مسئلہ ۵۶ تا ۵۸: از رائے پور چھیتگڑھ مرسلہ گوھر علی عرائض نویس نیا پارہ اکھاڑا
(۱) کہ جہاں مسلمان بستے ہیں وہاں ایک شراب کی بھٹی ہے چند لوگ شیعہ اس راہ سے گزرے جو اپنی قوم میں مقرر ہیں انھیں معلوم ہوا کہ یہاں پر مسلمان شراب پیا کرتے ہیں تو انھوں نے ایک انجمن مقرر کیا اور اپنی قوم کے چند لوگوں کو سکریٹری پریزیڈنٹ انجمن بنایا اور اس میں سنیوں کو ممبر مقرر کیا، ازروئے شرعی سنی بھی ان کی رائے سے موافقت کرسکتے ہیں کیا یہ جائزہے؟
(۲) اس انجمن میں دو مسئلے پیش ہیں کہ کوئی سنی شراب پئے یا زنا کرے اس کو خارج از قوم کردینا اور شادی و غمی میں شریک نہ ہونا زنا کس حالت میں سمجھا جائے گا جبکہ کوئی شخص کسی عورت سے صرف بات کررہا ہے یا عورت مذکورہ اس کے گھر میں کسی مزدوری کے لئے بیٹھی ہے یا کسی پیشرو شخص کے مکان کو ضرورت سے آتی ہے کیونکہ اس شہر میں مزدور عورتیں بہت ہیں جو آدمی تنہا نوکری پیشہ وجن کی مستوراتیں نہیں وہ ان کو اپنے گھروں میں کام کرنے کے ساتھ تعلق ہے اور وہ شخص باہر کھڑا ہوا اندر مکان کا حال کیا جانتا ہے کہ مکان کے اندر کیا ہورہاہے علمائے دین باطن کے حالات کی نسبت کیا بیان کرتے ہیں، کیایہی زنا کی صورتیں ہیں۔
(۳) شیعہ قوم سے سنی کہاں تک شریک ہوسکتے ہیں؟
ان اوپر کہئے ہوئے وجوہ کی نسبت حضور کرم فرماکر اس فقیر کو جواب سے سرفراز فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی، خداوند کریم آپ کو جزائے خیردے گا۔
الجواب
(۱) سنیوں کو غیر مذہب والوں سے اختلاط میل جول ناجائز ہے خصوصا یوں کہ وہ افسر ہوں یہ ماتحت۔
قال اﷲ تعالٰی: واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۱؎۔
اگر تجھے شیطان کبھی بھول میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
(۱؎ لقرآن الکریم ۶/ ۶۸)
وقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: فایاکم وایاہم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں کہیں تمھیں گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰)
(۲) زنانہیں ثابت ہوسکتا جب تک چار مرد عاقل بالغ، ثقہ، متقی، پرہیزگار اپنی آنکھ سے ایسامشاہدہ نہ بیان کریں جیسے سرمہ دانی میں سلائی، بغیر اس کے جو شخص کسی مسلمان کی نسبت زنا کی تہمت رکھے گا بحکم قرآن مجید اسی کوڑوں کا مستحق ہوگا پھر اس کی گواہی ہمیشہ کو مردود، ہاں یہ ضرور ہے کہ اجنبی عورت سے خلوت حرام ہے۔ جولوگ انھیں نوکر رکھتے ہیں ضرور مکان میں دونوں تنہا ہوتے ہوں گے، اور اسے شرع نے حرام فرمایا۔
(۳) کہیں تک بھی نہیں، آیت وحدیث میں مطلقا ممانعت فرمائی ، بلکہ حدیث خاص اس قوم کا نام لے کر آئی کہ:
یاتی قوم لہم نبز یقال لہم الرافضۃ لایشہدون جمعۃ ولاجماعۃ ویطعنون السلف ۱؎ فلا تجالسو ہم ولا تواکلوہم ولاتشاربوہم ولا تناکحوہم واذا مرضوا فلاتعودوہم واذا ماتوا فلا تشہدوہم ولا تصلوا علیہم ولا تصلوا معہم۔ ۲؎۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم آنے والی ہے ان کا بدلقب ہوگا انھیں رافضی کہا جائے گا وہ نہ جمعہ پڑھیں گے نہ جماعت، اورامت کے اگلوں پر طعنہ کریں گے، تم ان کے پاس مت بیٹھنا، ان کے ساتھ کھانا نہ کھانا، ان کے ساتھ پانی نہ پینا، ان کے ساتھ شادی بیاہت نہ کرنا، وہ بیمار پڑیں تو انھیں پوچھنے کو نہ جانا، مرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جانا، نہ ان پر نماز پڑھنا، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھنا،
دیکھو حدیث نے موت وحیات کے سب تعلق کو ان سے قطع کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ تاریخ بغداد ترجمہ الفضل بن غانم۶۷۹۰ دارالکتب العربی بیروت ۱۲/ ۳۵۸)
(۲؎ کنز العمال حدیث ۳۲۴۶۸ و ۳۲۵۲۹ و ۳۲۵۴۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/ ۵۲۹، ۵۴۰، ۵۴۲)
مسئلہ ۵۹: از قصبہ کرت پور ضلع بجنور محلہ مدہو پاڑہ مرسلہ منشی منیر الدین صاحب ۲۲/ ربیع لآخر ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی مسلمان دسہرہ کی جھنڈی کے جلسہ میں ہنود کا شریک ہویا اس میں گنگا پھری یا بینٹی یا دیگر کھیل خود کھیلے یا دوسروں کو کھلائے یا اس میں کسی قسم کا باجا خود بجائے یا دوسروں سے بجوائے یا کوئی راگ خود گائے یا اوروں سے گوائے یا اس میں کسی قسم کی امداد دامے در مے قلمے جلوس مذکور کی رونق افزائی کی نیت سے کرے یا اس جلوس کا تماشا تفریحا اور دوسروں کو ترغیب دیکھنے کی دلائے یا میل ملاپ باہمی کی وجہ سے شرکت کرے یا دیگر اغراض دنیا کے باعث ہنود سے بامید حصول خوشنودی ہنود جلوس کی اعانت میں سرپر ستانہ پیش آئے یا ایسی سرپرستی کا ارادہ کرے اور اس حد تک کہ اگر اس جلوس میں اس مقام کے رواج ودستور کے خلاف منجانب ہنود امور جدیدہ کے اضافہ کرنے کی آمادگی ہو اور اس کی اطلاع پاکر خواہ اس کا ظہور دیکھ کر وہاں کے غرباء مسلمانان بخوف ہیجان فتنہ حسب ضابطہ کچہری اس کے انسداد کی کوشش وچار ہ جوئی کریں اور کوئی شخص مسلمان سر برآوردہ خواہ رئیس حکام رس بذات خود یا بذریعہ اپنے آدمیوں کے خوددار ریاست واستطاعت یا سرپنچی ومنبری کے مسلمانان کو چارہ جوئی سے باز رکھے اور تخویف دلائے یا اگر مسلمانان بامید انصاف گورنمنٹ بلاخوف وخطر مصروف چارہ جوئی رہیں اور مسلمان مانع چارہ جوئی جانب دار اہل ہنود ہوکر امر جدید کو جلوس مذکور میں اپنی کوشش سے اضافہ کرے اور اس جلوس مذکور میں ایسی نمایاں سعی وپیروی کرے کہ جس سے ایک مسجد کے اُس احترام میں فرق آجائے جس کو حکام ضلع نے بلحاظ عبادت گاہوں کے بذریعہ احکام تحریری منظور کیا ہو یعنی باوجود ممانعت حاکم علاقہ کے مسجد مسلماناں گرد پچاس پچاس قدم دونوں طرف باجا گاجا شوروغل ہر قسم اہل جلوس جھنڈی سے کرادے تو ایسا مسلمان نیز مسلمانان متذکرہ بالا شرعا کسی گناہ کے مرتکب ہیں آیا بدعت یا فسق یا کفر یا ارتداد اور دیگر مسلمانان کو ان سے میل جول رکھنا کیسا ہے؟ بصراحت وتفصیل فتوٰی میں ارقام فرمایاجائے۔فقط۔
الجواب
مراسم کفر کی اعانت اور ان میں شرکت ممنوع وناجائز وگناہ اور مخالفت حکم الہ ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ (ت)
(القرآن الکریم ۵ /۲)
حدیث میں ارشاد ہوا:
من سود مع قوم فہو منہم وفی لفظ من کثر سواد قوم فہو منہم۔ ۲؎۔
جو کسی قوم کی جماعت میں شریک ہو کر ان کا گروہ بڑھائے وہ انھیں میں سے ہے۔
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ خط عن انس حدیث ۲۴۶۸۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۱۰)
(کنزالعمال بحوالہ الدیلمی عن ابن مسعود حدیث ۲۴۷۳۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۲۲)
خصوصا توہین مسجد پر اعانت کہ بہت سخت تر ہے پھر اگر یہ باتیں شامت نفس اور طمع دنیا سے ہوں تو صرف استحقاق جہنم ہے اور اگر کسی رسم کفر کے پسند ورضا کے ساتھ ہوں تو کھلا کفر ہے۔
غمز العیون میں ہے:
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۳؎۔
جس شخص نے کافروں کے کسی کام کو اچھا سمجھا تو وہ باتفاق مشائخ کافر ہوگیا۔ (ت)
(۳؎ غمز العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵)
مسلمانوں کو ایسے شخص سے میل جول منع ہے۔ اللہ عزوجل فرماتاہے:
واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۴؎۔
اگر تمھیں شیطان کسی بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو (ت)
(۴؎ القرآن الکریمم ۶/ ۶۸)
اور فرماتاہے:
ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۱؎۔
(لوگو!) ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔ (ت)