Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
23 - 144
دو حدیثوں میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذٰلک العرش رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی المسند والبیہقی فی شعب الایمان عن انس وابن عدی فی الکامل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب غضب فرماتاہے اور عرش الٰہی ہل جاتاہے (محدث ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں روایت کیا ہے اور ابو یعلٰی نے اپنی مسند میں اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس کے حوالے سے اور ابن عدی نے ''الکامل'' میں حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے روایت کیا (اللہ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو۔ ت)
 (۱؎ شعب الایمان     حدیث ۴۸۸۶     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴/ ۲۳۰)
نیز حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سلم علی صاحب بدعۃ اولقیہ بالبشر اواستقبلہ بما یسرہ فقد استخف بما انزل علی محمد رواہ الخطیب ۲؎ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جو کسی بدمذہب کو سلام کرے یا اس سے بکشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اس سے پیش آئے جس میں اس کا دل خویش ہو اس نے اس چیز کی تحقیر کی جو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اتاری گئی (اسے خطیب نے حضرت ابن عمر (اللہ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو) سے روایت کیا۔ ت)
(۲؎ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی     ترجمہ سابق بن عبداللہ الرقی         دارالفکر بیروت    ۳/ ۱۳۰۷)

(۲؎ تاریخ بغداد             ترجمہ عبدالرحمن بن نافع ۵۳۷۸     دارالفکر بیروت    ۱۰/ ۲۶۴)
نیزچھ حدیثوں میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ہدم الدین ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر وابونعیم فی الحلیۃ عن عبداﷲ بن بشیر وابن عدی وابن عساکر عن ام المؤمنین الصدیقۃ والحسن بن سفین فی مسندہ وابونعیم فی الحلیۃ عن معاذ بن جبل والسخری فی الابانۃ عن ابن عمرو ھو وابن عدی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم والبیہقی فی شعب الایمان عن ابراہیم بن میسرۃ التابعی المکی الثقۃ مرسلا ۱؎۔
جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے دین کے ڈھا دینے پر مدددی (امام طبرانی نے معجم کبیر اور ابونعیم نے الحلیہ میں عبداللہ بن بشیر سے اس کو روایت کیا۔ ابن عدی اور ابن عساکر نے مسلمانوں کی ماں سیدہ عائشہ صدیقہ سے اور حضرت حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابو نعیم نے الحلیۃ میں معاذ بن جبل کے حوالے سےاور السخری نے الابانۃ میں عبداللہ ابن عمر کے حوالے سے اور اس نے ابن عدی نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اس کو روایت کیا، نیز امام بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابراہیم بن میسرہ جوکہ تابعی مکی اور قابل اعتماد ہیں نے بصورت ارسال اس کو روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ طب عن عبداللہ بن بشیر     حدیث ۱۱۰۲     موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱/ ۲۱۹)

(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ترجمہ الحسن بن یحیی ابوعبدالملک الخشئی دارالفکربیروت    ۲/ ۷۳۶)

(شعب الایمان                دارالدیان للتراث بیروت        ص۳۵)

(حلیۃ الاولیاء     وشرح خالد بن معدان ۳۱۸         دارالکتب العربی بیروت        ۵/ ۲۱۸)

(تہدیب تاریخ دمشق الکبیر         ترجمہ حسن بن یحیٰی     داراحیاء التراث العربی بیروت۴/ ۲۸۳)
دوحدیثوں میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندہا توبۃ السر بالسر والعلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الامام احمد فی کتاب الزہد ۲؎ والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی الشعب عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن جید واحمد ایضا فیہ عن عطاء بن یسار مرسلا۔
جب تو کوئی گناہ کرے تو فورا توبہ کر، پوشیدہ کی پوشیدہ اور علانیہ کی علانیہ، (امام احمد نے کتاب الزہد اور طبرانی نے معجم کبیر میں اور بہیقی نے شعب الایمان میں معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اچھی اور عمدہ سند کے ساتھ روایت کیا، نیز امام احمد نے اسی میں عطا بن یسار سے بطور مرسل روایت فرمائی۔ ت)
 (۲؎ کتاب الزہد لامام احمد بن حنبل     دارالدیان للتراث القاہرہ            ص۳۵)

(المعجم الکبیر     عن معاذ بن جبل     حدیث ۳۳۱         المکتبہ الفیصلیۃ بیروت    ۲۰/ ۱۵۹)
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ:
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیہم من ہو ارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین، رواہ الحاکم ۱؎ وصححہ وابن عدی والعقیلی والطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جس نے کسی گروہ پر ایسے کو افسر بنایا کہ اس گروہ میں اس سے زیادہ اللہ کو پسندیدہ شخص موجودہے اس نے اللہ و رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور مسلمانوں سب کی خیانت کی، (ابن حاکم نے اس کو روایت کرکے صحیح قرار دیا، ابن عدی، عقیلی، طبرانی اور خطیب بغدادی نے حضرت ابن عباس سے اس کو روایت کیا (اللہ تعالٰی باپ، بیٹے دونوں سے راضی ہو)۔ ت)
 (۱؎ المستدرک للحاکم     کتاب الاحکام     دارالفکر بیروت    ۴/ ۹۲)
فتاوی ظہیریہ امام ظہیر الدین واشباہ والنظائر محقق زین وتنویر الابصار شیخ الاسلام غزی و درمختارمیں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفر لان تبجیل الکافر کفر ولوقال لمجوسی یااستاد تبجیلا کفر ۲؎۔
اگر کسی مسلمان نے کسی ذمی کافر کو بطور عزت و توقیرسلام کیا تو وہ کافر ہوجائے گا، کیونکہ کافر کی عزت افزائی کفرہے، اور اگر کسی نے آتش پرست کو تعظیم کے طور پر ''اے استاد'' کہا تو وہ کافر ہوگیا۔ ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار     کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۵۱)
فصول عمادی وعقد الفرائد ودرمختار وجامع الفصولین ونورالعین ومحیط وعالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
مایکون کفرااتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح ۳؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جو چیز بالاتفاق کفرہے وہ عمل اور نکاح کو باطل کردیتاہے اس کی اولاد، اولاد زنا ہوگی اور جس چیز کے کفر ہونے میں اختلاف ہے تو ارتکاب کرنے والے کو توبہ استغفار اور تجدیدنکاح کاحکم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ درمختار         کتاب الجہاد باب المرتد     مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۹)
Flag Counter