Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
20 - 144
الجواب

اللہ عزوجل فرماتا ہے:
لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین اٰمنوا الیہود والذین اشرکوا ۱؎۔
ضرور ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن یہود اور مشرکوں کو پاؤ گے۔
 (۱؎ القرآن الکریم      ۵/ ۸۲)
اور فرماتاہے:
یا یھا الذین لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لایالونکم خبالا ودوا ماعنتم قدبدت البغضاء من افواھہم وما تخفی صدورھم اکبر قدبینا لکم الاٰیات ان کنتم تعقلون ۱؎۔
اے ایمان والو اوروں کو اپنا ولی دوست نہ سمجھو وہ تمھاری ضرر رسانی میں گئی نہیں کرتے، ان کی دلی تمنا ہے کہ تم مشقت میں پڑو دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہورہی ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبی ہے بہت زیادہ ہے ہم نے روشن نشانیاں تمھیں بتادیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔
 (۱؎ القرآن الکریم        ۳/ ۱۱۸)
اس ارشاد الہٰی کے بعدکیا کوئی عاقل دیندار مسلمان ہنود کی شورش میں ان کا ساتھ دینا روا رکھے گا اور وقت پر زبانی باتوں کے دھوکے میں آکر بالآخر ان سے اسلام ومسلمین کے ساتھ نیک برتاؤ اوردلی دوستی کی امیدرکھے گا اس حکومت با اختیار کا حاصل اگر ہندوستان میں صرف اس قدر ہوا کہ اوپر کی کونسلوں میں ہندو ممبر بکثرت کردئے گئے اورامورانتظامیہ کے سوا دیگر احکام میں ان کی رائے سنی گئی اور کثرت پرفیصلہ ہوا جب تو ظاہر کہ ہر طرح ہنود کی جیت ہے انھیں کی کثرت رہے گی اور انھیں کی بات جیسا کہ بعض وقائع مذکورہ سوال اس کا نمونہ ہیں، نیچر کی کمیٹیوں میں ان کے اور تمھارے حالات وعادات جو سنے گئے وہ اور بھی ان کے مؤید ہیں یعنی یہ کہ بہت ہنود نہ فقط اپنے حفظ حقوق بلکہ مسلمانوں کی پامالی حقوق میں بیدریغ کوشش کرتے ہیں، اور بہتیرے مسلمان ممبردم نہیں مارتے بلکہ بعض تو صلح کل وبے تعصب بننے کو الٹا ان کا ساتھ دیتے ہیں مسلمانوں کی تعداد ایک تو کم تھی ہی اور بھی کم رہ جاتے ہیں، آخر بارہا پالی ہنود کے ہاتھ رہتا ہے، اب اس کا اثرجزئیات پر پڑتاہے، اس حالت میں کلیات پر پڑے گا، گورنمنٹ کو مسلمانوں ہندوؤں کے معاملہ میں نہ کسی کی طرفداری نہ کسی سے خصومت، جب ہندوستانی ممبربڑھے اور کثرت ہنود کی ہوئی اب احکام ان رایوں سے فیصل ہوکر آئیں گے جو ایک قوم کی ذاتی طرفداری اور دوسروں کی ذاتی مخالف ہے اس وقت وہ اسی لئے مسلمان کو بلارہے ہیں کہ یوں اختیارات اپنے کرلیں اور انھیں کی کوششوں سے ان کی حقوق پامال کرنے پر خاطر خواہ قادر ہوجائیں گے جب یہ جم گئی پھر کیا ہوتاہے ع
دریغ سودندارد چوکار رفت از دست
 (جب کام ہاتھ سے نکل جائے تو پھر پشیمان ہونے کا کچھ فائدہ نہیں۔ ت)
ع     مرد آخر بین مبارک بندہ است
(نتیجہ کو دیکھنے والا مرد بابرکت آدمی ہے۔ ت)
اور اگر بالفرض حکومت خوداختیاری اپنے حقیقی معنی پر ملی تو وقت سخت ترہے غور کرو اس وقت کہ ملک ان کے ہاتھ میں نہیں تمھارے مذہبی شعائر میں کتنی رکاوٹیں ڈالتے ہیں، رات دن کوشاں رہتے ہیں، اور اپنی کثرت تعداد وکثرت مال کے سبب کچھ نہ کچھ کامیاب ہوتے رہتے ہیں، جب اختیارات ان کے ہاتھ میں ہوئے اس وقت کاکیا اندازہ ہوسکتاہے مثلا اس وقت تو قربانیا ں ان قیود وحدود کے ساتھ کہ ان کا لگایا جانا بھی شورش ہنود کے باعث ہے ہو بھی جاتی ہیں، اس وقت قتل انسان سے بڑھ کر جرم ٹھہریں گی اور مسلمانوں کو مجبورانہ اپنا یہ شعار دینی بند کرنا پڑے گا کیا گورنمنٹ تنہا تمھیں ملک دے دے گی کہ اس میں خالص احکام اسلام جاری کرو، یہ تو ممکن نہیں، نہ تنہا ان کو ملے، پھر شرکت رکھو گے یا ملک بانٹ لوگے کہ ایک حصہ میں تم اسلامی احکام جاری کرو ایک میں وہ اپنے مذہبی احکام جو تمھاری شریعت کی رو سے  احکام کفر ہیں، برتقدیر ثانی ظاہر ہے کہ ہندوستانی کا کوئی شہر اسلامی آبادی سے خالی نہیں تو ان لاکھوں مسلمانوں پر اپنی شریعت مطہرہ کے خلاف احکام تم نے اپنی کوشش متفقہ سے جاری کرائے اور اس کے تم ذمہ دار ہوئے اور
من لم یحکم بما انزل اﷲ فاولئک ھم الکفرون o ھم الظلمون۱؎ o وھم الفسقون۔
جو کچھ اللہ تعالٰی نے نازل فرمایا ) بندوں پر اتارا) جو لوگ اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر، ظالم اور نافرمان ہیں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۴۴، ۴۵،۴۷)
کے تمغے پائے، برتقدیر اول کیا ہنود راضی ہوجائیں گے کہ ملک مشترک ہو اور احکام تنہا احکام اسلام ہرگزنہیں، آخر تمھیں ان کے ساتھ کسی نہ کسی قانون خلاف اسلام پر راضی ہونا اور اپنی رضا وسعی سے مسلمانوں کو اس کا پابند کرنا پڑے گا اور قرآن عظیم سے وہی تین خطابوں کا تمغہ ملے گا یہ سب اس وقت ہے کہ جھگڑا نہ اٹھے اور اگر پھوٹ پڑی اور تجربہ کہتاہے کہ ضرور پڑے گی اس وقت اگر ہنود حسب عادت آپ بے قصور بنے اور سب ڈھلی بگڑی تمھارے سر ڈالی تو زمین میں بیٹھے بٹھائے فساد اٹھانے اور حکم الٰہی
لاتلقوا بایدیکم الی التہلکۃ ۲؎
(لوگو! اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ ت) کی مخالفت کرکے خود اپنی اور لاکھوں  ناکردہ مسلمانوں کی جان وعزت معرض خطرہ میں ڈالنے کا ذمہ دار کون ہوگا، اللہ عزوجل سیدھی سمجھ دے، آمین! واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
 (۲؎القرآن الکریم    ۲/ ۱۹۵)
مسئلہ ۵۵: خبیرآباد اودھ ضلع سیتاپور مرسلہ سید امتیاز حسن صاحب انریری مجسٹریٹ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید مسلمان ہے اور اس کے گلے میں ہندو مذہب کی ایک کتاب بید جزدان میں مثل کلام مجید کے بطور حمائل کے پڑا ہے۔ زید کو علم ہے کہ میرے گلے میں ہندو مذہب کی کتاب ہے یا اور کوئی غیر معظم کتاب ہے مگر کافر اس کو یہ سمجھتاہے کہ یہ شخص مسلمان ہے اور اس کے گلے میں کلام مجید ہے یہ سمجھ کراس کتاب کی جس کو وہ کافر اپنے خیال میں کلام مجید سمجھتے ہوئے توہین کرنا چاہتاہے زید اس کی حفاظت کرتاہے محض اس وجہ سے کہ یہ کافر کلام اللہ سمجھ کر توہین کرتا ہے ایسی صورت میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ زید کے شریک ہوں اور اس کافر کے حملہ کو روکیں یا سمجھ کر کہ اس کے اندر غیر مذہب کی کتاب ہے اور کوئی معظم چیز نہیں ہے سکوت اختیار کریں اور زید کو لعنت ملامت کریں، شرعا کیا حکم ہے؟ اگر زید کو کوئی نقصان پہنچے اور اس کے معاونین کو مدد کرنے سے تکلیف پہنچے تو وہ عنداللہ ماجور (اللہ تعالٰی کے نزدیک اجروثواب دئے ہوئے۔ ت) ہوں گے، مشرح جواب تحریر فرمائے۔ فقط
الجواب

سوال تمثیلی ساختہ معلوم ہوتاہے مثال میں بسااوقات فرق رہ جاتاہے جس کے سبب حکم بدل جاتاہے اگر چہ تمثیل قائم کرنے والا اپنے ذہن میں یہ سمجھے کہ میں نے اصل واقعہ کا بالکل چربہ اتارلیا ہے بہر حال اس صورت مستفسرہ کاحکم یہ ہے کہ زید بوجوہ قابل سخت ملامت ہے اول تو سب سے پہلے اس کا جرم شدید یہ ہے کہ اس نے ایک کافر مذہب کی کتاب کو معاذاللہ قرآن مجید سے تشبیہ دی جزدان میں رکھا، گلے میں حمائل کے طور پر ڈالا، یہ خود اس نے قرآن عظیم کی توہین کی، امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک کنیز کودیکھا کہ بیبیوں کی طرح دوپٹہ اوڑھے جارہی ہے اس پر درہ لیا اور فرمایا:
ای وفار القی عنک الحمار اتتشبہین بالحرائر ۱؎۔
اے بدبووالی! اپنی اوڑھنی اتار، کیا بیبیوں کے مشابہ بنتی ہے۔
 (۱؎ الدرالمنثور     تحت آیۃ ذلک ادنی ان یعرفن فلایؤذین         منشورات مکتبہ آیۃ اللہ العطمی قم ایران    ۵/ ۲۲۱)
اوراگر واقعی اس نے کافر مذہب کی کتاب معاذاللہ مثل قرآن کریم مستحق تعظیم سمجھا جب تو وہ خود ہی کافر مرتدہے ورنہ کم از کم مبتلائے حرام ضرور ہے، اور اس حرام کے باقی رکھنے ہی نے اس ہندو کو غلط فہمی پیدا کی تو یہ اس کا دوسرا جرم ہے کہ حرام پر مصر ہے۔ پھر اس کے سبب جو فتنہ فساد پید اہوگا اسی کامنشایہی اس کااصرار علی الحرام ہے کیوں نہیں اسے جزدان سے نکال کر فورا پھینک دیتا ہے کہ یہ تیرے ہی مذہب کی ناپاک کتاب ہے اس کی جتنی چاہے توہین کر، یوں یہ خود بھی حرام سے بچے اور فتنہ بھی فرو ہو، اب کہ یہ ایسا نہیں کرتا خود بانی فتنہ ہے۔ یہ اس کا تیسرا جرم ہے۔ اگرپٹا تو ایک پوتھی کی حمایت میں پٹا اور مارا بھی تو ایک پوتھی کے پیچھے مارا ،اور اگروہ غالب آیا اور اس نے اس کتاب کی توہین جسے اس نے اپنے فعل واصرار باطل سے اسے معاذاللہ قرآن عظیم باور کرایا ہے تو اس ہندو کے زعم میں توہین قرآن عظیم پرقادر ہونا اور اس معاملہ دینیہ مذہبیہ میں مسلمان پر فتح پانا اس کا منشا بھی یہی شخص ہے اوراگر وہ مغلوب ہوا اور اس نے مارا اور جیل خانہ گیا محض بلاوجہ شرعی بلکہ برخلاف وجہ شرعی ایک گناہ پر اصرار کے لئے اپنے نفس کو سزا و ذلت پر پیش کیا اوریہ بھی بحکم حدیث حرام ہے۔ اور یہ اس کا چوتھا جرم ہے۔ بہر حال یہ شخص سخت ملامتوں کا مستحق وسزاوار ہے جو اس کی اعانت کرینگے وہ بھی ان جرائم سے حصہ لیں گے اور گناہ پر مدد دے کر گنہ گار ہوں گے،
قال اﷲ تعالٰی :
ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۱؎۔
لوگو! گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مددنہ کرو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم        ۵/ ۲)
ان پر لازم ہے کہ اگر وہ فتنہ اٹھاتا ہے یہ فرو کریں اور زعم کافرمیں توہین اسلام نہ ہونے دیں اس کے گلے سے لے کر جزدان سے نکال کر وہ ہندوانی پستک اس ہندو کے سامنے پھینک دیں کہ فتنہ بند ہو اور وہ جرائم مذکورہ سب مسدود، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter