ باب التصاویر فی الثوب     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۴۰۳)
اس کی کامل تحقیق ہمارے رسالہ
''عطایا القدیرفی حکم التصویر''
(اللہ تعالٰی قدرت وطاقت رکھنے والے کی عطائیں تصویر کا حکم، بیان کرنے میں۔ ت) میں ہے اور ان صورتوں میں اگر چہ رکھناجائز ہے کھینچنا ان کا بھی حرام ہے:
لاطلاق نصوص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی احادیث متواترۃ ثم اطلاق الائمۃ فی کتب متکاثرۃ۔
اس لئے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اس کے متعلق متواتر حدیثوں میں مطلق نصوص وارد ہوئیں، اور پھر ائمہ کرام نے متعدد کتابوں میں اس کو علی الاطلاق (بغیر کسی قید کے) ذکرفرمایا ہے۔ (ت)
اور جس کا کھینچنا حرام ہے کھنچوانا بھی حرام ہے۔ شرع مطہرہ کا قاعدہ ہے :
ماحرم اخذہ حرم العطاؤہ ۲؎ قال اﷲ تعالٰی
 ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۳؎۔
جس چیز کالینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (لوگوں!) گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ مدد نہ کیا کرو
 (۲؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول القاعدۃ الرابعہ عشر     ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۸۹)

(٣؎ القرآن الکریم   ٥ /٢ )
وقال تعالٰی کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون ۱؎o
اور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: جو بر اکام لوگ کیا کرتے ہیں اہل کتاب اس کے کرنے سے ایک دوسرے کو نہ روکتے، کتنا بڑا رویہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم        ۵ /۷۹)
Flag Counter