Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
19 - 144
تبیین الحقائق وطحطاوی میں ہےـ :
  لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۱؎۔
کیونکہ اس کو (یعنی فاسق کو) آگے کھڑا کرنے میں اس کی تعظیم ہے جبکہ لوگوں پر شرعا اس کی توہین ضروری ہے۔ (ت)
(۱؎ تبیین الحقائق         باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ     الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر        ۱/ ۱۳۴)
مگریہ وجہ منع کہ سوال میں مذکور آج کل اصول وہابیت مردودہ مخذولہ سے ہے اور وہابیہ بے دین ہیں اور ان کے پیچھے نماز باطل محض،
فتح القدیرمیں ہے :
الصلٰوۃ خلف اہل الا ہواء لا تجوز ۲؎۔
اہل ہوا( خواہش پرست) کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتح القدیر  باب الامامۃ   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر   ۱/ ۳۰۴)
انھیں امام ومدرس بنانا حرام قطعی اور اللہ ورسول کے ساتھ سخت خیانت، اورمسلمانوں کی کمال بدخواہی،

 صحیح مستدرک میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من استعمل علی عشرۃ رجلا وفیہم من ھو ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۳؎۔
اگر کسی نے دس آدمیوں پر ایک شخص کو حاکم بنایا جبکہ ان میں وہ شخص بھی تھا جو اس حاکم سے اللہ تعالٰی کو زیادہ پسند تھا، تو اس حاکم بنانے والے شخص نے اللہ تعالٰی، اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی۔ (ت)
 (۳؎ المستدرک للحاکم     کتاب الاحکام  ۴/ ۹۲  و  نصب الرایۃ کتاب ادب القاضی        ۴/ ۶۳)
اوراگر ان کے عقائد کفر پر مطلع ہو کر ان کے استحسان یا آسان سمجھنے سے ہوتو امام ومدرس بنانے والا خود کافر ہوجائے گا۔
فان الرضی بالکفر کفر ومن انکر شیئا من ضروریات الدین فقد کفر ومن شک فی کفرہ وعذابہ فقدکفر ۴؎۔
پس کفرسے خوشنودی کفر ہے، اور جو کوئی ضروریات دین سے کسی بات کا انکار کرے تو وہ بلا شبہ کافر ہے۔ پھر جو کوئی اس کے کفراور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ (ت)
 (۴؎ حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین     خطبہ الکتاب     مکتبہ نوریہ لاہور        ص۱۳)
کسی مسجدیا مدرسہ کے مہتمم کیا روارکھیں گے کہ اپنے اختیار سے اسے امام ومدرس کریں جو ان کے ماں باپ کو علانیہ مغلظہ گالیاں دیا کرے، ہر گز نہیں، پھر وہابیہ تو اللہ عزوجل کے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو علانیہ گالیاں دیتے لکھتے چھاپتے ہیں، وہ کیسا مسلمان کہ اسے ہلکا جانے اور ایسوں کو مدرس وامام کرے، اللہ تعالٰی سچا اسلام دے اور اس پر سچی استقامت عطا فرمائے اوراپنی اوراپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سچی محبت دے اور ان کے دشمنوں سے کامل عداوت ونفرت عطا فرمائے کہ بغیر اس کے مسلمان نہیں ہوسکتا اگر چہ لاکھ دعوٰی اسلام کرے اور شبانہ روز نماز روزے میں منہمک رہے،
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہٖ وولدہٖ والناس اجمعین ۱؎۔
(لوگو!) تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کی نگاہوں  میں اس کے والدین، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری         کتاب الایمان باب حب الرسول     قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۷)
کاش مسلمان اتنا ہی کریں کہ اللہ ورسول کی محبت وعظمت کو ایک پلہ میں رکھیں اپنے ماں باپ کی الفت وعزت کو دوسرے میں، پھر دشمنان وبدگویان محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اتنا ہی برتاؤ کریں جو اپنی ماں کو گالیاں دینے والے کے ساتھ برتتے ہیں تو یہ صلح کلی یہ بے پرواہی، یہ سہل انگاری یہ نیچیری ملعون تہذیب، سدراہ ایمان نہ ہو ورنہ ماں باپ کی محبت وعزت رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت وعزت سے زائد ہوکر ایمان کا دعوٰی محض باطل اور اسلام قطعا زائل ۔
والعیاذ باللہ تعالٰی
 (اللہ تعالٰی کی پناہ۔ ت)
قال اﷲ تعالٰی
(اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا۔ ت)
الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنا وھم لا یفتنون ۲؎،
کیا لوگ اس گھمنڈ میں پڑگئے کہ وہ صرف اتنا کہنے پر کہ ہم ایمان لائے، چھوڑ دئے جائینگے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم         ۲۹/ ۲)
زبان سے سب کہہ دیتے ہیں کہ ہاں ہمیں اللہ ورسول کی محبت وعظمت سب سے زائد ہے مگر عملی کا رروائیاں آزمائش کرادیتی ہیں کہ کون اس دعوے میں جھوٹا اور کون سچا۔
ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب ۳؎
وصلی اﷲ تعالٰی وسلم وبارک علی مالکنا ومولینا والآل والاصحاب اٰمین ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو نہ پھیر جبکہ تو نے سیدھی راہ دکھادی اور ہمیں اپنے پاس رحمت سے نواز دے یقینا تو ہی بہت زیادہ عطا کرنیوالاہے۔ ہمارے مالک و مولٰی پر اللہ تعالٰی درود وسلام اور برکات کا نزول فرمائے اور ان کی آل اور ساتھیوں پر بھی (درود وسلام اور برکات نازل ہوں) اور اللہ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ (ت)
 (۳؎القرآن الکریم       ۳/ ۸)
مسئلہ ۵۴: از شاہجہان پور مرسلہ منصور حسن خاں صاحب تحصیلدار ۹ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ

اس وقت ہندوستان میں بہت زور کے ساتھ حکومت خود اخیتیاری کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ حکومت خود اختیاری کے یہ معنی ہیں کہ برائے نام انگریزوں کی نگرانی رہے گی اور حکومت درحقیقت باشندگان ہندوستان کے ہاتھ میں ہوگی، اگر گورنمنٹ نے اسے عطا کردیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندو صاحبان جو اعداد اور تمول میں ہم سے بہت زائد ہیں ہم پر فوقیت رکھیں گے بحالت موجودہ ہندو صاحبان کا مسلمانوں کے معاملات میں جو رویہ ہے اس پر مندرجہ ذیل واقعات روشنی ڈالتے ہیں۔
 (۱)کانپور کے پریڈ گراؤنڈ پر ہندو مجارٹی نے فیصلہ دیاکہ مسلمان نماز جنازہ نہ پڑھیں۔

(۲) ساور اجمیر شریف میں یہ احکام نافذ کردئے گئے کہ مسلمان  عقیقہ اور قربانی میں بکرا بکری بھی ذبح نہ کرنے پائیں۔

(۳) جبلپور میں تراویح کے وقت باجا بجانا فرض سمجھا گیا اور کسی ہندو تعلیم یافتہ سے مسلمانوں کی فریاد پر توجہ تک نہ کی مسجدوں میں نماز بند کردی گئی۔

(۴) بنگال میں شبرات کی رخصت تک ہندو سپرنٹنڈنٹ کی وجہ سے مسلمانوں کو نہ مل سکی۔

(۵) بنگال کی کونسل میں سرسنہار نے رخصت نماز جمعہ کی مخالفت کی اس لئے ریزولیوشن مسٹر ابوالقاسم نے واپس لے لیا، اگر ہندو ممبر مل کر ووٹ دیتے تو ریزولیوشن پاس ہوجاتا۔

(۶) صوبہ متحدہ میں پیران کلیر شریف کی چھوٹی سی سڑک بننے میں ہندوؤں نے ووٹ نہیں دئے اور سید آل نبی صاحب کا ریزولیوشن پاس نہ ہوسکا۔

 (۷) الہ آباد اورلکھنو میں اب تک ہندو میونسپلٹیوں کو چھوڑے ہوئے ہیں اس لئے کہ مسلمانوں کے ساتھ گورنمنٹ نے رعایت کی ہے۔

(۸) ہندو لیڈروں نے جو کانگریس کے ارکان وعناصر ہیں میونسلپٹی کے قانون سے اس لئے مخالفت کی کہ مسلمانوں کو تین جگہ ان کی تعداد سے زیادہ دے دیں اس کے متعلق صرف اخبار لیڈر اور آنریبل مالوی جی اور ہندو سبھا کے جلسوں کا مطالعہ کافی ہے خصوصی اس جلسہ کا جو بنارس میں راجہ رامپال سنگھ کی صدارت میں ہوا تھا۔

(۹) بنگال گورنمنٹ کے بار باراصرار پر بھی ہندوؤں نے مسلمانوں کو کلر کی لائین میں نہیں گھسنے دیا جس کے لئے گورنمنٹ کو آخری کارروائی کرنی پڑی۔

(۱۰) ہندو ممبروں نے جو مشترکہ ووٹ سے کونسلوں میں جاتے ہیں کبھی مسلمانوں کے حق میں اپنی رائے نہیں دی، نہ مسلمانوں کے حقوق کاخیال کیا۔

(۱۱) چندوسی میں ہندوؤں نے لٹھ کے ذریعہ محفل میلاد شریف بند کردی۔
 (۱۲) اردو کی مخالفت صرف مالوی جی اور چنتا منی جی ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ مسٹر گاندھی بھی کرتے ہیں اورنہایت شائستگی سے سمجھاتے ہیں کہ جب تک مسلمان ہندی حروف نہ سیکھ لیں اس وقت تک انھیں اردو خط میں اجازت دی جائے۔

(۱۳) قربانی کا مسئلہ ہمیشہ زیر بحث نہیں بلکہ موجب کشت وخون رہتاہے اور زبردستی مسلمانوں کو اپنے فرائض سے روکا جاتاہے اور کوشش اس بات پر کی جاتی ہے کہ بکرا بکری بھی وہ نہ ذبح کرنے پائیں

(۱۴) نوکریوں کایہ حال ہے کہ جہاں تک ممکن ہوتاہے ہر صوبہ میں مسلمانوں کو محبان وطن اور ہوم رولر اصحاب گھسنے نہیں دیتے۔

مندرجہ بالا واقعات پر نظر ڈالنے کے بعد کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانوں کو اس شورش میں جو ہندو صاحبان اس کے متعلق کررہے ہیں مذہبا شریک ہونا چاہئے یانہیں؟
Flag Counter